Option 1 (If using a symbolic taxi/car image): "A yellow taxi on a busy street, symbolizing the middle-class economic struggle amid rising inflation in Pakistan."

عنوان: سفید پوش طبقے کا زوال: گاڑی بیچ کر ٹیکسی چلانے کی تلخ داستان

تحریر: ناصر داوڑ
شدید اور تاریخ ساز مہنگائی نے ملک میں افراتفری کا عالم پیدا کر دیا ہے۔ کوئی پٹرول کا رونا رو رہا ہے تو کوئی دال، چاول، آٹا، چینی یا گھی کا ماتم کر رہا ہے۔ کاروباری حضرات اور دکاندار گاہکوں کے غیاب کے قصے سناتے دکھائی دیتے ہیں۔ سفید پوش طبقہ جو بمشکل زندگی کا پہیہ گھسیٹ رہا تھا، اب اس کا پہیہ بھی مکمل طور پر جام ہونے لگا ہے۔
اس بات کا ادراک تب ہوا جب ایک گہرے سفید پوش دوست سے ملاقات ہوئی۔ ایک ایسا دوست جو کبھی لگژری گاڑیوں میں گھومتا تھا، آج اسے دیکھ کر اندازہ ہوا کہ وہ کتنی بڑی کشمکش میں ہے۔ ایک کھوکھے پر چائے پیتے ہوئے، وہ میرے ساتھ ہو کر بھی کہیں دور کھویا ہوا تھا۔ بار بار گھڑی دیکھنا اور جلد جانے کی جلدی، یہ سب عجیب سا لگ رہا تھا۔ جب میں نے گاڑی بدلنے کی وجہ پوچھی تو وہ ٹال گیا۔ لیکن جب مہنگائی اور حالات پر بحث شروع ہوئی تو اس نے جو بتایا، اس نے میرے پیروں تلے سے زمین نکال دی۔
اس کا کہنا تھا کہ گھریلو ضروریات پوری کرنے کیلئے اپنی گاڑی بیچنی پڑی۔ تنخواہ، بجلی، گیس اور بچوں کی فیسوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ اب وہ آفس کے بعد اسی گاڑی کو بطور ٹیکسی چلاتا ہے۔ 4 سے 5 گھنٹے کی ٹیکسی، پھر سودا سلف لے کر گھر واپسی۔ اس کا کہنا ہے کہ “ٹیکسی کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے کچن کی ضروریات پوری ہو جاتی ہیں، مگر کبھی کبھی 5 گھنٹے خالی گزر جاتے ہیں کیونکہ ٹیکسی استعمال کرنے والے اب بسوں میں سفر کر رہے ہیں۔”
اس کا اگلا جملہ دل دہلا دینے والا تھا: “اس شہر میں جاننے والے بہت ہیں، کبھی کبھار وہ میری ٹیکسی میں سوار بھی ہو جاتے ہیں۔ کرونا جہاں عذاب بن کر آیا، میرے لئے غنیمت ثابت ہوا کیونکہ ماسک پہن کر میں پہچانے جانے کے خوف سے آزاد رہتا ہوں۔”
ہم مہنگائی پر بات کر رہے تھے، لیکن آج کے پاکستان میں 95 فیصد عوام کو سیاسی مداریوں کے این آر او یا حکومت گرانے سے کوئی غرض نہیں۔ انہیں فکر ہے تو اپنے بچوں کیلئے دو وقت کی روٹی کی۔ وزراء کے بیانات سنیں تو لگتا ہے جیسے مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ “ایک کے بجائے دو روٹی کھائیں”، “ٹماٹر نہیں تو دہی ڈال لیں”۔ ارے خدا کا خوف کرو! ٹوٹکوں سے کب تک بہلاؤ گے؟
سوشل میڈیا پر مہنگائی کے لطیفے تو بہت ہیں، مگر ان کا جواب دینے والے اب خاموش ہیں۔ خان صاحب نے اپنے ورکرز کو کسی کو جواب دینے کے قابل ہی نہیں چھوڑا۔ وہ وعدے یاد آتے ہیں 90 دن میں کرپشن ختم، کروڑوں نوکریاں اور گھر۔ باہر سے نوکریاں چھوڑ کر واپس آنے والے اب بھوک اور افلاس کے ہاتھوں اپنی قسمت کو کوس رہے ہیں۔
ملک کے بحرانوں نے عوام کو اتنا بے بس کر دیا ہے کہ وہ “گھن چکر” بن کر رہ گئے ہیں۔ حکمران اس کا خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ شہری اب وعدے بھول چکے ہیں، انہیں بس مہنگائی کا رونا رونا ہے۔ اپوزیشن کی سڑکوں پر لانے کی کوششیں بھی ناکام ہو رہی ہیں کیونکہ عوام اپنے بچوں کے پیٹ بھرنے میں اتنے سرگرداں ہیں کہ انہیں اپنے آس پاس ہونے والی کسی سیاسی ہلچل کی کوئی خبر نہیں۔

The Silent Suffocation: How Inflation is Erasing Pakistan’s Middle Class

Summary: This poignant piece delves into the devastating impact of Pakistan’s historic inflation, illustrating the collapse of the middle class through the lens of a personal encounter. The author shares the story of a once-prosperous friend—a symbol of the struggling “white-collar” worker—who has been forced to sell his luxury vehicle and moonlight as a taxi driver just to cover basic household expenses.

The narrative captures the chilling reality of a society where economic survival has replaced political discourse. The author highlights the disconnect between the ruling class, who offer tone-deaf “solutions” to hunger, and the citizens who are too exhausted by the daily grind to engage in the political theatrics of the day.

Key Highlights:

  • The Mask of Shame: A powerful account of a former professional who wears a mask while driving his taxi to avoid recognition by former peers—a testament to the crushing psychological toll of economic decline.

  • The Cycle of Poverty: Exploring how the middle class is squeezed between rising utilities/school fees and the disappearance of their traditional livelihood, forcing them into a desperate struggle for daily bread.

  • Government Disconnect: The article strongly critiques the political leadership, contrasting their empty promises of jobs and prosperity with their recent, dismissive “tips” on how to survive on less food.

  • Political Apathy: The author argues that the public has become so preoccupied with survival that the usual calls for political agitation or protest no longer resonate; the struggle for “two meals a day” has effectively silenced the public’s political voice.


اپنا تبصرہ بھیجیں