A composite triptych photo titled in Urdu 'Freedom of Press: One Journey, Three Glimpses.' The central panel shows a gagged, chained journalist in a dark cell with 'FCR 1901' on the wall. The left panel shows him in a pakol hat taking notes with a camera near mud ruins and a distant military checkpoint. The right panel shows him using a smartphone to stream while holding 'FATA' files, overlooking a lush valley with an armored truck.

قبائلی اضلاع میں صحافت: ایف سی آر کے جابرانہ سائے سے فاٹا مرجر کے ناپید خوابوں تک

تحریر: احسان داوڑ

گذشتہ بیس سال سے زائد عرصے سے ہم قبائلی علاقوں کی سنگلاخ وادیوں سے رپورٹنگ کرتے چلے آ رہے ہیں۔ صحافت کی دنیا میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ امن میں خبریں نہیں ہوتیں، کیونکہ خبر ہمیشہ کسی تصادم، بحران یا ناخوشگوار واقعے کی کوکھ ہی سے جنم لیتی ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ سے پہلے قبائلی اضلاع میں خبر کی نوعیت بالکل مختلف ہوا کرتی تھی۔ اس دور میں زیادہ تر خبریں مقامی قبائلی معرکوں یا انفرادی و خاندانی دشمنیوں تک محدود ہوا کرتی تھیں، لیکن نائن الیون کے بعد جب خطے کا نقشہ بدلا تو خبروں کا مزاج بھی یکسر تبدیل ہو گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے میڈیا پر سیکورٹی اداروں اور شدت پسندوں کے تصادم، خودکش حملوں، ڈرون سٹرائیکس، جاسوسی کے الزامات پر بے رحمانہ قتل، اسکولوں کی تباہی اور قتل و مقاتلے کی خبروں کی برسات ہونے لگی۔

دہشتگردی کے اس ہولناک دور سے پہلے ہو یا بعد میں، قبائلی علاقوں میں سچی اور متوازن خبر کا حصول ہمیشہ سے ایک پل صراط عبور کرنے جیسا رہا ہے۔ ایف سی آر (FCR) کے تاریک دور میں پولیٹیکل ایجنٹ ایک ایسا بے تاج بادشاہ ہوا کرتا تھا جو نہ کسی کو جوابدہ تھا اور نہ ہی اسے کسی کا خوف تھا۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 247 نے اسے ایسی مطلق العنان طاقت بخشی تھی کہ ملکی آئین و قانون اس کے آگے بے بس تھے۔ اس جابرانہ نظام میں کوئی صحافی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا تھا کہ پولیٹیکل انتظامیہ نے اسے آن دی ریکارڈ کوئی خبر یا معلومات فراہم کی ہوں۔ صحافی اپنے ذاتی ذرائع سے خبر کی تصدیق یا تردید کیا کرتے تھے، اور اگر چھپنے والی خبر انتظامیہ کے مزاج پر گراں گزرتی تو صحافی کو بغیر کسی مقدمے اور قانونی کارروائی کے سیدھا جیل میں ڈال دیا جاتا۔ انتظامیہ کا پورا عملہ اسی روئیے کا حامل تھا، الا یہ کہ کسی اہلکار سے ذاتی دوستی ہو یا کوئی تحصیلدار اپنے افسر سے نالاں ہو کر اندر کی سڑاند پر مبنی خبریں لیک کر دے۔ باقاعدہ پریس ریلیز کے بجائے انتظامیہ کا پورا زور خبر کو سنسر کرنے پر ہوتا، جس کیلئے دھمکیاں، مراعات اور نقد رقم تک کا استعمال کیا جاتا تھا، جہاں صرف وہی صحافی بچ پاتے جو اپنے پیشے اور کردار سے مخلص ہوتے۔

جب قبائلی علاقوں میں باقاعدہ فوج کی آمد ہوئی تو خبروں کا ایک نامتalloc برسات کی طرح برسنے لگا۔ اس کے باوجود، میڈیا سے رابطہ کاری کا کوئی شفاف نظام وجود میں نہ آ سکا۔ قبائلی صحافی ایک بار پھر بیچ میں پس کر رہ گئے، وہ یا تو اپنے ذرائع پر انحصار کرتے یا پھر خبر کے بروقت حصول کیلئے طالبان کے ترجمانوں سے رابطے بڑھانے پر مجبور ہوتے۔ یہ وہ وقت تھا جب الیکٹرانک میڈیا ایک منہ زور گھوڑے کی طرح پاکستانی معاشرے میں داخل ہوا تھا، جہاں بریکنگ نیوز کے جنون نے خبر کے صحت و سقم کو پسِ پشت ڈال دیا۔ اس اندھی دوڑ میں روزانہ صحافتی اصولوں کا جنازہ نکلتا مگر ملکی اداروں کیلئے اسے کنٹرول کرنا ناممکن ہو چکا تھا۔

خبروں کو دبانے کی اس دیرینہ پالیسی کے بارے میں سینئر صحافی اور ریسرچر صفی اللہ محسود کا کہنا ہے کہ جہاں خبر پر پابندی ہو یا اسے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہو، وہاں سمجھ لیں کہ دال میں کچھ نہ کچھ کالا ضرور ہے۔ قبائلی علاقوں کا معاملہ تو یہ تھا کہ وہاں پوری کی پوری دال ہی کالی تھی، جسے چھپانے کیلئے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کیا جاتا اور بات نہ بننے پر صحافیوں کو قید کر دیا جاتا، جن کی رہائی بالاخر علاقائی جرگوں اور مشران کی منت سماجت کے بعد ہی ممکن ہوتی۔

دو سال قبل جب قبائلی علاقوں کا فاٹا مرجر ہوا اور یہ اضلاع باقاعدہ طور پر پاکستان کے آئینی فریم ورک کا حصہ بنے، تو ایک قومی امید جاگی کہ اب شاید معلوماتی مراکز قائم ہوں گے اور سرکاری ذرائع سے سچ تک رسائی ممکن ہو سکے گی۔ لیکن دو ڈھائی سال گزرنے کے بعد بھی صورتحال جوں کی توں ہے۔ نہ تو ضلعی انتظامیہ کے رویوں میں کوئی تبدیلی آئی ہے اور نہ ہی پولیس فورس نے پرانے پولیٹیکل ایجنٹوں کے نقشِ قدم چھوڑے ہیں۔ اس صورتحال پر رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے کوآرڈینیٹر اقبال خٹک کا کہنا ہے کہ جیو سٹریٹیجک مفادات اور افغانستان سے متعلق پالیسیاں اب بھی وہی ہیں، اسی لئے مرجر کے بعد حالات کھلنے کے بجائے مزید سختی کی طرف چلے گئے ہیں، حالانکہ چاہئے یہ تھا کہ عوام کو مکمل اظہارِ رائے کی آزادی دی جاتی۔ اسی طرح سینئر صحافی عبدالصبور خٹک کی رائے میں قبائلی علاقوں میں تبدیلی صرف نام کی حد تک آئی ہے جبکہ نظام اب بھی ایف سی آر والا ہی ہے۔ بیوروکریسی ان علاقوں کو میڈیا سے اس لئے دور رکھنا چاہتی ہے کیونکہ یہ علاقے ان افسران کیلئے “زمینی جنت” ہیں جہاں سے وہ بے تحاشا مال و دولت سمیٹ کر رخصت ہوتے ہیں۔

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے صحافی ناصر داوڑ اس بھیانک حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں کہ آج بھی پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسران صحافیوں کی کالز تک وصول نہیں کرتے۔ جب سرکاری مؤقف کے دروازے بند ہوں تو صحافی یکطرفہ یا دستیاب معلومات شائع کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جس سے محکموں اور میڈیا کے درمیان غلط فہمیاں مزید گہری ہو رہی ہیں۔ دورِ حاضر میں یہ خام خیالی ہے کہ کسی خبر کو چھپایا جا سکتا ہے، کیونکہ سوشل میڈیا پر ہر لمحات کی اطلاعات اپ لوڈ ہو جاتی ہیں، اگرچہ وہ تمام تر غیر مصدقہ ہی کیوں نہ ہوں۔ چونکہ ضم شدہ اضلاع اس وقت ایک حساس عبوری دور سے گزر رہے ہیں، اس لئے یہاں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اب تمام ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو چاہئے کہ وہ باضابطہ اور ذمہ دار میڈیا ترجمان مقرر کریں تاکہ صحافیوں کو مصدقہ معلومات مل سکیں اور خطے میں ایک ذمہ دارانہ و صحت مند صحافت کا فروغ ممکن ہو سکے۔ ورنہ اگر محکمے ریشم کے کیڑے کی طرح اپنے خول میں بند رہے، تو صحافی جہاں سے جو معلومات پائیں گے وہی پیش کریں گے اور پھر شکایت کا کوئی جواز نہیں رہے گا۔

Here is an exclusive summary of the article in English, breaking down its key insights, historical context, and critical analysis of reporting in Pakistan’s tribal districts:

Reporting from the Shadows: The Evolution and Ongoing Struggles of Journalism in Pakistan’s Tribal Districts

1. The Shift in News Dynamics

  • Pre-9/11 Era: News from the former Federally Administered Tribal Areas (FATA) was largely confined to local tribal disputes, land clashes, and individual feuds.

  • Post-9/11 & War on Terror: The nature of reporting transformed dramatically into coverage of military operations, suicide attacks, drone strikes, targeted killings, school bombings, and violent insurgencies.

2. The Dark Age of FCR Censorship

  • Absolute Authority: Under the draconian Frontier Crimes Regulation (FCR) and protected by Article 247 of the Constitution, Political Agents ruled without accountability or legal oversight.

  • Information Blackout: Official “on-the-record” statements did not exist. Journalists had to rely on private sources; publishing anything critical resulted in illegal arrests without trial, coercion, or bribery to suppress the truth.

3. The War on Terror & Forced Reliance on Taliban Sources

  • Rush of Breaking News: The arrival of the military brought a flood of news, coincided with the boom of 24/7 electronic media and its obsession with “breaking news.”

  • Flawed Sourcing: Due to a complete absence of official military or administrative spokespersons at the local level, journalists were forced to rely on Taliban spokespersons for timely updates, severely compromising journalistic standards.

  • Systemic Corruption: Senior journalist Safiullah Mehsud noted that the deliberate suppression of news was designed to hide deep-seated administrative corruption, where journalists were jailed until tribal jirgas negotiated their release.

4. Post-Merger Reality: A Change in Name Only

  • The Unfulfilled Promise: The constitutional merger of FATA into Khyber Pakhtunkhwa promised democratic freedoms and transparent information flow. However, two years post-merger, district administrations and police continue to operate with the old FCR mindset.

  • Geostrategic Restrictions: Iqbal Khattak (Reporters Without Borders) highlights that unchanged Afghan policy and geostrategic interests have led to tighter control rather than greater freedom of expression.

  • The “Earthly Paradise” for Bureaucracy: Abdul Saboor Khattak (PTV) observes that officials intentionally keep the media out because tribal districts remain a lucrative environment for unchecked financial gain.

5. The Path Forward

  • The Danger of One-Sided News: Journalist Nasir Dawar emphasizes that officials routinely ignore calls from reporters, forcing journalists to publish unverified or one-sided stories, widening the rift between the public and state departments.

  • Urgent Need for Official Spokespersons: While social media now fills the information void with unverified claims, official suppression is no longer viable. To foster responsible journalism during this sensitive transition, district administrations and police must appoint official media liaison officers to ensure timely, verified, and balanced reporting.

اپنا تبصرہ بھیجیں