Firefighters battling a massive nighttime fire involving fuel tankers, with thick black smoke, towering flames, and onlookers standing nearby.

افغانستان:اسلام قلعہ کسٹمز میں شدید آگ، طالبان کا ایرانی فورسز پر فائرنگ کا الزام

پشاور ( دی خیبر تائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) افغانستان کے صوبہ ہرات میں ایران کی سرحد سے متصل اہم تجارتی گزرگاہ اسلام قلعہ کے کسٹمز کمپلیکس میں اچانک بھڑکنے والی شدید آگ نے متعدد ایندھن بردار ٹرکوں اور دیگر گاڑیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے بعد علاقے میں کئی گھنٹوں تک دھوئیں کے گہرے بادل چھائے رہے۔
واقعے نے ایک بار پھر افغانستان اور ایران کے درمیان مصروف سرحدی گزرگاہوں کی سکیورٹی اور وہاں موجود بڑی تعداد میں ایندھن بردار گاڑیوں سے متعلق حفاظتی انتظامات پر سوالات اٹھا دئے ہیں۔
تاہم واقعے کا ایک اہم اور ابھی تک غیر واضح پہلو یہ ہے کہ طالبان حکام کی جانب سے ایرانی سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کا الزام بھی سامنے آیا ہے۔ دوسری جانب دستیاب ابتدائی اطلاعات میں آگ کے آغاز کو ایک ایندھن بردار ٹینکر سے جوڑا گیا ہے، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے آگ بجھانے کیلئے امدادی ٹیمیں بھی بھیجے جانے کی اطلاعات ہیں۔
اس مرحلے پر ایرانی فورسز کی جانب سے فائرنگ اور اسے آگ لگنے کے واقعے سے جوڑنے کے الزام کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

عینی شاہدین کے مطابق اسلام قلعہ کسٹمز کمپلیکس میں موجود ایندھن بردار گاڑیوں میں سے ایک میں آگ لگی، جس کے بعد شعلوں نے قریب کھڑے دوسرے ٹرکوں کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کردیا۔
اسلام قلعہ افغانستان اور ایران کے درمیان سب سے اہم تجارتی راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں روزانہ بڑی تعداد میں مال بردار گاڑیوں کے علاوہ پٹرولیم مصنوعات لے جانے والے ٹینکرز بھی سرحد عبور کرتے ہیں۔ اس وجہ سے کسی ایک گاڑی میں لگنے والی آگ کے تیزی سے دوسری گاڑیوں تک پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔
مقامی حکام کے مطابق آگ پر قابو پانے کیلئے فائر بریگیڈ اور دیگر امدادی اداروں نے کارروائی کی جبکہ ایران کی جانب سے بھی فائر فائٹنگ ٹیمیں بھیجے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
افغان میڈیا میں شائع ہونے والی بعض رپورٹس کے مطابق ایرانی جانب سے چار فائر ٹرک اور امدادی عملہ اسلام قلعہ پہنچا تاکہ آگ پر قابو پانے میں مدد کی جا سکے۔

واقعے کے بعد طالبان حکام کی جانب سے ایرانی فورسز پر فائرنگ کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ الزام اس لئے اہم ہے کہ اسلام قلعہ سرحدی علاقے میں واقع ہے اور افغانستان اور ایران کے درمیان ماضی میں بھی سرحدی کشیدگی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ تاہم موجودہ واقعے میں ابھی یہ واضح نہیں کہ مبینہ فائرنگ کب ہوئی، کس مقام سے ہوئی اور اس کا آگ لگنے کے واقعے سے براہ راست کیا تعلق تھا۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا فائرنگ کے نتیجے میں کوئی ٹینکر متاثر ہوا یا آگ پہلے ہی لگ چکی تھی اور اس کے بعد فائرنگ کا واقعہ پیش آیا؟
ان سوالات کے جواب کیلئے جائے وقوعہ کی فرانزک تحقیقات اور عینی شاہدین کے بیانات انتہائی اہم ہوں گے۔
اب تک سامنے آنے والی معلومات میں ایسا آزادانہ ثبوت موجود نہیں جس کی بنیاد پر یہ حتمی طور پر کہا جاسکے کہ آگ ایرانی فورسز کی فائرنگ سے لگی۔
افغان میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایران کے تایباد ضلع سے فائر فائٹنگ گاڑیاں اور امدادی عملہ اسلام قلعہ روانہ کیا گیا۔ ایرانی حکام کے ابتدائی جائزے میں آگ کے ایک ایندھن بردار ٹینکر سے شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا۔
اگر یہ ابتدائی جائزہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آگ کے بنیادی سبب کا تعین فائرنگ کے الزام سے الگ ایک تکنیکی یا حادثاتی زاوئے سے بھی کرنا ہوگا۔
اسی لئے واقعے کی مکمل تصویر سامنے لانے کیلئے دونوں جانب کے بیانات کے ساتھ ساتھ غیر جانب دار شواہد کا جائزہ ضروری ہے۔
اسلام قلعہ میں ایندھن بردار ٹرکوں سے متعلق حادثات کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔فروری 2021 میں بھی اسی سرحدی علاقے میں ایک بڑے دھماکے کے بعد شدید آگ بھڑک اٹھی تھی۔ اس واقعے میں بڑی تعداد میں آئل اور گیس ٹینکرز متاثر ہوئے تھے اور آگ کئی گھنٹوں تک جاری رہی تھی۔
اس وقت بھی آگ کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ وہاں موجود بڑی تعداد میں ایندھن بردار گاڑیوں کو قرار دیا گیا تھا، جبکہ ایران نے افغانستان کو آگ پر قابو پانے کیلئے امدادی معاونت فراہم کی تھی۔
ماضی کے اس واقعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام قلعہ جیسے مقام پر ایندھن کے ٹینکروں کی بڑی تعداد کی موجودگی کسی بھی حادثے کو بڑے واقعے میں تبدیل کرسکتی ہے۔
موجودہ واقعے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ آگ کس وجہ سے لگی؟ اس کیلئے کئی امکانات کی تحقیقات ضروری ہیں۔ ان میں کسی ٹینکر میں تکنیکی خرابی، ایندھن کے اخراج، شارٹ سرکٹ، انسانی غفلت یا کسی بیرونی ذریعے سے آگ لگنے کا امکان شامل ہوسکتا ہے۔
تاہم ان میں سے کسی امکان کو بھی اس وقت حتمی وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
اسی طرح ایرانی فورسز کی مبینہ فائرنگ کے الزام کی بھی مکمل تحقیقات ضروری ہیں۔ اگر فائرنگ ہوئی تو اس کے شواہد، گولیوں کے خول، متاثرہ گاڑیوں کا معائنہ، عینی شاہدین کے بیانات اور دستیاب ویڈیو فوٹیج اس دعوے کی حقیقت جانچنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

افغانستان اور ایران کے درمیان سرحدی تعلقات عمومی طور پر تجارت، نقل و حرکت اور پانی سمیت مختلف معاملات کے باعث حساس رہے ہیں۔اسلام قلعہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا ایک اہم مرکز ہے۔ یہاں کسی بڑے حادثے یا سکیورٹی واقعے کا براہ راست اثر سرحدی تجارت اور مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت پر پڑ سکتا ہے۔
اگر واقعے کے بارے میں فائرنگ کا الزام مزید شواہد کے ساتھ سامنے آتا ہے تو اس کے سفارتی اور سرحدی اثرات بھی ہوسکتے ہیں۔ تاہم اس مرحلے پر محض الزام کی بنیاد پر واقعے کو دونوں ملکوں کے درمیان نئی سرحدی کشیدگی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

اسلام قلعہ کے واقعے میں سب سے اہم ضرورت ایک ایسی تحقیقات کی ہے جس میں سیاسی یا سرحدی بیانئے کے بجائے شواہد کو بنیاد بنایا جائے۔
تحقیقات میں یہ معلوم کرنا ضروری ہوگا کہ:
آگ سب سے پہلے کس گاڑی میں لگی؟
آگ لگنے کے وقت وہاں کتنے ٹینکر موجود تھے؟
کیا کسی گاڑی میں دھماکہ ہوا؟
کیا فائرنگ کے کوئی فرانزک شواہد ملے؟
مبینہ فائرنگ آگ لگنے سے پہلے ہوئی یا بعد میں؟
کیا علاقے میں موجود کیمروں کی ریکارڈنگ محفوظ ہے؟
عینی شاہدین نے فائرنگ یا دھماکے کے بارے میں کیا دیکھا؟
افغان اور ایرانی حکام کے پاس واقعے کے بارے میں کون سے شواہد موجود ہیں؟
ان سوالات کے جوابات ہی اس واقعے کے بارے میں موجود مختلف دعووں کو حقیقت سے الگ کرسکتے ہیں۔

اسلام قلعہ کا واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں سرحدی سکیورٹی اور افغانستان کے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات پہلے ہی حساس موضوع بنے ہوئے ہیں۔ اس لیے واقعے کے بعد سامنے آنے والے ہر دعوے کو احتیاط کے ساتھ جانچنا ضروری ہے۔
اب تک دستیاب اطلاعات سے آگ لگنے کا واقعہ اور اس کے نتیجے میں متعدد گاڑیوں کے متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی امدادی ٹیموں کی جانب سے آگ بجھانے میں مدد دینے کی اطلاعات بھی موجود ہیں۔
اس کے برعکس ایرانی فورسز کی فائرنگ کو آگ کی وجہ قرار دینے کا دعویٰ ابھی آزادانہ طور پر ثابت نہیں ہوا۔
اس لیے اس واقعے کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے بجائے شواہد سامنے آنے کا انتظار زیادہ مناسب ہوگا۔
اسلام قلعہ میں لگنے والی آگ محض ایک مقامی حادثہ نہیں کیونکہ یہ افغانستان اور ایران کے درمیان ایک اہم تجارتی راستے پر پیش آئی ہے۔ لیکن اس واقعے کی اصل نوعیت جاننے کے لیے الزام تراشی سے زیادہ فرانزک شواہد، عینی شاہدین کے بیانات اور آزادانہ تحقیقات اہم ہوں گی۔
دی خیبر ٹائمز کی نظر میں اصل سوال یہی ہے کہ اسلام قلعہ میں آگ لگی کیسے، اور اس سوال کا جواب دعووں سے نہیں بلکہ شواہد سے ملنا چاہئے۔

Summary
A major fire broke out at the Islam Qala customs complex in Afghanistan’s western Herat province, near the Iranian border, damaging several fuel tankers and other vehicles. The incident triggered concerns over safety at one of the busiest commercial crossings between Afghanistan and Iran.
Taliban officials have reportedly accused Iranian security forces of opening fire, but the allegation has not been independently verified. Initial reports, including information cited by Afghan media, indicate that the fire may have started from a fuel tanker and subsequently spread to nearby vehicles.
Iranian firefighting teams were also reportedly sent to the area to assist Afghan authorities in containing the blaze. The contrasting accounts make an independent investigation particularly important.
Authorities would need to establish the exact sequence of events, including the origin of the fire, whether any shooting occurred, and whether there is any direct link between the alleged gunfire and the blaze. Forensic evidence, CCTV footage and eyewitness accounts could help determine what actually happened.
Given Islam Qala’s importance as a major Afghanistan-Iran trade route, the incident could have implications for cross-border trade and security. However, until credible evidence emerges, claims about Iranian involvement should be treated as allegations rather than established facts.
About the Author:
Nasir Dawar is Editor of The Khyber Times and a researcher. Contact: dawarjan@gmail.com