دی خیبر ٹائمز نیوز ڈیسک
افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد ترکی کے استخباراتی ادارے کے سربراہ نے کابل کا پہلا باضابطہ اور اہم ترین دورہ کیا ہے، جہاں انہوں نے افغان وزیر داخلہ خلیفہ سراج الدین حقانی، وزیر دفاع ملا محمد یعقوب، جی ڈی آئی (GDI) کے سربراہ عبدالحق وثیق اور نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر سمیت طالبان حکومت کی اعلیٰ ترین قیادت سے مفصل ملاقاتیں کی ہیں۔
اس دورے کا بنیادی ایجنڈا سیکیورٹی تعاون، منشیات کی روک تھام، باہمی دفاعی تعلقات کا فروغ اور پاکستان و افغانستان کے درمیان جاری 11 ماہ طویل سفارتی و تجارتی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔
کابل ملاقاتوں کا تفصیلی ایجنڈا
افغان وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق ترک انٹیلی جنس چیف اور افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال، بارڈر مینجمنٹ، منشیات کی پیداوار و اسمگلنگ کے خاتمے اور دونوں ممالک کی وزارتِ داخلہ کے درمیان براہِ راست روابط کو مزید فعال بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
اس کے علاوہ افغان وزارتِ دفاع کے سرکاری بیان کے مطابق وزیر دفاع ملا محمد یعقوب کے ساتھ ملاقات میں دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے اور خطے میں امن و استحکام کی مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ جبکہ افغان انٹیلی جنس ادارے (GDI) کے سربراہ عبدالحق وثیق اور نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر سے ہونے والی گفتگو میں خطے کے سیکیورٹی چیلنجز اور دوطرفہ اقتصادی روابط پر اہم نکات زیرِ بحث آئے۔
ترکی کا منفرد سفارتی موقف اور افغان دھڑوں میں اثر و رسوخ
سفارتی ماہرین کے مطابق طالبان حکومت کے ساتھ ترکی کے تعلقات کی نوعیت دیگر ممالک سے منفرد اور متوازن ہے۔ ایک طرف جہاں ترکی کے طالبان حکام کے ساتھ قریبی اور فعال سفارتی و تجارتی روابط قائم ہیں، وہی دوسری طرف ترکی میں سابق افغان اپوزیشن کی ایک بڑی تعداد بھی مقیم ہے، جن میں سابق نائب صدر عبدالرشید دوستم، ازبک و ترکمن قیادت اور دیگر اہم سیاسی شخصیات شامل ہیں۔
ترکی ان تمام تر سیاسی دھڑوں اور افغان اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے طالبان قیادت کے ساتھ ایک موثر اور غیر محسوس سفارتی راستہ برقرار رکھے ہوئے ہے، جس کا مقصد افغانستان میں تمام اقوام کی شمولیت اور پائیدار امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔
ترک انٹیلی جنس کے سربراہ کے اس دورے کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان گزشتہ ایک سال سے جاری تناؤ کے پس منظر میں انتہائی اہم دیکھا جا رہا ہے۔ اکتوبر 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپوں اور کشیدگی کے بعد ترکی اور قطر نے دوحہ میں ثالثی کا مرکزی کردار ادا کیا تھا، جس کے نتیجے میں عارضی جنگ بندی ممکن ہو سکی تھی۔
اگرچہ دونوں ملکوں کی حکومتوں کے درمیان باضابطہ مذاکراتی عمل تعطل کا شکار رہا ہے، تاہم ترکی کی معروف انسانی حقوق اور امدادی تنظیم ‘انسان حریت و انسانی امدادی فاؤنڈیشن’ (İHH) کے زیرِ اہتمام پردے کے پیچھے غیر رسمی بات چیت (بیک ڈور سفارت کاری) کے ذریعے دونوں ممالک کے سابق حکام، سفارتکاروں اور ماہرین کی دو نشستیں منعقد کرائی جا چکی ہیں تاکہ آپسی مسائل کا کوئی درمیانی راستہ نکالا جا سکے۔
گزشتہ 11 ماہ سے پاک افغان مرکزی تجارتی راستوں کی بندش، ٹرانزٹ ٹریڈ کی معطلی اور ویزا پالیسی میں سختی کے باعث خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے تاجروں اور عام شہریوں کو درپیش شدید مشکلات کے حل کیلئے ترکی ایک بار پھر متحرک نظر آتا ہے۔
قطری سیکیورٹی چیف کا دورہ کابل اور مشترکہ سفارتی تحرک
ذرائع اور عالمی میڈیا رپورٹس (بشمول افغانستان کے طلوع ٹی وی اور بی بی سی) کے مطابق ترکی کے ساتھ ساتھ قطر کے سیکیورٹی ادارے کے سربراہ نے بھی کابل کا اہم دورہ کیا ہے۔ اگرچہ اس دورے کا باضابطہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق قطر اور ترکی کی مشترکہ سفارتی کوششیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ دوست ممالک (ترکی، قطر اور چین) خطے میں طویل ہوتے ہوئے پاک افغان تنازع کو ختم کرانے اور سرحدی راستوں کو دوبارہ فعال کرانے کیلئے دوبارہ ایک پیچ پر آ رہے ہیں۔
ترکی انٹیلی جنس کے سربراہ کا یہ دورہ کابل، افغانستان کی موجودہ طالبان حکومت اور علاقائی طاقتوں کیلئے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ سرحدوں کی طویل بندش اور سفارتی جمود کے خاتمے کیلئے ترکی کی یہ کوششیں نہ صرف کابل اور اسلام آباد کے درمیان فاصلے کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، بلکہ خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع میں پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی بحالی اور امن و امان کے قیام کیلئے بھی ایک مثبت پیش رفت کی عکاسی کرتی ہیں۔
Turkish Intelligence Chief Holds Strategic Talks with Afghan Leadership in Kabul Amid Regional Tensions
In his first official visit to Kabul since the Taliban took power, Turkey’s Intelligence Chief held high-level meetings with key Afghan leaders, including Interior Minister Sirajuddin Haqqani, Defense Minister Mullah Yaqoob, GDI Chief Abdul Haq Wasiq, and Deputy PM Mullah Abdul Ghani Baradar.
Key Highlights:
* Security & Defense Cooperation: Discussions centered on intelligence sharing, counter-narcotics enforcement, and expanding direct security coordination between both countries.
* Balanced Regional Engagement: Turkey maintains a unique diplomatic position—sustaining active diplomatic and economic ties with the Afghan Taliban while simultaneously hosting prominent opposition leaders (including Abdul Rashid Dostum and Uzbek/Turkmen representatives) in Ankara and Istanbul to advocate for inclusive governance.
* De-escalating Pak-Afghan Tensions: Following the October 2025 border clashes and the subsequent 11-month trade and border closure, Ankara remains actively involved in mediation. In addition to formal channels, the Turkish NGO İHH (İnsan Hak ve Hürriyetleri ve İnsani Yardım Vakfı) has facilitated back-channel (Track 1.5) dialogue sessions featuring former diplomats, officials, and experts from both Pakistan and Afghanistan.
* Multilateral Diplomatic Push: Reports of a concurrent visit by Qatar’s security chief signal a renewed joint effort among regional players (Turkey, Qatar, and China) to resolve the border impasse, ease visa restrictions, and restore transit trade between Pakistan and Afghanistan.
Nasir Dawar: Editor, The Khyber Times & Researcher
Contact: dawarjan@gmail.com




