Federal Minister Engineer Amir مقام addressing a press conference in Peshawar, with various news channel microphones and a Pakistani flag on the table

امیر مقام: سہیل آفریدی کے غیرقانونی اقدامات کے باعث گورنر راج کے تمام قانونی تقاضے پورے ہیں

پشاور ( دی خیبرٹائمز پولیٹیکل ڈیسک) وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وزیراعلیٰ کے پاس کوئی تجربہ نہیں ہے اور ان کے غیرقانونی اقدامات کے باعث صوبے میں گورنر راج کے تمام قانونی تقاضے پورے ہو چکے ہیں۔
امیر مقام کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے گزشتہ 13 سالوں سے صوبے میں حکومت کی ہے لیکن عوام کی قسمت نہیں بدلی گئی۔ موجودہ وزیراعلیٰ کو صرف دو ٹارگٹ دئے گئے ہیں، ایک جتنا لوٹ سکتے ہو لوٹو اور دوسرا قیدی کی رہائی۔
صوبے میں سب سے بڑا مسئلہ امن و امان کا ہے اور موجودہ حکومت کے طرزِ حکومت سے ایسا لگتا ہے کہ صوبائی حکومت دہشتگردوں سے مل گئی ہے۔ دہشتگردی کے واقعات پر پی ٹی آئی قیادت کے بیانات پر سوالات اٹھتے ہیں کہ ان کے جلسوں اور ریلیوں میں سیکیورٹی خدشات کیوں پیش نہیں آتے۔
شہداء سے متعلق بیانات نے فوج اور پوری قوم کے جذبات مجروح کئے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی ہمیشہ کالعدم ٹی ٹی پی اور دہشتگردوں سے مذاکرات کی بات کرتی ہے۔
وفاقی وزیر نے الزام عائد کیا کہ آئین کے خلاف قانون سازی منظور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی آئی جی پی سے لے کر ڈی ایس پی تک پولیس کو اپنے ماتحت بنا کر تھانوں کی قیمتیں لگانا چاہتے ہیں، جس سے پولیس کا مورال متاثر ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں فلاحی کاموں کے بجائے صرف لانگ مارچ کیلئےٹھیکیداروں سے چندہ جمع کیا جا رہا ہے جس سے صوبے کے راستے بند ہیں اور عوام مشکلات کا شکار ہیں۔
امیر مقام نے انکشاف کیا کہ 27 ستمبر کو نکلنے والا لانگ مارچ جب اس رپورٹ پر ملتوی کیا گیا کہ کوئی نہیں نکلے گا، تو سہیل آفریدی مدد کیلئے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے پاس پہنچ گئے۔
سہیل آفریدی کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں اور ان کا آگے چلنا اب ناممکن ہو چکا ہے۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی ایک نفیس آدمی ہیں، لیکن صوبے کی اندرونی و بیرونی تباہی کے پیش نظر سہیل آفریدی کو جانا ہوگا۔ وزارتِ عظمیٰ یا اعلیٰ منصب سے ہٹنے کے بعد سہیل آفریدی لوٹ مار کے جرم میں جیل کے اندر ہوں گے۔
ایک سوال کے جواب میں امیر مقام نے واضح کیا کہ ایک قیدی کے ساتھ مذاکرات نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ مجرم ہے اور اسے عدالت جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف امور اور ایشوز پر بات چیت کیلئے تیار ہیں، لیکن کسی مجرم کے یک نکاتی ایجنڈے پر ہرگز مذاکرات نہیں کئے جا سکتے۔