21 May, 2026
اہم خبریں
  • خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع اور معاشی مراکز میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی اور سیاسی خلیج کی اندرونی کہانی!
  • جنوبی وزیرستان: ٹارگٹ کلنگ میں قبائلی رہنما سمیت 3 افراد جاں بحق
  • قبائلی اضلاع کی خاموش چیخ
  • خیبرپختونخوا کابینہ میں توسیع، پی ٹی آئی کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • صدر ٹرمپ کا دورہ چین اور عالمی جیو پولیٹکس پر اس کے اثرات
  • Home
  • اہم خبریں
  • پاکستان
    • دینی مسائل
    • اہم خبریں
    • مذہب
    • تصاویر اور مناظر
    • سیر و تفریح
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • صحت
  • افغانستان
  • علاقائی
  • کالمز
  • انٹرنیشنل
  • کاروبار
  • کھیل
  • شوبز
  • کاپی رائٹس
    • پرائیویسی پالیسی
    • قوائد و ضوابت
    • ہمارے بارے میں
  • Home
  • اہم خبریں
  • پاکستان
    • دینی مسائل
    • اہم خبریں
    • مذہب
    • تصاویر اور مناظر
    • سیر و تفریح
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • صحت
  • افغانستان
  • علاقائی
  • کالمز
  • انٹرنیشنل
  • کاروبار
  • کھیل
  • شوبز
  • کاپی رائٹس
    • پرائیویسی پالیسی
    • قوائد و ضوابت
    • ہمارے بارے میں

ہمارا یوٹیوب چینل

ہمارا فیس بک پیج

The Khyber Times

خصوصی فیچرز

پشتون تحفظ مؤومنٹ کے اہم رہنما شہاب خٹک کے بھائی ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو نامعلوم افراد نے پشاور کے بھرے بازار میں گولی مارکر شہید کردیا
شمالی وزیرستان کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان داوڑ
کیا لڑانے والے کامیاب نہیں ہوئے ؟؟؟ خصوصی تحریر: رسول داوڑ
شمالی وزیرستان ،رمضان المبارک کا چاندنظرآگیا
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے…. تحریر رفعت انجم

حیرت انگیز

دی خیبر ٹائمز خصوصی رپورٹ: خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع اور معاشی مراکز میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی اور سیاسی خلیج کی اندرونی کہانی! خیبر پختونخوا اس وقت ایک ایسے پیچیدہ بحران سے گزر رہا ہے جہاں دہشت گردی کی نئی لہر، وفاق اور صوبے کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی دوریاں، اور معاشی بدحالی نے حکومتی نظام کو شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب صوبے کے عام شہری اور سرمایہ کار مسلسل عدم تحفظ کا شکار ہیں، پشاور سے لے کر جنوبی اضلاع تک پھیلی یہ بدامنی محض مقامی نوعیت کی نہیں رہی بلکہ اس نے ملک کے دفاعی اور اقتصادی ڈھانچے پر گہرے منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔ وفاق اور صوبے کے مابین سیکیورٹی کے معاملات پر پائی جانے والی سرد جنگ، افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد سرحد پار سے جدید ترین اسلحہ کی منتقلی اور مقامی سطح پر قبائلی و عوامی حلقوں میں عسکری آپریشنز کے خلاف پایا جانے والا ردعمل اس بحران کی وہ بنیادی کڑیاں ہیں جن کو سمجھے بغیر پائیدار امن کا خواب نامکمل معلوم ہوتا ہے۔ اس سنگین بحران کا بنیادی مرکز قبائلی اضلاع ہیں جو اب مسلح عسکریت پسند تنظیموں کی دوبارہ منظم ہونے کی سرگرمیوں کا محور بن چکے ہیں ۔ خطے کے معروضی حالات اور انٹیلی جنس معلومات ظاہر کرتی ہیں کہ یہاں متعدد خطرناک تنظیموں کی فعال موجودگی کے پختہ امکانات پائے جاتے ہیں جن میں سب سے بڑا اور منظم نیٹ ورک تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کا ہے ۔ یہ گروپ پاکستان کے وجود کو غیر آئینی قرار دے کر فاٹا انضمام کے خاتمے، قبائلی علاقوں سے ریاستی افواج کے انخلا اور اپنے سخت نظریات کے نفاذ کیلئے برسرِپیکار ہے ۔ عسکریت پسندوں کا یہ نیٹ ورک پاکستان کے شمالی اور جنوبی حصوں میں تقسیم ہے، جہاں سے یہ مالی وسائل حاصل کرنے کیلئے ٹرانزٹ ٹیکس, اغوا برائے تاوان، لکڑی کی غیر قانونی تجارت، معدنیات کی اسمگلنگ اور مدارس سے عطیات کا استعمال کرتا ہے ۔ اسی خطے میں حافظ گل بہادر گروپ بھی ایک طاقتور عسکری قوت کے طور پر سرگرم ہے، جو بنیادی طور پر شمالی وزیرستان اور بنوں کے علاقوں کو نشانہ بناتا ہے اور عسکری کارروائیوں کے خلاف مزاحمت کیلئے بارود سے بھری گاڑیوں کے خودکش دھماکوں اور راکٹ حملوں کا بے دریغ استعمال کرتا ہے ۔ دیگر عسکریت پسند تنظیموں کے ساتھ اتحاد کرنے کے بعد اس گروپ کا نام اتحادالمجاہدین پاکستان بن گیا، دولتِ اسلامیہ خراسان (ISKP) نامی شدت پسند تنظیم خلافت کے عالمی ایجنڈے کے تحت باجوڑ، پشاور اور کرم ایجنسی جیسے اضلاع میں فعال ہے ۔ یہ تنظیم زیادہ تر شہری مراکز میں بم دھماکوں، سیاسی و مذہبی جلسوں پر خودکش حملوں اور مذہبی عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔ اس خطے میں اسود الخراسان اور الحمید خودکش فورس جیسے چھوٹے اور انتہائی متشدد عسکری دھڑے بھی سیکیورٹی فورسز کیلئے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں ۔    ان حالات میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر مسلسل کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جن میں سے ایک بڑی عسکری کارروائی مئی 2026 میں شمالی وزیرستان کے علاقے شیوہ میں کی گئی جہاں سرچ اور کلیئرنس آپریشن میں دو اہم عسکری کمانڈروں سمیت درجن سے زائد عسکریت پسند مارے گئے ۔ اس کارروائی کے دوران عسکریت پسندوں کے محفوظ ٹھکانوں اور نقل و حمل کے مراکز کو تباہ کرنے کیلئے دروزاندہ میں واقع علم خیل مارکیٹ کو بھی مسمار کیا گیا ۔ دوسری جانب، جنوبی وزیرستان لوئرکے انتظامی مرکز وانا میں قبائلی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا ایک منظم سلسلہ جاری ہے تاکہ مقامی آبادی اور ریاست کے مابین رابطے کا نظام مفلوج ہو جائے ۔ اس کی حالیہ ہولناک مثال 18 مئی 2026 کو وانا کے مصروف ترین رستم بازار میں دیکھنے میں آئی جہاں گلشن پلازہ اور خانزادہ مارکیٹ کے قریب احمد زئی وزیر قبیلے کے معتبر سربراہ ملک طارق وزیر کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرولڈ بم دھماکے سے اڑا دیا گیا ۔ اس طاقتور دھماکے میں ملک طارق وزیر کے علاوہ ان کے قریبی قبائلی ساتھی ملک سرفراز اور غلام رسول یار گل خیل موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ دو دیگر افراد شدید زخمی ہوئے ۔ قبائلی عمائدین کو منظم طریقے سے قتل کرنے کا یہ کھیل کوئی نیا نہیں ہے بلکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق 2004 سے اب تک تقریباً ڈھائی سے تین ہزار بااثر قبائلی عمائدین کو عسکریت پسندوں کی جانب سے قتل کیا جا چکا ہے، جس کے باعث روایتی قبائلی نظامِ مصالحت اور مقامی قیادت کا ڈھانچہ بری طرح پامال ہو چکا ہے ۔    یہ لہر اب وزیرستان کے جغرافیائی دائرے سے نکل کر باجوڑ اور لکی مروت جیسے دیگر اہم اضلاع کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے، جہاں پولیو مہم پر مامور پولیس اہلکاروں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ جنوری 2024 میں باجوڑ کے علاقے ماموند میں پولیو کی حفاظت پر تعینات پولیس کی گاڑی پر ایک آئی ای ڈی دھماکے کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکار شہید اور 27 افراد زخمی ہوئے جس کی ذمہ داری تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کی تھی ۔ ستمبر 2024 میں باجوڑ میں ہی کانسٹیبل لقمان کی ٹارگٹ کلنگ نے مقامی فورسز میں اس قدر غم و غصہ پیدا کیا کہ پولیس اہلکاروں نے باجوڑ میں پولیو ڈیوٹی کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کر دیا ۔ اسی طرح کی دہشت گردی کا ایک اور ہولناک منظر 12 مئی 2026 کو لکی مروت کے تحصیل سرائے نورنگ بازار میں پیش آیا، جہاں عسکریت پسندوں نے بارود سے بھری لوڈر رکشہ کے ذریعے کاروباری مرکز کو اڑا دیا ۔ اس ہولناک دھماکے کے نتیجے میں دو ٹریفک پولیس اہلکاروں، عادل جان اور راحت اللہ، اور ایک معصوم خاتون سمیت نو افراد لقمہ اجل بنے جبکہ 33 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے ۔ اگرچہ اس دھماکے کی فوری طور پر کسی تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی، لیکن یہ حملے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عسکریت پسند اب شہری علاقوں اور بازاروں میں گھس کر کارروائیاں کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں ۔    سیکیورٹی کی اس دگرگوں صورتحال اور عسکریت پسند دھڑوں کے مابین بقا اور وسائل کی اندرونی جنگ کی ایک ہولناک اور تازہ ترین مثال حال ہی میں، یعنی 20 مئی 2026 کو وسطی کرم کے علاقے مناتو کامران کلے میں دیکھنے میں آئی ہے، جو تھانہ چینارک کی حدود میں واقع ہے۔ یہاں عسکریت پسندوں کے دو انتہائی متشدد حریف دھڑوں، یعنی کمانڈر احمد کاظم کے (کاظم گروپ) اور کمانڈر ممتاز امتی کے (ممتاز امتی گروپ) کے مابین بھتے اور غیر قانونی ٹیکس (قلنگ) کی وصولی اور مالِ غنیمت کی تقسیم کے تنازعے پر ایک ہولناک اور خونریز مسلح تصادم ہوا۔ اس تصادم میں دونوں جانب سے راکٹوں اور مارٹروں سمیت بھاری اور خودکار جنگی ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں ممتاز امتی گروپ کے عسکری کمانڈر ممتاز امتی سمیت مجموعی طور پر 18یا 19 شدت پسند ہلاک ہو گئے۔ سیکیورٹی اور پولیس حکام کی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں 18 عسکریت پسندوں کا تعلق براہِ راست ممتاز امتی گروپ سے تھا (جبکہ اس گروپ کے مزید 3 جنگجو تاحال لاپتہ ہیں)، اور مخالف کاظم گروپ کا بھی ایک اہم جنگجو اس لڑائی میں مارا گیا ہے۔ اگرچہ تصادم کے فوراً بعد مقامی قبائل نے کشیدہ حالات میں لاشوں کو اٹھا کر تدفین کا عمل شروع کر دیا، لیکن اس واقعے نے پورے ضلع کرم میں شدید خوف اور انتہائی سنسنی خیز تناؤ کی فضا قائم کر دی ہے۔ مبصرین اور سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، اس خونریز تصادم کے بعد سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے علاقے کو اپنے محاصرے میں لے کر مفرور اور زخمی عسکریت پسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر ٹارگٹڈ سرچ آپریشن شروع کر دیا، تاہم اس واقعے کے مستقبل پر دور رس اور تشویشناک اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے، یہ تصادم اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ یہ مسلح عسکریت پسند گروہ کسی نظریاتی یا مذہبی جدوجہد کیلئے نہیں، بلکہ خالصتاً مال و دولت، بھتہ خوری، اور اپنے ذاتی اثر و رسوخ کو بڑھانے کیلئے ایک دوسرے کا خون بہانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اس جنگ کے بعد کرم میں عسکریت پسندوں کی آپسمیں گینگ وار مزید شدت اختیار کرنے کا خطرہ ہے، جس سے ایک طرف تو ان کا تنظیمی ڈھانچہ کمزور ہوگا، لیکن دوسری طرف پہلے سے ہی زمین کے دیرینہ تنازعات اور شدید فرقہ وارانہ حساسیت کے شکار ضلع کرم میں امن و امان کا نازک توازن بگڑنے اور بالخصوص ٹل پاراچنار ہائی وے جیسے کلیدی تجارتی راستوں پر نقل و حمل معطل ہونے کا سنگین اندیشہ پیدا ہو گیا ہے، جو کہ ریاستی رٹ کیلئے ایک نیا امتحان ثابت ہوگا۔ اس تمام تر مخدوش صورتحال کے بعد اب صوبائی دارالحکومت پشاور میں عسکریت پسندوں کی پوشیدہ نقل و حرکت اور حیات آباد جیسے حساس اور متمول علاقوں میں ان کی سرگرمیوں نے شہر کی سماجی اور کاروباری زندگی کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ خیبرپختونخوا کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں آنے والی حالیہ تاریخی مندی کے پیچھے دو بنیادی وجوہات کارفرما ہیں، جن میں سے پہلی غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا وہ حکومتی فیصلہ ہے جس کے بعد خیبرپختونخوا، پشاور اور بالخصوص بورڈ بازار میں جعلی دستاویزات پر جائیدادیں خریدنے والے تقریباً 12 ہزار سے زائد افغان پناہ گزینوں نے عجلت میں انتہائی کم داموں پر اپنی جائیدادیں اور کاروبار فروخت کرنا شروع کر دئے ۔ خریداروں کی عدم موجودگی اور جائیدادوں کی بھرمار کے باعث پشاور کے پوش علاقے حیات آباد مکانات کے کرایوں اور قیمتوں میں 15 سے 20 فیصد تک تاریخی کمی واقع ہوئی ہے ۔ دوسری جانب پشاور کا تجارتی طبقہ اس وقت پارہ چنار سے لے کر سرحد پار افغانستان تک پھیلے عسکریت پسند بھتہ خوروں کے نشانے پر ہے ۔ انڈسٹریلسٹس ایسوسی ایشن پشاور (IAP) کے مطابق، سرمایہ کاروں کو مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں اور 20 ملین روپے تک کے بھتے کے مطالبے موصول ہو رہے ہیں ۔ حیات آباد میں صنعتکاروں کے گھر وں اور سابق صوبائی وزیر حاجی جاوید کی رہائش گاہ پر بھتہ نہ دینے کی پاداش میں دستی بم حملوں نے پورے بزنس کمیونٹی کو خوف زدہ کر دیا ہے ۔ سیکیورٹی کی اس غیر واضح صورتحال کے باعث سرمایہ کار تیزی سے پشاور سے اپنے کاروبار بند کر کے پنجاب، کراچی یا پھر دبئی اور ملائشیا جیسے محفوظ اور ٹیکس فری مقامات پر منتقل کر رہے ہیں ۔ پشاور میں سرمایہ کاری کے کم ہوتے امکانات اور سیکیورٹی خدشات کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے پشاور میں اپنے قونصلیٹ جنرل کو بند کردیا۔ اس تمام تر مخدوش صورتحال میں سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کا ریاستی عزم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین شدید سیاسی مخاصمت اور پالیسیوں کے تضاد کے باعث بری طرح متاثر ہو رہا ہے ۔ وفاق کی جانب سے جب بھی کوئی نیا سیکیورٹی فریم ورک بالخصوص آپریشن عزمِ استحکام کے نام سے شروع کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے تو خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت اس کی کھل کر مخالفت کرتی ہے ۔ سابق وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور اور موجودہ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ صوبے کو اعتماد میں لئے بغیر بند کمروں میں فیصلے کئے جا رہے ہیں ۔ صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ماضی کے بڑے فوجی آپریشنز جیسے ضربِ عضب یا راہِ راست نے صرف بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور معاشی تباہی پیدا کی، جیسا کہ باجوڑ میں 2008 کے آپریشن شیردل کے نتیجے میں لاکھوں لوگوں کو بے گھر ہونا پڑا اور وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ۔ حالیہ دور میں بھی جولائی 2025 میں باجوڑ کے علاقے لوئی ماموند میں شروع کئے جانے والے آپریشن سر بکف کے بعد 55 ہزار سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور وادی تیراہ میں آپریشن کی افواہوں پر تقریباً 70 ہزار افراد کو سردی کے موسم میں بے گھر ہونا پڑا ۔ اسی طرح شمالی وزیرستان کے تحصیل دتہ خیل، تحصیل سپین وام اور شیواہ میں بھی مسلح تنظیموں کے خلاف کارروئیوں کے دوران بڑے پیمانے پر لوگ بے گھر ہورہے ہیں۔ بنوں کے حالات بھی وزیرستان سے بھی بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ دوسری جانب وفاقی وزراء صوبائی حکومت پر عسکریت پسندوں کیلئے نرم گوشہ رکھنے اور تزویراتی سستی کا الزام عائد کرتے ہیں، جس کی وجہ سے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور پولیس کے مابین وفاقی ایجنسیوں کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ اور سیکیورٹی تعاون بری طرح متاثر ہو رہا ہے ۔    ماہرین کا ماننا ہے کہ آج خیبر پختونخوا جس عسکریت پسندی کا سامنا کر رہا ہے، اس کی بنیادیں پی ٹی آئی کے سابقہ دورِ حکومت میں لئے گئے متنازع فیصلوں میں ملتی ہیں۔ اس دور میں افغان طالبان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران، جذبہ خیر سگالی کے نام پر ٹی ٹی پی کے ایک سو سے زائد انتہائی مطلوب قیدیوں کو رہا کر دیا گیا، جو بڑی مشکل اور فورسز نے جانوں کا نظرانہ پیش کرکے گرفتار لئے گئے تھے، اسی کمزور فیصلے کے تحت، افغانستان میں موجود تقریباً چھ ہزار مسلح جنگجوؤں کو ان کے خاندانوں سمیت قبائلی علاقوں میں واپسی کی کھلی چھوٹ دے دی گئی۔ تاہم، ان عسکریت پسندوں نے ہتھیار ڈالنے یا پرامن شہری بننے کے بجائے ان علاقوں میں دوبارہ اپنے نیٹ ورکس منظم کر لئے، جس کا سنگین خمیازہ آج سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ افغانستان میں اگست 2021 کو رونما ہونے والی تبدیلی نے جہاں پاک افغان تعلقات پر گہرے اثرات ڈالے، وہیں پاکستانی عسکریت پسندوں کو سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں اور وہاں سے آزادانہ کارروائیوں کا موقع فراہم کر دیا ۔ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد امریکی افواج کے جلدی میں انخلا کے باعث تقریباً 7.1 ارب ڈالر کا جدید ترین امریکی فوجی سازوسامان اور ہتھیار بلیک مارکیٹ اور عسکریت پسندوں کے ہاتھ لگ گئے ۔ اب ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے گروپ پاکستان کے خلاف ایم-4 اور ایم-16 خودکار رائفلیں, ایم-249 لائٹ مشین گنز، ریمنگٹن سنائپر رائفلیں اور سب سے بڑھ کر جدید تھرمل اور نائٹ ویژن آلات استعمال کر رہے ہیں، جن کی بدولت عسکریت پسندوں کو رات کے اندھیرے میں سیکیورٹی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانے میں واضح برتری حاصل ہو چکی ہے ۔ اسی دوران پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے معاملے پر بھی کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے، کیونکہ افغان طالبان اور مقامی سرحدی قبائل ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتے اور ان کا ماننا ہے کہ یہ باڑ زمین کو نہیں بلکہ ان کے دلوں کو تقسیم کرتی ہے ۔ کئی مقامات پر باڑ کاٹے جانے کے باعث کشیدگی اس حد تک بڑھی کہ فروری 2026 میں دونوں ممالک کے درمیان ایک کھلی سرحدی جنگ کی صورتحال پیدا ہو گئی، جس میں پاکستان نے سرحد پار دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کئے اسے آپریشن غضب الحق کا نام دیا گیا، جس کے جواب میں افغان فورسز کی جانب سے بھی شدید شیلنگ کی گئی ۔    بدامنی کی اس خوفناک تصویر کے خلاف اب مقامی سطح پر غیر معمولی عوامی ردعمل اور ریاستی پالیسیوں پر بے اعتمادی کھل کر سامنے آ رہی ہے ۔ مئی 2026 میں بنوں کی فتح خیل چیک پوسٹ پر ہونے والے ہولناک خودکش حملے میں 15 پولیس اہلکاروں کی شہادت کے بعد پولیس فورس اور مقامی تاجروں کا غم و غصہ عروج پر پہنچ گیا ۔ اس سے قبل جولائی 2024 میں بنوں کے شہریوں اور تاجروں نے کسی بھی پارٹی کے جھنڈے کے بغیر صرف سفید امن جھنڈے اٹھا کر تاریخی بنوں امن مارچ منعقد کیا تھا جس پر فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور بیس سے زائد زخمی ہوئے تھے ۔ اس کے فوراً بعد ستمبر 2024 میں لکی مروت میں تایا چوک پر پولیس اہلکاروں نے پاکستان کی تاریخ کا انوکھا احتجاج شروع کیا اور کراچی پشاور انڈس ہائی وے کو بلاک کر کے فوج کے انخلا اور پولیس کو مکمل اختیارات دینے کا مطالبہ کیا، جس پر مروت قومی جرگہ کی ثالثی میں یہ معاہدہ طے پایا کہ تمام عسکری آپریشنز کی قیادت مقامی پولیس کے ہاتھ میں ہوگی ۔ ماضی میں عسکریت پسندی کے خلاف قبائلی سطح پر تشکیل دئے گئے رضاکارانہ دفاعی نظام جیسے شمالی وزیرستان کے عیدک کا (عیدک قبائل کا امن لشکر) اپنی مثال آپ تھا۔ تاہم عسکریت پسندوں کی جانب سے ان لشکروں کے عمائدین کی پے در پے ٹارگٹ کلنگ نے اس روایتی اور مقامی دفاعی نظام کو بھی تقریباً ختم کر دیا ہے ۔    ان تمام منفی اور خونریز حالات کے درمیان سرحد کے دونوں اطراف آباد عام قبائلی عوام نے امن قائم کرنے کیلئے تاریخ ساز کوششیں شروع کی ہیں ۔ مئی 2026 کے آغاز میں پاکستان کے اضلاع باجوڑ اور مہمند کے قبائلی رہنماؤں اور افغانستان کے صوبہ کنڑ کے عمائدین کے مابین نوا پاس بارڈر کے مقام پر ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا ۔ باجوڑ چیمبر آف کامرس کے صدر لال شاہ پختون یار اور افغان وفد کے سربراہ ظاہر گل کی مشترکہ قیادت میں طے پانے والے اس پانچ نکاتی امن معاہدے کے تحت دونوں اطراف کی سیکیورٹی فورسز اور مسلح قبائل ایک دوسرے پر فائرنگ سے مکمل گریز کریں گے اور کسی بھی سرحدی تنازعے کو جنگ کے بجائے باہمی مشاورت سے حل کیا جائے گا ۔ اس معاہدے کے تحت بند تجارتی راستے کھولنے اور ہر تین ماہ بعد پیش رفت کا جائزہ لینے کیلئے ملاقات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، جو کہ چترال اور افغانستان کے صوبہ نورستان کے مابین وسطِ اپریل 2026 میں ہونے والے سڑکوں کی بحالی کے کامیاب معاہدے کے بعد ایک بڑی مقامی کامیابی ہے ۔ یہ مقامی معاہدات ثابت کرتے ہیں کہ گراس روٹ لیول پر عوام جنگ اور سیاسی کھینچا تانی سے تھک چکے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی ادارے اپنی اناؤں کو پسِ پشت ڈال کر مقامی لوگوں کے ان مصالحتی اقدامات کو تسلیم کریں، مقامی پولیس کو بااختیار بنائیں اور سرحد پار خطرات سے نمٹنے کیلئے ایک منظم، قومی اور جامع سیکیورٹی پالیسی مرتب کریں تاکہ خیبر پختونخوا کے عوام کو امن اور اقتصادی استحکام کا وہ حق مل سکے جس سے وہ دہائیوں سے محروم ہیں۔   حال ہی میں چارسدہ کے ممتاز عالمِ دین اور شیخ الحدیث شیخ ادریس کی شہادت نے نہ صرف پورے خطے کو سوگوار کیا ہے، بلکہ یہ اس سنگین خطرے کی گھنٹی بھی ہے کہ ہمارا ملک ایک نئے اور پیچیدہ سیکیورٹی بحران کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ اس تلخ حقیقت کا غماز ہے کہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اپنی سیاسی رنجشیں بالائے طاق رکھ کر دہشت گردی کے خلاف کوئی مربوط، ٹھوس اور فیصلہ کن حکمتِ عملی نہ اپنائی، تو ریاست کا یہ حصہ ایک ایسی ہولناک دلدل میں دھنس جائے گا، جہاں سے نکلنا آنے والی نسلوں کیلئے ایک ناممکن خواب بن کر رہ جائے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں، ورنہ اس غفلت کا خمیازہ صرف خیبر پختونخوا ہی نہیں، بلکہ پورا پاکستان بھگتے گا۔
خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع اور معاشی مراکز میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی اور سیاسی خلیج کی اندرونی کہانی!
جنوبی وزیرستان: ٹارگٹ کلنگ میں قبائلی رہنما سمیت 3 افراد جاں بحق وانا (دی خیبر ٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک) جنوبی وزیرستان لوئر کے مرکز وانا میں رستم بازار اور خانزادہ مارکیٹ کے قریب ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں احمدزئی وزیر قبیلے کے چیف ملک طارق خان سمیت تین افراد جاں بحق جبکہ چار افراد زخمی ہوگئے۔ واقعے نے ایک بار پھر علاقے میں بڑھتی ہوئی بدامنی، ٹارگٹ کلنگ اور قبائلی عمائدین کو درپیش خطرات پر سنگین سوالات کھڑے کر دئے ہیں۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) محمد طاہر کے مطابق دھماکہ اُس وقت ہوا جب قبائلی سربراہ کی گاڑی بازار کے مرکزی راستے سے گزر رہی تھی۔ دھماکے کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں ملک طارق خان، ملک سرفراز خان یارگل خیل اور جابر خان شامل ہیں، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر وانا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کردیا گیا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ بظاہر ایک ٹارگٹڈ حملہ معلوم ہوتا ہے اور حملہ آوروں نے منصوبہ بندی کے تحت قبائلی رہنما کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ دھماکے کے بعد پولیس اور سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا اور تحقیقات شروع کردی ہیں، تاہم تاحال کسی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ جنوبی وزیرستان، خصوصاً وانا اور اس کے گردونواح، گزشتہ کچھ عرصے سے ایک بار پھر بدامنی کی لپیٹ میں ہیں جہاں ٹارگٹ کلنگ، ریموٹ کنٹرول دھماکوں اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کے واقعات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ مقامی قبائلی مشران، امن کمیٹیوں کے اراکین اور حکومت نواز شخصیات مسلسل حملہ آوروں کے نشانے پر ہیں، جس کے باعث علاقے میں خوف اور بے یقینی کی فضا گہری ہوتی جارہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق قبائلی عمائدین پر حملے نہ صرف مقامی امن عمل کو متاثر کرتے ہیں بلکہ روایتی قبائلی ڈھانچے اور امن جرگوں کو بھی کمزور کرتے ہیں، جو ماضی میں شدت پسندی کے خلاف اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ مقامی عوام نے حکومت اور سکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر فوری توجہ دی جائے اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔
جنوبی وزیرستان: ٹارگٹ کلنگ میں قبائلی رہنما سمیت 3 افراد جاں بحق
قبائلی اضلاع کی خاموش چیخ تحریر:شھزادین جرنلسٹ خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع، خصوصاً جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، کرم، باجوڑ اور خیبر وہ خطے ہیں جو دو دہائیوں سے دہشتگردی، فوجی آپریشنز، بارودی دھماکوں اور مسلسل خوف کے سائے میں زندہ ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں ہر صبح امن کی دعا سے شروع ہوتی ہے اور ہر رات کسی نئے سانحے کی خبر پر ختم ہوجاتی ہے۔ پاک افغان بارڈر سے متصل یہ خطہ کبھی اپنی ثقافت، مہمان نوازی، تجارت اور قدرتی حسن کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، مگر آج یہاں کے بازار سنسان، اسکول ملبے کا ڈھیر، ہسپتال ویران اور لوگ ذہنی اذیت کا شکار ہوچکے ہیں۔ اس جنگ نے سب سے زیادہ نقصان عام پشتون عوام کو پہنچایا، وہ عوام جو نہ کسی جنگ کا حصہ تھے اور نہ ہی کسی طاقت کے فیصلوں میں شریک، مگر قربانی ہمیشہ انہی کے حصے میں آئی۔ وانا، میرانشاہ، تیراہ، شوال اور دیگر علاقوں میں کئی خاندان ایسے ہیں جنہوں نے ایک ہی دہائی میں اپنے کئی پیارے کھودیئے۔ کسی کا بچہ بارودی سرنگ کا شکار ہوا، کسی کا والد اغوا ہوگیا، کسی کا گھر دھماکے میں تباہ ہوا اور کسی کی زندگی چیک پوسٹوں، ناکہ بندیوں اور خوف کے درمیان گزر گئی۔ عوام کے کاروبار تباہ ہوگئے، لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے، نوجوان بیروزگاری اور مایوسی کا شکار ہوگئے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں کے لوگ دوہری اذیت جھیل رہے ہیں۔ ایک طرف مسلح گروہ عوام کو اپنے نظریات کے نام پر دھمکاتے ہیں، دوسری طرف ریاستی سختیاں عام شہری کی زندگی مزید مشکل بنادیتی ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف آواز اٹھانا بھی خطرناک بن چکا ہے۔ احتجاج کرنے والے غدار کہلاتے ہیں، امن مانگنے والے مشکوک بن جاتے ہیں اور سچ بولنے والوں کو خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ قبائلی اضلاع میں کئی ایسے اسکول ہیں جو دھماکوں میں تباہ ہوئے، کئی مساجد نشانہ بنیں، کئی بازار بارود سے اڑا دیئے گئے۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس جنگ کا انجام کیا ہے؟ اگر دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی جارہی ہے تو پھر ہر بار لاشیں عوام کی کیوں اٹھتی ہیں؟ اگر امن قائم ہوچکا ہے تو پھر خوف اب بھی لوگوں کی آنکھوں میں کیوں زندہ ہے؟ یہ خطہ صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کا نام ہے۔ یہاں کے بچوں کو کتاب چاہئے، بارود نہیں۔ یہاں کے نوجوانوں کو روزگار چاہئے، بندوق نہیں۔ یہاں کے بزرگوں کو سکون چاہئے، خوف نہیں۔ قبائلی عوام اب صرف ایک سوال پوچھ رہے ہیں: آخر کب تک؟ کب تک پشتون علاقوں میں دھماکوں کی گونج سنائی دے گی؟ کب تک ماؤں کی گودیں اجڑتی رہیں گی؟ کب تک امن کا مطالبہ جرم سمجھا جائے گا؟ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں ہمیشہ طاقتور لوگ شروع کرتے ہیں مگر ان کا بوجھ ہمیشہ عام عوام اٹھاتے ہیں۔ وزیرستان اور قبائلی اضلاع کے لوگ اب صرف زندہ رہنے نہیں بلکہ عزت، امن اور بنیادی حقوق کے ساتھ جینے کا حق مانگ رہے ہیں۔
قبائلی اضلاع کی خاموش چیخ
خیبرپختونخوا کابینہ میں توسیع، پی ٹی آئی کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آگئے
صدر ٹرمپ کا دورہ چین اور عالمی جیو پولیٹکس پر اس کے اثرات تحریر: ناصر داوڑ ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا 13 سے 15 مئی 2026 تک ہونے والا تزویراتی دورہ چین عالمی سیاست کی تاریخ میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے ۔ تقریباً نو سالوں کے طویل عرصے کے بعد کسی برسرِاقتدار امریکی صدر کا یہ پہلا دورہ چین تھا، اس سے قبل آخری بار خود صدر ٹرمپ نے ہی نومبر 2017 میں بیجنگ کا دورہ کیا تھا ۔ یہ دورہ ایک ایسے انتہائی حساس وقت پر وقوع پذیر ہوا جب مشرق وسطیٰ میں امریکہ-اسرائیل اور ایران کے مابین جنگ اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث عالمی جیو پولیٹکس اور معیشت شدید دباؤ کا شکار تھی ۔ تزویراتی تجزیہ کار اس دورے کو ایک پائیدار تزویراتی شراکت داری کے بجائے محض ایک عارضی بحرانی انتظام اور سفارتی جنگ بندی کے طور پر دیکھ رہے ہیں ۔ یہ دورہ اصل میں اپریل 2026 کے پہلے ہفتے کیلئے طے کیا گیا تھا، لیکن فروری میں ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بحرانی صورتحال کے باعث اسے مئی تک ملتوی کر دیا گیا تھا ۔    بدھ، 13 مئی 2026 کی شام صدر ٹرمپ کا طیارہ بیجنگ کیپٹل انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترا جہاں چینی نائب صدر ہان ژینگ، امریکہ میں متعین چینی سفیر ژی فینگ، ایگزیکٹو نائب وزیر خارجہ ما ژاؤکسو، اور چین میں امریکی سفیر ڈیوڈ پرڈیو نے ان کا استقبال کیا ۔ صدر ٹرمپ کے اعزاز میں ایک شاندار عسکری آنر گارڈ اور فوجی بینڈ پیش کیا گیا جس کے بعد ان کا قافلہ سخت سیکیورٹی میں فور سیزنز بیجنگ ہوٹل منتقل ہوا، جبکہ امریکی وفد کے دیگر ارکان کو کیمپنسکی ہوٹل بیجنگ یانشا سینٹر میں ٹھہرایا گیا ۔ اگلے روز، یعنی جمعرات 14 مئی 2026 کی صبح، صدر ٹرمپ باقاعدہ دوطرفہ مذاکرات کیلئے عظیم عوامی ہال پہنچے جہاں چینی صدر شی جن پنگ نے ان کا والہانہ استقبال کیا ۔ مذاکرات کے بعد دونوں رہنماؤں نے بیجنگ کے تاریخی معبد ٹیمپل آف ہیون کا دورہ کیا، جس کے بعد وہ 1975 میں جیرالڈ فورڈ کے بعد اس معبد کا دورہ کرنے والے دوسرے برسرِاقتدار امریکی صدر بن گئے ۔ اسی روز شام کو صدر شی نے عظیم عوامی ہال کے سنہری کمرے میں صدر ٹرمپ کے اعزاز میں ایک پُرآسائش سرکاری ضیافت کا اہتمام کیا، جس میں بیجنگ روسٹ ڈک اور روایتی چینی پکوان پیش کئے گئے اور اسی دوران صدر ٹرمپ نے چینی صدر کو 24 ستمبر 2026 کو امریکہ کے جوابی سرکاری دورے کی باقاعدہ دعوت پیش کی ۔ دورے کے آخری روز، یعنی جمعہ 15 مئی 2026 کو، صدر شی نے صدر ٹرمپ کی میزبانی ژونگ نان ہائی کے باغیچے میں چائے کی دعوت پر کی ۔ یہ غیر معمولی دعوت نامہ دراصل 2017 میں مار-اے-لاگو میں چینی صدر کی میزبانی کے جواب میں تھا، جہاں دونوں رہنماؤں نے باغات کی سیر کی اور ایک تفصیلی ورکنگ لنچ کے بعد صدر ٹرمپ ائیر فورس ون کے ذریعے واپس روانہ ہو گئے ۔    اس تاریخی دورے کا ایک بڑا مرکز دونوں ممالک کے مابین تجارتی جنگ کو عارضی طور پر روکنا اور معاشی مفادات کو متوازن کرنا تھا، جس کیلئے فریقین نے کئی اہم شعبوں میں تجارتی معاہدوں کی تفصیلات کو زیر بحث لایا ۔ معاشی معاہدوں میں سب سے بڑی اور اہم پیش رفت ہوابازی کے شعبے میں امریکی کمپنی بوئنگ (Boeing) کیلئے دیکھی گئی، جہاں صدر ٹرمپ کے مطابق چین نے ابتدائی طور پر کم از کم 200 مسافر بردار طیاروں کی خریداری کا عزم ظاہر کیا ہے، جسے مستقبل میں مزید بڑھا کر 750 طیاروں تک لے جایا جا سکتا ہے ۔ اگرچہ اس آرڈر کے حتمی مینوفیکچرنگ اور فراہمی کی تاریخوں پر چینی انتظامیہ نے تاحال کوئی باضابطہ رسید یا تفصیلی دستاویز جاری نہیں کی، لیکن بوئنگ نے اس تزویراتی عزم کو چینی مارکیٹ کے دوبارہ کھلنے کے حوالے سے ایک بڑی کاروباری فتح قرار دیا ہے ۔ زراعت کے شعبے میں، امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریر کے مطابق، چین نے آئندہ تین سالوں کیلئے سالانہ بنیادوں پر دہرے ہندسے (double-digit) یعنی دسیوں ارب ڈالر مالیت کے امریکی سویا بین اور دیگر زرعی مصنوعات خریدنے کی یقین دہانی کروائی ہے ۔ اس کے علاوہ معاشی سفارت کاری کے تحت چین نے امریکی گائے کے گوشت (beef) پر عائد دیرینہ درآمدی پابندی عارضی طور پر اٹھانے کا فیصلہ کیا، اگرچہ دورے کے اختتام پر چینی کسٹمز حکام نے تیکنیکی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے اس درآمدی اجازت کے دائرہ کار کو دوبارہ محدود کر دیا ۔ معاشی مذاکرات میں امریکی خام تیل اور توانائی کے دیگر شعبوں سے درآمدات کی ممکنہ چینی خریداری پر بھی سنجیدہ بات چیت ہوئی ۔    ان تمام معاشی سرگرمیوں اور تجارتی بہاؤ کو مستقل بنیادوں پر منظم کرنے کیلئے دونوں ممالک نے دو اہم وفاقی ادارے قائم کرنے پر باقاعدہ اتفاق کیا، جنہیں بورڈ آف ٹریڈ (Board of Trade) اور بورڈ آف انویسٹمنٹ (Board of Investment) کا نام دیا گیا ہے ۔ ان میں سے بورڈ آف ٹریڈ کا بنیادی کام دونوں ممالک کے مابین غیر حساس اشیاء کی درآمد و برآمد پر یکطرفہ ٹیرف اور تجارتی مسائل کو براہ راست حکومتی سطح پر حل کرنا ہوگا، جبکہ بورڈ آف انویسٹمنٹ ایک مستقل سرکاری فورم کے طور پر دونوں معیشتوں کے مابین سرمایہ کاری کے مسائل اور مارکیٹ تک رسائی کی سہولیات کا جائزہ لے گا ۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے تصدیق کی کہ دونوں ممالک کی ورکنگ ٹیمیں ان دونوں بورڈز کی باقاعدہ ساخت اور دوطرفہ ٹیرف میں متوازن کٹوتی کے فریم ورک کے تحت باہمی تجارتی حجم کو بڑھانے کیلئے متعلقہ تفصیلات پر اب بھی مسلسل مذاکرات کر رہی ہیں ۔ دفاعی محاذ پر دونوں ممالک کے مابین کسی بڑے عسکری معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے کیونکہ چین نے اپنے بڑھتے ہوئے جوہری ذخائر اور جدید ترین میزائل پروگرام کو کسی بھی قسم کے بین الاقوامی کنٹرول کے دائرے میں لانے یا اس پر بحث کرنے سے صاف انکار کر دیا ۔ تاہم، دونوں رہنماؤں نے مصنوعی ذہانت کے عسکری استعمال، بالخصوص جوہری ہتھیاروں کے فائرنگ کنٹرول سسٹمز کو مکمل طور پر خودکار بنانے سے روکنے پر اتفاق کیا، اور تزویراتی غلط فہمیوں سے بچنے کیلئے واشنگٹن اور بیجنگ کے مابین ایک مخصوص AI ہاٹ لائن قائم کرنے کی تجویز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔    ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دورہ مشرق وسطیٰ کے ایک بڑے بحران کے سائے میں انجام پایا کیونکہ فروری 2026 کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ فضائی حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے عالمی معیشت اور توانائی کے راستوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔ اس ہولناک تنازعے کو روکنے کے لیے پاکستان نے انتہائی فعال اور جرات مندانہ سفارتی کردار ادا کیا اور 8 اپریل 2026 کو پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں دونوں فریقین ایک عارضی جنگ بندی پر متفق ہوئے تھے ۔ اسی سلسلے میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے ایرانی سفارت کاروں کے ساتھ براہ راست غیر رسمی بات چیت کا آغاز کیا ۔ تاہم، یہ امن عمل انتہائی نازک موڑ پر تھا کیونکہ ایران نے امریکی مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ سے جنگی نقصانات کا معاوضہ اور آبنائے ہرمز پر اپنی غیر مشروط خودمختاری کا مطالبہ کیا تھا، جسے صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر "مکمل طور پر ناقابلِ قبول" قرار دے کر مسترد کر دیا تھا ۔ چین کے لیے آبنائے ہرمز کا بحران معاشی بقا کا مسئلہ ہے کیونکہ چین اپنی ضرورت کا تقریباً 40 فیصد خام تیل اسی بحری راستے سے درآمد کرتا ہے، اس لیے بیجنگ مذاکرات کے دوران صدر ٹرمپ نے تہران پر چین کے گہرے اقتصادی اثر و رسوخ کو استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ چین نے تہران کو پرامن حل کے لیے قائل کرنے پر آمادگی ظاہر کی لیکن اس کے بدلے میں واشنگٹن سے یہ ضمانت طلب کی کہ وہ چینی بینکوں اور مالیاتی اداروں پر عائد کی جانے والی ثانوی امریکی پابندیاں منجمد کر دے، جس کے باعث یہ سربراہی ملاقات عسکری کارروائیوں کو روکنے اور سفارتی راستے کھلے رکھنے کیلئے ایک اہم سدِ راہ ثابت ہوئی ۔    پاکستان اس جیو پولیٹیکل منظرنامے میں ایک اہم فریق کے طور پر ابھرا ہے، جہاں اس کی جغرافیائی حیثیت اور تزویراتی سفارت کاری نے اسے عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے ۔ سفارتی سطح پر پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی امریکی صدر نے عوامی سطح پر پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کا اس حد تک اعتراف کیا ہے، جہاں چین سے واپسی پر ائیر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی بنیادی طور پر پاکستان کی درخواست اور اس پر ایک احسان کے طور پر قبول کی ہے ۔ صدر ٹرمپ نے پاکستان کے عسکری سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی تعریف کرتے ہوئے انہیں "شاندار لوگ" قرار دیا، جس نے عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی قد کاٹھ میں بے پناہ اضافہ کیا ۔ مزید برآں، چین اور پاکستان نے 31 مارچ 2026 کو مشترکہ طور پر جو پانچ نکاتی امن اقدام پیش کیا تھا، اسے عالمی برادری اور بالخصوص گلوبل ساؤتھ کے ممالک کی طرف سے ایک معقول اور قابلِ عمل فریم ورک کے طور پر سراہا گیا ہے، جس نے پاکستان کو بیجنگ کے ایک تزویراتی شراکت دار کے طور پر مزید مستحکم کیا اور چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے سیکیورٹی ماحول کو بہتر بنانے میں مدد دی ۔ دوسری جانب، پاکستان کیلئے سب بهت بڑا تزویراتی خطرہ اس کی غیر جانبداری پر اٹھنے والے سوالات ہیں، کیونکہ امریکی انٹیلی جنس اور سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر واشنگٹن میں یہ شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں کہ بحران کے دوران کچھ ایرانی عسکری طیاروں نے پاکستانی فضائی اڈوں پر لاجسٹک پناہ لی تھی ۔ اگرچہ پاکستانی دفتر خارجہ نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے، لیکن امریکی انتظامیہ کے اندر یہ تاثر ابھرا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کے بحران میں دوہرا کھیل کھیل رہا ہے ۔ امریکی سیکیورٹی حکام کا یہ بھی ماننا ہے کہ پاکستان ایرانی موقف کو واشنگٹن کے سامنے زیادہ مثبت بنا کر پیش کر رہا ہے جو زمینی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا، چنانچہ اگر مستقبل میں ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ ناکام ہوتے ہیں تو واشنگٹن کی جانب سے پاکستان پر دباؤ اور اقتصادی تعزیرات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے ۔    صدر ٹرمپ کے دورہ چین اور واشنگٹن-بیجنگ کے مابین پیدا ہونے والے عارضی تناؤ کے خاتمے سے جنوبی ایشیا کے تزویراتی توازن میں نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں، جس نے نئی دہلی کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے ۔ بھارت کی جیو پولیٹیکل اہمیت اب تک اس مفروضے پر قائم تھی کہ امریکہ کو چین کا مقابلہ کرنے کیلئےبھارت کی اشد ضرورت ہے، لیکن اگر امریکہ اور چین کے مابین تعلقات بہتر ہوتے ہیں تو واشنگٹن کیلئے بھارت کو ایک مراعات یافتہ شراکت دار بنائے رکھنے کی اہمیت کم ہو جائے گی اور اس کا سفارتی اثر و رسوخ بھی متاثر ہو سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ عالمی سپلائی چین کی منتقلی پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ بھارتی معیشت نے حال ہی میں چین پر عائد امریکی ٹیرف سے بچنے کیلئے غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کی تھی، لیکن اگر ان نئے مذاکرات کے نتیجے میں چین پر ٹیرف نرم کر دئے جاتے ہیں، تو سرمایہ کاری دوبارہ چین کا رخ کر سکتی ہے، جو بھارتی مینوفیکچرنگ سیکٹر کیلئے ایک بڑا دھچکا ہو گا ۔ نئی دہلی کو یہ خدشہ بھی ستا رہا ہے کہ واشنگٹن اور بیجنگ کے مابین جیو پولیٹیکل افہام و تفہیم کے نتیجے میں امریکہ پاکستان کے عسکری اور جوہری پروگرام پر وہ سخت گیر دباؤ برقرار نہیں رکھے گا جس کی بھارت کو توقع تھی، خاص طور پر جب پاکستان مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کے لیے ایک ناگزیر ثالث بن کر ابھرا ہے ۔    بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا متفقہ فیصلہ ہے کہ اگرچہ اس دورے کی تصاویر اور مصافحے انتہائی مثبت دکھائی دیتے ہیں، لیکن دونوں عالمی طاقتوں کے مابین پائے جانے والے گہرے اسٹرکچرل اختلافات اور غلط فہمیوں کا مستقل ازالہ ممکن نہیں نظر آتا ۔ واشنگٹن کیلئے استحکام کا مطلب ایک ایسا تزویراتی ماحول ہے جہاں چین امریکی قیادت میں قائم عالمی نظام کو چیلنج نہ کرے، جبکہ چین کیلئے اس کا مطلب ایک کثیر الجہتی دنیا کا قیام ہے جہاں امریکی اثر و رسوخ رفتہ رفتہ کم ہو ۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے صدر ٹرمپ کے یکطرفہ ٹیرف قوانین کو غیر آئینی قرار دینے کے فیصلے نے ٹرمپ کو اندرونی طور پر معاشی محاذ پر کمزور کر دیا تھا، جس کے باعث وہ بیجنگ سے کسی بھی قیمت پر ایک معاشی فتح حاصل کرنے کیلئے بے چین تھے ۔ چین نے ٹرمپ کی اس کمزوری اور ان کی کاروباری سوچ کو بھانپتے ہوئے انہیں چند چیدہ تجارتی مراعات پیش کر کے وقت حاصل کر لیا ہے، تاکہ وہ اپنی تکنیکی اور عسکری صلاحیتوں کو مزید مستحکم کر سکے ۔ تائیوان کی سلامتی اور امریکی ساختہ جدید سیمی کنڈکٹرز چپس پر برآمدی پابندیاں جیسے بنیادی تنازعات بدستور جوں کے توں موجود ہیں، جو کسی بھی وقت دوبارہ ایک نئی کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں ۔    اگر تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو امریکی صدور کے دورے ہمیشہ عالمی تزویراتی صف بندیوں کو تبدیل کرنے کا باعث بنے ہیں ۔ رچرڈ نکسن نے فروری 1972 میں پہلا تاریخی دورہ کیا جس نے سرد جنگ کا رخ موڑ دیا ۔ اس کے بعد جیرالڈ فورڈ نے 1975 میں معبدِ ٹیمپل آف ہیون کا دورہ کیا ۔ رونالڈ ریگن نے 1984 میں چین کے ساتھ سائنسی اور تجارتی تعاون کے معاہدے کئے ۔ جارج ایچ ڈبلیو بش نے 1989 میں قریبی ذاتی روابط کو فروغ دیا ۔ بل کلنٹن نے 1998 میں نو روزہ طویل ترین ریاستی دورہ کیا ۔ جارج ڈبلیو بش نے ریکارڈ چار مرتبہ دورہ کیا ۔ باراک اوباما نے تین بار دورہ کر کے موسمیاتی تبدیلی پر تاریخی پیرس معاہدے کیلئے مشترکہ عزم حاصل کیا ۔ صدر ٹرمپ نے خود اپنے پہلے دورے کے دوران نومبر 2017 میں بیجنگ کا دورہ کر کے تجارتی خسارے پر سخت بات چیت کی تھی ۔ ان کے بعد اب مئی 2026 کا یہ دورہ تقریباً نو سال کے وقفے کے بعد کسی امریکی صدر کا پہلا دورہ چین تھا، جس نے مشرق وسطیٰ کی جنگ، تجارتی ٹیرف کے عارضی تعطل، اور جیو پولیٹیکل استحکام کے حوالے سے ایک نیا باب کھولا ہے ۔   
صدر ٹرمپ کا دورہ چین اور عالمی جیو پولیٹکس پر اس کے اثرات
بنوں پولیس امن کمیٹی کا قیام، دہشتگردوں کے خلاف ’’آپریشن انتقامِ شہداء‘‘ شروع کرنے کا اعلان بنوں (فرحت اللہ بابر) بنوں میں دہشتگردی کے خلاف ’’آپریشن انتقامِ شہداء‘‘ کے نام سے پولیس امن کمیٹی قائم کر دی گئی۔ اس سلسلے میں بنوں پولیس لائن میں پولیس امن کمیٹی کے اہلکاروں کا ایک گرینڈ اجلاس منعقد ہوا، جس میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران مقررین نے دہشتگردی کے خاتمے اور علاقے میں امن کے قیام کیلئے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امن کمیٹی کے صدر حضرت اللہ نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے اور پولیس کے تمام شہداء کے خون کا حساب لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے اور پولیس ہر صورت شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ امن کے قیام کیلئے پولیس کے ساتھ تعاون کریں، کیونکہ عوامی حمایت کے بغیر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بنوں کو دوبارہ پرامن ضلع بنانے کیلئے تمام طبقات کو متحد ہونا ہوگا۔ حضرت اللہ نے کہا کہ آئندہ پولیس اہلکار سیکورٹی فورسز کے ساتھ کرفیو ڈیوٹی انجام نہیں دیں گے، اور اگر کسی اہلکار کو اس پر مجبور کیا گیا تو امن کمیٹی اس کا بھرپور جواب دے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیس امن کمیٹی اپنے فیصلے خود کرے گی، تاہم ڈیوٹی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ عوام کے ساتھ ظلم و زیادتی کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔ شہری پولیس سے متعلق اپنی شکایات کمیٹی کے سامنے پیش کرسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس امن کمیٹی مکمل طور پر غیر سیاسی ہوگی، تاہم بنوں کے مشران، اقوام اور عوام کو اس تحریک میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جن افراد نے دہشتگردوں کو حجرے یا بیٹھکیں فراہم کر رکھی ہیں، وہ فوری طور پر یہ سہولت واپس لیں، بصورت دیگر انہیں سہولت کار تصور کرتے ہوئے کارروائی کی جائے گی۔ حضرت اللہ نے مزید کہا کہ جن افراد کے رشتہ دار دہشتگرد گروہوں کے ساتھ شامل ہیں، وہ اپنی پوزیشن واضح کریں اور انہیں اس سرگرمی سے باز رکھنے کی کوشش کریں، بصورت دیگر ان سے لاتعلقی اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کے دہشتگردوں سے تعلقات ثابت ہوئے تو اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پولیس دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھرپور انداز میں شریک ہوچکی ہے اور جلد علاقے سے دہشتگردوں کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا۔
بنوں پولیس امن کمیٹی کا قیام، دہشتگردوں کے خلاف ’’آپریشن انتقامِ شہداء‘‘ شروع کرنے کا اعلان

زیادہ پڑھی گئی

پشتون تحفظ مؤومنٹ کے اہم رہنما شہاب خٹک کے بھائی ڈاکٹر نعیم الدین خٹک کو نامعلوم افراد نے پشاور کے بھرے بازار میں گولی مارکر شہید کردیا
شمالی وزیرستان کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان داوڑ
کیا لڑانے والے کامیاب نہیں ہوئے ؟؟؟ خصوصی تحریر: رسول داوڑ
شمالی وزیرستان ،رمضان المبارک کا چاندنظرآگیا
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے…. تحریر رفعت انجم
پشاورکوروناکےنشانےپرکیوں؟؟؟ تحریر: فدا عدیل

کیا ہے یہ قرنطینہ ؟؟ تحریر: محمد کلیم قریشی

اپریل 14, 2020April 14, 2020

کوروناوائرس نے اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے یہ ایک ایسی بیماری ہے جس کا ذکر اور خوف دنیا کے ہر کونے میں پھیل چکا ہے۔ دن بہ دن ہر چھوٹا ، بڑا اس میں مزید پڑھیں

Copyright © 2019-2020, THE KHYBER TIMES All Rights Reserved | Powered by Kifayatullah MOMAND