اسلام اباد ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) حالیہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ اور اس سے جڑے خطوں میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے عالمی توجہ ایک بار پھر اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ ایران کی جانب سے بعض اقدامات نے اُس سفارتی حصار کو کمزور کرنے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے جو کئی ہفتوں کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں پاکستان، ترکی اور مصر کی قیادت میں قائم کیا گیا تھا۔ اس سفارتی مہم کا بنیادی مقصد خطے کو ایک ممکنہ تباہ کن جنگ سے بچانا اور فریقین کو مذاکرات کی میز تک لانا تھا۔
اسی تناظر میں پاکستان کے فیلڈ مارشل کا دورۂ ایران نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس دورے کا مقصد نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنا تھا بلکہ ایران کو یہ پیغام دینا بھی تھا کہ خطے میں استحکام کے لئے سنجیدہ سفارتکاری ناگزیر ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن و استحکام کا داعی رہا ہے اور اس نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔
دوسری جانب امریکہ کی جانب سے ایک جہاز کو حراست میں لینے کا اقدام کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بنا ہے۔ اس واقعے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے اور ایران کے لیے سفارتی دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں بلکہ مذاکراتی عمل کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
ان تمام حالات کے باوجود ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ اسلام آباد میں مذاکرات کی میز تیار ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر خود کو ایک ذمہ دار اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر پیش کیا ہے، جہاں تمام فریقین کو برابری اور احترام کے ساتھ اپنے مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جا سکتا ہے۔ یہ موقع ایران کے لئے نہایت اہم ہے کہ وہ مضبوط پوزیشن کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہو اور جنگ کے بجائے سفارتکاری کو ترجیح دے۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جا سکتی۔ ایران کے تحفظات کسی حد تک جائز ہو سکتے ہیں اور اس کے عوام کی یکجہتی بھی قابلِ ذکر ہے، لیکن طویل المدتی استحکام کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔ جنگ نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع کرتی ہے بلکہ معاشی اور سیاسی عدم استحکام کو بھی جنم دیتی ہے۔
ایران کو اس نازک مرحلے پر ایک واضح فیصلہ کرنا ہوگا: آیا وہ مذاکرات کے راستے کو اپناتا ہے یا کشیدگی کو مزید بڑھنے دیتا ہے۔ دوست ممالک کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو نظر انداز کرنا دانشمندی نہیں ہوگی، خاص طور پر جب عالمی سطح پر اس کے حمایتی محدود ہیں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ صورتحال ایک آزمائش ہے، نہ صرف ایران کے لئے بلکہ پورے خطے کے لئے۔ اگر سفارتکاری کو موقع دیا جائے تو امن ممکن ہے، ورنہ نتائج سب کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسلام آباد میں تیار مذاکراتی میز ایک امید کی کرن ہے، جس سے فائدہ اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔




