تحریر: عبدالصبور خٹک
کبھی انسان راستوں پر لٹتا تھا، آج رابطوں پر لٹ رہا ہے۔ زمانہ بدل گیا، جرائم کی شکلیں بدل گئیں، مگر لٹیروں کی فطرت نہیں بدلی۔ پہلے ڈاکو چہرے چھپاتے تھے، اب موبائل نمبرز کے پیچھے چھپتے ہیں۔ پہلے وہ دروازے توڑ کر گھروں میں داخل ہوتے تھے، اب ایک فون کال کے ذریعے دل و دماغ میں خوف پیدا کر کے انسان کی برسوں کی جمع پونجی لوٹ لیتے ہیں۔ جدید دور کا سب سے خطرناک مجرم وہ ہے جو اسلحہ نہیں دکھاتا بلکہ نفسیاتی دباؤ، جھوٹ اور ٹیکنالوجی کو اپنا ہتھیار بناتا ہے۔
25 جولائی، جمعہ کی صبح 9 بج کر 38 منٹ پر میرے ساتھ بھی ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے اس مسئلے کی سنگینی کو مزید واضح کر دیا۔ ایک نامعلوم نمبر (03351474671) سے کال موصول ہوئی۔ کال کرنے والے نے خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ میرا بیٹا محمد عاشیر (جو آٹھویں جماعت کا طالب علم ہے) اپنے ایک دوست کے ساتھ غیر قانونی اسلحے سمیت پکڑا گیا ہے۔ پشتو زبان میں بات کرنے والے اس شخص نے اپنا نام عثمان بتایا اور پھر بات “ایس ایچ او” کے سپرد کر دی، جو اردو میں بول رہا تھا۔ اس شخص نے معاملے کو فوری رفع دفع کرنے کیلئے جاز کیش کے ذریعے 50 ہزار روپے بھیجنے کا مطالبہ کیا۔ خوش قسمتی سے بات چیت کے دوران اس کی گفتگو کے تضادات نے شک پیدا کیا۔ میں نے گھر والوں سے فوری رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ بیٹا حسبِ معمول محفوظ ہے اور یہ محض ایک منظم فراڈ کی کوشش تھی۔
یہ واقعہ صرف میرے ساتھ پیش نہیں آیا، بلکہ روزانہ نہ جانے کتنے پاکستانی ایسی جعلی فون کالز، جعلی بینک نمائندوں، موبائل والٹ فراڈ، انعامی اسکیموں، سوشل میڈیا ہیکنگ اور او ٹی پی (OTP) فراڈ کا شکار بنتے ہیں۔ یہاں میں اپنے دفتر کے ساتھیوں کے دو واقعات کا ذکر کرتا چلوں، کچھ عرصہ قبل میرے ساتھ کام کرنے والی ایک خاتون کولیگ کو ایسی ہی کال موصول ہوئی کہ ان کا بیٹا اغوا ہو چکا ہے، اور خوف و ہراس میں وہ 50 ہزار روپے سے محروم ہو گئیں۔ اسی طرح محض پانچ دن قبل دفتر کے ایک اور ساتھی، لطیف خان سے بھی 30 ہزار روپے بٹور لئے گئے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ لوگ بروقت حقیقت جان لیتے ہیں جبکہ کچھ اپنی عمر بھر کی جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
پاکستان میں ڈیجیٹل لین دین میں اضافے کے ساتھ سائبر فراڈ بھی تیزی سے پھیلا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس ملک بھر سے 1 لاکھ 42 ہزار سے زائد سائبر کرائم شکایات متعلقہ اداروں کو موصول ہوئیں۔ ان میں مالی فراڈ، جعلی کالز، سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی ہیکنگ، آن لائن بلیک میلنگ اور شناخت کی چوری جیسے جرائم شامل تھے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ سائبر جرائم اب انفرادی واقعات نہیں بلکہ ایک قومی چیلنج بن چکے ہیں۔
سائبر جرائم کی روک تھام کیلئے حکومت نے پہلے ایف آئی اے (FIA) کے سائبر کرائم ونگ کے ذریعے کارروائیاں کیں، جبکہ بعد ازاں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) قائم کی گئی تاکہ آن لائن جرائم کی تحقیقات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ اس ادارے کے دائرۂ کار میں آن لائن مالی فراڈ، شناخت کی چوری، ہیکنگ، سوشل میڈیا جرائم، اور بچوں کے خلاف آن لائن جرائم شامل ہیں۔ اگرچہ متاثرہ شہری آن لائن شکایت درج کرا سکتے ہیں، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ بڑی تعداد میں متاثرین شکایت درج کرانے کے بعد بھی بروقت پیش رفت نہ ہونے کا گلہ کرتے ہیں۔
متاثرہ افراد کی کہانی تقریباً ایک جیسی ہوتی ہے۔ وہ شکایت درج کراتے ہیں، فارم پُر کرتے ہیں، اسکرین شاٹس، کال ریکارڈ، بینک ٹرانزیکشنز اور دیگر شواہد جمع کراتے ہیں، اور انہیں ایک انکوائری نمبر دے دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ہفتے مہینوں میں اور مہینے برسوں میں بدل جاتے ہیں، مگر متاثرہ شہری کو نہ اپنی رقم واپس ملتی ہے اور نہ ہی یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کی شکایت کس مرحلے میں ہے۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ متعلقہ ادارے کام نہیں کرتے، کیونکہ سائبر جرائم کی تفتیش انتہائی پیچیدہ ہوتی ہے۔ مجرم جعلی شناخت، مختلف موبائل سمز، کرائے کے بینک اکاؤنٹس، وی پی این (VPN) اور بین الاقوامی رابطوں کا استعمال کرتے ہیں، جس سے تفتیش دشوار ہو جاتی ہے۔ تاہم، متاثرہ شہری کے لیے سب سے اہم چیز شفافیت اور بروقت معلومات ہوتی ہے۔ اگر شکایت کنندہ کو اپنے مقدمے کی پیش رفت کا علم ہی نہ ہو تو نظام پر اعتماد کا متزلزل ہونا فطری امر ہے۔
یہ مسئلہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کا نہیں بلکہ بینکوں، موبائل والٹ کمپنیوں اور ٹیلی کام اداروں کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر مشکوک لین دین کو فوری طور پر روکنے، جعلی اکاؤنٹس کو منجمد کرنے اور مشتبہ سم کارڈز کی بروقت نشاندہی کا مربوط نظام موجود ہو تو ہزاروں شہری مالی نقصان سے بچ سکتے ہیں۔
اس حوالے سے جب ہم نے پشاور میں قائم سائبر کرائم دفتر کے عملے سے بات کی تو ان کا کہنا تھا، کہ ہمارا دفتر کرائے کی عمارت میں قائم ہے، عملہ انتہائی محدود ہے اور وسائل کی شدید کمی ہے۔ اس کے باوجود ہماری کوشش ہوتی ہے کہ موصول ہونے والے کیسز کو جلد از جلد حل کیا جائے، لیکن روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں کیسز کی آمد کے باعث محدود وسائل ہمارے راستے میں بڑی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ فراڈ ایسے وقت میں بڑھ رہے ہیں جب عام آدمی پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری، بڑھتے ہوئے ٹیکسوں اور بجلی و گیس کے بھاری بلوں تلے دبا ہوا ہے۔ ایک مزدور کی چند ہزار روپے کی کمائی، ایک ریٹائرڈ ملازم کی پنشن یا کسی متوسط طبقے کے فرد کی جمع پونجی اگر ایک فون کال سے غائب ہو جائے، تو اس کا ازالہ صرف مالی نہیں ہوتا بلکہ یہ شدید ذہنی اذیت اور ریاستی نظام سے بدظنی کا باعث بنتا ہے۔
اس صورتحال میں چند بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں:
* آن لائن ٹریکنگ سسٹم: سائبر فراڈ کی ہر شکایت کیلئے ایسا شفاف نظام فعال کیا جائے جس سے متاثرہ شخص اپنے مقدمے کی پیش رفت دیکھ سکے۔
* فوری ردعمل: بینکوں اور موبائل والٹ کمپنیوں کو مشکوک ٹرانزیکشنز پر آن دی اسپاٹ ایکشن لینا چاہئے۔
* سم کارڈز پر سختی: ٹیلی کام کمپنیوں کو جعلی یا غیر تصدیق شدہ سموں کے اجرا کی روک تھام مزید سخت بنانی چاہیئے۔
* عوامی آگاہی مہم: قومی سطح پر آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ شہری او ٹی پی، پن کوڈ، یا بینک تفصیلات کسی سے بھی شیئر نہ کریں۔
* تعلیمی نصاب: تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل سکیورٹی کو نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ نئی نسل صرف ٹیکنالوجی کا استعمال ہی نہ سیکھے بلکہ سائبر جرائم سے خود کو محفوظ رکھنا بھی جانے۔
ریاست کی طاقت صرف اس کے قوانین یا اداروں سے نہیں، بلکہ اس اعتماد سے ناپی جاتی ہے جو ایک عام شہری اپنے نظام پر کرتا ہے۔ اگر ایک فون کال چند لمحوں میں کسی کی عمر بھر کی جمع پونجی چھین سکتی ہے، تو اس کا جواب صرف عوام کو احتیاط کی تلقین نہیں، بلکہ ایک ایسا مؤثر، تیز رفتار اور جوابدہ نظام ہے جو مجرم کو قانون کے کٹہرے میں لائے اور متاثرہ شہری کو یہ احساس دلائے کہ وہ تنہا نہیں ہے۔
کیونکہ جب مجرم صرف پیسہ ہی نہیں بلکہ عوام کا اعتماد بھی لوٹنے لگیں، تو یہ صرف ایک فرد کا نقصان نہیں رہتا، بلکہ پورے معاشرے کی بنیادوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بن جاتا ہے۔
؎
Here is a concise summary of the article in English:
Summary: The Rising Threat of Online Fraud in Pakistan
Core Theme
The article highlights the growing wave of cyber fraud and extortion in Pakistan, where scammers use technology, psychological manipulation, and fear instead of physical force to loot citizens’ life savings.
Key Highlights
-
Personal Narrative & Reality: The author recounts a personal near-miss where fraudsters impersonated police officers claiming his son was detained with illegal weapons and demanding Rs. 50,000 via JazzCash. He contrasts his timely realization with colleagues who fell victim to similar kidnapping and bank scams.
-
A Growing National Crisis: With digital transactions increasing, cybercrime has surged—over 142,000 complaints were registered nationwide last year alone, turning individual fraud into a major national challenge.
-
Institutional Challenges: Agencies like the NCCIA and local cybercrime offices (such as in Peshawar) face severe resource constraints, understaffing, and rented premises. Meanwhile, scammers exploit complex tools like burner SIMs, rented bank accounts, and VPNs.
-
Lack of Transparency: Victims often face long delays, red tape, and a lack of progress tracking after submitting evidence, which severely erodes public trust in the state’s legal system.
-
Key Recommendations:
-
Launch a real-time online tracking system for cybercrime complaints.
-
Mandate swift, automated intervention by banks and mobile wallets on suspicious transactions.
-
Enforce stricter SIM card registration policies for telecom operators.
-
Run national public awareness campaigns and integrate digital security into school curricula.
-
Conclusion
The piece stresses that state power is defined by public trust; combatting cyber fraud requires more than cautioning citizens—it demands a fast, responsive, and accountable legal system that holds criminals responsible.




