بنوں پولیس امن کمیٹی کا قیام، دہشتگردوں کے خلاف ’’آپریشن انتقامِ شہداء‘‘ شروع کرنے کا اعلان بنوں (فرحت اللہ بابر) بنوں میں دہشتگردی کے خلاف ’’آپریشن انتقامِ شہداء‘‘ کے نام سے پولیس امن کمیٹی قائم کر دی گئی۔ اس سلسلے میں بنوں پولیس لائن میں پولیس امن کمیٹی کے اہلکاروں کا ایک گرینڈ اجلاس منعقد ہوا، جس میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران مقررین نے دہشتگردی کے خاتمے اور علاقے میں امن کے قیام کیلئے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امن کمیٹی کے صدر حضرت اللہ نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے اور پولیس کے تمام شہداء کے خون کا حساب لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے اور پولیس ہر صورت شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ امن کے قیام کیلئے پولیس کے ساتھ تعاون کریں، کیونکہ عوامی حمایت کے بغیر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بنوں کو دوبارہ پرامن ضلع بنانے کیلئے تمام طبقات کو متحد ہونا ہوگا۔ حضرت اللہ نے کہا کہ آئندہ پولیس اہلکار سیکورٹی فورسز کے ساتھ کرفیو ڈیوٹی انجام نہیں دیں گے، اور اگر کسی اہلکار کو اس پر مجبور کیا گیا تو امن کمیٹی اس کا بھرپور جواب دے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیس امن کمیٹی اپنے فیصلے خود کرے گی، تاہم ڈیوٹی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ عوام کے ساتھ ظلم و زیادتی کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔ شہری پولیس سے متعلق اپنی شکایات کمیٹی کے سامنے پیش کرسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس امن کمیٹی مکمل طور پر غیر سیاسی ہوگی، تاہم بنوں کے مشران، اقوام اور عوام کو اس تحریک میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جن افراد نے دہشتگردوں کو حجرے یا بیٹھکیں فراہم کر رکھی ہیں، وہ فوری طور پر یہ سہولت واپس لیں، بصورت دیگر انہیں سہولت کار تصور کرتے ہوئے کارروائی کی جائے گی۔ حضرت اللہ نے مزید کہا کہ جن افراد کے رشتہ دار دہشتگرد گروہوں کے ساتھ شامل ہیں، وہ اپنی پوزیشن واضح کریں اور انہیں اس سرگرمی سے باز رکھنے کی کوشش کریں، بصورت دیگر ان سے لاتعلقی اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کے دہشتگردوں سے تعلقات ثابت ہوئے تو اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پولیس دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھرپور انداز میں شریک ہوچکی ہے اور جلد علاقے سے دہشتگردوں کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا۔

بنوں پولیس امن کمیٹی کا قیام، دہشتگردوں کے خلاف ’’آپریشن انتقامِ شہداء‘‘ شروع کرنے کا اعلان

بنوں (فرحت اللہ بابر) بنوں میں دہشتگردی کے خلاف ’’آپریشن انتقامِ شہداء‘‘ کے نام سے پولیس امن کمیٹی قائم کر دی گئی۔ اس سلسلے میں بنوں پولیس لائن میں پولیس امن کمیٹی کے اہلکاروں کا ایک گرینڈ اجلاس منعقد ہوا، مزید پڑھیں

وانا سکیورٹی بحران: کمزور پولیس اور دہشت گردی کی نئی لہر جنوبی وزیرستان( دی خیبرٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک) ضلع لوئر جنوبی وزیرستان کا ہیڈ کوارٹر وانا اس وقت ایک ایسے سنگین سکیورٹی بحران کی زد میں ہے جہاں ریاست کی دفاعی لکیر یعنی پولیس فورس خود اندرونی خلفشار اور وسائل کی کمی کا شکار ہو چکی ہے۔ ایک طرف دہشت گردی کی نئی لہر نے سر اٹھایا ہے تو دوسری طرف انکشاف ہوا ہے کہ منظور شدہ سینکڑوں آسامیوں کے برعکس میدانِ عمل میں صرف 200 کے قریب اہلکار ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں، جس نے پورے علاقے کو ایک غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا ہے۔ اس بحران کی جڑیں صرف دہشت گردی تک محدود نہیں بلکہ محکمے کے اندر پھیلی مبینہ بدعنوانی اور اہلکاروں کے معاشی استحصال میں پیوست ہیں، پولیس ذرائع کے مطابق پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں سے ماہانہ 15 سے 25 ہزار روپے تک کی کٹوتی کی جا رہی ہے، جبکہ اہم چیک پوسٹوں پر تعیناتی کے لئے بھی رشوت طلب کی جاتی ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ گزشتہ تین سالوں سے جوانوں کو سرکاری وردی، بوٹ اور ضروری حفاظتی سامان تک فراہم نہیں کیا گیا، جس کے باعث اہلکار شدید مایوسی کا شکار ہو کر یا تو ڈیوٹی سے بددل ہو چکے ہیں یا پھر نجی مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ سیاسی و قبائلی رہنماؤں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوام کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ اگر حکومت نے فوری طور پر ان کالی بھیڑوں کا محاسبہ نہ کیا جو فورس کو کمزور کر رہی ہیں، اور اہلکاروں کو بنیادی سہولیات فراہم نہ کیں، تو وانا میں امن و امان کا خواب ادھورا رہ جائے گا اور عوام کا ریاست پر اعتماد مزید متزلزل ہو جائے گا۔

وانا سکیورٹی بحران: کمزور پولیس اور دہشت گردی کی نئی لہر

جنوبی وزیرستان( دی خیبرٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک) ضلع لوئر جنوبی وزیرستان کا ہیڈ کوارٹر وانا اس وقت ایک ایسے سنگین سکیورٹی بحران کی زد میں ہے جہاں ریاست کی دفاعی لکیر یعنی پولیس فورس خود اندرونی خلفشار اور وسائل کی کمی مزید پڑھیں

لکی مروت میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں میں جھڑپ، ٹی ٹی پی کمانڈر ہلاک

لکی مروت دی خیبر ٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک ) ضلع لکی مروت کے علاقے ظریفوال سربند میں سکیورٹی فورسز اور مسلح شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق فائرنگ کے تبادلے کے دوران تین مزید پڑھیں

تحریک طالبان پاکستان میں دراڑیں: جماعت الاحرار کی علیحدگی اور گل بہادر گروپ سے ممکنہ اتحاد



دی خیبر ٹائمز اسپیشل رپورٹ پاکستان کی شمال مغربی سرحدی پٹی ایک بار پھر عسکریت پسند تنظیموں کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ، نئی صف بندیوں اور ممکنہ اتحادوں کے باعث ایک نازک اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ مزید پڑھیں

شمالی وزیرستان: نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے باپ اور دو بیٹے جاں بحق

شمالی وزیرستان (دی خیبر ٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک) شمالی وزیرستان میں تحصیل دتہ خیل کے علاقے ممی روغہ منظر خیل میں نامعلوم نقاب پوش مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک ہی خاندان کے تین افراد جاں بحق ہو گئے۔ پولیس کے مزید پڑھیں