37 منٹ کی تازہ ویڈیو میں شیخ ادریس حقانی کے قتل کی ذمہ داری کا دعویٰ، خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت اور ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کا ذکر — یہ سب داعش خراسان کی بدلتی حکمت عملی نشاندہی ہے یا محض ایک پروپیگنڈا مہم؟
تحقیق و تحریر: ناصر داوڑ
قسط اول: نئی ویڈیو کیا پیغام دے رہی ہے؟
گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان اور افغانستان میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے نتیجے میں داعش خراسان (اسلامک اسٹیٹ خراسان پروونس/ISKP) کو متعدد دھچکوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تنظیم کے کئی اہم رہنما مختلف کارروائیوں میں مارے گئے یا گرفتار ہوئے، جبکہ اس کے نیٹ ورکس کے خلاف پاکستان اور افغانستان دونوں جانب آپریشنز کئے گئے۔ ان حالات کے باعث سکیورٹی حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہوا کہ داعش خراسان کی عملی صلاحیت اور تنظیمی ڈھانچہ پہلے کے مقابلے میں محدود ہو چکا ہے۔
تاہم حال ہی میں جاری ہونے والی تقریباً 37 منٹ طویل ویڈیو نے ایک بار پھر اس تنظیم کو بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ ویڈیو میں تنظیم نے اپنے نظریاتی بیانئے کو دہراتے ہوئے بعض مذہبی شخصیات اور موجودہ علاقائی حالات کا حوالہ دیا ہے۔ اسی سلسلے میں اس نے چارسدہ میں معروف دینی شخصیت شیخ ادریس حقانی کے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ دہرایا، جبکہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ نور ولی محسود کا بھی ذکر کیا گیا۔
اگرچہ شدت پسند تنظیموں کی جانب سے جاری کیئےگئے دعووں کو ہمیشہ احتیاط سے جانچنے کی ضرورت ہوتی ہے، تاہم اس ویڈیو کی اہمیت صرف اس کے مواد میں نہیں بلکہ اس بات میں بھی ہے کہ یہ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب افغانستان میں طالبان حکومت کو داعش خراسان کی مسلسل کارروائیوں کا سامنا ہے، جبکہ پاکستان میں بھی سکیورٹی خدشات بدستور موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس ویڈیو کو محض ایک پروپیگنڈا مواد سمجھ کر نظر انداز کرنے یا اسے غیر معمولی خطرے کی علامت قرار دینے کے بجائے، اس کا حقائق، دستیاب شواہد اور علاقائی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں تجزیہ کرنا ضروری ہے۔
اس رپورٹ میں ہم چار بنیادی سوالات کا جائزہ لیں گے۔ کیا داعش خراسان واقعی دوبارہ منظم ہو رہی ہے یا وہ اپنی موجودگی کا تاثر قائم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے؟ تنظیم نے اپنی تازہ ویڈیو میں کن شخصیات کا ذکر کیا اور اس کی ممکنہ وجوہات کیا ہو سکتی ہیں؟ افغانستان اور پاکستان میں اس کی موجودہ سرگرمیوں کا زمینی منظرنامہ کیا ہے؟ اور کیا خطے میں سکیورٹی خدشات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں یا یہ اب بھی ایک محدود مگر مسلسل خطرہ ہے؟
یہ رپورٹ کسی شدت پسند تنظیم کے دعووں کی توثیق یا تردید نہیں کرتی، بلکہ ان دعووں کو دستیاب عوامی معلومات، سرکاری بیانات، معتبر تحقیقی رپورٹس اور سکیورٹی تجزیوں کی روشنی میں پرکھنے کی کوشش کرتی ہے، تاکہ قاری کو ایک متوازن اور جامع تصویر فراہم کی جا سکے۔
____________________________________________________________
دی خیبر ٹائمز اسپیشل انویسٹی گیشن
یہ رپورٹ چار حصوں پر مشتمل خصوصی تحقیقی سیریز کا حصہ ہے۔
اگر آپ نے یہ قسط مکمل پڑھ لی ہے تو اس موضوع کو بہتر انداز میں سمجھنے کے لیے سیریز کی دیگر اقساط بھی ضرور پڑھیں۔
قسط اول
داعش خراسان کی نئی ویڈیو: کیا خطے میں سکیورٹی خدشات دوبارہ بڑھ رہے ہیں؟
✅ (آپ یہ مضمون پڑھ رہے ہیں)
قسط دوم
افغانستان میں داعش خراسان: طالبان حکومت کے لیے سب سے بڑا داخلی سکیورٹی چیلنج؟
🔗 یہاں پڑھیں: (اشاعت کے بعد لنک شامل کریں)
قسط سوم
پاکستان میں داعش خراسان: قیام، کمزوری اور دوبارہ منظم ہونے کی کوششوں کا جائزہ
🔗 یہاں پڑھیں: (اشاعت کے بعد لنک شامل کریں)
قسط چہارم
پاکستان میں داعش خراسان: اہم حملے، ٹارگٹ کلنگ اور مستقبل کے سکیورٹی خدشات
🔗 یہاں پڑھیں: (اشاعت کے بعد لنک شامل کریں)
مزید پڑھیں
اس موضوع سے متعلق دی خیبر ٹائمز کی دیگر تحقیقی رپورٹس بھی ملاحظہ کریں۔
🔗 لنک 1: (آپ یہاں اپنی متعلقہ رپورٹ کا لنک شامل کریں)
🔗 لنک 2: (آپ یہاں اپنی متعلقہ رپورٹ کا لنک شامل کریں)
🔗 لنک 3: (آپ یہاں اپنی متعلقہ رپورٹ کا لنک شامل کریں)
_____________________________________________________
Executive Summary
This is the first installment of a four-part investigative series by The Khyber Times examining the evolving threat posed by the Islamic State Khorasan Province (ISKP) in Pakistan and Afghanistan.
The report analyzes ISKP’s recently released 37-minute video, in which the group claimed responsibility for the killing of religious scholar Sheikh Idrees Haqqani and referenced Khyber Pakhtunkhwa Chief Minister Sohail Afridi and Tehreek-e-Taliban Pakistan (TTP) leader Noor Wali Mehsud. Rather than repeating the group’s narrative, the report places these claims within a broader security, political, and historical context.
Drawing on publicly available information, official statements, and credible research, this investigation explores whether the video reflects a genuine operational resurgence or is primarily part of ISKP’s media and psychological strategy. The report also examines the group’s evolving messaging, regional security implications, and the broader counterterrorism landscape in Pakistan and Afghanistan.
This report is part of The Khyber Times Special Investigation series and is intended to provide evidence-based analysis for journalists, researchers, policymakers, and readers interested in regional security affairs.




