تحقیق و تحریر: ناصر داوڑ
اکتوبر 2025 سے اکتوبر 2026 کا ایک سالہ دورانیہ پاکستان اور افغانستان کے دوطرفہ تعلقات کی تاریخ کا تلخ ترین اور خونریز ترین باب ثابت ہوا ہے۔ اگست 2021 میں طالبان کے کابل پر اقتدار میں آنے کے بعد سے پیدا ہونے والی سرد مہری فروری 2026 تک باقاعدہ غیر اعلانیہ لیکن ہمہ گیر سرحد پار عسکری تصادم میں تبدیل ہو گئی۔ اس ایک سال کے دوران نہ صرف دونوں ممالک کی مسلح افواج اور سرحدی فورسز کے درمیان تسلسل سے گولہ باری ہوئی بلکہ پاک فضائیہ (PAF) نے افغانستان کے اندر دارالحکومت کابل اور تاریخی بگرام ایئر بیس سمیت متعدد اسٹریٹجک صوبوں میں پیشگی اور جوابی ہوائی حملے کئے۔
اس عسکری تصادم کے متوازی دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت اور پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ روٹس مکمل طور پر منجمد ہو کر رہ گئے، جس سے دونوں ممالک کے قومی خزانے کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا اور سرحدی تاجر معاشی تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے۔ اگرچہ قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور چین نے مذاکراتی عمل کے ذریعے امن قائم کرنے کی بارہا کوششیں کیں، تاہم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کی افغان سرزمین پر موجودگی کے بنیادی مسئلے پر فریقین کے موقف میں شدید اختلاف کی وجہ سے تمام سفارتی مساعی ناکام ہو گئیں۔ اس دوران سوشل میڈیا، بالخصوص ٹک ٹاک اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر)، پر فیک نیوز، مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ جعلی ویڈیوز اور زہریلے پروپیگنڈے کی بے مثال لہر دیکھی گئی جس نے دونوں ممالک اور دونوں ممالک کے شہریوں کے درمیان عوامی سطح پر خلیج کو گہرا کر دیا۔
اکتوبر 2025 سے اکتوبر 2026 کے دوران پاک فضائیہ اور پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے افغانستان میں قائم شدت پسندوں کے ٹھکانوں، بالخصوص تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور دیگر کالعدم گروہوں کے کیمپوں پر متعدد آپریشنز کئے۔ ان کارروائیوں میں حملوں کے اوقات، مقامات، ہلاکتوں کے اعداد و شمار اور آپریشنل نتائج کے حوالے سے اسلام آباد اور کابل کے بیانات میں شدید تضاد دیکھا گیا۔
ابتدائی پیش رفت اور نومبر 2025 کی ہوائی کارروائیاں
پاکستان میں کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافے کے بعد، پاکستانی سیکیورٹی اداروں نے افغان سرحد کے اندر شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو نشانہ بنانے کیلئے کارروائیوں کا دائرہ وسیع کیا۔ 24 اور 25 نومبر 2025 کی درمیانی رات پاک فضائیہ کے طیاروں نے افغان صوبوں خوست (ضلع گربز)، کنڑ اور پکتیکا میں ٹی ٹی پی کے روپوش عسکریت پسندوں اور کمانڈروں کے کیمپوں کو انٹیلی جنس معلومات پر مبنی ایک دقیق آپریشن میں نشانہ بنایا۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس کارروائی پر ردعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے خوست میں ایک عام شہری کے مکان کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 9 بچوں اور 1 خاتون سمیت 10 شہری ہلاک ہوئے، جبکہ کنڑ اور پکتیکا میں 4 شہری زخمی ہوئے۔ کابل نے ان حملوں کو افغانستان کی خودمختاری پر مستقیم حملے سے تعبیر کیا۔ دوسری جانب پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کابل حکومت کے ادعاؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان جب بھی کارروائی کرتا ہے، کھلے عام کرتا ہے اور پاکستان کی جنگ دہشتگردوں سے ہے نہ کہ عام افغان عوام سے۔ تاہم پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی کہ آپریشنز عسکریت پسندوں کے کمانڈ سینٹرز اور گولہ بارود کے گوداموں کو تباہ کرنے کیلئے کئے گئے تھے۔
فروری تا مارچ 2026 کا ہمہ گیر تصادم: کابل اور بگرام ایئر بیس پر تاریخی حملے
21 فروری 2026 کو دونوں ممالک کے درمیان طویل ترین اور شدید ترین عسکری تصادم کا آغاز ہوا جو مارچ کے پہلے ہفتے میں اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ پاک فضائیہ نے افغان صوبوں خوست، قندھار، ننگرہار، پکتیکا اور کنڑ کے علاوہ پہلی بار افغانستان کے دارالحکومت کابل اور تاریخی بگرام ایئر بیس کو براہ راست ہوا سے زمین پر مار کرنے والے ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔
28 فروری تا 1 مارچ 2026 کو کابل کے سیکیورٹی زونز، جیسے دارالامان، کارتے نو، ہوائی اڈے کے قریبی علاقوں اور شش دارک (جہاں طالبان انٹیلی جنس کا اہم ڈائریکٹوریٹ 40 واقع ہے) کے قریب شدید دھماکے اور اینٹی ایئر کرافٹ گنوں کی فائرنگ سنی گئی۔ اسی دوران پاک فضائیہ کے کم از کم تین جنگی طیاروں نے بگرام ایئر بیس پر بمباری کی۔ اگرچہ طالبان حکام نے دعویٰ کیا کہ ان کے ایئر ڈیفنس نے حملے کو ناکام بنا دیا اور کوئی نقصان نہیں ہوا، تاہم بین الاقوامی سیٹلائٹ تصاویر (نیویارک ٹائمز) نے تصدیق کی کہ بگرام بیس پر ایک بڑا ایئر کرافٹ ہینگر (Hangar) اور دو گودام مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ پاکستانی حکام نے بعد میں بگرام پر اسٹرائیک کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں موجود عسکری سپلائز، بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز، C-130 اور سپر ٹوکانو طیاروں کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔
اس ہمہ گیر تصادم کے دوران اعداد و شمار کے شدید تضادات سامنے آئے۔ پاکستانی حکام کے مطابق پاک فضائیہ نے افغانستان میں 41 مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں قندھار میں آرمی ہیڈکوارٹر اور ننگرہار میں برگیڈ و بٹالین ہیڈکوارٹرز شامل تھے۔ پاکستان کا دعویٰ تھا کہ 352 سے 796 طالبان و ٹی ٹی پی عسکریت پسند ہلاک، 535 سے زائد زخمی اور 130 سرحدی پوسٹیں تباہ کی گئیں۔ اس کے برعکس افغان طالبان کی وزارتِ دفاع اور ترجمان ہمایوں افغان نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں 52 سے 779 افراد (بشمول شہری) ہلاک اور 66 سے 626 زخمی ہوئے، جبکہ جوابی کارروائی میں 110 سے 327 پاکستانی فوجیوں کو ہلاک اور 27 سرحدی پوسٹوں پر قبضہ کر لیا گیا۔
ستمبر تا اکتوبر 2026: کوہاٹ حملے کے بعد نئی شدت
تین ماہ کے عارضی وقفے کے بعد، ستمبر 2026 میں پاکستان کے ضلع کوہاٹ میں ایک بڑے دہشتگردانہ حملے اور افغان سرحد سے ڈرون گھس پیٹھ کے بعد پاک فضائیہ نے دوبارہ کارروائیاں شروع کیں۔ 21 تا 24 ستمبر 2026 کے دوران پاک فضائیہ نے کنڑ، پکتیکا (ضلع برمل)، خوست، قندھار اور پکتیا میں 10 مختلف اہداف اور لوجسٹک سینٹرز کو نشانہ بنا کر تباہ کیا۔ طالبان حکام نے الزام لگایا کہ اس بمباری میں پکتیکا کے ضلع برمل میں دکانیں اور عام شہریوں کے مکانات متاثر ہوئے۔
اس کے فوراً بعد 25 ستمبر 2026 کو اسپن بولدک اور بلوچستان سرحد پر شدید زمینی تصادم ہوا جس میں پاکستانی فورسز کی جوابی فائرنگ سے 13 افغان طالبان اہلکار اور ٹی ٹی پی کے متعدد عسکریت پسند مارے گئے۔ یکم اکتوبر 2026 کو پاک فضائیہ نے افغانستان کے اندر مزید تازہ ہوائی حملے کئے، جن پر افغان ذرائع نے 10 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کرتے ہوئے ان کارروائیوں کو یکطرفہ اور اشتعال انگیز جارحیت قرار دیا۔
عسکری تصادم کا سب سے شدید معاشی خمیادہ دونوں ممالک کی باہمی تجارت اور پاکستان افغانستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ (APTTA) پر پڑا۔ سرحد پار سے ہونے والے مسلسل حملوں کے بعد پاکستانی حکام نے 11 اکتوبر 2025 کو تمام اہم سرحدی گزرگاہوں، بشمول تورخم (خیبر پختونخوا)، چمن (بلوچستان)، غلام خان، انگور اڈہ اور خرلاچی کو ہر قسم کی مسافرانہ آمد و رفت، ترسیل اور ٹرانزٹ ٹریڈ کیلئے مکمل طور پر سیل کر دیا۔ یہ بندش اکتوبر 2026 تک مسلسل برقرار رہی، جس سے سپلائی چین یکسر منقطع ہو کر رہ گئی۔
سرکاری اعداد و شمار اور معاشی رپورٹوں کے مطابق، اکتوبر 2025 سے اکتوبر 2026 کے درمیان افغان سرحد کی مسلسل بندش سے پاکستان کو مجموعی طور پر 1.4 ارب ڈالر (USD 1.4 Billion) کا شدید تجارتی و معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔ صرف اکتوبر 2025 سے اپریل 2026 کے ابتدائی سات مہینوں ہی میں پاکستان کے برآمدی محاصل میں 705 ملین ڈالر اور ٹرانزٹ فیس کی مد میں 100 ملین ڈالر (مجموعی طور پر 805 ملین ڈالر) کا خسارہ درج کیا گیا۔ پاکستان کے برآمد کنندگان کو اوسطاً 177 ملین ڈالر ماہانہ کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ دوطرفہ تجارت جو کہ 2024 میں 2.461 ارب ڈالر تھی، 2025 میں گر کر 1.766 ارب ڈالر پر آ گئی اور 2026 میں سرحدوں کی بندش سے ناپید ہو گئی۔
دوسری جانب، افغان طالبان حکومت کو کسٹم ڈیوٹی، ٹرانزٹ ٹیکس اور شاہراہوں سے جمع ہونے والے محاصل میں سینکڑوں ملین ڈالر کا بھاری نقصان برداشت کرنا پڑا۔ پاک افغان روٹ کی بندش نے افغانستان کی تازہ پھلوں، قالینوں اور معدنیات کی پاکستان اور بھارت کو کی جانے والی برآمدات کو منجمد کر دیا، جس سے افغان سینٹرل بینک کی زرمبادلہ حاصل کرنے کی صلاحیت شدید متاثر ہوئی۔
نو سے بارہ مہینوں پر محیط اس طویل بندش سے دونوں ممالک کی تاجر برادری مکمل طور پر تباہی سے دوچار ہوئی۔ مجموعی مالی حسابات کے ایک محتاط اندازے کے مطابق، پاکستانی تاجروں کو 280 ارب روپے (PKR 280 Billion) اور افغان تاجروں کو 140 ارب روپے/افغانی (Rs/AFN 140 Billion) کا براہ راست نقصان ہوا۔ سرحد کے دونوں اطراف کھڑے ہزاروں مال بردار کنٹینرز پر تاجروں کو 1.2 ملین ڈالر روزانہ کے حساب سے ڈیمریج (Demurrage) اور ہولڈنگ چارجز ادا کرنے پڑے۔
مختلف اہم تجارتی مراکزی اور صنعتی شعبوں پر اس بندش کے تباہ کن اثرات مرتب ہوئے:
پشاور کی کارخانو مارکیٹ: کسٹم کلیئرنس اور ٹرانزٹ سامان کی فراہمی معطل ہونے سے ہول سیل کا کاروبار تمام تر بیٹھ گیا، جس سے ہزاروں دکاندار دیوالیہ ہوئے اور اربوں روپے کے سودے منسوخ ہو گئے۔
پشاور کا بورڈ بازار: ڈرائی فروٹ، قالین اور افغان مصنوعات کی باہمی تجارت مکمل طور پر منقطع ہونے سے وہاں مقیم افغان تاجروں اور مقامی شراکت داروں کا معاشی روزگار ختم ہو کر رہ گیا۔
پشاور کے ڈبگری گارڈنز: افغان مریضوں کی آمد یکسر رکنے سے میڈیکل ٹورازم، نجی کلینکس اور فارمیسی سیکٹر شدید متاثر ہوا، جس سے فارماسیوٹیکل تاجروں اور نجی صحت کے مراکز کو کروڑوں روپے کا خسارہ اٹھانا پڑا۔
چمن اور انگور اڈہ گزرگاہیں: بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں میں روزانہ 500 سے 700 تجارتی ترسیلی گاڑیوں کی آمد و رفت اور کسٹم کلیئرنس رکنے سے 10,000 سے زائد مقامی مزدور، پورٹرز اور ٹرانسپورٹرز بیروزگار ہو گئے۔
پاکستان کی پولٹری صنعت: افغانستان کو مرغی اور انڈوں کی برآمد رکنے سے مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد زائد پیداوار پیدا ہو گئی، جس کی وجہ سے فارمرز کو پیداواری لاگت سے بھی کم قیمت پر فروخت کرنا پڑی اور پوری انڈسٹری شدید بحران میں مبتلا ہوئی۔
پاکستان اور افغانستان دونوں جانب لیموں، سبز مرچ، لہسن، مٹیار اور گنے کی فصلوں سے بھرے کنٹینرز بارڈر پر مہینوں کھڑے گل سڑ گئے، جس سے کسانوں اور تاجروں کو یومیہ 10 سے 15 لاکھ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
اکتوبر 2025 سے اکتوبر 2026 کے دوران کشیدگی کو کم کرنے کیلئے چار علاقائی ممالک قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور خصوصی طور پر چین نے امن عمل کی ثالثی کی، لیکن تمام مساعی عارضی فائر بندی سے آگے نہ بڑھ سکیں۔
امن مذاکرات کا پہلا باضابطہ دور 18 اکتوبر 2025 کو دوحہ (قطر) میں ہوا جو صرف 1 دن جاری رہا۔ اس میں پاکستان کے افغان امور کے نمائندے آصف درانی کی قیادت میں سیکیورٹی وفد اور طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے قطری ثالثوں کی موجودگی میں شرکت کی۔ اس ملاقات کا واحد نتیجہ سرحدی فائر بندی کا ایک عارضی معاہدہ تھا جو چند دنوں میں ختم ہو گیا۔
اس کے بعد استنبول (ترکیہ) میں مذاکرات کے دو ادوار منعقد ہوئے۔ پہلا دور 25 اکتوبر 2025 (1 دن) اور دوسرا دور 6 تا 7 نومبر 2025 (2 دن) ہوا، جو مجموعی طور پر 3 دن کے مذاکراتی عمل پر مشتمل تھا۔ اس میں دونوں ممالک کے سول و ملٹری حکام، ترکیہ اور قطر کے ضامن نمائندوں نے حصہ لیا۔ ترکیہ میں گفتگو اس وقت تعطل کا شکار ہو گئی جب پاکستان نے مطالبہ کیا کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں کو گرفتار کرکے پاکستان کے حوالے کریں یا انہیں سرحدی اضلاع سے دور منتقل کریں، جسے طالبان نے اپنی خودمختاری میں مداخلت قرار دے کر مسترد کر دیا۔
سعودی عرب (ریاض) میں ستمبر 2025 کے پاک سعودی دفاعی معاہدے (SMDA) کے فریم ورک کے تحت نومبر 2025 کے بعد بیک چینل سفارت کاری شروع کی گئی۔ ریاض میں فروری اور مارچ 2026 کے دوران متفرق غیر رسمی اجلاس (تقریباً 4 سے 5 دن پر محیط باہمی گفتگو) منعقد ہوئے، جس میں سعودی انٹیلی جنس، ترکیہ، پاکستان اور طالبان کے نمائندوں نے حصہ لیا؛ تاہم فروری 2026 میں دونوں ممالک کے درمیان کھلی جنگ چھڑنے کی وجہ سے یہ کاوشیں معطل ہو گئیں۔
چین نے اپنے معاشی مفادات اور سی پیک (CPEC) کے تحفظ کیلئے 1 اپریل تا 7 اپریل 2026 کے دوران ارومچی (چین) میں 7 روز پر محیط طویل ترین مذاکراتی عمل کی میزبانی کی۔ ارومچی عمل میں چین کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان یو شیاویونگ (Yue Xiaoyong) کی سرگرمیاں بھی اسی سفارتی عمل کا حصہ تھیں۔ ، طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی اور پاکستانی سیکیورٹی قیادت نے شرکت کی۔ ارومچی عمل کی بدولت مارچ اور مئی 2026 میں عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے موقع پر عارضی فائر بندی ممکن ہوئی، لیکن سیکیورٹی ضمانتیں طے نہ پانے اور ٹی ٹی پی پر بنیادی اختلاف کی وجہ سے طویل المدتی امن معاہدہ نہ ہو سکا۔
ماسکو فارمیٹ (7 اکتوبر 2026) کا تفصیلی احوال
8ویں “ماسکو فارمیٹ مشاورتی اجلاس” کا انعقاد 7 اکتوبر 2026 کو ماسکو میں ہوا، جس میں روس، پاکستان، افغانستان (طالبان حکومت)، چین، بھارت، ایران، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کے نمائندوں نے شرکت کی۔ فارمیٹ کی تاریخ میں پہلی بار یہ اجلاس بغیر کسی مشترکہ اعلامئے کے ختم ہو گیا۔
اجلاس کے دوران شدید سفارتی تلخی پیدا ہوئی جب پاکستان کے نمائندے نے اپنا الگ سے بیان جاری کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ “دہشتگردی افغانستان کا سب سے بڑا اور بنیادی مسئلہ ہے”۔ پاکستان نے باضابطہ طور پر بتایا کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی کے نتیجے میں 4,700 بے گناہ پاکستانی ہلاک ہو چکے ہیں اور طالبان حکومت کو اس کا ذمہ دار قرار دیا۔ طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے مشترکہ اعلامئے کے مسودے میں “دہشتگردی” کا لفظ افغانستان کے ساتھ جوڑنے پر شدید اعتراض کیا اور پاکستان پر صرف عسکری زبان استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ فریقین کے اس زبردست اختلاف کی وجہ سے علاقائی اتفاقِ رائے قائم نہ ہو سکا اور فورم بغیر کسی مشترکہ دستاویز کے معطل ہو گیا۔
افغانستان میں غیر ملکی دہشتگرد تنظیموں کا مسکن: اقوام متحدہ کی رپورٹ اور سیکیورٹی جائزہ
پاکستان کے اس موقف کی کہ افغانستان دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ آماجگاہ بن چکا ہے، اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل (UNSC) کی تجزیاتی اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی فروری 2026 اور اگست 2026 کی رپورٹس میں تفصیلی توثیق کی گئی۔
اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق، افغانستان میں مختلف غیر ملکی دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی کا جائزہ درج ذیل ہے:
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ TTP افغانستان میں مقیم سب سے بڑا غیر ملکی عسکریت پسند گروپ ہے جس کے 6,000 سے 8,000 جنگجو اور ان کے ہزاروں اہل خانہ افغانستان کے مشرقی صوبوں (کنڑ، ننگرہار، خوست، پکتیا اور پکتیکا) میں آزادانہ طور پر مقیم ہیں۔ TTP کو افغان طالبان کے بعض حصوں سے لوجسٹک اور مالی سہولت کاری حاصل ہے اور وہ ناٹو کا چھوڑا ہوا جدید ترین اسلحہ استعمال کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، داعش خراسان کے 2,000 سے 3,000 عسکریت پسند افغانستان میں متحرک ہیں۔ اگرچہ طالبان ان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں، لیکن یہ گروپ خطے اور طالبان حکومت دونوں کیلئے ایک سنگین داخلی چیلنج بنا ہوا ہے۔
ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM/TIP) اور القاعدہ برصغیر (AQIS): رپورٹس میں اشارہ کیا گیا ہے کہ چند سو ایغور جنگجو اور القاعدہ کی سینئر قیادت افغان صوبوں میں روپوش ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان سے فرار ہونے والے بلوچ علیحدگی پسند گروپ (BLA مجید برگیڈ) کے جنگجو بھی جنوبی افغانستان کے علاقوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔
اگرچہ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان تمام بین الاقوامی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں کوئی غیر ملکی عسکریت پسند موجود نہیں، لیکن میدانی حقائق اقوام متحدہ کی رپورٹس سے مطابقت رکھتے ہیں۔
اطلاعاتی جنگ، سوشل میڈیا اور ٹک ٹاک پر ہائبرڈ پروپیگنڈا
عسکری محاذ کے ساتھ ساتھ، اس ایک سال کے دوران سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز، بالخصوص ٹک ٹاک (TikTok)، ایکس (سابقہ ٹوئٹر)، فیس بک اور یوٹیوب پر دونوں ممالک کے نوزائیدہ اور قوم پرست صارفین کے درمیان انتہائی زہریلی اطلاعاتی جنگ (Information Warfare) کھیلی گئی۔
سوشل میڈیا کے منفی کردار اور پروپیگنڈے کے اہم پہلو درج ذیل رہے:
ٹک ٹاک پر دونوں اطراف کے صارفین نے ایک دوسرے کے قومی پرچموں، فوجی قیادت اور عام شہریوں کے خلاف تذلیل آمیز ویڈیوز، زہریلی شاعری اور پرتشدد نعرے اپ لوڈ کئے۔ ان ویڈیوز کو لاکھوں کی تعداد میں دیکھا گیا جس نے دونوں اقوام میں شدید نفرت کو جنم دیا، ساتھ ٹک ٹوک لائیو سیشنز میں دونوں ممالک کے شہری ایک دوسروں پر جو تنقید دیکھا اور سنا گیا، وہ بھی دونوں ممالک کے حکام سے ذیادہ عوام میں نفرت کا باعث بنا۔
فیک نیوز، ویڈیو گیمز اور AI کا استعمال: پروپیگنڈے کا سب سے خطرناک پہلو ‘Arma-3’ نامی حربے سے متعلق ویڈیو گیم کی کلپس کا استعمال تھا، جسے سچ مان کر جنگی مناظر کے طور پر وائرل کیا گیا۔ اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کرکے جعلی ویڈیوز بنائی گئیں، جن میں پاک فضائیہ کے طیارے گرائے جانے اور طالبان جنگجوؤِں کی جانب سے پاکستانی ٹینکوں (T-62) اور پوسٹوں پر قبضے کے جھوٹے ادعاجات پھیلائے گئے۔
اطلاعاتی جنگ کے پھیلاؤ کے باعث پاکستانی سیکیورٹی اداروں نے اسے “ڈیجیٹل دہشتگردی” کا نام دیا اور گمراہ کن معلومات پھیلانے والے متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور اینالسٹس کے خلاف سخت قانونی اور عدالتوں کے ذریعے سزا جیسے اقدامات کئے۔
پاک افغان تعلقات میں درپیش بحران محض عارضی سرحدی تنازع نہیں بلکہ ایک گہرا استراٹیجی اور نظریاتی تضاد ہے۔
اول یہ کہ پاکستان کیلئے ٹی ٹی پی کی افغان سرزمین سے ہٹ دھرمی اور دہشتگردی ایک ریڈ لائن ہے، جب تک افغان طالبان ٹی ٹی پی کے خلاف عملًا سخت یکسر عسکری آپریشن نہیں کرتے، پاکستان کی سیکیورٹی قیادت کابل کے ساتھ تعلقات نارمل نہیں کرے گی۔ دوسرا یہ کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کو اپنا نظریاتی اور جہادی اتحادی سمجھتے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر یا غیر خواہا ہیں، کیونکہ اس سے ان کی اپنی صفوں میں ٹوٹ پھوٹ اور جنگجوؤں کے داعش میں شامل ہونے کا خطرہ ہے۔ تیسرا یہ کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور انٹیلی جنس سطح پر اعتماد کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہے، جس کے باعث ثالثی کی علاقائی کوششیں بھی ناکام ہو گئیں۔
اگر ایک سال کے ان تنازعات کے مجموعی نتائج اور حاصل و لاحاصل کا تجزیہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ افغانستان اور طالبان حکومت کو جہاں اپنے نظریاتی اتحادیوں (TTP) کو پناہ دے کر اندرونی صفوں میں اتحاد برقرار رکھنے کا نفسیاتی فائدہ ملا، اور بھارت و دیگر علاقائی ممالک سے روابط بڑھا کر متبادل سفارتی گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، وہاں ان کا معاشی اور عسکری خسارہ بے پناہ رہا۔ افغانستان کراچی پورٹ اور پاکستانی ٹرانزٹ روٹس سے محروم ہو کر شدید معاشی تنہائی کا شکار ہوا، بگرام ایئر بیس اور قندھار ہیڈکوارٹرز پر بمباری سے اس کے اہم عسکری اثاثے تباہ ہوئے، اور ماسکو فارمیٹ جیسے پلیٹ فارمز پر اسے سفارتی تنہائی اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری طرف پاکستان کیلئے اس ایک سال نے یہ حاصل فراہم کیا کہ اس نے سرحد پار پیشگی و جوابی عسکری صلاحیت کا لوہا منوایا اور سرحدی نظم و ضبط میں سختی لا کر غیر قانونی دراندازی پر دباؤ بڑھایا۔ تاہم پاکستان کا زیان اور نقصان بھی کم سنگین نہیں رہا، پاکستان کو 1.4 ارب ڈالر کا بھاری تجارتی نقصان اٹھانا پڑا، ماہانہ 177 ملین ڈالر کی برآمدات ختم ہو گئیں، اور مغربی سرحد پر مستقل جنگی حالت قائم رہنے کی وجہ سے داخلی سیکیورٹی کا چیلنج مزید پیچیدہ ہو گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی اضلاع کی تاجر برادری اور مقامی معیشت کو شدید معاشی دھچکا پہنچا۔
اکتوبر 2025 سے اکتوبر 2026 کا سال پاک افغان تعلقات میں طویل المدتی عدم استحکام اور سیکیورٹی تضاد کا پیش خیمہ ثابت ہوا ہے۔ عسکری ضربات، کابل و بگرام پر ہوائی حملوں، سرحدوں کی مکمل بندش اور سفارتی تحرک کی ناکامی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جب تک کابل حکومت اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کیلئے قابلِ تصدیق عملی اقدامات نہیں اٹھاتی، خطے میں امن کا قیام ناممکن رہے گا۔ اربوں ڈالر کے معاشی نقصان اور ڈیجیٹل محاذ پر بڑھتی ہوئی عوامی تلخی نے دونوں ہمسایہ ممالک کے مستقبل کو ایک غیر یقینی اور پرخطر موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔
یہ بھی ملاحظی کیجئے: ماسکو فارمیٹ میں پاک افغان تلخی: مشترکہ اعلامیہ کا نہ ہونا اور طالبان قیادت کے خلاف آئی سی سی وارنٹ
Executive Summary: One Year of Crisis in Pak-Afghan Relations (Oct 2025 – Oct 2026)
Military Escalation: Bilateral tensions escalated from border skirmishes into direct military confrontations, highlighted by Pakistan Air Force (PAF) airstrikes targeting TTP hideouts in Khost, Kunar, and Paktika, as well as unprecedented strikes on Kabul and the Bagram Air Base in February 2026. Both sides reported heavy casualties and conflicting figures regarding militant and military losses.
Economic Devastation: The complete closure of all major border crossings (Torkham, Chaman, etc.) since October 2025 inflicted a massive $1.4 billion economic loss on both nations. Trade routes, the Afghan Transit Trade (APTTA), local businesses, and agricultural exports suffered total disruption, leaving thousands of traders and laborers unemployed.
Diplomatic Stalemate & Failed Mediation: Mediation efforts by Qatar, Türkiye, Saudi Arabia, and China (Urumqi talks) failed to secure a long-term peace agreement due to fundamental disagreements over TTP sanctuaries. This diplomatic freeze culminated at the 8th Moscow Format meeting in October 2026, where a direct clash between delegations resulted in the failure to issue a joint communique.
Information & Digital Warfare: An aggressive hybrid information war dominated social media platforms like TikTok and X (Twitter). The widespread circulation of fake news, AI-manipulated videos, and toxic nationalist rhetoric significantly deepened public hostility and animosity between the citizens of both countries.
About the Author
Nasir Dawar is a journalist, researcher and Editor of The Khyber Times, with extensive experience covering militancy, conflict, security and political developments in Khyber Pakhtunkhwa, the former FATA and Afghanistan. His research focuses particularly on militant movements, regional security, Afghanistan and Pakistan-Afghanistan relations.
Contact: dawarjan@gmail.com




