کویت نے ایران امریکہ کشیدگی کے باعث بند فضائی حدود دوبارہ کھول دی ، مرحلہ وار فلائٹ آپریشن بحال کویت سٹی (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) کویت نے خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عارضی طور پر بند کی گئی اپنی فضائی حدود دوبارہ کھولنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد کویت انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر فلائٹ آپریشن مرحلہ وار بحال کیا جا رہا ہے۔ کویت کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل حمود مبارک کے مطابق فضائی حدود کو جمعرات کے روز باقاعدہ طور پر کھول دیا گیا، جو 28 فروری سے خطے میں سیکیورٹی صورتحال اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر احتیاطی طور پر بند کی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ مکمل سیکیورٹی جائزے اور بین الاقوامی ایوی ایشن اداروں سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے، اور اس کا مقصد مسافروں اور فضائی آپریشنز کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے باعث خلیجی خطے کی فضائی ٹریفک متاثر ہوئی تھی۔ متعدد ممالک نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر اپنی فضائی حدود میں احتیاطی اقدامات کیے، جن میں پروازوں کی معطلی، روٹس کی تبدیلی اور سیکیورٹی الرٹس شامل تھے۔ ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک کی فضائی حدود عالمی ایوی ایشن کے لئے نہایت اہم ہیں، اور کسی بھی قسم کی سیاسی یا عسکری کشیدگی براہ راست بین الاقوامی فلائٹ آپریشنز پر اثر ڈالتی ہے۔ کویتی سول ایوی ایشن کے مطابق فضائی آپریشنز کی بحالی ایک مرحلہ وار منصوبے کے تحت کی جا رہی ہے، تاکہ تمام سروسز کو مکمل طور پر محفوظ اور مستحکم انداز میں دوبارہ فعال کیا جا سکے۔ ابتدائی مرحلے میں محدود پروازیں بحال کی گئی ہیں جبکہ آنے والے دنوں میں مکمل آپریشن کی طرف پیش رفت کی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اقدامات کے لئے مکمل تیاری موجود ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کویت کا یہ اقدام خطے میں نسبتاً استحکام کی علامت سمجھا جا رہا ہے، تاہم جغرافیائی سیاسی صورتحال اب بھی مکمل طور پر غیر یقینی ہے۔

کویت نے ایران امریکہ کشیدگی کے باعث بند فضائی حدود دوبارہ کھول دی ، مرحلہ وار فلائٹ آپریشن بحال

کویت سٹی (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) کویت نے خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عارضی طور پر بند کی گئی اپنی فضائی حدود دوبارہ کھولنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد مزید پڑھیں

ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا دعویٰ، ایران کو بہتر ڈیل کی پیشکش اسلام اباد ( دی خیبرٹائمز ویب ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم بیان میں آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہوئے ایران کو مذاکرات کی نئی پیشکش کر دی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لئے تیار ہے، بشرطیکہ ایران ایک بہتر معاہدہ قبول کرے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو ایک موقع دیا جا رہا ہے کہ وہ ایک ایسی ڈیل پر آمادہ ہو جو دونوں ممالک کیلئے قابل قبول ہو۔ ان کے مطابق، اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو آبنائے ہرمز میں بحری راستے کو مکمل طور پر کھول دیا جائے گا، جس سے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل میں آسانی آئے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال اور مبینہ ناکہ بندی کے باعث ایران کی معیشت بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور وہ مؤثر طریقے سے تجارت نہیں کر پا رہا۔ ٹرمپ نے ایران کی اندرونی سیاسی صورتحال پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ واضح نہیں کہ وہاں اصل قیادت کس کے پاس ہے، اور ملک اندرونی انتشار کا شکار ہے، جس کی وجہ سے مذاکرات میں پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔ امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنے 75 فیصد اہداف حاصل کر چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے دوران ایران نے ممکنہ طور پر اپنی کچھ عسکری صلاحیت بحال کی ہو، تاہم امریکی فوج ایک دن کے اندر اسے مکمل طور پر ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایک اہم نکتہ اٹھاتے ہوئے صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی میں ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کئے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایک طویل المدتی اور پائیدار امن معاہدہ چاہتا ہے، اور اس سلسلے میں جلد بازی سے گریز کیا جائے گا۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے امریکی عوام کو خبردار کیا کہ موجودہ کشیدگی کے باعث انہیں کچھ عرصے کیلئے گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے، کسی بھی قسم کی کشیدگی کا مرکز بن سکتا ہے، اور امریکہ و ایران کے درمیان بیانات کی یہ جنگ عالمی منڈیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا دعویٰ، ایران کو بہتر ڈیل کی پیشکش

اسلام اباد ( دی خیبرٹائمز ویب ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم بیان میں آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہوئے ایران کو مذاکرات کی نئی پیشکش کر دی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے مزید پڑھیں

ایران امریکہ کشیدگی سیزفائر کے سائے میں جنگ کا خطرہ برقرار ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی ایک بار پھر اس حقیقت کو سامنے لے آئی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کبھی بھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئے، ایران اور امریکہ کے درمیان دہائیوں پر محیط اختلافات، خاص طور پر جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور اقتصادی پابندیوں کے معاملات، اس تازہ بحران کی بنیاد بنے، خلیج کے اہم سمندری راستے آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے صورتحال کو مزید سنگین کر دیا جہاں ایرانی افواج کی جانب سے جہازوں کو روکنے اور اپنی تحویل میں لینے کے واقعات سامنے آئے جبکہ امریکہ نے بھی اپنی بحری موجودگی میں اضافہ کر کے واضح پیغام دیا کہ وہ خطے میں اپنی پوزیشن کمزور نہیں ہونے دے گا، ان تمام حالات کے درمیان ایک عارضی سیزفائر ضرور قائم کیا گیا لیکن یہ زیادہ ایک وقفہ محسوس ہوتا ہے نہ کہ مستقل حل کیونکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر وعدہ خلافی کے الزامات لگ رہے ہیں اور اعتماد کا فقدان نمایاں ہے، اسی تناظر میں پاکستان کو ایک ممکنہ ثالث کے طور پر دیکھا گیا اور یہاں امن مذاکرات کی امید بھی ظاہر کی گئی مگر یہ کوششیں عملی شکل اختیار نہ کر سکیں جس کی بڑی وجہ سخت شرائط، باہمی عدم اعتماد اور عالمی طاقتوں کا دباؤ تھا، پاکستان نے اس سارے معاملے میں محتاط اور متوازن پالیسی اپناتے ہوئے نہ صرف سفارتی رابطے جاری رکھے بلکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش بھی کی، تاہم اس کے لئے یہ صورتحال ایک نازک توازن برقرار رکھنے کا امتحان ہے کیونکہ اسے ایک طرف ایران کے ساتھ سرحدی اور علاقائی تعلقات کا خیال رکھنا ہے اور دوسری طرف امریکہ کے ساتھ اپنے اقتصادی اور سفارتی مفادات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، عالمی سطح پر اس کشیدگی کے اثرات بھی نمایاں ہیں جہاں تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات نے مارکیٹ کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے اور ماہرین کے مطابق اگر حالات مزید بگڑتے ہیں تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں، مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ سیزفائر ایک نازک مرحلہ ہے جو بظاہر سکون کا تاثر دیتا ہے مگر اس کے نیچے چھپی کشیدگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات نہ ہوئے تو یہ تنازع دوبارہ شدت اختیار کر سکتا ہے اور اسی لئے آنے والے دن نہ صرف ایران اور امریکہ بلکہ پورے خطے اور عالمی نظام کے لئے اہم ثابت ہوں گے۔

ایران امریکہ کشیدگی سیزفائر کے سائے میں جنگ کا خطرہ برقرار

اسلام اباد ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی ایک بار پھر اس حقیقت کو سامنے لے آئی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کبھی بھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئے، ایران مزید پڑھیں