US Navy ship patrolling near cargo vessel in Strait of Hormuz

ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر 20 فیصد فیس کا اعلان، ایران کی جنگ کی وارننگ

دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک : خلیج فارس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک انتہائی جارحانہ اقدام کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ امریکی صدر نے تزویراتی طور پر انتہائی اہم سمندری مزید پڑھیں

Military command center screen showing a digital map of Middle East conflict zones with missile trajectories and targeting markers on Iran, Jordan, and UAE.

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا پھیلاؤ: ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست عسکری تصادم میں شدت

پشاور: دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک! مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے مابین جاری کشیدگی اب براہِ راست عسکری تصادم میں تبدیل ہو چکی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے متضاد دعووں کے بعد خطے میں مزید پڑھیں

"Digital map of the Middle East showing military tension zones, drone strikes, and geopolitical escalation across Gulf countries."

خطے میں جنگی کشیدگی میں اضافہ: ایران کا کویت، بحرین، اردن اور قطر میں امریکی تنصیبات پر حملہ

پشاور: دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک! مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے اس وقت ایک خطرناک موڑ اختیار کر لیا ہے جب ایرانی عسکری قیادت نے کویت، بحرین، اردن اور قطر میں موجود امریکی اور ان سے منسلک فوجی اڈوں کو مزید پڑھیں

Text: A dramatic explosion erupts in the water directly adjacent to a US Navy Arleigh Burke-class guided-missile destroyer (USS Porter, DDG-78) in the Strait of Hormuz, with rocky coastal mountains visible in the background.

مشرقِ وسطیٰ جنگ: امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ختم، دونوں جانب سے شدید فضائی حملے

مشرقِ وسطیٰ جنگ: امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ختم، دونوں جانب سے شدید فضائی حملے دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک خلیج فارس میں جاری کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ امریکی صدر مزید پڑھیں

Palestinian civilians in Gaza as Hamas announces the dissolution of its government under the ceasefire framework.

بریکنگ: حماس نے غزہ کی حکومت تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا، انتظامی اختیارات ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے سپرد کرنے کا فیصلہ

پشاور( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) حماس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تقریباً 19 سال بعد غزہ میں اپنی حکومت تحلیل کرنے اور شہری انتظامی اختیارات ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مزید پڑھیں

Iranian IRGC coastal missile battery overlooking oil tankers and naval warships in the Strait of Hormuz amid Middle East tension, for The Khyber Times. آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز اور بحری جنگی جہازوں کے سامنے تعینات ایرانی کوسٹل میزائل بیٹری، دی خیبر ٹائمز خبر کے لیے۔

آبنائے ہرمز کی بندش اور نئے فضائی حملوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے

پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب ایک ایسے سنگین اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں سے پورے مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع البنیاد جنگ کا خطرہ حقیقت بنتا مزید پڑھیں

ایران: بوشہر میں فضائی دفاعی نظام کا دشمن طیارہ مار گرانے کا پشاور مانیٹرنگ ڈیسک: ایران کے ساحلی صوبے بوشہر میں فضائی دفاعی نظام نے مبینہ طور پر ایک دشمن (امریکی) طیارے کو مار گرایا ہے۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم مقامی حکام نے صورتحال کو معمول کے مطابق قرار دیا ہے۔ ایرانی میڈیا اور نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، آج رات بوشہر کے علاقے میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ابتدائی طور پر ان دھماکوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں، تاہم بعد ازاں ایرانی حکام نے تصدیق کی کہ یہ آوازیں فضائی دفاعی نظام کے فعال ہونے اور ایک نامعلوم طیارے کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں پیدا ہوئیں۔ ضلع جام کے گورنر نے میڈیا کو بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک دشمن طیارے کو تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں اب صورتحال مکمل طور پر معمول کے مطابق ہے اور کسی قسم کا کوئی غیر معمولی واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس اہم پیشرفت کے باوجود، تاحال امریکی حکام کی جانب سے کسی طیارے کے گرائے جانے یا تباہ ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ عالمی عسکری مبصرین اس واقعے کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔ اس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرزنے ایرانی خبر ایجنسی فارس کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بناتے ہوئے بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں۔ اگرچہ ان میزائل حملوں کے بارے میں مزید تفصیلات تاحال واضح نہیں ہیں، لیکن بوشہر کے حالیہ واقعے نے خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ دی خیبر ٹائمز اس خبر پر نظر رکھے ہوئے ہے اور جیسے ہی مزید مصدقہ تفصیلات سامنے آئیں گی، قارئین کو آگاہ کیا جائے گا۔

ایران: بوشہر میں فضائی دفاعی نظام کا دشمن طیارہ مار گرانے کا دعویٰ

پشاور مانیٹرنگ ڈیسک: ایران کے ساحلی صوبے بوشہر میں فضائی دفاعی نظام نے مبینہ طور پر ایک دشمن (امریکی) طیارے کو مار گرایا ہے۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم مقامی حکام نے صورتحال مزید پڑھیں

ایران کا تجارتی جہازوں پر ٹول ٹیکس کا مطالبہ: عالمی معیشت کے لئے نیا خطرہ پشاور( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) عالمی سیاست کے اہم ترین مرکز، اقوامِ متحدہ میں اس وقت شدید سفارتی جنگ چھڑ گئی ہے جب امریکی سفیر مائیک والٹز نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں سویلین جہازوں پر ٹول ٹیکس نافذ کرنے کے نئے نظام کو پوری دنیا کے لئے ایک سنگین چیلنج قرار دے دیا۔ سلامتی کونسل میں ایک اہم قرارداد کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی سفیر نے انکشاف کیا کہ ایران اب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام سویلین تجارتی جہازوں سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ اس گزرگاہ کو استعمال کرنے کے عوض ٹول ادا کریں۔ مائیک والٹز نے واضح کیا کہ یہ صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایران کا یہ نیا انتظامی ڈھانچہ عالمی تجارتی نظام کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس قرارداد کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور قطر جیسے اہم علاقائی ممالک کی بھرپور حمایت حاصل ہے، جو ایران سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ تجارتی جہازوں پر حملے بند کرے اور اس نئے نظام کو فوری طور پر ختم کرے۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان الزامات اور قرارداد کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے رکن ممالک کو ایک احتجاجی خط لکھا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کا موقف ہے کہ سلامتی کونسل میں پیش کیا گیا قرارداد کا مسودہ ناقص، یک طرفہ اور حقائق کے منافی ہے۔ انہوں نے اپنے خط میں واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کی اصل وجہ وہ نظام نہیں جسے امریکہ نشانہ بنا رہا ہے، بلکہ اس کی اصل جڑیں خطے میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مسلسل فوجی جارحیت اور طاقت کا غیر قانونی استعمال ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ قرارداد کے مسودے میں ان اہم عوامل کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا جو خطے کی سلامتی کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ اس سفارتی تنازع کا پس منظر انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کو دنیا کی تیل کی شہ رگ تصور کیا جاتا ہے۔ خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع یہ تنگ سمندری راستہ دنیا کی کل پیٹرولیم تجارت کے تقریباً ایک تہائی حصے کی گزرگاہ ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت تجارتی جہازوں کو ایسی بین الاقوامی گزرگاہوں سے بلا روک ٹوک گزرنے کا حق حاصل ہے، اور اس پر کسی بھی قسم کا ٹیکس یا کنٹرول عالمی تجارتی قوانین کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے اور ایران اس گزرگاہ پر اپنا کنٹرول سخت کرتا ہے، تو اس کے براہِ راست اثرات عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں پر پڑیں گے، جس سے پوری دنیا میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، سلامتی کونسل میں اس معاملے پر بحث آنے والے دنوں میں امریکہ اور ایران کے تعلقات میں مزید تلخی پیدا کر سکتی ہے جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ پر مرتب ہوں گے۔

ایران کا تجارتی جہازوں پر ٹول ٹیکس کا مطالبہ: عالمی معیشت کے لئے نیا خطرہ

پشاور( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) عالمی سیاست کے اہم ترین مرکز، اقوامِ متحدہ میں اس وقت شدید سفارتی جنگ چھڑ گئی ہے جب امریکی سفیر مائیک والٹز نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں سویلین جہازوں پر ٹول مزید پڑھیں

صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں کا آئل ٹینکر پر دھاوا، 11 پاکستانی ملاح یرغمال، خاندانوں میں شدید بے چینی اونر 25 نامی جہاز 21 اپریل سے لاپتہ، پاکستانی حکام اور شپنگ ایجنسی کی خاموشی نے معاملہ مزید تشویشناک بنا دیا پشاور( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) بحیرۂ عرب سے افریقی ساحل کی جانب جانے والے سمندری راستے ایک بار پھر خطرناک ثابت ہونے لگے ہیں جہاں صومالیہ کے قریب سرگرم بحری قزاقوں نے ایک آئل ٹینکر پر حملہ کرکے اسے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق “اونر 25” نامی اس آئل ٹینکر پر 21 اپریل کو مسلح قزاقوں نے دھاوا بولا اور جہاز کو یرغمال بنا لیا، جبکہ اس پر سوار 11 پاکستانی ملاحوں سمیت مجموعی عملہ تاحال قزاقوں کے قبضے میں ہے۔ شپنگ ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے کئی روز گزر جانے کے باوجود جہاز سے رابطہ بحال نہیں ہوسکا، جس کے باعث پاکستان میں موجود عملے کے اہل خانہ شدید اضطراب اور خوف میں مبتلا ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وزارت بحری امور کے ماتحت ڈائریکٹوریٹ آف پورٹس اینڈ شپنگ کی جانب سے بھی پاکستانی کریو سے براہِ راست رابطہ قائم نہیں ہوسکا، جبکہ جہاز بھیجنے والی متعلقہ شپنگ ایجنسی کی خاموشی نے کئی سوالات کھڑے کر دئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جہاز پر موجود عملے میں پاکستانیوں کے علاوہ دیگر ممالک کے ملاح بھی شامل ہیں۔ خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہیں صرف غیر رسمی ذرائع سے اتنی اطلاع ملی ہے کہ جہاز پر موجود انڈونیشین کپتان کی رہائی کے لئے انڈونیشیا کی حکومت نے قزاقوں سے رابطے شروع کر دئے ہیں، تاہم پاکستانی عملے کے بارے میں اب تک کوئی واضح حکومتی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ یرغمال پاکستانی ملاحوں کے اہل خانہ کے مطابق کئی دن گزر چکے ہیں مگر نہ شپنگ کمپنی کوئی جواب دے رہی ہے، نہ سرکاری ادارے تسلی بخش معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ ایک اہل خانہ نے کہا ، کہ ان کے گھروں میں قیامت برپا ہے،انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ ہمارے بچے زندہ ہیں یا زخمی، ان کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے، حکومت فوراً عملی اقدامات کرے۔" متاثرہ خاندانوں نے وزیراعظم، وزارت خارجہ، وزارت بحری امور اور پاکستانی سفارتی مشنز سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر بین الاقوامی سطح پر رابطے کرکے پاکستانی عملے کی محفوظ بازیابی کو یقینی بنائیں۔ ماہرین کے مطابق صومالیہ کے قریب خلیج عدن اور بحیرۂ عرب کے بعض حصے طویل عرصے سے بحری قزاقوں کی سرگرمیوں کے باعث دنیا کے خطرناک ترین سمندری روٹس میں شمار ہوتے رہے ہیں۔ اگرچہ گزشتہ چند برسوں میں بین الاقوامی بحری گشت کے باعث قزاقی کے واقعات میں کمی آئی تھی، تاہم حالیہ مہینوں میں دوبارہ ایسے حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بحری قزاق عموماً تجارتی جہازوں یا آئل ٹینکرز کو گھیر کر ان کے عملے کو یرغمال بناتے ہیں اور بعد ازاں بھاری تاوان کا مطالبہ کرتے ہیں۔ بعض کیسز میں مذاکرات ہفتوں نہیں بلکہ مہینوں تک جاری رہتے ہیں، جس کے دوران ملاح انتہائی کٹھن حالات میں زندگی گزارتے ہیں۔ سمندری شعبے سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی ملاح بڑی تعداد میں غیر ملکی جہازوں پر خدمات انجام دیتے ہیں لیکن بیرونِ سمندر ہنگامی حالات میں ان کی سکیورٹی، انشورنس، قانونی تحفظ اور فوری سفارتی معاونت کے حوالے سے پاکستان کا نظام اکثر کمزور دکھائی دیتا ہے۔ اونر 25 کے واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ آیا پاکستانی حکام نے جہاز کے روٹ، سکیورٹی پروٹوکول اور ہائی رسک زون میں داخلے سے متعلق پہلے سے کوئی نگرانی کی تھی یا نہیں۔ یہ بھی واضح نہیں کہ جہاز پر مسلح سکیورٹی موجود تھی یا نہیں اور حملے کے وقت ایمرجنسی سگنل کیوں مؤثر ثابت نہ ہوسکا۔ تاحال وزارت بحری امور، وزارت خارجہ یا متعلقہ پاکستانی سفارتی حکام کی جانب سے کوئی جامع باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، جس پر خاندانوں اور بحری ماہرین نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت بین الاقوامی رابطے نہ کئے گئے تو عملے کی رہائی کا عمل مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔ فی الحال پورے ملک کی نظریں حکومت کے اگلے قدم پر جمی ہوئی ہیں جبکہ 11 پاکستانی خاندان اپنے پیاروں کی ایک خیریت کی خبر کے منتظر ہیں۔

صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں کا آئل ٹینکر پر دھاوا، 11 پاکستانی ملاح یرغمال، خاندانوں میں شدید بے چینی

اونر 25 نامی جہاز 21 اپریل سے لاپتہ، پاکستانی حکام اور شپنگ ایجنسی کی خاموشی نے معاملہ مزید تشویشناک بنا دیا پشاور( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) بحیرۂ عرب سے افریقی ساحل کی جانب جانے والے سمندری راستے ایک مزید پڑھیں