Islamia College Peshawar main historic building front view

تاریخی اسلامیہ کالج پشاور: اربوں کے اثاثے رکھنے والی عظیم درس گاہ شدید مالی بحران کا شکار

خصوصی رپورٹ : محمد دانیال عزیز
خیبر پختونخوا کی تاریخی، ثقافتی اور امیر ترین تاریخی درس گاہ اسلامیہ کالج پشاور اس وقت تاریخ کے شدید ترین مالی بحران کا شکار ہے، جہاں اب ملازمین اور اساتذہ کی تنخواہیں بھی بہ مشکل پوری کی جا رہی ہیں۔ یہ وہ عظیم ادارہ ہے جس کی بنیاد 1913ء میں نواب سر صاحبزادہ عبدالقیوم خان اور سر جارج روس کیپل نے رکھی تھی تاکہ خطے کے نوجوانوں کو سستی اور اعلیٰ تعلیم دی جا سکے، اور اسی مقصد کیلئے صوبے بھر کے نوابوں اور زمینداروں نے ہزاروں کنال زرعی و کمرشل اراضی اس ادارے کو وقف کی تھی۔ مگر آج صورتحال یہ ہے کہ اربوں روپے کی جائیدادوں کا مالک ہونے کے باوجود یہ قیمتی اثاثے اونے پونے کرایوں پر بااثر افراد کے زیر استعمال ہیں اور ادارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے بجائے مالی بیساکھیوں پر چل رہا ہے۔
موجودہ اعداد و شمار کے مطابق اسلامیہ کالج کو ان وسیع تجارتی اور زرعی جائیدادوں کے کرایوں کی مد میں سالانہ صرف 3 کروڑ روپے مل رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب بورڈ آف مینجمنٹ نے مارکیٹ ریٹ کے مطابق ان جائیدادوں سے سالانہ آمدن کا تخمینہ کم سے کم 20 کروڑ روپے لگایا ہے۔ اس سنگین مالیاتی نقصان کی بڑی مثال پشاور کا انتہائی قیمتی اور کمرشل علاقہ خیبر بازار ہے، جہاں واقع ‘اسلامیہ کلب بلڈنگ’ کی 222 دکانیں اسلامیہ کالج کی ملکیت ہیں، مگر یہاں ایک دکان سے ماہانہ کرایہ صرف ایک ہزار سے 3 ہزار روپے تک وصول کیا جا رہا ہے، جبکہ اسی خیبر بازار کے دیگر مارکیٹوں میں فی دکان کا ماہانہ کرایہ لاکھوں روپوں میں ہے۔ اسی طرح چارسدہ میں کمرشل سطح پر 55 کنال پر محیط سبزی منڈی بھی اسلامیہ کالج کی ملکیت ہے، جس سے سالانہ صرف ڈیڑھ کروڑ روپے کی آمدن ہو رہی ہے، جبکہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق اس سبزی منڈی کا کرایہ سالانہ 8 کروڑ روپے سے زیادہ بنتا ہے۔
تجارتی جائیدادوں کے علاوہ زرعی اراضی کا معاملہ بھی انتظامی غفلت اور نقصان کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ چارسدہ ہی کے علاقوں ہری چند، رائے محل اور ابابکری ترناب میں ادارے کی 4 ہزار کنال سے زیادہ زرعی اراضی موجود ہے، لیکن مناسب انتظام نہ ہونے کے باعث ادارے کو اس رقبے سے سالانہ آمدن میں ڈھائی کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ صوابی میں بھی اسلامیہ کالج کی 4 ہزار کنال زرعی اراضی موجود ہے جس سے ادارے کو سالانہ ایک روپے کی آمدن بھی حاصل نہیں ہو رہی، جبکہ صوبے کی دیگر جامعات نے بھی کالج کی 1091 کنال اراضی پر مبینہ طور پر قبضہ کر رکھا ہے اور ادارہ اپنے ہی حقوق سے محروم ہے۔
اس سنگین معاملے پر جب مختلف حلقوں سے بات کی گئی تو خیبر بازار کے صدر انجمن تاجران نے ‘دی خیبر ٹائمز’ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کم کرایوں کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اسلامیہ کلب بلڈنگ اب انتہائی خستہ حال ہوچکی ہے اور کالج انتظامیہ کی جانب سے اس قیمتی جائیداد کی دیکھ بھال پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ دوسری جانب اساتذہ کی نمائندگی کرتے ہوئے صدر ٹیچنگ اسٹاف ایسوسی ایشن اسلامیہ کالج ڈاکٹر دل نواز کا کہنا تھا کہ یہ جائیدادیں انتہائی بااثر افراد کے ہاتھوں میں ہیں، جس کے باعث صوبائی حکومت نے بھی اس معاملے پر مکمل چپ ساد لی ہے اور کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔ ان تمام خدشات اور بحران کے حوالے سے جب وائس چانسلر اسلامیہ کالج پشاور سے موقف لیا گیا تو انہوں نے کہا کہ انتظامیہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھی بلکہ مسلسل کوششیں کر رہی ہے کہ جائیدادوں کی آمدن کو موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق لایا جائے، اس مقصد کیلئے ہر ماہ ایک سنجیدہ اجلاس منعقد کیا جاتا ہے اور ڈپٹی کمشنر (DC) سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں بھی کی جا رہی ہیں تاکہ ان اثاثوں کو متحرک کیا جا سکے۔
اگر کالج کے موجودہ مالیاتی بجٹ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حکومتی گرانٹ اور تمام تر ذرائع کو ملا کر اسلامیہ کالج کی کل سالانہ آمدن 1 ارب 48 کروڑ 30 لاکھ روپے ہے، جبکہ ادارے کے سالانہ اخراجات 1 ارب 89 کروڑ 60 لاکھ روپے تک جا پہنچے ہیں، جس کی وجہ سے اسلامیہ کالج کو سالانہ 40 کروڑ روپے سے زائد کے بھاری خسارے کا سامنا ہے۔ صحافتی اور عوامی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اسلامیہ کالج پشاور کو اپنی جائیدادوں سے مارکیٹ ریٹ کے مطابق کرایہ موصول ہونا شروع ہو جائے اور بااثر مافیا سے ان زمینوں کو واگزار کروا لیا جائے، تو یہ تاریخی درس گاہ نہ صرف اپنے تمام تر اخراجات باآسانی خود پورے کر سکے گی بلکہ مالی طور پر اتنی مستحکم ہو جائے کہ قومی خزانے کو بھی فنڈز دینے کے قابل ہو جائے گی۔


Executive Summary: Financial Crisis at Islamia College Peshawar

  • The Crisis: Islamia College Peshawar, a historic and prestigious educational institution in Khyber Pakhtunkhwa, is facing a severe financial crisis, leaving it struggling to pay staff salaries and pensions. The college operates at a 40-crore rupee annual deficit, with total expenditures of 1.89 billion rupees against a total revenue (including government grants) of only 1.48 billion rupees.

  • Undervalued Assets & Lost Revenue: Despite owning billions of rupees worth of commercial and agricultural real estate, the college only generates 3 crore rupees annually from rentals. The Board of Management estimates that at market rates, these properties should yield at least 20 crore rupees annually.

  • Key Commercial & Agricultural Losses:

    • Islamia Club Building (Khyber Bazar, Peshawar): Owns 222 commercial shops yielding only 1,000 to 3,000 rupees a month each due to a dilapidated structure and outdated rates, while adjacent private markets charge hundreds of thousands per shop.

    • Charsadda Sabzi Mandi: A prime 55-kanal commercial vegetable market generates only 1.5 crore rupees annually, compared to its market value potential of over 8 crore rupees.

    • Agricultural Lands: Over 4,000 kanals in Charsadda operate at a 2.5-crore rupee annual loss. Another 4,000 kanals in Swabi yield zero revenue, while an additional 1,091 kanals of college land are currently encroached upon by other regional universities.

  • Stakeholder Perspectives:

    • The Traders: The President of the Khyber Bazar Traders Association told The Khyber Times that low rents persist because the college has completely neglected the upkeep of its crumbling buildings.

    • The Faculty: Dr. Dil Nawaz, President of the Teaching Staff Association, blamed political inertia, stating that the properties are controlled by highly influential individuals, causing the government to remain silent.

    • The Administration: The Vice-Chancellor stated that the management holds monthly high-level meetings and is actively coordinating with the Deputy Commissioner (DC) and top officials to revise rents to market value.

  • The Solution: If the college successfully reclaims its lands and enforces market-rate rents, it will not only bridge its 40-crore deficit and stabilize its financial future but also become completely self-sufficient without requiring state bailouts.

اپنا تبصرہ بھیجیں