"A news graphic by 'The Khyber Times' reporting on the attack on a police facility in Ziarat, Balochistan. The image features an Urdu headline at the top stating '9 police personnel martyred, 7 missing.' The graphic has a background of an aerial view of Ziarat, overlaid with two circular inset photos: one showing the white police pickup truck from image_0.png, and the other showing the scene with the covered body and scattered items from image_1.png. A prominent Urdu headline at the bottom reads 'Protest at Ziarat Crossing, demand for recovery of personnel.'"

زیارت: پولیس چوکی پر حملہ، 9 اہلکار شہید، جوابی کارروائی میں 15 دہشت گرد ہلاک

دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک : بلوچستان کے ضلع زیارت کے علاقے مانگی میں مسلح افراد نے پولیس چوکی پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں 9 پولیس اہلکار شہید ہوگئے، جبکہ فورسز کی جوابی کارروائی اور کلیئرنس آپریشن کے دوران 15 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا.
ایس پی زیارت عبدالقدوس کے مطابق مانگی میں مسلح افراد نے پولیس چوکی کو نشانہ بنایا، جس کے بعد فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا. حملے کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی میتیں ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کردی گئی ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے بتایا ہے، کہ زیارت میں دہشتگردوں کے خلاف کلیئرنس آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے. اس آپریشن میں ایف سی، پولیس، سی ٹی ڈی، ایس او ڈبلیو اور اے ٹی ایف نے حصہ لیا۔ شاہد رند کے مطابق سکیورٹی فورسز کی موثر کارروائی میں 15 دہشت گرد مارے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کو بلوچستان کے امن سے کھیلنے کی بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔
حملے میں شہید ہونے والوں میں ایس ایچ او تھانہ منگی، ایس ایچ او تھانہ کواس، اے ٹی ایف انچارج اور دیگر اہلکار شامل ہیں۔سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے ترجمان نے بتایا کہ ڈی ایس پی غلام سرور سمیت 8 اہلکار بحفاظت تھانہ کاچ پہنچ گئے ہیں، جبکہ کانسٹیبل رضوان کو بھی بحفاظت بازیاب کر لیا گیا ہے۔
اس افسوسناک واقعے پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے شہداء کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امن کی خاطر جانیں قربان کرنے والے شہداء ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شہدا کی لازوال قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا اور ایسی بزدلانہ کارروائیاں امن کو سبوتاژ نہیں کر سکتیں۔
ترجمان وزیراعلیٰ بلوچستان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کیلئے کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں ہے اور ہر حملے کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشتگردوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رہیں گی۔

————————————————————————————

Executive Summary: Security Incident in Ziarat, Balochistan
Incident Overview: Armed militants attacked a police post in the Mangi area of Ziarat, resulting in the martyrdom of 9 police personnel.
Security Operation: A coordinated clearance operation involving the FC, Police, CTD, SOW, and ATF was successfully executed, during which 15 terrorists were killed.
Personnel Status: DSP Ghulam Sarwar and 8 police personnel successfully reached Thana Kach, and Constable Rizwan was safely recovered.
Official Response: Interior Minister Mohsin Naqvi condemned the “Indian-sponsored” attack and honored the sacrifices of the fallen officers. Provincial government officials emphasized that there are no safe havens for terrorists in Balochistan and reiterated the commitment to continuing intelligence-based operations against militant elements.