سوات اور ملاکنڈ میں ٹیکسوں اور این سی پی گاڑیوں پر پابندی کے خلاف احتجاج کے دوران اخبار ہاتھ میں لیے ایک بزرگ شہری

سوات و ملاکنڈ: امن کی تلاش میں سرگرداں عوام پر ٹیکسوں اور نئی پابندیوں کا بوجھ

دی خیبر ٹائمز : خصوصی رپورٹ
سوات کی خوبصورت وادیوں میں جہاں کبھی سیاحوں کا ہجوم اور کاروباری رونق دیکھنے کو ملتی تھی، وہاں آج کل خوف اور بے یقینی کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ مینگورہ کے بازار ہوں یا چار باغ اور بریکوٹ کی گلیاں، مقامی لوگ ایک ایسی کشمکش سے گزر رہے ہیں جس کا اندازہ اسلام آباد یا لاہور میں بیٹھ کر لگانا شاید مشکل ہو۔ ایک طرف دہشتگردی کی واپسی نے کاروبار، سرمایہ کاری اور روزمرہ زندگی کو یرغمال بنا رکھا ہے، تو دوسری طرف وفاقی حکومت کی نئی ٹیکس پالیسیوں اور گاڑیوں سے متعلق سخت اقدامات نے عام شہری کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
گزشتہ چند برسوں سے سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کے دیگر اضلاع میں سیکیورٹی کی صورتحال بار بار بگڑتی رہی ہے۔ عام شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر بارہا یہ مطالبہ دہرایا ہے کہ ریاست انہیں تحفظ فراہم کرے، لیکن حالات میں خاطر خواہ بہتری نظر نہیں آئی۔ جن علاقوں کے باسیوں نے دہائیوں پہلے دہشتگردی کی جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی تھیں، وہی آج دوبارہ اسی خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بھتہ خوری اور عدم تحفظ کے باعث چھوٹے دکاندار اپنے کاروبار بند کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جبکہ باہر سے آنے والا سرمایہ کار بھی اب یہاں کا رخ کرنے سے کترا رہا ہے۔
اسی غیر یقینی ماحول میں ملاکں ڈویژن میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے متعدد صنعتکاروں نے سوات اور ملاکنڈ کے مختلف مقامات پر یونٹس لگائے تھے۔ ٹیکس رعایت اور نسبتاً کم لاگت نے انہیں یہاں سرمایہ کاری پر آمادہ کیا، اور اس سے مقامی سطح پر روزگار کے کئی دروازے کھلے۔ مگر اب صورتحال یکسر مختلف ہے۔ جب امن و امان ہی مشکوک ہو، سڑکیں بند رہنے کا خدشہ ہو اور کارخانے تک پہنچنا محفوظ نہ رہے، تو کوئی بھی سرمایہ کار دوبارہ سوچے بغیر یہاں پیسہ نہیں لگائے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو باہر سے آنے والی سرمایہ کاری میں کمی ملاکنڈ اور سوات کی مقامی معیشت کیلئے ایک نیا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے، اور اس کا سب سے زیادہ نقصان انہی مزدوروں اور دیہاڑی داروں کو ہوگا جن کا روزگار براہ راست ان صنعتی یونٹس سے وابستہ ہے۔
دہائیوں پرانی رعایت کا خاتمہ:
اس پس منظر میں وفاقی حکومت نے مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں ضم شدہ اضلاع اور ملاکنڈ ڈویژن کو حاصل دہائیوں پرانا ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب ان علاقوں میں صنعتی پیداوار پر سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کا اطلاق ہونے جا رہا ہے، وہ رعایت جو قیام پاکستان سے، اور بعد ازاں 2018 کے انضمام کے وقت کئے گئے وعدوں کے تحت، ان پسماندہ اور جنگ زدہ علاقوں کو حاصل تھی۔ مقامی تاجروں اور صنعتکاروں کا مؤقف ہے کہ انضمام کے وقت انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ آئندہ ایک لمبے عرصے تک کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا جائیگا تاکہ ان علاقوں میں احساس محرومی کا خاتمہ ہوسکے، اور یہ علاقے بھی قومی دھارے میں شامل ہونے کے قابل ہو سکیں۔ آج جب سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں، بجلی کی لوڈشیڈنگ معمول ہے، بینکاری کی سہولتیں محدود ہیں اور کراچی بندرگاہ تک رسائی مہنگی اور طویل ہے، ایسے میں نیا ٹیکسی بوجھ مقامی صنعت کو ملکی مراکز سے مقابلے کے قابل ہی نہیں چھوڑے گا۔
اس فیصلے کے خلاف ملاکنڈ ڈویژن کے نو اضلاع میں تاجر برادری سراپا احتجاج ہے۔ بازار بند ہیں، وکلا برادری بھی تاجروں کے ساتھ کھڑی ہو چکی ہے، اور مطالبہ یہی دہرایا جا رہا ہے کہ جب تک بنیادی ڈھانچہ اور امن و امان کی صورتحال باقی ملک کے برابر نہیں لائی جاتی، اس وقت تک نئے ٹیکسوں کا نفاذ سراسر ناانصافی ہوگا۔
غریب کی سواری، امیر کی گاڑی، نان کسٹم پیڈ گاڑیاں:
انہی مشکلات کے دوران ایک اور مسئلہ عام آدمی کیلئے مزید پریشانی کا باعث بن رہا ہے: نان کسٹم پیڈ (این سی پی) گاڑیوں کے خلاف کارروائی اور ان کی لازمی پروفائلنگ۔ ملاکنڈ ڈویژن میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی روایت کئی دہائیوں پرانی ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ ان میں سے کچھ گاڑیاں غیرقانونی راستوں سے ملک میں داخل ہوتی ہیں اور بعض اوقات مشکوک سرگرمیوں میں بھی استعمال ہو چکی ہیں، اسلئے ان پر شکنجہ ضروری ہے۔ حکومتی سطح پر ان گاڑیوں کے مالکان کو مقررہ مدت میں اپنی گاڑیاں رجسٹر یا پروفائل کرانے کی ہدایت دی جا رہی ہے، اور مستقبل میں ان پر ڈیوٹی و ٹیکس کا نفاذ متوقع ہے۔
مگر اس پالیسی کا حقیقی اثر کس پر پڑے گا؟ ملاکنڈ اور سوات میں لاکھوں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں محض شوق کی چیز نہیں بلکہ لاکھوں گھرانوں کے روزگار کا سہارا ہیں۔ کوئی ڈرائیور برسوں کی جمع پونجی سے سستی گاڑی خرید کر اپنے بچوں کا رزق کماتا ہے، کوئی چھوٹا کاروباری سامان کی ترسیل کیلئے پک اپ استعمال کرتا ہے، اور کسی خاندان کیلئے یہی گاڑی طویل مسافت پر آمد و رفت کا واحد سستا ذریعہ ہے۔ اگر رجسٹریشن اور ڈیوٹی کی نئی شرحیں مہنگی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ عام غریب آدمی کی سستی گاڑی پر بھی یکساں طور پر نافذ کر دیجائیں؟ تو خدشہ ہے کہ اسمگل شدہ لگژری گاڑیاں چلانے والے بااثر افراد تو جرمانہ ادا کر کے بچ نکلیں گے، جبکہ سب سے زیادہ بوجھ اسی محنت کش طبقے پر پڑے گا جس کی آمدنی پہلے ہی مہنگائی اور بے روزگاری کی نذر ہو چکی ہے۔
حالیہ بجٹ کے بعد یہاں کا عام شہری کہاں کھڑا ہے؟
یہی وہ نکتہ ہے جسے پالیسی ساز اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اعداد و شمار اور محصولات کے حساب کتاب میں یہ بھول جایا جاتا ہے کہ ٹیکس کا نفاذ ہو یا گاڑیوں کی رجسٹریشن، ان فیصلوں کا اصل بوجھ اسٹیل ملز کے مالک یا بڑے صنعتکار سے کہیں زیادہ اس عام مزدور، دکاندار اور ڈرائیور پر پڑتا ہے جو پہلے ہی دہشتگردی کے خوف، بھتہ خوری اور بیروزگاری سے نبرد آزما ہے۔ سوات اور ملاکنڈ کے لوگوں نے امن کی خاطر جو قربانیاں دی ہیں، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت پہلے امن و امان اور بنیادی سہولیات کی بحالی کو یقینی بنائے، تاکہ سرمایہ کاری واپس آئے، کارخانے چلیں اور روزگار پیدا ہو، اور اس کے بعد ہی ٹیکس کے نفاذ اور گاڑیوں کی رجسٹریشن جیسے فیصلے مرحلہ وار، ہمدردانہ انداز میں اور عام آدمی کی استطاعت کو مدنظر رکھتے ہوئے کئے جائیں۔
مقامی تاجر رہنماؤں اور صنعتکاروں کا مطالبہ ہے کہ کم از کم مزید دو سال کیلئے ٹیکس استثنیٰ برقرار رکھا جائے، جبکہ این سی پی گاڑیوں کے معاملے میں غریب اور متوسط طبقے کی چھوٹی، سستی گاڑیوں کو لگژری اسمگل شدہ گاڑیوں سے الگ درجہ بندی میں رکھا جائے تاکہ کسی غریب ڈرائیور یا مزدور کے روزگار کا ذریعہ اس کے ہاتھ سے نہ چھینا جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وفاقی حکومت ان مطالبات پر کان دھرتی ہے یا سوات و ملاکنڈ کے عوام کو ایک بار پھر خود ہی اپنے مسائل کا حل تلاش کرنا پڑے گا۔