تحریر: ناصر داوڑ
سقوطِ کابل کے بعد سے افغان مسئلے پر اچانک ہمارے ہاں کے صحافیوں کی لاٹری نکل آئی ہے۔ ہر وہ شخص جس نے زندگی میں کبھی طورخم یا چمن بارڈر پار نہیں کیا، وہ بھی آج کل “موسمی بٹیر” بن کر ٹی وی چینلوں کی اسکرینوں پر نمودار ہو رہا ہے اور بھاری بھرکم اصطلاحات کا سہارا لے کر خطے کے اسٹریٹجک حالات پر یوں رائے زنی کر رہا ہے جیسے پینٹاگون یا کابل صدارتی محل کے فیصلے اسی کی مشاورت سے ہوتے رہے ہوں۔ چلو، ایک حد تک یہ اچھی بات ہے کہ پاکستان اور افغانستان کا میڈیا ان بحرانوں میں گھری افغان قوم کیلئے سکھ کا کوئی سامان تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اس ساری مشق میں خلوص کم اور ریٹنگ کی ہوس زیادہ ہے۔ کوئی سٹوڈیو میں بیٹھ کر پاکستان کا افغانستان سے “فطری اور تاریخی رشتہ” کشید کر رہا ہے، تو کسی کو طالبان کی قیادت پر ایسے تحفظات ہیں جیسے وہ خود کابل کے ووٹر ہوں۔
یہی ریس اور اندھی دوڑ سرحد پار افغان صحافیوں اور تجزیہ کاروں میں بھی لگی نظر آتی ہے۔ وہ سقوطِ کابل کو اپنی ہی قیادت کی نااہلی، کرپشن اور فکری دیوالیہ پن کا نتیجہ سمجھنے کے بجائے، اسے پورے خطے اور عالمی منظر نامے کی کسی “گریٹ گیم” کا حصہ ثابت کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ ان افغان بھائیوں کی خدمت میں عاجزانہ عرض ہے کہ آسمانی مفروضوں کی اڑان بھرنے سے پہلے ذرا اپنی علاقائی حدود میں واقع شورشوں اور زمینی حقائق کا موازنہ تو کریں۔ الزامات کی سیاست سے آج تک نہ کابل کا بھلا ہوا ہے اور نہ ہی آگے ہوگا۔
دوسری طرف، ہمارے پاکستانی تجزیہ کاروں کا حال بھی مختلف نہیں۔ ائیرکنڈیشنڈ اسٹوڈیوز کو “وار رومز” میں تبدیل کر کے زمین و آسمان کے قلابے ملاتے یہ دانشور یہ بھول جاتے ہیں کہ کابل کا جغرافیہ اور اسلام آباد کا مقتدرہ دو بالکل الگ حقیقتیں ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے معروضی حالات میں جن بڑی باتوں کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچی جانی چاہیے، وہ یہ ہے کہ طالبان کوئی خلائی مخلوق نہیں بلکہ افغان قوم ہی کا ایک حصہ ہیں۔ ان میں پشتون بھی ہیں، ہزارہ بھی، تاجک بھی اور دری زبان بولنے والے افغان بھی۔ طالبان آپ کے اپنے وجود کا حصہ ہیں، اور اس تلخ حقیقت کو جب تک عالمی برادری اور خود افغان دانشور تسلیم نہیں کرتے، تب تک اس خطے میں قیامِ امن کی کوئی سبیل پیدا نہیں ہو سکتی۔ آپ اپنے ہی ملک کے ایک بڑے حصے کو مستقل دیوار سے لگا کر امن کا خواب نہیں دیکھ سکتے۔
جہاں لبرل میڈیا مفروضوں کی جنگ لڑ رہا ہے، وہیں دوسری طرف پاکستان میں “اسلامی نظام” کا خواب دیکھنے والے چند مخصوص مذہبی اور کٹر گروہوں کے بیانات اور جوشِ خطابت سے یوں لگتا ہے جیسے طالبان ستمبر تک پشاور اور اکتوبر تک اسلام آباد پہنچنے والے ہیں۔ ان لوگوں کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ افغان طالبان کی جدوجہد اور پاکستان کے داخلی حالات کے درمیان موجود زمین و آسمان کا فرق یکسر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ جن زمینی حقائق کا فرق رکھ کر ہمیں بات کرنی چاہئے، وہ یہ ہے کہ افغان طالبان اپنی سرزمین کو غیر ملکی قبضے سے آزاد کرانے کے لیے سربکف ہوئے تھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ سقوطِ کابل کے دن طالبان کسی خونی انقلاب کے ذریعے نہیں آئے، بلکہ وہ صرف اس تزویراتی اور سیاسی خلا کو پُر کرنے نکلے تھے جسے افغان قیادت، کھربوں ڈالرز کی بیرونی انویسٹمنٹ اور جدید ترین امریکی اسلحے کے باوجود، بزدلانہ فرار کی صورت میں چھوڑ گئی تھی۔ جب تین لاکھ کی افغان نیشنل آرمی بغیر لڑے بیرک چھوڑ کر پناہ لینے بھاگ گئی، تو طالبان کو موقع غنیمت جان کر تختِ کابل پر قبضہ کرنے میں دیر نہیں لگی۔ یہ جنگ سے زیادہ ایک انتظامی خلا تھا جسے طالبان نے پُر کیا۔
پاکستان کے کچے تجزیہ کار یہ بھول جاتے ہیں کہ ایسا کوئی خلا، کوئی کمزوری یا ایسا کوئی سیاسی دیوالیہ پن پاکستان میں دور دور تک موجود نہیں ہے۔ بیس سالہ دورِ اقتدار میں افغان قیادت نے کسی بھی مرحلے پر طالبان کو اپنا سیاسی اسٹیک ہولڈر تسلیم نہیں کیا، وہ کابل کے کیفے ٹیریاز میں بیٹھ کر ٹوئٹر پر جنگ جیتنا چاہتے تھے۔ اس کے برعکس، پاکستان میں نہ تو اس قسم کا قومیتوں کا جھگڑا ہے اور نہ ہی زبان کے نام پر کوئی ایسی دڑاریں موجود ہیں جس کے بل بوتے پر کوئی مٹھی بھر مسلح گروہ اٹھ کر فوج جیسے دنیا کے مضبوط ترین اور منظم ترین ادارے کو چیلنج کر سکے۔ یہاں ایک مکمل ریاستی نظام موجود ہے، آئین موجود ہے، اور اس نظام کو چلانے والے ادارے اپنی طاقت کا لوہا دنیا بھر میں منوا چکے ہیں۔
ہماری افواج نے سوات، وزیرستان اور دیگر قبائلی اضلاع میں دہشتگردی کے خلاف جو جنگ لڑی ہے، وہ دنیا کی عسکری تاریخ کا ایک بے مثال باب ہے۔ یہاں نظام میں خامیاں ضرور ہو سکتی ہیں، لیکن یہ نظام اتنا کھوکھلا نہیں کہ کوئی بھی مسلح جتھہ اکر اس کا تختہ الٹ دے۔ لہٰذا، جو لوگ پاکستان میں کابل جیسے مناظر دیکھنے کی حسرت پالے بیٹھے ہیں، وہ بنیادی تزویراتی فرق کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ افغان عوام لکیر پیٹنے اور ماضی کا رونا رونے کے بجائے آگے کا سوچیں اور پرانی غلطیوں کو دہرانے سے گریز کریں۔ اگر طالبان کو کام کرنے کا موقع دیا جائے، ملک میں استحکام لایا جائے، تو یہ طالبان ان مفرور لٹیروں سے ہزار درجہ بہتر ثابت ہوں گے جو افغان غیرت اور افغان حمیت کو ڈالروں کے بریف کیسوں میں بھر کر اپنے ساتھ دبئی اور تاجکستان لے گئے۔ کم از کم یہ طالبان اسی مٹی کا حصہ ہیں اور یہیں مریں جئیں گے۔
ہمارے میڈیا ہاؤسز، اینکرز اور قلم کاروں کو بھی چاہیے کہ وہ ٹی وی ریٹنگ اور سستی شہرت کی خاطر پشاور اور اسلام آباد کا امن داؤ پر لگانے والے بیانات دینا بند کریں۔ تجزیہ کرتے ہوئے سٹوڈیوز کی چمک دمک سے باہر نکلیں، ان معروضی اور زمینی حالات کو سامنے رکھیں، اور پھر لکھیں؛ تو امید ہے کہ ان کی ذہنی پستی کو افاقہ ہوگا اور عوام تک بھی سچ پہنچے گا۔
: یہ بھی ملاحظہ کیجئے
کابل کا زوال اور مٹھی بھر جنگجوؤں کا قبضہ: افغان فورسز کی ناکامی کا وہ تلخ سچ جو کوئی نہیں بتاتا!
=================================================================
Executive Summary: Armchair Analysts, Ground Realities, and the Geopolitical Truth of Kabul
-
The Critique of Armchair Journalism: The sudden political shift in Kabul has led to a surge of superficial analysis across both Pakistani and Afghan media. Armchair commentators in air-conditioned studios frequently use heavy academic jargon or spin grand conspiracy theories about a “Great Game” while remaining completely disconnected from the actual socio-political realities on the ground.
-
The Identity of the Afghan Taliban: A critical analytical blind spot is the failure to recognize that the Taliban are not foreign actors; they are an organic, multi-ethnic component of the Afghan population—comprising Pashtuns, Tajiks, Hazaras, and Uzbeks. True regional peace cannot be achieved without accepting them as central stakeholders in Afghanistan’s future.
-
The Stark Contrast with Pakistan: While certain radical or religious factions in Pakistan idealize a similar immediate shift domestically, they ignore fundamental structural and tactical differences. The Taliban filled a massive administrative vacuum left behind by a corrupt, fleeing leadership and a collapsed national army. In contrast, Pakistan possesses a highly resilient state framework, deep institutional integration, and a battle-tested military infrastructure that has successfully dismantled domestic militancy in regions like Swat and Waziristan.
-
The Choice for Afghanistan’s Future: Rather than mourning the past, the Afghan public must look forward. The current administration, rooted in local soil, stands as a functional alternative to the previous leadership that abandoned national pride and fled with state wealth. Media analysts must transcend superficial narratives and evaluate these hard, objective conditions for their commentary to hold any real value.




