Quetta Hanna Urak clash composite image: Locals with bodies protest TTP militancy (left) and demand justice, as heavily armed security forces in a pickup convoy advance in the Balochistan mountains (right).

کوئٹہ کا علاقہ ہنا اورک میدانِ جنگ بن گیا: طالبان اور مقامی آبادی میں تصادم کے بعد ٹی ٹی پی اور فورسز میں شدید جھڑپیں جاری، ایئرپورٹ روڈ پر لاشیں رکھ کر احتجاج

کوئٹہ ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) کوئٹہ: بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی سیاحتی علاقے ہنا اورک میں مسلح افراد اور مقامی رہائشیوں کے درمیان خونی تصادم کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ صوبائی وزیرِ صحت بلوچستان، بخت محمد کاکڑ کے مطابق یہ خونی تنازع اس وقت شروع ہوا جب ہنا اورک کے مقامی رہائشیوں اور طالبان کے ایک مقامی دھڑے سے وابستہ بتائے جانے والے مسلح افراد کے درمیان کسی بات پر تلخ کلامی ہوئی، جو دیکھتے ہی دیکھتے شدید مسلح تصادم میں تبدیل ہو گئی۔ عسکریت پسندوں کی اس اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں اب تک 3 مقامی رہائشی جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ ہسپتال ذرائع کے مطابق ایک شدید زخمی سمیت 14 زخمیوں کو طبی امداد کیلئے منتقل کیا جا چکا ہے، جس سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مقامی آبادی پر حملے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا، جس کے بعد کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے مسلح جنگجوؤں اور فورسز کے درمیان باقاعدہ آمنے سامنے کی جھڑپیں شروع ہو گئیں جو تاحال جاری ہیں، جبکہ انتظامیہ نے ہنا اورک جانے والے تمام راستوں کو سیل کر دیا ہے۔ دوسری جانب، مقامی آبادی پر عسکریت پسندوں کے اس سفاکانہ حملے کے خلاف شہریوں اور جاں بحق افراد کے لواحقین میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور انہوں نے انصاف اور تحفظ کے مطالبے کے ساتھ تینوں لاشیں کوئٹہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو جانے والی مرکزی شاہراہ پر رکھ کر دھرنا دے دیا ہے، جس کے باعث ایئرپورٹ روڈ پر ٹریفک مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے۔
ہنا اورک کا یہ حالیہ واقعہ دراصل بلوچستان بھر میں جاری شدید بدامنی، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کی اس وسیع تر لہر کا حصہ ہے جس نے طویل عرصے سے پورے صوبے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ حالیہ مہینوں میں کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں تاجروں، صنعت کاروں اور عام شہریوں کو مختلف شدت پسند تنظیموں کی جانب سے بھتہ خوری کی پرچیاں ملنے اور دھمکی آمیز کالز کے واقعات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جس کے خلاف کاروباری برادری پہلے ہی سراپا احتجاج ہے۔ صوبے میں فعال مختلف عسکری اور شدت پسند تنظیمیں اپنے نیٹ ورک کو چلانے اور فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے مقامی آبادی اور تاجروں کو نشانہ بنا رہی ہیں، اور ہنا اورک میں ہونے والا یہ تصادم بھی اسی جبری تسلط اور بھتہ خوری کے خلاف مقامی عوام کے بڑھتے ہوئے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کا نتیجہ دکھائی دیتا ہے۔
سیاسی اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں مختلف شدت پسند تنظیموں کا پھیلاؤ اور امن و امان کی یہ دگرگوں صورتحال عسکریت پسندی کے گہرے ہوتے نیٹ ورک کا عکاس ہے کیونکہ آپ جتنا زیادہ منظم عسکریت پسندی اور عالمی دہشت گردی کے محرکات کو سمجھتے ہیں، اتنا ہی آپ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ کسی بھی تنازع کی بنیادی وجہ دراصل ریاست کی عدم موجودگی، بروقت انصاف کی فراہمی میں ناکامی، معاشرتی نابرابری کو دور نہ کرنا اور طاقت کے بجائے عوامی خدمات کی فراہمی کے ذریعے اپنی رٹ قائم کرنے میں ناکامی ہوتی ہے۔ ہنا اورک میں بھی عوام کا یہ شدید ردعمل اسی گورننس کی ناکامی اور ریاست کی عدم موجودگی کا نتیجہ ہے جہاں شہریوں کو جان و مال کا تحفظ فراہم کرنے اور بھتہ خور مافیا پر قابو پانے کے بجائے عسکری گروہوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا، اور فی الوقت انتظامیہ اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں جبکہ علاقے میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن بدستور پیش رفت میں ہے۔