تراویح کی رات دو جنازے، انصاف آج بھی غائب، پشاور پریس کلب میں لواحقین کی فریاد پشاور(دی خیبر ٹائمز نیوز) پشاور پریس کلب میں مسجد کے اندر فائرنگ سے قتل کیے گئے افراد کے لواحقین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقتول عنایت اللہ کے والد جان محمد اور مقتول پرویز کی بیوہ پریاز بیگم نے کہا کہ رمضان المبارک کے دوران تراویح کی نماز میں ان کے پیاروں کو بے دردی سے قتل کیا گیا، مگر تاحال ملزمان کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے میں ملوث افراد کھلے عام گھوم رہے ہیں جبکہ پولیس نے انصاف فراہم کرنے کے بجائے ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا۔ جان محمد نے کہا کہ انہیں اپنے بیٹے اور رشتہ دار کے جنازے میں شرکت تک کی اجازت نہیں دی گئی اور الٹا ان کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد ان کا گھر اور کاروبار تباہ ہو چکا ہے جبکہ بچے تعلیم سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔ لواحقین نے مزید الزام عائد کیا کہ متعلقہ پولیس حکام نے ان کی ایف آئی آر درج نہیں کی اور ملزمان کی سرپرستی کی، جس کے باعث وہ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ پریاز بیگم نے کہا کہ ان کے شوہر کو خانۂ خدا میں شہید کیا گیا، لیکن آج تک انہیں انصاف نہیں ملا اور وہ دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر متاثرہ خاندان نے حکومت خیبر پختونخوا، پولیس کے اعلیٰ حکام اور دیگر متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر ملزمان کو گرفتار کیا جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔

تراویح کی رات دو جنازے، انصاف آج بھی غائب، پشاور پریس کلب میں لواحقین کی فریاد

پشاور(دی خیبر ٹائمز نیوز) پشاور پریس کلب میں مسجد کے اندر فائرنگ سے قتل کیے گئے افراد کے لواحقین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقتول عنایت اللہ کے والد جان محمد اور مقتول پرویز کی بیوہ پریاز بیگم نے کہا کہ رمضان المبارک کے دوران تراویح کی نماز میں ان کے پیاروں کو بے دردی سے قتل کیا گیا، مگر تاحال ملزمان کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے میں ملوث افراد کھلے عام گھوم رہے ہیں جبکہ پولیس نے انصاف فراہم کرنے کے بجائے ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا۔
جان محمد نے کہا کہ انہیں اپنے بیٹے اور رشتہ دار کے جنازے میں شرکت تک کی اجازت نہیں دی گئی اور الٹا ان کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد ان کا گھر اور کاروبار تباہ ہو چکا ہے جبکہ بچے تعلیم سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔
لواحقین نے مزید الزام عائد کیا کہ متعلقہ پولیس حکام نے ان کی ایف آئی آر درج نہیں کی اور ملزمان کی سرپرستی کی، جس کے باعث وہ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
پریاز بیگم نے کہا کہ ان کے شوہر کو خانۂ خدا میں شہید کیا گیا، لیکن آج تک انہیں انصاف نہیں ملا اور وہ دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر متاثرہ خاندان نے حکومت خیبر پختونخوا، پولیس کے اعلیٰ حکام اور دیگر متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر ملزمان کو گرفتار کیا جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔