اورکزئی (دی خیبر ٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک): خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع اپر اورکزئی کے علاقے ماموزئی میں کالعدم تنظیموں داعش اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے مابین شدید فائرنگ اور مبینہ مسلح جھڑپ کا واقعہ پیش آیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس تصادم کے نتیجے میں ٹی ٹی پی کے تین مبینہ مسلح کارندے ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اپر اورکزئی کے پہاڑی اور سرحدی علاقے ماموزئی میں دونوں شدت پسند گروہوں کے درمیان کسی معاملے پر شروع ہونے والا تنازع مسلح تصادم میں تبدیل ہو گیا۔ فائرنگ کے اس تبادلے میں فریقین کی جانب سے جدید ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں کالعدم ٹی ٹی پی کے تین جنگجو موقع پر ہی مارے گئے جبکہ کئی دیگر زخمی حالت میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ واقعے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے میں سرچ آپریشن اور تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع اور رپورٹس کے مطابق قبائلی ضلع اورکزئی، کرم اور ہنگو کے مختلف علاقوں میں گزشتہ تین مہینوں سے مختلف عسکریت پسند تنظیموں کے مابین رسہ کشی، جھڑپوں اور پرتشدد کارروائیوں کا تسلسل جاری ہے۔
اس سے قبل ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کے مابین بھی اندرونی اختلافات اور تصادم کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ اب ان باہمی اختلافات اور گروہی رسہ کشی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے داعش جیسی شدت پسند تنظیم کی خطے میں موجودگی اور سرگرمیاں بھی سامنے آ رہی ہیں، جو کہ مستقبل میں نہ صرف علاقے کے امن بلکہ سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کیلئے ایک نیا اور سنگین سیکیورٹی چیلنج بن سکتی ہیں۔
Summery:
Orakzai: Three Militants Dead in Alleged Clash Between Daesh and TTP
- The Incident: An armed clash and exchange of fire took place between Daesh and TTP-affiliated militants in the Mamozai area of Upper Orakzai, according to local police.
- Casualties: Police reported that three TTP militants were killed and several others sustained injuries during the confrontation. Investigations into the incident are ongoing.
- Broader Security Context: Armed clashes and violent turf wars between various militant factions have been ongoing for the past three months across the tribal districts of Orakzai, Kurram, and Hangu. Authorities note that Daesh is exploiting internal divisions between groups like the TTP and Jamaat-ul-Ahrar, presenting a growing future threat to both civilians and the state۔
- The Khyber Time contact: thekhybertimes@gmail.com




