A sophisticated, multi-panel composite image in an ornate wooden frame, presented on a polished desk in a formal setting, celebrating the academic milestones and awards of Dr. Abdul Zahir Khattak. Key scenes include a research presentation, receiving a prestigious HEC award, research collaboration, and a group photo with recognized faculty from the Department of Economics at Kohat University. Contains extensive Urdu and English text confirming PhD and HEC awards.

ڈاکٹر عبدالظاہر خٹک کا شعبہ اکنامکس میں پی ایچ ڈی: دی خیبر ٹائمز انتظامیہ کی جانب سے مبارکباد

امین خیل چوکارہ سے تعلق رکھنے والے محقق عبدالظاہر نے کوہاٹ یونیورسٹی سے ڈگری مکمل کرلی؛

پشاور (دی خیبر ٹائمز نیوز ڈیسک): خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع کرک کے نواحی علاقے امین خیل چوکارہ سے تعلق رکھنے والے محمد ولی (مرحوم) کے فرزند عبدالظاہر خٹک نے شعبہ اکنامکس میں پی ایچ ڈی (PhD) کی ڈگری حاصل کر لی ہے۔

عبدالظاہر خٹک کی تحقیق کا موضوع “Determinants of the Digital Economy in Asia: A Comparative Study Between Developed and Developing Countries” تھا۔ ان کا یہ تحقیقی مقالہ کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (KUST) کے پروفیسر ڈاکٹر دلاور خان کی زیرِ نگرانی مکمل ہوا، جبکہ بیرونی ممتحنین (External Examiners) میں عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے پروفیسر ڈاکٹر طارق خان اور یونیورسٹی آف ایگریکلچر پشاور کے پروفیسر ڈاکٹر غفار علی شامل تھے۔
دفاعی مقالہ کامیابی سے مکمل کرنے پر عبدالظاہر خٹک نے اپنی اس اہم علمی کامیابی کو اساتذہ کی بہترین رہنمائی، شب و روز کی محنت اور اپنے والدین کی دعاؤں کا ثمر قرار دیا۔ ان کی اس شاندار کامیابی پر اہلِ علاقہ، عزیز و اقارب اور تعلیمی حلقوں کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات پیش کئے جا رہے ہیں۔

اس پرمسرت موقع پر دی خیبر ٹائمز کی انتظامیہ اور ایڈیٹوریل بورڈ کی جانب سے ڈاکٹر عبدالظاہر خٹک کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی جاتی ہے۔
ڈاکٹر عبدالظاہر خٹک کی یہ کامیابی ان کی بے مثال محنت، علمی شغف اور مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ وہ نہ صرف اپنے علاقے کا فخر ہیں بلکہ ان کا یہ کارنامہ خطے کے دیگر نوجوانوں کیلئے بھی ایک روشن مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔ دی خیبر ٹائمز ان کے روشن مستقبل اور مزید علمی کامرانیوں کیلئے پرخلوص نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالظاہر خٹک کی یہ انفرادی کامیابی دراصل ضلع کرک کی اس منفرد اور تاریخی تعلیمی روایت کا تسلسل ہے جو تمام تر نامساعد حالات کے باوجود مسلسل پھل پھول رہی ہے۔ بنیادی ترقیاتی منصوبوں سے محروم رکھے جانے کے باوجود ضلع کرک نے خواتین کی تعلیم میں بھی قومی اشاریوں میں پاکستان بھر کے تمام اضلاع کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پہلی پوزیشن حاصل کی ہے، جو کہ ایک منفرد تاریخی ریکارڈ ہے۔
ضلع کرک طویل عرصے سے پینے کے صاف پانی، صحت کے مراکز، پختہ سڑکوں اور دیگر بنیادی انسانی ضروریات کی شدید قلت کا شکار رہا ہے۔ اس کے باوجود یہاں کے عوام نے اپنی محرومیوں کو کبھی اپنی کمزوری نہیں بننے دیا۔
ڈاکٹر عبدالظاہر خٹک جیسے اسکالرز کا ابھرنا اور علاقے کی طالبات کا تعلیمی میدان میں ملک بھر میں سرفہرست آنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تمام تر پسماندگی اور چیلنجز کے باوجود کرک کے باشعور عوام نے تعلیم کو اپنی پہلی اور بنیادی ترجیح بنا رکھا ہے۔

caontact: thekhybertimkes@gmail.com