تجزیہ: دی خیبر ٹائمز ڈیسک
جنوبی اور وسطی ایشیا کا جغرافیائی و سیاسی منظرنامہ ایک بار پھر تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ 14 اکتوبر کو روس کی خارجہ انٹیلیجنس سروس کے سربراہ کی کابل میں طالبان قیادت سے اہم ملاقاتوں اور دوسری جانب روسی وزیر داخلہ کے پاکستان کے چار روزہ دورے نے خطے میں بدلتی ہوئی سفارتی اور سکیورٹی ترجیحات کو نمایاں کردیا ہے۔
5 اکتوبر کو ماسکو فارمیٹ کے اجلاس کے بعد سامنے آنے والی یہ پیش رفت کئی اہم سوالات کو جنم دیتی ہے۔ کیا روس افغانستان میں اپنے انٹیلیجنس رابطوں کو مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے؟ کیا پاکستان کے ساتھ سکیورٹی تعاون بڑھانا ماسکو کی وسیع تر علاقائی حکمت عملی کا حصہ ہے؟ اور کیا روس پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے میں مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے؟
کابل میں روسی انٹیلیجنس کی سرگرمیاں: داعش خراسان کا خطرہ
طالبان کی اگست 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد یہ روسی خارجہ انٹیلیجنس سروس کے سربراہ کا کابل کا پہلا باقاعدہ دورہ تھا۔ اس دوران طالبان کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلیجنس (GDI) کے سربراہ عبدالحق وثیق اور قندھار میں طالبان قیادت سے وابستہ اہم حلقوں کے ساتھ ملاقاتیں ہوئیں۔
ان رابطوں کے پس منظر میں ایک اہم عنصر داعش خراسان (ISIS-K) کا خطرہ ہوسکتا ہے، جس کی سرگرمیاں افغانستان سے آگے بڑھ کر خطے کے دیگر ممالک کی سلامتی کیلئے بھی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں۔
مارچ 2024 میں ماسکو کے کروکس سٹی ہال پر داعش سے منسلک حملے کے بعد روس میں دہشتگردی کے خطرات سے نمٹنے کا معاملہ مزید اہم ہوگیا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن طالبان کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ممکنہ شراکت دار قرار دینے کا مؤقف بھی ظاہر کرچکے ہیں۔ اس پس منظر میں کابل کے ساتھ انٹیلیجنس تعاون کو روس کی ایک اہم سکیورٹی ترجیح کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
روس کی افغانستان سے متعلق پالیسی کو صرف داعش خراسان کے خطرے تک محدود کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ ماسکو کے مفادات میں وسطی ایشیا کی سلامتی، افغانستان میں اپنا سفارتی اثر و رسوخ برقرار رکھنا اور خطے میں مغربی طاقتوں کے ممکنہ کردار پر نظر رکھنا بھی شامل ہیں۔
افغانستان کی جغرافیائی حیثیت اسے وسطی ایشیا کی سلامتی کیلئے اہم بناتی ہے۔ تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان کے ساتھ افغانستان کی سرحدیں روس کے وسیع تر علاقائی مفادات سے جڑی ہوئی ہیں۔ افغانستان میں مسلح گروہوں کی سرگرمیوں، منشیات کی اسمگلنگ یا سرحد پار عدم استحکام میں اضافہ ان ممالک کیلئے مسائل پیدا کرسکتا ہے، جن کے ساتھ روس کے تاریخی، دفاعی اور سیاسی روابط ہیں۔
دوسری جانب، افغانستان میں امریکی اثر و رسوخ کی ممکنہ واپسی بھی ماسکو کے تزویراتی تجزیے کا ایک حصہ ہوسکتی ہے۔ بگرام ایئر بیس جیسے حساس مقامات کے مستقبل اور افغانستان میں کسی ممکنہ مغربی سکیورٹی موجودگی سے متعلق خدشات روس کیلئے اہم ہوسکتے ہیں۔
بنیادی طور پر روس کی کوشش یہ ہوسکتی ہے کہ افغانستان کے ساتھ رابطوں کو برقرار رکھتے ہوئے وہ خطے میں ہونے والی سیاسی اور سکیورٹی تبدیلیوں سے باخبر رہے اور اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے سفارتی گنجائش قائم رکھے۔
جہاں کابل میں روسی انٹیلیجنس قیادت اور طالبان حکام کے درمیان رابطوں کی اطلاعات سامنے آئیں، وہیں روسی وزیر داخلہ نے پاکستان کا چار روزہ دورہ کیا، یہ کسی روسی وزیر داخلہ کا اسلام آباد کا پہلا باقاعدہ سرکاری دورہ تھا۔
دورے کے دوران پاکستانی سول اور سکیورٹی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں منظم جرائم، انسداد دہشتگردی اور سائبر کرائم سمیت مختلف سکیورٹی امور پر بات چیت ہوئی۔ ان شعبوں میں تعاون کی پیش رفت پاک روس تعلقات کو محض سیاسی اور سفارتی رابطوں سے آگے بڑھا کر عملی ادارہ جاتی تعاون کی جانب لے جاسکتی ہے۔
تاہم، مذاکرات میں کسی معاملے پر اتفاق، مفاہمتی یادداشت پر دستخط اور کسی منصوبے پر عملی عمل درآمد مختلف مراحل ہیں۔ اس لئے دورے کے نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ کن امور پر باضابطہ معاہدے ہوئے، کون سے اقدامات زیر غور ہیں اور کن شعبوں میں تعاون کے عملی طریقۂ کار طے کئے گئے۔
پاکستان اور روس کے درمیان حالیہ برسوں میں دفاعی رابطوں اور مشترکہ فوجی مشقوں نے بھی دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت دی ہے۔ ان پیش رفتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک سرد جنگ کے دور کی روایتی صف بندیوں سے آگے بڑھ کر باہمی مفادات کی بنیاد پر تعاون کے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔
تاہم، اسے مکمل اسٹریٹجک اتحاد قرار دینے کے بجائے تزویراتی تعاون کی توسیع کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ پاکستان اور روس کے عالمی اور علاقائی تعلقات اپنی اپنی پیچیدگیوں کے حامل ہیں، لیکن دہشتگردی، علاقائی استحکام اور بعض معاشی و سکیورٹی معاملات میں مشترکہ مفادات تعاون کی گنجائش پیدا کرتے ہیں۔
پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی روس کی علاقائی سفارت کاری کو مزید اہم بناتی ہے۔ 5 اکتوبر کے ماسکو فارمیٹ کے اجلاس کے تناظر میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کی جانب سے دونوں فریقوں کے تعلقات معمول پر لانے کیلئے ثالثی کی پیشکش کو ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
پاکستان کا بنیادی مؤقف یہ رہا ہے کہ افغان سرزمین کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے عناصر کی جانب سے پاکستان کے اندر حملوں کیلئے استعمال نہیں ہونا چاہئے۔ اسلام آباد افغان طالبان سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ ان گروہوں کے ٹھکانوں اور سرگرمیوں کے خلاف مؤثر کارروائی کریں۔
دوسری جانب، افغان طالبان پاکستان میں امن و امان کی ذمہ داری کو پاکستانی ریاست کا داخلی معاملہ قرار دیتے رہے ہیں اور سرحد پار سکیورٹی سے متعلق الزامات پر ان کا مؤقف اسلام آباد سے مختلف رہا ہے۔ یہی اختلاف دونوں فریقوں کے درمیان بداعتمادی کو گہرا کرنے کا ایک اہم سبب ہے۔
اس صورت حال میں روس ایک ایسے سہولت کار کا کردار ادا کرسکتا ہے جو دونوں جانب رابطے برقرار رکھنے، براہ راست مذاکرات کیلئے ماحول پیدا کرنے اور مخصوص سکیورٹی مسائل پر قابل عمل حل تلاش کرنے میں مدد دے۔ روس کے ساتھ ساتھ ترکی اور چین جیسے علاقائی کھلاڑی بھی سفارتی رابطوں اور اعتماد سازی کے عمل میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
تاہم، ثالثی کی کامیابی کا انحصار محض کسی طاقتور ملک کی پیشکش پر نہیں ہوگا۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام آباد اور کابل اپنے اختلافات پر براہ راست بات چیت کریں، ایک دوسرے کے خدشات کو سنجیدگی سے لیں اور ایسے اقدامات پر متفق ہوں جن کے نتائج کی جانچ ممکن ہو۔
کیا روس خطے میں ایک نئے سکیورٹی نیٹ ورک کی بنیاد رکھ رہا ہے؟
کابل میں روسی انٹیلیجنس قیادت کی سرگرمیوں اور اسلام آباد میں روسی وزیر داخلہ کے دورے کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو یہ امکان سامنے آتا ہے کہ ماسکو خطے میں اپنے سکیورٹی رابطوں اور سفارتی اثر و رسوخ کو وسعت دینا چاہتا ہے۔
افغانستان میں داعش خراسان کا خطرہ، وسطی ایشیا کی سلامتی، پاکستان کے ساتھ انسداد دہشتگردی میں تعاون اور پاک افغان تعلقات میں کشیدگی ایسے عوامل ہیں جو روس کی علاقائی پالیسی کو ایک دوسرے سے جوڑ سکتے ہیں۔
اس کے باوجود، ان دونوں دوروں کو کسی ایک مربوط یا خفیہ منصوبے کا حصہ قرار دینے کیلئے مزید شواہد ضروری ہیں۔ اس مقصد کیلئے ملاقاتوں کے ایجنڈے، سرکاری اعلانات، طے پانے والے معاہدوں اور بعد میں سامنے آنے والے عملی اقدامات کا تقابلی جائزہ لینا ہوگا۔
اگر روس ان رابطوں کو مستقل ادارہ جاتی تعاون، معلومات کے تبادلے اور سفارتی سہولت کاری میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو خطے میں اس کا کردار مزید مضبوط ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر یہ سرگرمیاں صرف اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں اور سیاسی اعلانات تک محدود رہیں تو ان کے اثرات بھی محدود ہوں گے۔
روس کی کابل اور اسلام آباد میں بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیاں جنوبی اور وسطی ایشیا میں اس کے علاقائی مفادات کی اہمیت کو نمایاں کرتی ہیں۔ تاہم، ماسکو کی اصل کامیابی کا تعین دوروں کی تعداد یا سفارتی بیانات سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوگا کہ آیا یہ رابطے دہشتگردی کے خطرات میں کمی، پاک افغان کشیدگی کے خاتمے اور خطے میں زیادہ مستحکم سکیورٹی تعاون کی صورت اختیار کرتے ہیں یا نہیں۔
یہ بھی ملاحظہ کیجئے : پاک افغان کشیدگی اور عسکری محاذ آرائی (اکتوبر 2025 تا اکتوبر 2026): عسکری کارروائیاں، معاشی بحران، سفارتی تعطل اور اطلاعاتی جنگ کی جامع تحقیقی رپورٹ
Summary
Russia’s Growing Diplomacy in Afghanistan and Pakistan: Moscow’s Strategic Regional Stake
* Russian Engagement with Kabul: Russian Foreign Intelligence Service leadership made an official visit to Kabul to engage with Taliban intelligence officials. The primary driver is counter-terrorism, specifically tackling ISIS-K (ISKP) following the March 2024 Moscow terror attack, alongside safeguarding Central Asian borders and monitoring potential U.S. regional influence.
* First Official Interior Ministry Visit to Islamabad: The Russian Interior Minister completed a historic four-day visit to Pakistan to discuss institutional security cooperation, counter-terrorism, cybercrime, and organized crime, signaling a shift beyond Cold War-era alignments toward pragmatic security ties.
* Mediation Role in Pakistan-Taliban Tensions: Amid deepening mistrust between Islamabad and Kabul over TTP cross-border attacks, Russia supported by regional actors like China and Turkey is positioning itself as a key diplomatic facilitator to de-escalate tensions.
* Regional Security Footprint: Moscow is leveraging intelligence ties in Kabul and institutional cooperation in Islamabad to build a broader security network across South and Central Asia.
* Conclusion: The long-term impact of Russia’s regional diplomacy hinges on transforming high-level visits and statements into concrete, actionable security cooperation, effective counter-terrorism measures, and lasting stabilization between Pakistan and Afghanistan.
About the Author
Nasir Dawar is a journalist, researcher and Editor of The Khyber Times, with extensive experience covering militancy, conflict, security and political developments in Khyber Pakhtunkhwa, the former FATA and Afghanistan. His research focuses particularly on militant movements, regional security, Afghanistan and Pakistan-Afghanistan relations.
Contact: dawarjan@gmail.com




