دہشت گردی کے خلاف عالمی گھیرا تنگ: آسٹریلیا نے بھی بی ایل اے اور اس کی قیادت پر کڑی پابندیاں عائد کر دیں پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کی کارروائیوں میں ملوث کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کے خلاف عالمی برادری کا گھیرا مزید تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک اہم تزویراتی پیش رفت میں آسٹریلوی حکومت نے بی ایل اے اور اس کے تین سینئر رہنماؤں کو باقاعدہ طور پر دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے ان پر کڑی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ آسٹریلوی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تنظیم پاکستان میں سویلین شہریوں، غیر ملکی باشندوں، اہم قومی تنصیبات اور ریاستی اداروں پر حملوں میں براہِ راست ملوث ہے، جس کے باعث عالمی امن کو خطرات لاحق ہیں۔ آسٹریلیا کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر انتہا پسند گروہوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ کینبرا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا کا دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف مقابلہ کرنے کا عزم غیر متزلزل ہے اور ان تازہ پابندیوں کا بنیادی مقصد دہشت گردوں کی مالی شہ رگ کاٹنا ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے اب تنظیم کے لیے نئے کارندوں کی بھرتی، کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور انتہا پسند نظریات کی تشہیر کو ناممکن بنایا جائے گا۔ آسٹریلوی حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایسے تمام نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی جو علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔ قانونی نقطہ نظر سے یہ پابندیاں انتہائی سخت ہیں، جن کے تحت اب ان نامزد افراد اور تنظیم کے اثاثوں کا استعمال، کسی بھی قسم کا لین دین یا انہیں مالی وسائل فراہم کرنا آسٹریلوی قانون کے تحت سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔ ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی فرد یا ادارے کو 10 سال تک قید کی سزا اور بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین اس اقدام کو پاکستان کی اس سفارتی مہم کی کامیابی قرار دے رہے ہیں جس کے تحت بی ایل اے کو پہلے ہی امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین جیسے اہم عالمی کھلاڑی دہشت گرد قرار دے چکے ہیں۔ بی ایل اے کی حالیہ کارروائیوں، بالخصوص چینی قونصل خانے اور کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملوں نے عالمی برادری کو یہ باور کرایا ہے کہ یہ گروہ اب صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا بلکہ بین الاقوامی مفادات کے لئے بھی خطرہ ہے۔ اس مضمون اس بات کی نشاندہی کرنے کی کوشش کیا ہے، کہ آسٹریلیا کا یہ فیصلہ محض ایک قانونی کارروائی نہیں بلکہ ایک واضح سفارتی پیغام ہے کہ علیحدگی پسندی کی آڑ میں تشدد کا راستہ اختیار کرنے والے گروہوں کے لئے اب دنیا میں کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔ یہ دستاویز اس بات کی شاہد ہے کہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کو اب عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے اور مالیاتی نیٹ ورکس کی بندش سے ان کالعدم تنظیموں کی آپریشنل صلاحیتوں کو شدید دھچکا لگے گا۔ کینبرا کا یہ سخت موقف اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش ہے کہ عالمی امن و سلامتی کا تحفظ ہر قیمت پر ممکن بنایا جا سکے۔

دہشت گردی کے خلاف عالمی گھیرا تنگ: آسٹریلیا نے بھی بی ایل اے اور اس کی قیادت پر کڑی پابندیاں عائد کر دیں

پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کی کارروائیوں میں ملوث کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کے خلاف عالمی برادری کا گھیرا مزید تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک اہم تزویراتی پیش مزید پڑھیں

امریکی صدر کا اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 3 ہفتوں کی توسیع کا اعلان

اسلام اباد ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم پیش رفت کے طور پر اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری جنگ بندی میں مزید 3 ہفتوں کی مزید پڑھیں

ایران امریکہ کشیدگی سیزفائر کے سائے میں جنگ کا خطرہ برقرار ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی ایک بار پھر اس حقیقت کو سامنے لے آئی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کبھی بھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئے، ایران اور امریکہ کے درمیان دہائیوں پر محیط اختلافات، خاص طور پر جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور اقتصادی پابندیوں کے معاملات، اس تازہ بحران کی بنیاد بنے، خلیج کے اہم سمندری راستے آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے صورتحال کو مزید سنگین کر دیا جہاں ایرانی افواج کی جانب سے جہازوں کو روکنے اور اپنی تحویل میں لینے کے واقعات سامنے آئے جبکہ امریکہ نے بھی اپنی بحری موجودگی میں اضافہ کر کے واضح پیغام دیا کہ وہ خطے میں اپنی پوزیشن کمزور نہیں ہونے دے گا، ان تمام حالات کے درمیان ایک عارضی سیزفائر ضرور قائم کیا گیا لیکن یہ زیادہ ایک وقفہ محسوس ہوتا ہے نہ کہ مستقل حل کیونکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر وعدہ خلافی کے الزامات لگ رہے ہیں اور اعتماد کا فقدان نمایاں ہے، اسی تناظر میں پاکستان کو ایک ممکنہ ثالث کے طور پر دیکھا گیا اور یہاں امن مذاکرات کی امید بھی ظاہر کی گئی مگر یہ کوششیں عملی شکل اختیار نہ کر سکیں جس کی بڑی وجہ سخت شرائط، باہمی عدم اعتماد اور عالمی طاقتوں کا دباؤ تھا، پاکستان نے اس سارے معاملے میں محتاط اور متوازن پالیسی اپناتے ہوئے نہ صرف سفارتی رابطے جاری رکھے بلکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش بھی کی، تاہم اس کے لئے یہ صورتحال ایک نازک توازن برقرار رکھنے کا امتحان ہے کیونکہ اسے ایک طرف ایران کے ساتھ سرحدی اور علاقائی تعلقات کا خیال رکھنا ہے اور دوسری طرف امریکہ کے ساتھ اپنے اقتصادی اور سفارتی مفادات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، عالمی سطح پر اس کشیدگی کے اثرات بھی نمایاں ہیں جہاں تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات نے مارکیٹ کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے اور ماہرین کے مطابق اگر حالات مزید بگڑتے ہیں تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں، مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ سیزفائر ایک نازک مرحلہ ہے جو بظاہر سکون کا تاثر دیتا ہے مگر اس کے نیچے چھپی کشیدگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات نہ ہوئے تو یہ تنازع دوبارہ شدت اختیار کر سکتا ہے اور اسی لئے آنے والے دن نہ صرف ایران اور امریکہ بلکہ پورے خطے اور عالمی نظام کے لئے اہم ثابت ہوں گے۔

ایران امریکہ کشیدگی سیزفائر کے سائے میں جنگ کا خطرہ برقرار

اسلام اباد ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی ایک بار پھر اس حقیقت کو سامنے لے آئی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کبھی بھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئے، ایران مزید پڑھیں