دی خیبر ٹائمز : خصوصی رپورٹ
لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس میں غیر ملکی خواتین کے اغوا اور اجتماعی زیادتی کے ہولناک کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں فارنزک تفتیش نے ملزمان کے گرد گھیرا تنگ کر دیا ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق، سائنسی تجزئے کے دوران ایک غیر ملکی خاتون سے مبینہ زیادتی کرنے والے تین ملزمان کا ڈی این اے میچ کر گیا ہے، جن میں ملزم نواز کا نام سرفہرست ہے۔ انکشاف ہوا ہے کہ ملزم نواز نے نہ صرف سب سے پہلے خاتون کو اپنی درندگی کا نشانہ بنایا، بلکہ اسی کے اکسانے پر دیگر ملزمان نے بھی یہ گھناؤنا جرم کیا۔ پولیس نے مجموعی طور پر آٹھ ملزمان کے ڈی این اے سیمپلز کراس میچنگ کیلئے پنجاب فارنزک سائنس لیبارٹری بھجوائے تھے، جن میں سے تین کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ باقی ملزمان کے سیمپلز کا مزید باریک بینی سے تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
اس ہائی پروفائل کیس میں ایک اور اہم اور ڈرامائی موڑ اس وقت آیا جب اغوا کاروں کی گاڑی کی ٹکر سے متاثر ہونے والے ایک شہری نے بھی الگ مقدمہ درج کرا دیا، جس نے پولیس کو واقعے کی کڑیاں ملانے میں اہم مدد فراہم کی۔ کار ڈرائیور عثمان کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق، وہ ایک نجی سوسائٹی سے بھٹہ چوک جا رہا تھا کہ ائیرپورٹ روڈ پر ملزمان کی تیز رفتار گاڑی نے اس کی کار کو زوردار ٹکر ماری، جس سے گاڑی کو تقریباً تین لاکھ روپے کا نقصان پہنچا اور ملزم موقع سے فرار ہو گیا۔ اسی حادثے کے فوراً بعد گاڑی میں محصور غیر ملکی خواتین نے ہمت کا مظاہرہ کیا اور کار سے اتر کر جان بچانے کیلئے ایک قریبی دکان میں پناہ لے لی۔ اہم بات یہ ہے کہ عثمان کی جانب سے ہیلپ لائن 15 پر دی جانے والی فوری اطلاع پر ہی پولیس موقع پر پہنچی تھی، جس کے بعد اس پورے واقعے کا ڈراپ سین ممکن ہوسکا۔
دوسری جانب، یہ کیس اس وقت مزید پیچیدہ صورتحال اختیار کر گیا جب قانون کے رکھوالے ہی قانون شکنی پر اتر آئے۔ تھانہ ڈیفنس سی کے ایس ایچ او فریاد علی پر الزام سامنے آیا ہے کہ انہوں نے ایک جوڈیشل مجسٹریٹ کے گھر جا کر انہیں سنگین دھمکیاں دیں۔ اس حرکت پر تھانہ مصطفیٰ آباد میں ایس ایچ او کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم گرفتاری سے بچنے کیلئے ایس ایچ او فریاد علی نے سیشن کورٹ لاہور سے رجوع کر کے 10 جولائی تک عبوری ضمانت حاصل کر لی ہے۔ عدالت نے پولیس کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے اور معطل ایس ایچ او کو شاملِ تفتیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ لاہور کا یہ کیس اب محض ایک جرم کی داستان نہیں رہا، بلکہ فارنزک سائنس کی کامیابی، ایک عام شہری کی چوکسی اور عدالتی محاذ پر پیدا ہونے والے تناؤ کے باعث پورے ملک کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔
یہ بگی پڑھئے:
___________________________________________________
THE KHYBER TIMES | EXCLUSIVE SUMMARY
Lahore Defense Gang-Rape Case: DNA Breakthrough, Dramatic Escape, and SHO’s Interim Bail
Forensic Breakthrough & Prime Suspect: In a major breakthrough in the high-profile abduction and gang-rape case of foreign nationals in Lahore’s Defense area, the DNA of three suspects has matched the forensic evidence. Investigating sources reveal that the prime suspect, Nawaz, initiated the assault and instigated the other accomplices to follow suit. Out of eight DNA samples sent to the Punjab Forensic Science Laboratory, three have been confirmed, while the remaining samples are undergoing further analysis.
The Accident That Exposed the Crime: The case took a dramatic turn following a separate FIR registered by a citizen named Usman. While driving near Airport Road, Usman’s vehicle was rammed by the fleeing suspects, causing damage worth Rs. 300,000. This collision became the turning point of the incident; it forced the vehicle to a halt, allowing the captive foreign women to courageously escape and take refuge in a nearby shop. Usman’s immediate emergency call to the police helpline (15) brought law enforcement to the scene, exposing the entire plot.
Legal Snag & Judicial Threat: The investigation has faced an institutional twist involving law enforcement itself. Faryad Ali, the SHO of Defense C police station, has been booked by the Mustafa Abad police for allegedly visiting the residence of a Judicial Magistrate and threatening them. To evade arrest, the SHO approached the Lahore Sessions Court and secured interim bail until July 10, with the court ordering him to join the investigation and issuing notices to the police for a formal reply.




