پاکستان کا معاشی بحران: بھاری ٹیکس، ٹوٹتی معیشت اور عوامی لاچارگی ناصر داوڑ پاکستان کا مالیاتی ڈھانچہ روایتی طور پر براہِ راست ٹیکسوں کے بجائے بالواسطہ ٹیکسوں پر بے پناہ انحصار کرتا ہے، جو وفاقی حکومت کے کل حاصل کردہ محصولات کا 60 فیصد سے زیادہ بنتے ہیں ۔ جب 1990 کے ایکٹ کے تحت پہلی بار جنرل سیلز ٹیکس نافذ کیا گیا تھا تو اس کی شرح 12.5 فیصد تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہوئے معاشی خساروں کو پورا کرنے کیلئے اسے بتدریج 18 فیصد کی معیاری سطح پر لا کھڑا کیا گیا ہے ۔ یہ پالیسی اس تلخ معاشی فلسفے کی عکاسی کرتی ہے جہاں ٹیکس نیٹ کو وسیع نہ کر پانے کی وجہ سے تمام تر بوجھ بالواسطہ محصولات کے ذریعے عام صارفین پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق، بالواسطہ ٹیکسیشن کا سب سے بڑا المیہ اس کا رجعتی کردار ہے، کیونکہ یہ امیر اور غریب دونوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتی ہے۔ اگرچہ حکومت بعض اوقات غریبوں کو ریلیف دینے کیلئے دالوں، لال مرچ، ادرک، ہلدی، انڈوں اور پولٹری کو سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیتی ہے ، لیکن عملی طور پر یہ ریلیف صرف کاغذات تک محدود رہتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیداواری عمل میں استعمال ہونے والے بین السطور ذرائع جیسے ایندھن، بجلی اور گیس پر بھاری ٹیکس عائد ہیں، جو تسلسلی اثر کے تحت حتمی مصنوعات کی قیمتوں میں منتقل ہو کر مستثنیٰ اشیاء کو بھی مہنگا کر دیتے ہیں ۔    اس مالیاتی بوجھ کو مزید پیچیدہ بنانے میں صوبائی اور وفاقی سطحوں پر لاگو الگ الگ سروسز ٹیکس کا ڈھانچہ بھی اپنا کردار ادا کرتا ہے، جہاں پنجاب میں سروسز پر 16 فیصد، سندھ میں 13 فیصد، اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں 15 فیصد سروسز ٹیکس لاگو ہے، جبکہ وفاقی سطح پر اشیاء پر معیاری سیلز ٹیکس 18 فیصد ہے ۔ اس دوہرے دباؤ کے بھیانک اثرات ہمیں پیکڈ ڈیری اور پولٹری سیکٹر پر واضح نظر آتے ہیں، جہاں پیکڈ دودھ پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ نے دودھ کی قیمتوں میں 60 سے 70 روپے فی لیٹر کا زبردست اضافہ کر دیا ہے ۔ اس غیر متوقع فیصلے سے رسمی ڈیری سیکٹر کی فروخت بری طرح متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث دیہی علاقوں میں 500 سے زائد ملک کلیکشن سینٹرز بند ہو چکے ہیں اور تقریباً 40,000 سے زائد کسانوں کا روزگار داؤ پر لگ گیا ہے ۔ نتیجے کے طور پر، صارفین جراثیم سے پاک پیکڈ دودھ چھوڑ کر کھلے اور ملاوٹ زدہ دودھ کی طرف رجوع کر رہے ہیں، جو پاکستان میں بچوں کی سٹنٹنگ کی شرح، جو کہ پہلے ہی 37 فیصد کی خطرناک سطح پر ہے، کو مزید خراب کرنے کا سبب بنے گا ۔ لائیوسٹاک اور پولٹری کے شعبوں میں بھی خوراک پر 10 فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ نے عام شہریوں کیلئے پروٹین کا آخری ذریعہ بھی مہنگا کر دیا ہے، جس کے باعث پشاور جیسے بڑے شہروں میں زندہ مرغی 420 روپے فی کلو اور انڈے 240 سے 260 روپے فی درجن تک بک رہے ہیں، جبکہ بغیر ہڈی کا گائے کا گوشت سرکاری نرخ یعنی 900 روپے کے برعکس 1350 سے 1500 جبکہ پشاور کے بعض سٹوروں میں تو 1600 روپے کلو تک جا پہنچا ہے ۔    غذائی منڈیوں میں حکومتی مداخلت اور ٹیکس پالیسیوں کا تضاد چینی کے شعبے میں بھی عیاں ہے، جہاں مینوفیکچررز کو فراہم کی جانے والی چینی پر 15 روپے فی کلو وفاقی ایکسائز ڈیوٹی لاگو ہے، جبکہ دوسری طرف مارکیٹ کو مستحکم کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے 500,000 میٹرک ٹن سفید کرسٹل چینی کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی کو یکسر ختم کر کے سیلز ٹیکس کو محض 0.25 فیصد کر دیا گیا ہے ۔ ادھر گندم کے بحران نے صوبائی سطح پر تنازعات کو ہوا دی ہے، جہاں خیبر پختونخوا کے فلور ملرز نے پنجاب کی طرف سے گندم کی نقل و حمل پر پابندی کے خلاف احتجاج شروع کر دیا ہے، جسے وہ آئین کے آرٹیکل 151 کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہیں ۔ ان معاشی دباؤ کے متوازی، معیشت کا غیر دستاویزی چہرہ عید الاضحیٰ جیسے تہواروں پر نمایاں ہوتا ہے، جہاں سال 2025 میں قربانی کے جانوروں اور ان سے منسلک سرگرمیوں پر عوام نے تقریباً 641 ارب روپے خرچ کیئے، جو ملکی ترقیاتی بجٹ کا تقریباً 60 فیصد بنتا ہے ۔ یہ زبردست مالیاتی بہاؤ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ پاکستان کے معاشی بحران کی جڑیں ٹیکسوں کے ناکارہ ڈھانچے اور سرمائے کے غیر دستاویزی بہاؤ میں پیوست ہیں۔    آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ (2026-27) بھی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے 37 ماہ کے توسیعی پروگرام کی کڑی شرائط کے سائے میں تیار کیا جا رہا ہے ۔ آئی ایم ایف نے وفاق کیلئے مجموعی طور پر 17.145 ٹریلین روپے کا ریونیو ہدف مقرر کیا ہے، جس کے حصول کیلئے ایف بی آر کو 15.264 ٹریلین روپے جمع کرنے کا ہدف ملا ہے ۔ اس ہدف کے تحت صوبوں کو بھی مجبور کیا گیا ہے کہ وہ سروسز اور زرعی انکم ٹیکس سے 1.95 ٹریلین روپے اکٹھے کریں اور اپنی جی ڈی پی کے 1.4 فیصد کے مساوی سرپلس نقد وفاق کو سرنڈر کریں ۔ اس کے ساتھ ہی، صنعتی علاقوں کو دی گئی تمام رعایتوں کو 2035 تک مرحلہ وار ختم کرنے اور گندم و چینی کی سرکاری منڈیوں سے حکومت کو مکمل طور پر باہر نکالنے کی کڑی ضمانتیں دی گئی ہیں ۔ دوسری طرف، تنخواہ دار اور متوسط طبقے کو مزید نچوڑنے کی تیاریاں جاری ہیں، جہاں سالانہ 10 ملین سے زائد آمدنی پر 9 فیصد انکم ٹیکس کا اضافی بوجھ برقرار رکھنے کی تجاویز دی گئی ہیں، جس کی وجہ سے ملک میں ہنر مند پیشہ ور افراد کا شدید برین ڈرین ہو رہا ہے ۔ بجلی اور ایندھن کے نرخوں میں اضافے کے علاوہ پٹرولیم لیوی کا وفاقی ہدف 1.73 ٹریلین روپے مقرر کر کے پٹرولیم لیوی کو 100 روپے فی لیٹر تک لے جانے کا تزویراتی عزم ظاہر کیا گیا ہے، جس کا حتمی بوجھ ٹرانسپورٹیشن کے ذریعے روزمرہ کی ہر کھانے پینے والی شے پر پڑے گا ۔    حکومت کے ان جارحانہ ٹیکسیشن اقدامات نے تاجر برادری اور سیاسی حلقوں میں شدید مزاحمت کو جنم دیا ہے۔ ستمبر 2023 میں جماعت اسلامی اور تاجر تنظیموں کی جانب سے کی گئی شٹر ڈاؤن ہڑتال کے باعث ملک کو یومیہ تقریباً 10 ارب روپے کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا، جہاں اصل احتجاج بجلی کے بلوں میں غیر متناسب اضافے اور آئی پی پیز کو دی جانے والی بھاری گنجائش کی ادائیگیوں کے خلاف تھا ۔ اسی طرح جولائی 2025 میں کراچی چیمبر آف کامرس نے فنانس ایکٹ کے تحت ایف بی آر کو حاصل ہونے والے گرفتاری کے اختیارات اور نقد لین دین پر عائد سخت پابندیوں کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال کی ۔ سیاسی محاذ پر جماعت اسلامی کے راولپنڈی دھرنے (جولائی 2024) نے حکومت کو دباؤ میں لا کر آئی پی پیز کے آڈٹ کیلئے ٹاسک فورس کے قیام کا معاہدہ کروایا، لیکن ان وعدوں پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث جنوری 2025 میں ایک بار پھر ملک گیر احتجاج کی لہر شروع ہوئی، جو اس بات کی غماز ہے کہ عوام اور حکومت کے مابین معاشی معاہدے کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے ۔    لیکن یہاں ایک انتہائی اہم سوال جنم لیتا ہے کہ ملکی تاریخ کی بدترین مہنگائی اور معاشی لاچارگی کے باوجود کینیا یا سری لنکا کی طرح پاکستان میں کوئی بڑا عوامی سیلاب سڑکوں پر کیوں نہیں آیا؟ احتجاج کی سیاسیات کے ماہرین اس کی متبادل اور گہری وجوہات بتاتے ہیں۔ پہلا عنصر مادی وسائل کی شدید قلت ہے، احتجاج منظم کرنے اور سڑکوں پر نکلنے کیلئے وقت، پیسہ اور باہمی رابطوں کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ خطِ غربت سے نیچے سسکتے ہوئے غریب خاندانوں کے پاس بالکل نہیں ہے، کیونکہ ان کیلئے ایک دن کام چھوڑنے کا مطلب رات کا فاقہ ہے ۔ دوسرا بڑا عنصر پرامن مظاہرین کے خلاف ریاست کا غیر معمولی جبر، لاٹھی چارج اور بلاجواز گرفتاریوں کا خوف ہے، جس کی وجہ سے احتجاج کی ذاتی لاگت ایک عام آدمی کیلئے ناقابلِ برداشت بن جاتی ہے ۔ اس مایوسی کو سیاسی جماعتوں اور آزاد مزدور تنظیموں کی مکمل لاتعلقی اور آپس کی سیاسی و عدالتی کشمکش نے مزید گہرا کر دیا ہے، جہاں ٹی وی ٹاک شوز اور سیاسی قائدین عام آدمی کے معاشی وجود کی جنگ لڑنے کے بجائے صرف اقتدار کے جوڑ توڑ میں مگن ہیں ۔ اس سیاسی بیگانگی نے عوام کے اندر ایک گہرا نفسیاتی جمود اور مایوسی پیدا کر دی ہے، جس کے تحت وہ اجتماعی مزاحمت کو بے سود سمجھتے ہوئے انفرادی بقا کی تگ و دو یا پھر خاموش ہجرت کا راستہ چن رہے ہیں ۔    اس گھمبیر معاشی اور سماجی جمود کو توڑنے کیلئے اب پاکستان کو روایتی لیت و لعل سے ہٹ کر انقلابی اصلاحات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ سب سے پہلا قدم پیکڈ ڈیری مصنوعات پر عائد 18 فیصد کا سفاکانہ سیلز ٹیکس واپس لے کر اسے 5 فیصد کی رعایتی شرح پر لانا ہے، تاکہ دیہی معیشت کا تحفظ اور بچوں کی غذائی ضرورت کو سستی اور محفوظ قیمت پر پورا کیا جا سکے ۔ بجٹ 2026-27 میں تنخواہ دار طبقے پر عائد 9 فیصد کا اضافی انکم ٹیکس سرچارج اور سولر پینلز پر عائد 18 فیصد کا ٹیکس فوری طور پر ختم کیا جائے، تاکہ انسانی سرمائے کے برین ڈرین کو روکا جا سکے اور متبادل توانائی کا فروغ ہو سکے ۔ اس خسارے کو پورا کرنے کیلئے رئیل اسٹیٹ اور بااثر زرعی زمینداروں کو حقیقی معنوں میں ٹیکس نیٹ میں لایا جائے ۔ تاجروں کو ہراساں کرنے والے ایف بی آر کے گرفتاری کے تعزیری قوانین کو واپس لیتے ہوئے چھوٹے خوردہ فروشوں کیلئے بجلی کے بلوں کے ذریعے 10,000 روپے ماہانہ کا فلیٹ اور آسان فکسڈ ٹیکس نظام رائج کیا جائے، جو معیشت کو دستاویزی بنانے کا سب سے عملی اور پرامن طریقہ ہے ۔ اور سب سے بڑھ کر، آئی پی پیز کو دی جانے والی گنجائش کی ادائیگیوں کا کڑا آڈٹ کر کے بجلی کے بنیادی ٹیرف کو سستا کیا جائے، کیونکہ اس تزویراتی معاشی سرجری کے بغیر ملکی صنعتی پیداوار کی بحالی اور روپے کی قدر کو سہارا دینا محض ایک خام خیالی ہی رہے گا ۔   

پاکستان کا معاشی بحران: بھاری ٹیکس، ٹوٹتی معیشت اور عوامی لاچارگی

ناصر داوڑ پاکستان کا مالیاتی ڈھانچہ روایتی طور پر براہِ راست ٹیکسوں کے بجائے بالواسطہ ٹیکسوں پر بے پناہ انحصار کرتا ہے، جو وفاقی حکومت کے کل حاصل کردہ محصولات کا 60 فیصد سے زیادہ بنتے ہیں ۔ جب 1990 مزید پڑھیں

عوام کو ریلیف کیوں نہ ملا؟ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کی حقیقت بے نقاب اسلام آباد: حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اچانک 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد اس فیصلے کی اصل وجوہات سامنے آ گئی ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کے باوجود عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ٹیکسوں اور مارجنز میں اضافہ کرکے مہنگائی کا نیا طوفان کھڑا کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران بین الاقوامی مارکیٹ اور مقامی حساب کتاب میں دونوں بڑی پیٹرولیم مصنوعات کی ایکس ریفائنری لاگت میں کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت 3 روپے 44 پیسے فی لیٹر کم ہوئی جبکہ اسی مدت میں پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت میں 3 روپے 14 پیسے فی لیٹر کمی آئی۔ اصولی طور پر اس کمی کے بعد صارفین کو قیمتوں میں استحکام یا معمولی کمی کا فائدہ ملنا چاہئے تھا، مگر حکومت نے اس کے برعکس دونوں مصنوعات کی قیمتیں یکساں طور پر 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر بڑھا دیں۔ مالیاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اضافے کی بنیادی وجہ پیٹرولیم لیوی ٹیکس میں اضافہ اور ان لینڈ فریٹ ایکوالائزیشن مارجن (IFEM) میں ردوبدل ہے۔ حکومت نے پیٹرول پر عائد لیوی مزید بڑھا دی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر اندرون ملک ترسیل اور تقسیم کے نام پر لیا جانے والا فریٹ مارجن بھی اوپر کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں قیمتوں کا پورا بوجھ براہ راست عوام پر منتقل کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق اگر حکومت پیٹرول پر لیوی ٹیکس نہ بڑھاتی اور ڈیزل پر آئی ایف ای مارجن میں اضافہ نہ کرتی تو موجودہ حساب کتاب کے مطابق قیمتوں میں اتنا بڑا اضافہ ہرگز نہ ہوتا، بلکہ امکان تھا کہ دونوں مصنوعات کی قیمتیں تقریباً جوں کی توں رہتیں یا معمولی کمی بھی ہو سکتی تھی۔ تاہم حکومتی ریونیو بڑھانے کے لئے قیمتوں کے تعین میں ٹیکس عنصر کو غالب رکھا گیا۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک میں پہلے ہی اشیائے خورونوش، بجلی، گیس اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل مہنگے ہونے سے نہ صرف نجی ٹرانسپورٹ بلکہ مال برداری، زرعی مشینری، صنعتی پیداوار اور پبلک ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھیں گے، جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں مہنگائی کی نئی لہر متوقع ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں اضافے کا سب سے زیادہ اثر زرعی شعبے اور مال بردار گاڑیوں پر پڑے گا کیونکہ کھیتوں میں استعمال ہونے والے ٹیوب ویل، ٹریکٹر اور دیگر مشینری بڑی حد تک ڈیزل پر چلتی ہیں۔ اسی طرح بین الصوبائی سامان کی ترسیل مہنگی ہونے سے سبزی، آٹا، دالیں اور روزمرہ استعمال کی اشیا مزید مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔ پیٹرول مہنگا ہونے سے موٹر سائیکل، رکشہ اور کار استعمال کرنے والے متوسط طبقے کی ماہانہ آمدورفت لاگت بھی نمایاں طور پر بڑھ جائے گی۔ سیاسی و عوامی حلقوں میں اس فیصلے پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت نے عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک منتقل کرنے کے بجائے ٹیکس وصولی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود مقامی صارف کو ریلیف نہیں ملتا تو پھر قیمتوں کے تعین کا موجودہ نظام صرف حکومتی محصولات بڑھانے کا آلہ بن کر رہ جاتا ہے۔ دوسری جانب حکومتی ذرائع غیر رسمی طور پر یہ مؤقف دے رہے ہیں کہ مالیاتی خسارے، آئی ایم ایف اہداف اور ریونیو ضروریات کے باعث پیٹرولیم لیوی میں اضافہ ناگزیر تھا، تاہم اس فیصلے سے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ یقینی قرار دیا جا رہا ہے۔ اقتصادی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر آئندہ ہفتوں میں بھی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کو ریونیو جمع کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تو مہنگائی کا مجموعی اشاریہ دوبارہ اوپر جا سکتا ہے۔ یوں واضح ہو گیا ہے کہ اس بار پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ عالمی منڈی کی وجہ سے نہیں بلکہ حکومتی ٹیکس پالیسیوں اور اندرونی مارجن بڑھانے کے باعث کیا گیا، جس کا براہ راست خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑے گا۔

پیٹرول سستا ہونا تھا مگر حکومت نے مہنگا کر دیا، 26 روپے 77 پیسے اضافے کے پیچھے ٹیکسوں کا چونکا دینے والا کھیل بے نقاب

اسلام آباد: ملک بھر کے کروڑوں شہری اس سوال کا جواب ڈھونڈ رہے ہیں کہ جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار آیا تھا اور مقامی سطح پر بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بنیادی لاگت مزید پڑھیں