Microphones in a press briefing setup with the Pakistan flag and a map of Pakistan in the background

عالمی صحافت، ایڈیٹوریل آزادی یا یکطرفہ بیانیہ؟

غیر ملکی میڈیا کی کوریج اور بی بی سی کی کیس اسٹڈی کا تنقیدی جائزہ

پاکستان میں کام کرنے والے غیر ملکی خبر رساں اداروں، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا سے منسلک مقامی صحافیوں، فکسرز، سٹرنگرز اور فری لانسرز کیلئے حکومت کی جانب سے جاری کردہ رجسٹریشن اور این او سی (NOC) کی جدید گائیڈ لائنز نے عالمی صحافتی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ بین الاقوامی صحافتی تنظیموں اور مغربی میڈیا آؤٹ لیٹس نے ان نئی ہدایات کو بلا تاخیر آزادیِ صحافت پر ایک اور قدغن اور سنسرشپ کے مترادف قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تاہم، اگر جذبات اور روایتی بیانیوں سے ہٹ کر عالمی قوانین اور صحافتی اخلاقیات کے پس منظر میں اس معاملے کا سائنسی اور اعداد و شمار کی روشنی میں جائزہ لیا جائے، تو حقیقت کا ایک بالکل دوسرا رخ سامنے آتا ہے۔
آزادیِ صحافت کا نعرہ لگانے والے مغربی ممالک میں پیشہ ورانہ کوریج کیلئے رائج قوانین پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دنیا بھر میں بشمول امریکہ اور برطانیہ بین الاقوامی یا مقامي میڈیا کیلئے مخصوص اجازت ناموں اور این او سی کا نظام سختی سے نافذ ہے۔ اگر کوئی بھی صحافی واشنگٹن کی سڑکوں پر یا لندن کے مصروف ترین تاریخی مرکز ٹریفالگر اسکوائر اور ’آکسفورڈ اسٹریٹ‘ پر کیمرہ اور ٹرائپوڈ لگا کر تجارتی یا پیشہ ورانہ کوریج کی کوشش کرے، تو مقامي انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے فوری طور پر این او سی اور ایکریڈیٹیشن کی پڑتال کی جاتی ہے اور بغیر اجازت کوریج کو روک دیا جاتا ہے۔
پاکستان کی حالیہ گائیڈ لائنز کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں اسلام آباد، لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں کام کرنے والے صحافیوں کو این او سی سے استثنیٰ حاصل ہے، جبکہ حساس یا دور دراز سرحدی علاقوں میں رپورٹنگ کیلئے پیشگی اجازت درکار ہے۔ اس تناظر میں، انتظامی ضوابط اور این او سی کے اس تقاضے کو یکسر غیر معمولی پابندی یا سنسرشپ کا نام دینا بین الاقوامی صحافتی ضوابط کی بنیادی فہم سے ناواقفیت یا دانستہ ایک طرفہ زاویہ نگاہ اپنانے کو ظاہر کرتا ہے۔

بی بی سی (BBC) کی کوریج کا سائنسی تجزیہ: اعداد و شمار کا آئینہ
عالمی میڈیا کے دیانت دارانہ اور غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کے دعوؤں کی حقیقت جاننے کیلئے جب پاکستان کے خلاف ہونے والی کوریج کا سائنسی ڈیجیٹل ڈیٹا تجزیہ کیا جاتا ہے، تو انتہائی تشویشناک حقائق سامنے آتے ہیں۔ بارہ ہزار سے زائد عالمی مواد اور بی بی سی کی سو سے زائد رپورٹس کا تقابلی مطالعہ ثابت کرتا ہے کہ، جہاں عالمی میڈیا میں پاکستان کے بارے میں کی جانے والی عمومی کوریج میں منفی رجحان کا اوسط اسکور منفی ۶ (-6) رہا، وہاں بی بی سی کی رپورٹس میں یہ منفی اسکور چار گنا بڑھ کر منفی ۲۴ (-24) تک پہنچ گیا۔ دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی جنگ پر بی بی سی کی کوریج کا منفی اسکور منفی ۷۴ (-74) اور پاک افغان تنازع پر منفی ۶۸ (-68) ریکارڈ کیا گیا۔ یہ ارقام ظاہر کرتے ہیں کہ انتہائی حساس اور قومی سلامتی سے جڑے موضوعات پر بی بی سی کا بیانیہ کس قدر غیر متوازن اور یکطرفہ رہا ہے۔
صحافت کے بنیادی اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ اصولوں کے مطابق شفافیت اور جواب دہی کی سب سے پہلی علامت خبر پر صحافی کا نام (By-line) ہونا ہے۔ بائی لائن کا مطلب یہ ہے کہ صحافی اپنی تحریر کردہ خبر کی صحت، حقائق اور تمام قانونی و اخلاقی کنسیکوینسز کی ذمہ داری خود قبول کرتا ہے۔
بی بی سی کی پاکستان سے متعلق رپورٹس کی کیس اسٹڈی سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی ۷۷ فیصد رپورٹس بائی لائن کے بغیر یعنی بالکل گمنام شائع کی جاتی ہیں۔ صحافتی ایڈیٹوریل اخلاقیات کی رو سے بائی لائن کا ہٹایا جانا یا رپورٹر کا نام نہ دینا اکثر غیر معیاری، متنازع اور یکطرفہ مواد کو چھپانے کیلئے بطورِ ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے تاکہ قانونی یا اخلاقی پرسش سے بچا جا سکے۔
اس کے علاوہ، متوازن رپورٹنگ کی بنیادی شرط دوسرے فریق کا موقف شامل کرنا ہے۔ تاہم بی بی سی کی ہر تین میں سے دو رپورٹس (۶۶ فیصد) میں کسی بھی پاکستانی سرکاری یا مقامی فریق کا موقف سرے سے شامل ہی نہیں کیا جاتا۔
ڈیٹا تجزئے کا ایک اور المیہ یہ ہے کہ بی بی سی، انگریزی زبان کے مقابلے میں اردو میں 1/8 کی حیران کن نسبت سے زیادہ مواد شائع کرتا ہے، یعنی انگریزی کی ہر ایک رپورٹ کے مقابلے میں اردو میں آٹھ رپورٹس شائع کی جاتی ہیں۔

انگریزی میں کام کرنے والے بی بی سی کے صحافی (مثلاً کیرولین ڈیوس) اپنی رپورٹس میں 83 فیصد تک پاکستانی ذرائع اور سرکاری ردِعمل شامل کرتے ہیں، کیونکہ وہاں عالمی ناظرین اور عالمی پیشہ ورانہ معیار کے سامنے ان کی کریڈیبلٹی کا امتحان ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، بی بی سی کی اردو سروس میں مقامی رپورٹرز کی جانب سے پاکستانی ذرائع کوٹ کرنے کی شرح صرف ۰ فیصد سے ۴ فیصد تک رہ جاتی ہے۔ اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اردو سروس کا مقصد عالمی دنیا کو حقائق سے آگاہ کرنا نہیں بلکہ مقامی عوامی رائے عامہ (Public Perception) کو خاص سمت میں موڑنا اور ناامیدی کا بیانیہ بنانا ہوتا ہے۔
اس تمام صورتِ حال کا احاطہ کرنے کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جہاں حکومتِ پاکستان کے کسی بھی انتظامی اقدام، اس کی نیت اور عمل درآمد کے طریقہ کار پر کھلی اور آزادانہ بحث ہونی چاہئے، وہاں عالمی ذرائع ابلاغ بالخصوص بی بی سی کی اس یکطرفہ، غیر متوازن اور صحافتی اقدار سے عاری رپورٹنگ کو بھی کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

آزادیِ صحافت ایک مقدس حق ہے، لیکن یہ حق اخلاقی ذمہ داری، حقائق کی درستگی اور یکسانیت سے الگ نہیں ہو سکتا۔ عالمی میڈیا اداروں کو چاہئے کہ وہ پاکستان پر تنقید کرنے سے پہلے اپنے ہی وضع کردہ ایڈیٹوریل معیارات، گمنام رپورٹنگ کے خاتمے اور تمام متعلقہ فریقین کے موقف کو جگہ دینے کی پابندی کو یقینی بنائیں۔ دوسری جانب، ریاستی اداروں کو بھی ریگولیشن اور رجسٹریشن کے نظام کو اتنا شفاف اور آسان بنانا چاہئے کہ پیشہ ور اور سچے صحافیوں کی کارکردگی متاثر نہ ہو، اور یکطرفہ پروپیگنڈے کا جواب پابندیوں سے نہیں بلکہ سچائی اور حقائق پر مبنی ڈیٹا کے ذریعے دیا جائے۔

Exclusive Summary:

Global Journalism, Editorial Freedom or a One-Sided Narrative?
A critical review of foreign media coverage in Pakistan, with a particular focus on the BBC, raises important questions about editorial balance, transparency and the standards applied to international journalism. While global media organizations have criticized Pakistan’s new registration and NOC guidelines for foreign journalists, local correspondents, fixers, stringers and freelancers as restrictions on press freedom, the issue warrants examination against international regulatory practices and journalistic standards.
The analysis argues that permission and accreditation requirements for professional media activity are not unique to Pakistan, particularly when reporting involves sensitive locations, border areas or national-security concerns. At the same time, Pakistan’s regulatory framework should remain transparent, clearly defined and accessible so that legitimate journalism is not unnecessarily restricted.
The study also presents a data-based assessment of BBC coverage of Pakistan, claiming that more than 12,000 global media items and over 100 BBC reports were comparatively analyzed. According to the analysis, the average negative sentiment score for Pakistan-related international coverage was -6, compared with -24 for BBC reports, while coverage of Pakistan’s war against terrorism and the Pak-Afghan conflict reportedly recorded scores of -74 and -68 respectively.
The analysis further claims that 77% of BBC reports on Pakistan were published without bylines, while 66% did not include the position of a Pakistani government or local source. It also highlights a significant difference between BBC English and Urdu services, alleging that Pakistani official or local sources appeared in up to 83% of some English-language reports, compared with only 0–4% in selected Urdu reports.
These findings raise broader questions about whether international media coverage consistently meets the principles of attribution, transparency, balance and the right of reply that global journalism organizations advocate. However, such quantitative claims should themselves be independently verified through a transparent methodology and reproducible dataset before being treated as definitive evidence of institutional bias.
The central issue is therefore twofold: states must ensure that media regulation does not become censorship, while international media organizations must demonstrate the same standards of fairness, accountability and balance in their reporting that they expect from the countries they cover. Press freedom and journalistic responsibility are not opposing principles; credible journalism requires both.