اسلام اباد ( دی خیبر ٹائمز نیوز ڈیسک ) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے 27 ستمبر کو اسلام آباد کے ڈی چوک پر احتجاجی مارچ کے اعلان کے بعد ملکی سیاسی فضا انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے احتجاج کو روکنے کیلئے قانونی اور انتظامی ہتھکنڈوں کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے، جہاں ایک طرف عدالتوں کے ذریعے مارچ پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کی گئی، وہیں دوسری طرف رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور نظر بندیوں کے ذریعے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے تاکہ پی ٹی آئی کو احتجاج سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جا سکے۔
لاہور سے موصولہ اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان کو تھری ایم پی او (3 MPO) کے تحت حراست میں لے لیا گیا ہے۔
پارٹی ذرائع کا بتانا ہے کہ علیمہ خان اپر مال میں واقع اپنے گھر سے جم جانے کیلئے نکلی تھیں کہ لٹن روڈ پولیس نے انہیں راستے ہی میں حراست میں لے لیا۔ علیجہ خان کی گاڑی کو متعلقہ تھانے میں کھڑا کر دیا گیا ہے جبکہ ابتدائی کارروائی کے بعد انہیں فوری طور پر کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی طور پر حکومت کی جانب سے عدالتوں کے ذریعے پی ٹی آئی کے اس مارچ پر قانونی پابندی عائد کروانے کی کوشش کی گئی تاکہ اسے غیر قانونی قرار دیا جا سکے۔ عدالتوں سے مکمل پسپا ہونے یا مطلوبہ نتائج نہ ملنے پر اب حکومت نے انتظامی مشینری کا بھرپور استعمال شروع کر دیا ہے، جس کے تحت ملک بھر بالخصوص پنجاب میں پی ٹی آئی کے ورکرز اور رہنماؤں کی دھڑا دھڑ گرفتاریاں اور نظربندیاں کی جا رہی ہیں تاکہ احتجاجی تحریک کا شیرازہ بکھر سکے۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے علیمہ خان کی گرفتاری اور کارکنوں کے خلاف جاری ریاستی کریک ڈاؤن پر شدید الفاظ میں ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے”، کہ نورین نیازی نے فون پر انہیں علیمہ خان کی گرفتاری کے بارے میں بتایا۔ ہم نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ ہمارا مارچ پُرامن اور سیاسی ہوگا، اور ہمارا مقصد اپنے آئینی اور سیاسی مطالبات کیلئے پرامن جدوجہد کرنا ہے۔”
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ پارٹی کسی قسم کا تصادم یا تشدد نہیں چاہتی، تاہم علیمہ خان کو گرفتار کرنا یا نظربند رکھنا ملک میں تشدد اور کشیدگی کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ حالات کو مزید خراب کرنے کا پہلا قدم ہے، لہٰذا تمام اقدامات فی الفور بند کیے جائیں اور علیمہ خان کو فوری رہا کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومتی جبر کے ایسے ہتھکنڈوں کے خلاف پارٹی جلد اپنا آئندہ کا لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھے گی۔
علیمہ خان کی اچانک گرفتاری اور سینکڑوں کارکنوں کی نظر بندی کے بعد پی ٹی آئی کے ورکرز میں شدید اشتعال اور جذباتی فضا پائی جا رہی ہے۔ دوسری جانب، حکومتی دباؤ اور کریک ڈاؤن کے باعث پارٹی قیادت ایک سخت سیاسی مخمصے کا شکار ہے کہ پرامن احتجاج کے عزم کو کیسے برقرار رکھا جائے اور حکومتی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اسلام آباد کی طرف پیش قدمی کی کیا حکمت عملی اپنائی جائے۔




