دی خیبرٹائمز کیلئے خصوصی تحریر: عبدالصبور خٹک
کسی بھی معاشرے کا مستقبل اس کی عمارتوں، سڑکوں یا بڑے منصوبوں سے نہیں بلکہ اس کے سکولوں میں بیٹھے بچوں سے بنتا ہے۔ آج جو بچے کتابیں اٹھائے سکول جا رہے ہیں، کل یہی ملک کے ڈاکٹر، انجینئر، استاد، صحافی، افسر، تاجر اور پالیسی ساز ہوں گے۔ اس لئے کسی معاشرے کے تعلیمی نظام کو نظر انداز کرنا دراصل اپنے مستقبل سے غفلت برتنے کے مترادف ہے۔
تعلیم صرف کتاب پڑھنے، امتحان دینے اور نمبر حاصل کرنے کا نام نہیں۔ ایک اچھا تعلیمی نظام بچے کو سوال کرنا، سوچنا، سمجھنا اور اپنے علم کو عملی زندگی میں استعمال کرنا سکھاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں تعلیم کا تصور اب بھی بڑی حد تک امتحان اور نمبروں کے گرد گھومتا ہے۔ بچے سال بھر کتابیں اور سوالات یاد کرتے ہیں، والدین فیسوں اور ٹیوشن کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور آخر میں پورے سال کی محنت کا فیصلہ چند گھنٹوں کے امتحان سے کیا جاتا ہے۔
مسئلہ اس وقت زیادہ سنگین ہوجاتا ہے جب نتائج توقع کے مطابق نہ آئیں۔ کامیاب بچوں کو مبارکباد دی جاتی ہے، پوزیشن ہولڈرز کی تصاویر اخبارات اور سوشل میڈیا کی زینت بنتی ہیں، لیکن جو بچے ناکام ہوجاتے ہیں ان کے بارے میں عموماً یہ جاننے کی کوشش نہیں کی جاتی کہ وہ ناکام کیوں ہوئے؟؟ کیا انہوں نے محنت نہیں کی؟ کیا اساتذہ انہیں مطلوبہ انداز میں پڑھانے میں کامیاب نہیں ہوئے؟ کیا سکول میں بنیادی سہولیات کا فقدان تھا؟ کیا امتحان کا طریقہ تدریس کے انداز سے مختلف تھا؟ یا پھر مسئلہ پورے نظام میں کہیں موجود ہے؟
یہ سوال خیبرپختونخوا میں نویں اور دسویں جماعت کے حالیہ نتائج کے بعد پہلے سے زیادہ اہم ہوگیا ہے۔ صرف نتیجہ نہیں، نتیجے کے پیچھے کی کہانی بھی دیکھنی ہوگی
امتحان کا نتیجہ ایک فیصد یا چند نمبروں کا نام نہیں۔ اس کے پیچھے ہزاروں بچوں کی ایک سال کی محنت، والدین کی امیدیں اور بعض اوقات خاندان کی مالی قربانیاں شامل ہوتی ہیں۔
اسی لئے جب کسی تعلیمی بورڈ کا نتیجہ جاری ہوتا ہے تو صرف کامیابی کا تناسب دیکھنا کافی نہیں۔ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ امتحان میں کتنے بچے شریک ہوئے، کتنے کامیاب ہوئے، کتنے ایک یا دو مضامین میں ناکام ہوئے اور کتنے طلبہ مکمل طور پر امتحانی معیار پر پورا نہیں اتر سکے۔۔
خیبرپختونخوا میں نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات مختلف تعلیمی بورڈز کے تحت منعقد ہوتے ہیں۔ اگر ان تمام بورڈز کے نتائج کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو صوبے کی تعلیمی صورتحال کی زیادہ واضح تصویر سامنے آسکتی ہے۔
یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک ہی صوبے میں رہنے والے، تقریباً ایک ہی نصاب پڑھنے والے طلبہ کی کامیابی کی شرح مختلف علاقوں میں ایک دوسرے سے کیوں مختلف ہے۔
کسی نے سوچا ہے کہ یہ فرق کہاں سے پیدا ہوتا ہے؟
یہ سوال خاص طور پر اہم ہے کہ اگر ایک بورڈ میں کسی مضمون میں نہ صرف کامیاب ہوتے ہیں، بلکہ اچھے نمبر حاصل کرلیتے ہیں، جبکہ دوسرے بورڈ میں اسی مضمون میں بڑی تعداد میں بچے انتہائی کممنبروں سے پاس یا ناکام ہورہے ہیں، تو اس فرق کی وجہ کیا ہے؟
کیا بچوں کی ذہنی صلاحیت مختلف ہے؟ یقیناً نہیں۔ تو پھر سکولوں کا معیار، اساتذہ کی دستیابی، تدریسی سہولیات، والدین کی معاشی حالت، علاقے کے حالات اور امتحانی ماحول جیسے عوامل کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اسی لئے کسی بھی بورڈ کے خراب نتائج کو دیکھ کر فوری طور پر بچوں کو قصوروار قرار دینا مناسب نہیں۔
نویں جماعت کا نتیجہ زیادہ تشویش کیوں پیدا کرتا ہے؟
نویں جماعت میں ناکامی کی شرح خاص طور پر توجہ طلب ہوتی ہے کیونکہ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں طالب علم پہلی مرتبہ میٹرک کے باقاعدہ امتحانی نظام میں داخل ہوتا ہے۔
پشاور بورڈ کے 2025ء کے نتائج اس حوالے سے ایک مثال فراہم کرتے ہیں۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق نویں جماعت کے امتحان میں 101,888 امیدوار شریک ہوئے، جن میں 61,753 کامیاب جبکہ 38,907 طلبہ ایک یا ایک سے زیادہ مضامین میں ناکام ہوئے۔
دسویں جماعت میں 91,589 امیدوار شریک ہوئے، جن میں 76,484 کامیاب اور 14,530 ناکام ہوئے، جبکہ کامیابی کا تناسب 83.5 فیصد بتایا گیا۔
یہ اعداد صرف پشاور بورڈ کی ایک سال کی تصویر ہیں، لیکن سوال پورے صوبے کیلئے اہم ہے۔
اگر نویں جماعت میں اتنی بڑی تعداد ایک یا زیادہ مضامین میں کامیاب نہیں ہو پاتی تو اس کے اسباب جاننا ضروری ہے۔ یہی تجزیہ دوسرے تعلیمی بورڈز کے نتائج پر بھی لاگو ہونا چاہئے۔
ہمارے تعلیمی نظام میں ایک عرصے سے رٹے کے خلاف بات کی جارہی ہے۔ یہ اصول اپنی جگہ درست ہے کہ بچے کو محض کتاب یاد کروانے کے بجائے اسے مضمون سمجھنے اور اپنی سوچ استعمال کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔ لیکن امتحان کا انداز بدلنے سے پہلے کلاس روم کا ماحول بدلنا بھی ضروری ہے۔ اگر استاد پورا سال بچوں کو روایتی انداز میں سوالات یاد کرواتا رہے اور امتحان میں ان سے تجزیاتی سوالات پوچھے جائیں تو کمزور نتائج آنا بعید نہیں۔
اس لئے نتائج کا جائزہ لیتے وقت صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ طالب علم نے کیا لکھا بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ اسے پورا سال کیا اور کس انداز میں پڑھایا گیا۔
مجموعی پاس فیصد بعض اوقات اصل مسئلہ چھپا دیتا ہے۔
فرض کریں کسی بورڈ میں مجموعی کامیابی کی شرح مناسب ہے، لیکن ریاضی، فزکس، کیمسٹری یا کسی دوسرے مضمون میں ناکامی بہت زیادہ ہے۔ ایسی صورتحال میں صرف مجموعی فیصد دیکھ کر یہ کہنا کہ بورڈ کا نتیجہ اچھا رہا، مکمل تجزیہ نہیں ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر بورڈ نویں اور دسویں جماعت کے نتائج کے ساتھ مضمون وار کامیابی اور ناکامی کی شرح بھی نمایاں کرے، اس سے یہ معلوم ہوسکے گا کہ بچوں کو سب سے زیادہ مشکل کہاں پیش آرہی ہے۔
اگر ایک ہی مضمون میں مسلسل کئی سال سے بڑی تعداد میں بچے ناکام ہورہے ہیں تو وہاں خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ناکام طالب علم کیلئے امتحان ختم نہیں ہوتا، اسے دوبارہ امتحان، سپلیمنٹری، ری ٹوٹلنگ یا دوسرے متعلقہ مراحل سے گزرنا پڑ سکتا ہے اور ان مراحل کیلئے فیس بھی ادا کرنا ہوتی ہے۔
یہاں ایک جائز سوال پیدا ہوتا ہے کہ تعلیمی بورڈز ان مختلف مراحل میں سالانہ کتنی رقم وصول کرتے ہیں؟ گزشتہ چند برسوں میں یہ رقم کتنی رہی؟ اور کیا ناکام طلبہ کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ان سے حاصل ہونے والی آمدن بھی بڑھ رہی ہے؟ ان سوالات کا جواب اعدادوشمار سے مل سکتا ہے۔
یہ کہنا کہ بورڈ جان بوجھ کر بچوں کو فیل کرکے پیسے بٹورتے ہیں، بغیر ثبوت کے ایک سنگین الزام ہوگا۔ لیکن اگر والدین اور طلبہ میں ایسا تاثر موجود ہے تو بورڈز کو شفاف اعدادوشمار کے ذریعے اس تاثر کو ختم کرنا چاہئے۔
عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ امتحانی فیسیں کہاں خرچ ہوتی ہیں اور دوبارہ امتحان یا دیگر مراحل سے حاصل ہونے والی رقم کا حجم کتنا ہے۔
سرکاری اور نجی سکولوں کا فرق بھی سامنے آنا چاہئے؟ تعلیمی نتائج کے تجزئے میں سرکاری اور نجی سکولوں کا تقابل بھی اہم ہے۔
اگر نجی سکول مسلسل بہتر نتائج دے رہے ہیں تو اس کی وجوہات کیا ہیں؟ کیا وہاں اساتذہ کی حاضری بہتر ہے؟ کیا کلاسز میں طلبہ کی تعداد کم ہے؟ کیا اضافی تعلیمی سہولیات موجود ہیں؟ اور اگر کسی علاقے کے سرکاری سکول نجی اداروں سے بہتر نتائج دے رہے ہیں تو ان اداروں کے طریقہ کار سے دوسرے سکولوں کو کیوں فائدہ نہیں پہنچایا جاتا؟ یہ تمام وہ سوالات ہیں جن پر سنجیدہ تعلیمی پالیسی بن سکتی ہے۔
خراب نتیجہ سامنے آنے پر استاد کو ذمہ دار قرار دینا آسان ہے، لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھنا ہوگا، کیونکہ کئی سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی کمی، کلاس رومز کی کمی، تعلیمی وسائل کا فقدان اور دیگر مسائل موجود ہیں، پورے خیبرپختونخوا اور خصوصی طور پر دور دراز علاقوں میں یہ مسائل مزید نمایاں ہوسکتے ہیں۔
ایک ایسے سکول کے بچے سے وہی نتیجہ توقع کرنا جہاں ہر سہولت موجود ہو اور ایسے سکول کے بچے سے بھی وہی کارکردگی چاہنا جہاں بنیادی سہولیات تک محدود ہوں، زمینی حقائق سے آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے۔
نویں اور دسویں جماعت کے نتائج کو صرف امتحانی عمل کی تکمیل سمجھنے کے بجائے حکومت کو اسے تعلیمی نظام کے جائزے کا موقع بنانا چاہئے، تمام تعلیمی بورڈز کے نتائج کا تقابلی جائزہ لیا جائے، گزشتہ تین سے پانچ سال کے نتائج سامنے رکھے جائیں، ان مضامین کی نشاندہی کی جائے جن میں مسلسل زیادہ طلبہ ناکام ہورہے ہیں۔
کمزور نتائج والے اضلاع اور سکولوں کی نشاندہی کرکے وہاں خصوصی تعلیمی پروگرام شروع کئے جانے سے ہی درسگاہیں علم کی نور کا باعث بن سکتے ہیں۔
ساتھ ہی بورڈز کو چاہئے کہ نتائج کے ساتھ مکمل ڈیٹا بھی جاری کریں تاکہ والدین، ماہرین تعلیم اور صحافی آزادانہ طور پر اس کا تجزیہ کرسکیں۔
آخر میں ایک بنیادی سوال؟؟
ایک بچے کا فیل ہونا شاید ایک فرد کی ناکامی ہو، لیکن اگر ہزاروں بچے مسلسل ناکام ہورہے ہوں تو معاملہ صرف بچوں تک محدود نہیں رہتا۔
پھر سوال استاد سے بھی ہوتا ہے، سکول سے بھی، محکمہ تعلیم سے بھی اور امتحانی نظام سے بھی۔
تعلیم میں کامیابی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ کتنے بچے پاس ہوئے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ کتنے بچے واقعی سیکھ سکے، کتنے اپنی سمجھ استعمال کرسکے اور کتنے آگے کی زندگی کیلئے تیار ہوئے۔ اسی لئے خیبرپختونخوا کے نویں اور دسویں جماعت کے نتائج کو صرف کامیاب اور ناکام طلبہ کی فہرست کے طور پر دیکھنا کافی نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر ہمارے بچے ناکام ہورہے ہیں تو کیا ہم صرف بچوں کا امتحان لے رہے ہیں، یا ہمارا تعلیمی نظام بھی ہر سال اپنے امتحان میں ناکام ہورہا ہے؟
اس سوال کا جواب اعدادوشمار سے دینا ہوگا، نعروں سے نہیں۔ اور اگر اعدادوشمار کسی خامی کی نشاندہی کرتے ہیں تو اسے تسلیم کرکے درست کرنا ہوگا، کیونکہ آج کا ناکام طالب علم صرف ایک امتحانی نمبر نہیں بلکہ ہمارے آنے والے کل کا ایک حصہ ہے۔
Summery:
KP’s matric results raise a critical question: Are students failing, or is the education system failing them? An analysis of exam results, teaching standards and systemic challenges.




