اسلام اباد ( دی خیبر ٹائمز نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان میں بانیِ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی صحت اور جیل ملاقاتوں کے حوالے سے سپرنٹنڈنٹ ایڈیالہ جیل کی جانب سے دو صفحات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ جمع کرا دی گئی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متعدد سرکاری ڈاکٹرز باقاعدگی سے عمران خان کا طبی معائنہ کرتے ہیں، جبکہ ماہرِ امراضِ چشم نے بھی ان کی آنکھ کا علاج کیا ہے جس کے بعد اب ان کی ایک آنکھ کی حالت تقریباً نارمل ہو چکی ہے۔ جیل میں ہونے والی ملاقاتوں اور میڈیا کی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے ہائی کورٹ میں یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ ملاقات کے بعد جیل احاطے میں میڈیا سے گفتگو نہیں کی جائے گی، تاہم عدالتی حکم کے باوجود میڈیا ٹاک کی گئی۔
رپورٹ میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ جیل میں ہونے والی بعض ملاقاتوں کے ذریعے عدلیہ، ملکی خارجہ پالیسی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف عوامی جذبات ابھارنے کی کوشش کی گئی۔ واضح رہے کہ عمران خان کی صحت اور جیل ملاقاتوں سے متعلق اس کیس کی سماعت کیلئے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ مقرر کیا گیا ہے جو معاملے کی سماعت کریگا۔
-
Health Status: Adiala Jail authorities submitted a two-page report to the Supreme Court stating that government doctors regularly examine PTI founder Imran Khan. Following treatment by an eye specialist, the condition of his eye has largely normalized.
-
Media Protocol Concerns: The report noted that despite assurances given by lawyer Salman Akram Raja in the High Court that no media talks would take place within the jail premises, media statements were repeatedly made following jail visits.
-
Allegations of Incitement: Jail officials claimed that certain meetings inside the prison were used to incite public sentiment against the judiciary, national foreign policy, and law enforcement agencies.
-
Supreme Court Hearing: A three-member Supreme Court bench, headed by Justice Shahid Waheed, is scheduled to hear the case concerning Imran Khan’s medical condition and meeting protocols.




