سرحد پار مداخلت، خیبرپختونخوا اور جنوبی اضلاع میں ابھرتے ہوئے سکیورٹی خطرات خیبر پختونخوا اور اس کے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں امن و امان کی موجودہ صورتحال ایک ایسی سنگین انسانی اور دفاعی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے جس نے نہ صرف صوبائی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ اسے قومی سلامتی کے لئے سب سے بڑا چیلنج بنا دیا ہے کیونکہ اگست 2021 میں افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال یکسر بدل گئی اور افغان طالبان کے برسرِ اقتدار آنے سے پاکستان میں دہشت گردی کی ایک ایسی لہر نے جنم لیا جس کی شدت میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 گزشتہ ایک دہائی کا سب سے زیادہ پرتشدد اور خونی سال ثابت ہوا جس میں خیبر پختونخوا ہی دہشت گردی کا بنیادی مرکز رہا اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز اور سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی جامع رپورٹس اس ہولناک منظرنامے کی عکاسی کرتی ہیں کہ 2024 کے دوران صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں 69 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ 2025 کے ابتدائی نو ماہ کے دوران ہلاکتوں کی تعداد نے گزشتہ پورے سال کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا اور اس تشدد کا محور اب صرف قبائلی پٹی تک محدود نہیں رہا بلکہ عسکریت پسندی کی یہ لہر تیزی سے جنوبی اضلاع یعنی ڈیرہ اسماعیل خان ، بنوں ، لکی مروت، کرک اور ٹانک کی طرف منتقل ہو چکی ہے جو اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث اب پنجاب کے لئے بھی ایک سنگین خطرہ بن رہے ہیں کیونکہ ان اضلاع کا پنجاب کے ساتھ طویل سرحدی ملاپ عسکریت پسندوں کو وسطی پاکستان تک رسائی کا آسان راستہ فراہم کرتا ہے جبکہ دوسری طرف دہشتگردی کے اس نقشے میں اپریل 2025 کے دوران ایک بڑی تبدیلی اس وقت آئی جب حافظ گل بہادر گروپ نے ٹی ٹی پی کے ساتھ انضمام کے مذاکرات کی ناکامی کے بعد لشکرِ اسلام اور حکیم اللہ محسود گروپ اور حرکتِ انقلابِ اسلامی پاکستان کے ساتھ مل کر 'اتحاد المجاہدین پاکستان' کے نام سے ایک نیا طاقتور بلاک تشکیل دے دیا جس کا مقصد شمالی وزیرستان اور ضلع خیبر میں اپنی الگ شناخت اور خود مختار حیثیت برقرار رکھنا ہے اور اس نئے اتحاد نے 'صدائے غزوات الہند' کے نام سے اپنا الگ میڈیا ونگ بھی فعال کر رکھا ہے جبکہ جماعت الاحرار جیسے گروہ اگرچہ اس اتحاد میں مکمل طور پر ضم نہیں ہوئے لیکن انہوں نے حافظ گل بہادر گروپ کے ساتھ آپریشنل تعاون کے معاہدے کر رکھے ہیں تاکہ وہ اپنا نام اور 'احیاء خلافت' اور “غازی “ کے نام سے میڈیا تشخص برقرار رکھ سکیں اور اس صورتحال کو مزید پیچیدہ داعش خراسان کی موجودگی بناتی ہے جس کا نظریہ ٹی ٹی پی سے بھی زیادہ سخت گیر ہے اور جو تاجک و ازبک نژاد جنگجوؤں کی مدد سے پشاور اور باجوڑ میں ریاست کے ساتھ ساتھ مذہبی اقلیتوں اور سیاسی مخالفین کو بھی نشانہ بنا رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کے سرحدی صوبے کنڑ ، ننگرہار ، پکتیا، خوست اور پکتیکا اب ایسے اسٹریٹجک مراکز بن چکے ہیں جہاں سے عسکریت پسندوں کو نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں بلکہ وہ وہاں سے باجوڑ ، مہمند، خیبر اور وزیرستان میں داخل ہو کر کارروائیاں کرتے ہیں اور اطلاعات کے مطابق ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود نے باقاعدہ افغان شناختی کارڈ بھی حاصل کر رکھا ہے جو کابل کی سرپرستی کی واضح دلیل ہے جبکہ جدید امریکی اسلحہ اور نائٹ ویژن چشمے اور تھرمل سائٹس جو نیٹو افواج پیچھے چھوڑ گئی تھیں اب جنوبی اضلاع کے میدانوں میں پاکستانی فورسز خصوصی طور پر پولیس کے خلاف ایک مہلک ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں جس نے عسکریت پسندوں کو تکنیکی برتری فراہم کر دی ہے اور اسی بدامنی کا دوسرا رخ صوبے کی معاشی تباہی ہے جہاں بھتہ خوری ایک منظم صنعت بن چکی ہے اور ٹی ٹی پی و داعش کے نام پر سرمایہ داروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں کے پی چیمبر آف کامرس کے مطابق صوبے کی دس بڑی ٹیکسٹائل ملیں، جبکہ متعدد چھوٹی صنعتیں بند ہو چکی ہیں اور سرمایہ تیزی سے دوسرے صوبوں یا بیرون ممالک منتقل ہو رہا ہے اور بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سکیورٹی کے سنگین خدشات نے مقامی صنعت کو اپاہج کر دیا ہے، جبکہ ٹارگٹ کلنگ کی لہر میں پولیس افسران اور حکومت نواز قبائلی عمائدین کو چن چن کر نشانہ بنا کر ریاست کی رٹ کو کمزور کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ باجوڑ جیسے حساس اضلاع میں داعش اور ٹی ٹی پی کے درمیان اثر و رسوخ کی جنگ نے مقامی آبادی کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے، ضلع کرم میں زمین کے دیرینہ تنازعات کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر بدامنی کی نئی آگ بھڑکائی جا رہی ہے، جس میں عسکریت پسند گروہ براہ راست مداخلت کر کے اپنے مقاصد حاصل کر رہے ہیں، اس سنگین بحران سے نمٹنے کے لئے اب صرف روایتی فوجی آپریشن کافی نہیں رہے بلکہ ایک مربوط قومی بیانئے اور وفاق و صوبے کے درمیان مکمل ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ معاشی تحفظ کی فراہمی اور افغانستان کے ساتھ سرحدی انتظام کو مزید موثر بنانا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ خیبر پختونخوا کے عوام کو اس دائمی خوف اور بے یقینی کی فضا سے مستقل نجات مل سکے اور خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

سرحد پار مداخلت، خیبرپختونخوا اور جنوبی اضلاع میں ابھرتے ہوئے سکیورٹی خطرات

خصوصی تحریر: ناصر داوڑ خیبر پختونخوا اور اس کے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں امن و امان کی موجودہ صورتحال ایک ایسے سنگین انسانی اور دفاعی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس نے نہ صرف صوبائی ڈھانچے کو مزید پڑھیں

ٹک ٹاک لائیو پر غیر اخلاقی حرکات کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر

پشاور ( دی خیبرٹائمز کورٹ ڈیسک ) پشاور کے شہری ثاقب الرحمان نے ٹک ٹاک لائیو پر پشتو زبان میں غیر اخلاقی حرکات اور نازیبا گفتگو کے خلاف پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ درخواست سینئر وکیل نعمان مزید پڑھیں

انٹرپراونشل کھیلوں کے مقابلے، نئے کھلاڑیوں کیلئے حوصلہ افزا اقدام ۔ تحریر: مسرت اللہ جان

صوبائی دارالحکومت پشاور اور چارسدہ کے مختلف کھیلوں کے میدانوں پر سات مختلف کھیلوں کے مقابلے جاری ہیں -ان کھیلوں میں بیڈمنٹن ، ٹیبل ٹینس ، والی بال ، اتھلیٹکس ، سکواش ، ہاکی اور فٹ بال کے مقابلے شامل مزید پڑھیں

پی ڈی ایم کو بدترین شکست ہوگی، کورونا کی دوسری لہر کیلئے ایس او پیز پر عمل درآمد کرنا ہوگا، کامران بنگش

پشاور ( دی خیبرٹائمز پولیٹیکل ڈیسک ) صوبائی مشیر اطلاعات کامران بنگش نے کہا ہے، کہ پاکستان ڈیموکریٹک الائنس کو بدترین شکست مل گیا ہے، تبدیلی کی ہوا خیبرپختونخوا سے چلی ہے، ترقی کے اس سفر کو پی ڈی ایم مزید پڑھیں

بنوں کےتاجروں کا حلال فوڈ اتھارٹی کے رویہ کے خلاف احتجاج، حلال فوڈ اتھارٹی کے اہلکاروں کو دُکانوں میں آنے پر پابندی عائد

بنوں ( دی خیبرٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک ) آٹا گھی ڈیلرز ایسوسی ایشن اور تاجر برداری نے حلال فوڈ اتھارٹی کی طرف سے گودام پر چھاپے کو ڈکیتی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ دے دیا۔ ٹریڈ مزید پڑھیں

وزیرستان یونین آف جرنلسٹ کا صوبائی مشیراطلاعات کے ساتھ ملاقات، صحافیوں کے مسائل پر تبادلہ خیال

پشاور ( دی کخیبرٹائمز پولیٹیکل ڈیسک ) ڈسٹرکٹ پریس کلب میرانشاہ اور وزیرستان یونین اف جرنلسٹس کے وفد کی وزیر اعلی کے مشیر خصوصی برائے اطلاعات و ہائیر ایجوکیشن کامران بنگش کے ساتھ ملاقات ، قبائلی صحافیوں کے مسائل اور مزید پڑھیں

اے این پی کےصوبائی صدر ایمل ولی کو بی آر ٹی پر تنقید بھاری پڑ گیا

پشاور ( دی خیبرٹائمز پولیٹیکل ڈیسک ) عوامی نیشنل پارٹی، باچا خان مرکز کے مستند سوشل میڈیا کے ٹوئیر اکاونٹ سے ٹویٹ کیا گیا ہے کہ ” ‏آخری دو سٹیشنز بعد میں شروع کئے گئے جو اسی حلقے میں آتے مزید پڑھیں

سونامی کے 2 سالہ کارکردگی صفر، عوام کو صرف بے روزگاری تحفے میں دیدیا، روبینہ خالد

پشاور( پریس ریلیز ) پیپلز پارٹی خیبر پختون خواہ کی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر روبینہ خالد اور ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات گوہر انقلابی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے سونامی کو دو سال مکمل ہوگئے مزید پڑھیں

پٹرولیم انسٹیٹیوٹ کرک بورڈ آف گورنر کا تیسرا اجلاس، پیٹرولیم انسٹیٹیوٹ کے قیام پر تفصیلی بریفنگ، منصوبے کی تکمیل پر 2 ارب روپے کی لاگت آئے گی

پشاور ( دی خیبرٹائمز جنرل رپورٹنگ ڈیسک ) پیٹرولیم انسٹیٹیوٹ آف کرک کے بورڈ آف گورنرز کا تیسرا اجلاس محکمہ منصوبہ بندی و ترقی خیبرپختونخوا میں منعقد ہوا- بی او جی اجلاس کی صدارت ایڈیشنل چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا شکیل قادر مزید پڑھیں