مقدس مقامات کی سلامتی کے تناظر میں پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کا سہ فریقی دفاعی تعاون مزید اہم ہو گیا
اسلام آباد ( دی خیبر ٹائمز نیوز ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے مکہ المکرمہ کے مقدس مقام پر ڈرون حملے کی گھناؤنی اور بزدلانہ کوشش کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ایک ناقابلِ معافی جرم قرار دیا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ حرمین الشریفین کے تقدس اور سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کیلئے پوری پاکستانی قوم اپنے برادر ملک کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک ہنگامی بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مسجدِ حرام کے مقدس ترین مقام کو نشانہ بنانے کی یہ کوشش انتہائی اشتعال انگیز اور افسوسناک ہے۔ پاکستان کے عوام اس بزدلانہ اقدام پر شدید غم و غصے اور تشویش میں مبتلا ہیں۔ اس کارروائی کے نتیجے میں پاکستانیوں اور امتِ مسلمہ کے دلوں میں جو گہرا دکھ اور اضطراب پیدا ہوا ہے، اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
وزیراعظم نے اس خطرے کا فوری سراغ لگا کر اسے فضا میں ہی تباہ کرنے پر سعودی مسلح افواج کی غیرمعمولی مستعدی، شجاعت اور اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
خطے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے تمام فریقین سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مزید کشیدگی سے پیچھے ہٹنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا خطہ پہلے ہی تنازعات اور جنگوں کی بہت بھاری قیمت ادا کر چکا ہے، اس لئے پائیدار امن و استحکام کے حصول کیلئے صرف مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔
مکہ المکرمہ پر جدید ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے حملے کی اس کوشش نے خطے میں درپیش جدید سیکیورٹی چیلنجز کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، اس قسم کے پیچیدہ فضائی خطرات کے سامنے پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے مابین طے پانے والا تاریخی سہ فریقی دفاعی معاہدہ (Trilateral Defense Pact) انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
تینوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان قائم اس دفاعی شراکت داری کا بنیادی مقصد انٹیلی جنس شیئرنگ، ایڈرانسڈ ایئر ڈیفنس سسٹمز کی فراہمی، اور مشترکہ دفاعی پیداوار کو فروغ دینا ہے۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان اور ترکی کی مسلح افواج اور دفاعی ادارے سعودی عرب کی فضائی و سرحدی حدود، بالخصوص حرمین الشریفین کی حتمی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے تکنیکی و ٹیکنالوجیکل معاونت فراہم کر رہے ہیں، تاکہ کسی بھی بیرونی یا غیر روایتی خطرے کو بر وقت ناکام بنایا جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان کے اختتام پر دہرایا کہ سعودی عرب کی خودمختاری کا دفاع اور مقدس مقامات کی حفاظت ایک ایسا مقدس فریضہ ہے جسے ہر پاکستانی اپنے ایمان کا حصہ اور دل کے انتہائی قریب رکھتا ہے، اور پاکستان اپنے برادر ملک کی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
-
Strong Condemnation: Prime Minister Shehbaz Sharif strongly condemned a foiled drone attack targeting the holy city of Makkah, describing it as an unpardonable act. He reiterated that the entire Pakistani nation stands firmly alongside Saudi Arabia for the defense and sanctity of Harmain Shareefain.
-
Praise for Saudi Military: The Prime Minister commended the Saudi Armed Forces for their vigilance, bravery, and high level of professional readiness in successfully intercepting and neutralizing the threat before it could cause harm.
-
Call for Diplomacy: Expressing concern over rising regional tensions, Sharif urged all parties to exercise maximum restraint and de-escalate, emphasizing that dialogue and diplomacy remain the only viable path toward sustainable peace.
-
Trilateral Defense Context: The incident underscores the strategic relevance of the trilateral defense framework between Pakistan, Turkey, and Saudi Arabia. This cooperative defense structure focuses on intelligence sharing, advanced air defense capabilities, and joint production to safeguard regional security and counter emerging drone and air threats.




