An analytical article banner featuring a portrait of author Abdul Saboor Khattak against a background of empty private school desks, with the Urdu title "Private School Owners: A Mafia" displayed prominently.

تعلیمی نظام کا زوال اور ‘پرائیویٹ اسکول مافیا’: ایک تلخ حقیقت

تحریر: عبدالصبور خٹک
تعلیم کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی کا بنیادی ستون ہے۔ جن اقوام نے تعلیم کے میدان میں پیش رفت کی، آج عالمی سطح پر ان کی حکمرانی ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ پاکستان میں تعلیمی نظام کے دو متوازی دھارے چل رہے ہیں۔ سرکاری اداروں کا معیار جہاں زبوں حالی کا شکار ہے، وہیں سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں کے نصاب میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔
وفاقی و صوبائی حکومتیں بارہا ‘یکساں نصاب’ کے دعوے کرتی رہی ہیں۔ ماضی میں پی ٹی آئی حکومت نے بھی صحت اور تعلیم کو اپنی ترجیحات میں سرِفہرست رکھا اور اس شعبے میں کچھ اصلاحات بھی کیں۔ تاہم، دوسری جانب انتظامی سطح پر غیر سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیرِ تعلیم جیسے حساس عہدے پر اکبر ایوب جیسے شخصیت کو فائز کیا گیا، جن کی تعلیمی قابلیت (میٹرک پاس) پر سوالات اٹھائے گئے۔ اس تنقید کے جواب میں جب ایک صوبائی وزیر نے یہ دلیل دی کہ “وہ انگریزی اچھی بولتے ہیں”، تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکومتی حلقوں میں تعلیمی مسائل کے فہم کا معیار کیا ہے۔ جب وزراء کی ترجیحات کا یہ عالم ہو، تو تبدیلی کے خواب شرمندہ تعبیر کیسے ہو سکتے ہیں؟
ایک جانب یہ انتظامی ناکامی ہے تو دوسری جانب ‘پرائیویٹ اسکول مافیا’ کا راج ہے، جس کے آگے حکومت بھی بے بس نظر آتی ہے۔ کورونا وائرس کے دوران جب پورے ملک میں جزوی لاک ڈاؤن تھا اور تعلیمی ادارے بند تھے، تب پرائیویٹ اسکولوں کی فیس کا مسئلہ شدت سے ابھرا۔ اس بحرانی کیفیت میں بھی صوبائی وزیرِ تعلیم نے یہ کہہ کر ہاتھ کھڑے کر دیے کہ حکومت پرائیویٹ اسکولوں کے بچوں کی فیس ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ وزیرِ تعلیم کا یہ بیان پرائیویٹ اسکول مافیا کی اس گرفت کو واضح کرتا ہے کہ وہ جس قدر طاقتور ہیں، حکومت ان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہے۔
کورونا کی وبا ایک عالمی چیلنج تھی جس نے ہر طبقے کو متاثر کیا، خاص طور پر مزدور اور دیہاڑی دار طبقہ فاقہ کشی کے دہانے پر پہنچ گیا۔ ایسے میں یہ توقع کی جاتی تھی کہ حکومت اور نجی ادارے مل کر عوام کو ریلیف دیں گے۔ حکومت تو کسی حد تک اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی کوشش کر رہی تھی، مگر پرائیویٹ اسکول مالکان کی جانب سے فیس میں نرمی نہ کرنا اخلاقی اور سماجی سطح پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
عوام کا مطالبہ ہے کہ حکومت اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرے اور پرائیویٹ اسکول مافیا کو ضابطہ اخلاق کا پابند بنائے۔ اسکول مالکان کو بھی وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے کم از کم ایک ماہ کی فیس معاف کرنے کا اعلان کرنا چاہیے تھا۔ یہ وقت ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کا تھا، نہ کہ منافع کمانے کا۔ اگر ہم آج اپنے تعلیمی نظام کو درست نہیں کر سکتے، تو آنے والی نسلوں کا مستقبل داؤ پر لگا رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں