پاکستان سے اچھے تعلقات ناگزیر، ارومچی مذاکرات نے بہتر مستقبل کی راہ کھول دی، افغان وزیر خارجہ 
پشاور ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے چین میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کو نہایت مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کابل اور اسلام آباد کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیوں اور کشیدگی کو کم کرنے کے لئے محتاط سفارت کاری اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دو اسلامی اور ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کو جذباتی بیانات یا وقتی تنازعات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا بلکہ قومی مفاد، خطے کے استحکام اور عوامی ضرورتوں کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔ افغان وزارت خارجہ کے ڈپلومیسی انسٹیٹیوٹ کی چھٹی تخصصی تربیتی کورس کی تقریبِ فراغت سے خطاب کرتے ہوئے امیر خان متقی نے کہا کہ چین کے شہر ارومچی میں کابل اور اسلام آباد کے نمائندوں کے درمیان ہونے والی حالیہ بات چیت کو افغانستان میں سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور یہ مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان جمی ہوئی برف پگھلانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات گزشتہ کئی ماہ سے سیکیورٹی، سرحدی تنازعات، مہاجرین کی واپسی اور دہشت گردی کے الزامات کی وجہ سے دباؤ کا شکار رہے، بیجنگ میں ہونے والا سفارتی رابطہ ایک نئی امید کے طور پر سامنے آیا ہے۔ مولوی امیر خان متقی نے تقریب سے خطاب میں نئے افغان سفارتکاروں کو خصوصی طور پر ہدایت دی کہ وہ ایسے بڑے اور حساس معاملات میں انتہائی محتاط رہیں جن میں دو برادر اسلامی اور پڑوسی ممالک شامل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سفارتکار کی اصل آزمائش انہی نازک مواقع پر ہوتی ہے جب اسے یہ سمجھنا پڑتا ہے کہ کس بیان، کس مؤقف اور کس سفارتی انداز سے ملک کو فائدہ ہو سکتا ہے اور کس غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل سے قومی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کے بقول افغانستان اس وقت خطے میں تنہائی نہیں بلکہ روابط، تعاون اور توازن کی پالیسی چاہتا ہے، اس لیے نئی سفارتی کھیپ کو جذبات سے زیادہ تدبر اور حکمت کو اپنانا ہوگا۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں گزشتہ ایک سال کے دوران مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ اسلام آباد کی جانب سے بارہا یہ الزام عائد کیا جاتا رہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجو افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستان میں حملے کر رہے ہیں، جبکہ کابل حکومت ان الزامات کو مکمل طور پر تسلیم کرنے سے گریز کرتی رہی۔ اسی دوران سرحدی گزرگاہوں کی بندش، تجارتی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں، افغان مہاجرین کی بے دخلی، اور دونوں جانب سے سخت بیانات نے ماحول کو مزید کشیدہ کر دیا۔ پاکستان نے متعدد مواقع پر کہا کہ افغانستان کو اپنی سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا ہوگا، جبکہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے یہ مؤقف اپنایا گیا کہ مسائل کا حل دباؤ نہیں بلکہ براہ راست مذاکرات میں ہے۔ انہی بڑھتی ہوئی پیچیدگیوں کے باعث چین نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی فاصلے کم کرنے کے لئے متحرک کردار ادا کیا۔ چین نہ صرف پاکستان کا قریبی اتحادی ہے بلکہ افغانستان میں بھی معدنیات، تجارت اور علاقائی رابطہ کاری کے بڑے منصوبوں میں دلچسپی رکھتا ہے۔ بیجنگ یہ سمجھتا ہے کہ اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف سی پیک کے توسیعی امکانات متاثر ہوں گے بلکہ وسطی ایشیا تک رسائی، تجارتی راہداریوں اور انسداد دہشت گردی کے علاقائی اہداف کو بھی نقصان پہنچے گا۔ اسی پس منظر میں چین نے حالیہ ہفتوں میں پاکستان اور افغانستان کے اعلیٰ حکام کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے سرگرم سفارت کاری کی۔ بیجنگ میں ہونے والی حالیہ ملاقات میں سرحدی سلامتی، انٹیلی جنس تعاون، مہاجرین، ٹرانزٹ تجارت، سفارتی رابطوں کی بحالی اور باہمی اعتماد سازی جیسے امور زیر بحث آئے۔ اگرچہ مذاکرات کی مکمل تفصیلات منظر عام پر نہیں آئیں، تاہم دونوں فریقوں کی جانب سے لہجے میں نرمی دیکھی گئی، جسے مبصرین ایک اہم تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔ پشاور اور کابل کے تجزیہ کاروں کے مطابق افغان وزیر خارجہ کی جانب سے ان مذاکرات کو مثبت قرار دینا محض رسمی بیان نہیں بلکہ کابل کی پالیسی میں ایک محتاط سفارتی اشارہ ہے۔ یہ اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ افغان طالبان حکومت پاکستان کے ساتھ جاری تناؤ کو کم کرنا چاہتی ہے، کیونکہ معاشی بحران، عالمی تنہائی اور اندرونی دباؤ کے باعث افغانستان مزید علاقائی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ متقی کا سفارتکاروں کو دیا گیا یہ پیغام بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ ہر حساس مسئلے میں “ملکی فائدہ اور نقصان” کو سمجھیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کابل حکومت اپنی نئی سفارتی ٹیم کو زیادہ عملی، مفاداتی اور کم جذباتی خارجہ پالیسی کی طرف لے جانا چاہتی ہے۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری نہ صرف افغان تجارت کے لئے ضروری ہے بلکہ دنیا کے سامنے ایک معتدل اور ذمہ دار ریاستی روئے کا تاثر دینے کے لیے بھی ناگزیر سمجھی جا رہی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق چین کی میزبانی میں پاکستان، افغانستان اور چین کے درمیان سہ فریقی رابطوں کا سلسلہ مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔ اگر بیجنگ مذاکرات کے بعد اعتماد سازی کے عملی اقدامات سامنے آتے ہیں تو سرحدی کشیدگی میں کمی، تجارتی راستوں کی بحالی، سفارتی نمائندگی کے دائرہ کار میں اضافہ اور سیکیورٹی تعاون کے نئے فریم ورک کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ مولوی امیر خان متقی کے حالیہ بیان نے کم از کم یہ واضح کر دیا ہے کہ کابل اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہتا اور وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو تصادم سے نکال کر سفارت کاری کی پٹڑی پر واپس لانے کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے۔ اب نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا اسلام آباد اور کابل اس نرم ہوتے ہوئے سفارتی ماحول کو عملی پیش رفت میں بدل پاتے ہیں یا نہیں؟

پاکستان سے اچھے تعلقات ناگزیر، ارومچی مذاکرات نے بہتر مستقبل کی راہ کھول دی، افغان وزیر خارجہ


پشاور ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے چین میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کو نہایت مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے مزید پڑھیں

ارومچی مذاکرات: پاک افغان تعلقات میں نئی سفارتی پیش رفت چین کے شہر ارومچی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کو خطے میں ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی، سیکیورٹی خدشات اور دہشتگردی کے الزامات نے تعلقات کو مسلسل دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔ چین کی میزبانی میں ہونے والی یہ بات چیت ایک ایسے سفارتی عمل کا حصہ ہے جو ماضی کے دوحہ اور استنبول مذاکرات سے آگے بڑھ کر اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ ارومچی میں ہونے والے یہ مذاکرات پاکستان اور افغانستان کے درمیان ابتدائی مگر نسبتاً مثبت ماحول میں ہونے والی سفارتی نشست سمجھے جا رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ مذاکرات مارچ 2026 کے آغاز میں ایک مختصر نشست کی صورت میں منعقد ہوئے۔ اس ملاقات کو ابتدائی اعتماد سازی کا مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اگلے دور کی باضابطہ تاریخ تاحال طے نہیں کی گئی۔ یہ پہلی بار ہے کہ چین کی فعال ثالثی میں دونوں ممالک کو ایک نسبتاً منظم اور سنجیدہ سفارتی فریم ورک میں لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ چین اس پورے عمل میں ایک اہم اور اثرانداز ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ چین کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان یو شیا یونگ مسلسل اسلام آباد اور کابل کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ چین کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ خطے میں استحکام ناگزیر ہے، سرحدی کشیدگی تجارت اور علاقائی منصوبوں کے لئے نقصان دہ ہے، اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان براہ راست رابطہ ضروری ہے۔ اسی پس منظر میں ارومچی کو ایک غیر جانبدار اور محفوظ سفارتی مقام کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ارومچی مذاکرات میں پاکستان کی جانب سے سب سے اہم نکتہ سیکیورٹی صورتحال رہا۔ پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ پاکستان مخالف شدت پسند گروہ، خصوصاً ٹی ٹی پی، افغان سرزمین سے سرگرم ہیں۔ ان گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی ناگزیر ہے۔ دہشتگردوں کے حوالے سے ایک واضح قانونی اور عملی میکانزم ہونا چاہئے۔ سرحدی علاقوں میں ان عناصر کی نقل و حرکت روکی جائے۔ پاکستان یہ بھی مؤقف رکھتا ہے کہ بارڈر سیکیورٹی کو مضبوط کئے بغیر خطے میں دیرپا امن ممکن نہیں۔ ارومچی مذاکرات کے بعد افغان فریق کی جانب سے نسبتاً نرم اور مثبت بیانات سامنے آئے ہیں۔ یہ رویہ ماضی کے سخت اور الزام تراشی پر مبنی بیانات کے مقابلے میں ایک واضح تبدیلی سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم زمینی حقائق یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ افغانستان کے اندرونی سیکیورٹی چیلنجز اب بھی موجود ہیں، مختلف گروہوں پر مکمل کنٹرول ایک بڑا مسئلہ ہے اور سرحدی انتظام ابھی بھی مکمل طور پر مستحکم نہیں۔ ارومچی مذاکرات کو سمجھنے کے لئے ماضی کے سفارتی رابطوں کو دیکھنا ضروری ہے۔ دوحہ، استنبول اور سعودی عرب میں ہونے والے پاک افغان امن مذاکرات، جو کئی نشستوں پر مشتمل رہے، ان کے مقابلے میں ارومچی مذاکرات سے دونوں ممالک کی توقعات زیادہ ہیں، کیونکہ یہ مذاکرات امن، تجارت اور اعتماد سازی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور پاکستان کی جانب سے مبینہ فضائی کارروائیوں کے بعد پاک افغان سرحدی تمام اہم بارڈرز بند ہیں۔ طورخم بارڈر کو وقفے وقفے سے صرف پاکستان سے افغانستان واپس جانے والے مہاجرین کی واپسی کے لئے کھولا جاتا ہے، جبکہ تجارت اور دونوں ممالک کے درمیان آمد و رفت کے لئے یہ بارڈر مستقل طور پر بند ہے۔ سرحدی کشیدگی اور بارڈر بندش نے دونوں ممالک کی معیشت پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر سرحدی تجارت متاثر ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں اربوں روپے کے مجموعی معاشی نقصانات رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس صورتحال سے چھوٹے تاجروں اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ افغانستان میں خوراک اور ادویات کی سپلائی بھی متاثر ہوئی ہے۔ ارومچی مذاکرات کی اہمیت اس لئے زیادہ سمجھی جا رہی ہے کہ یہ دیگر سفارتی کوششوں کے مقابلے میں کئی حوالوں سے مختلف ہیں۔ یہ مذاکرات چین کی براہ راست اور فعال ثالثی میں ہوئے جہاں ماحول نسبتاً زیادہ مثبت اور تعمیری رہا۔ دونوں فریق پہلی بار زیادہ منظم انداز میں آمنے سامنے بیٹھے جس سے سیکیورٹی اور سیاسی سطح پر ایک نئے میکانزم کی بنیاد پڑنے کا امکان پیدا ہوا۔ مزید یہ کہ ان مذاکرات کے دوران فریقین پہلی بار ایک ہی میز پر ڈنر اور لنچ کے لئے بھی اکٹھے ہوئے جو اعتماد سازی کے حوالے سے ایک اہم علامتی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ ارومچی مذاکرات نے اگرچہ امید کی ایک نئی کرن پیدا کی ہے تاہم اصل چیلنجز اب بھی برقرار ہیں جن میں دہشتگردی کا مسئلہ، سرحدی اعتماد کی کمی، سیاسی بیانیوں میں فرق اور سیکیورٹی خدشات شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل مستقبل کے مذاکراتی عمل کو براہ راست متاثر کر سکتے ہیں۔ ارومچی مذاکرات کو نہ تو مکمل کامیابی کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی ناکامی۔ یہ دراصل ایک ابتدائی مگر اہم سفارتی قدم ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان، افغانستان اور چین تینوں اس نتیجے پر پہنچتے نظر آتے ہیں کہ خطے میں پائیدار امن صرف مسلسل رابطے، اعتماد سازی اور عملی تعاون سے ہی ممکن ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ ابتدائی کوشش ایک مستقل سفارتی میکانزم میں تبدیل ہو سکے گی یا نہیں۔ آنے والے مہینے اس سوال کا جواب واضح کریں گے۔

ارومچی مذاکرات: پاک افغان تعلقات میں نئی سفارتی پیش رفت

چین کے شہر ارومچی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات: اعتماد سازی، سیکیورٹی تعاون اور خطے میں پائیدار امن کی نئی سفارتی کوشش تحریر: ناصر داوڑ چین کے شہر ارومچی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے مزید پڑھیں