رضا پہلوی نے ایرانی شہریوں کی ہلاکتوں کو بھی نظرانداز کردیا، امریکا اسرائیل بمباری میں ہزاروں اموات کو ضمنی نقصان قرار دیدیا پشاور (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے معزول شاہ کے بیٹے اور خود ساختہ جلاوطن اپوزیشن رہنما رضا پہلوی نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کی شدید بمباری میں ہونے والی ہزاروں شہری ہلاکتوں کو بھی معمولی قرار دے کر اپنے ہی ملک کے عوام کو چونکا دیا ہے۔ رضا پہلوی نے ان تباہ کن حملوں میں مرنے والے بچوں خواتین اور عام شہریوں کی اموات کو ضمنی نقصان کہہ کر نہ صرف ایک بڑا سیاسی طوفان کھڑا کر دیا بلکہ اپنی سیاسی سوچ پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دئے ہیں۔ ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کو دئے گئے انٹرویو میں صحافی نے جب ان سے دو ٹوک سوال کیا کہ آپ جسے ضمنی نقصان کہہ رہے ہیں وہ دراصل ہزاروں ایرانی شہریوں کی جانیں ہیں۔ کیا آپ ایران پر مسلط جنگ کی حمایت کرکے اپنے لئے ایرانی سیاست میں کوئی جگہ باقی چھوڑ رہے ہیں۔ اس پر رضا پہلوی نے نہایت سرد مہری سے جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم آپ کے نزدیک بڑے نقصان سے کیا مراد ہے کیونکہ مجھے ایرانی حکومت کے اعداد و شمار پر یقین نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس جنگ میں اموات ہوئی ہیں لیکن زیادہ تر ہلاکتیں حکومتی عناصر کی ہیں۔ رضا پہلوی کے اس بیان نے سوشل میڈیا سے لے کر سیاسی حلقوں تک غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے کیونکہ عالمی رپورٹس ان کے اس دعوے کے بالکل برعکس تصویر پیش کر رہی ہیں۔ برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق 28 فروری سے جنگ بندی تک امریکا اور اسرائیل کی مسلسل بمباری میں کم از کم 3 ہزار 400 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے۔ تباہ ہونے والی عمارتوں میں رہائشی مکانات اسکول اسپتال اور بنیادی شہری تنصیبات شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف جنوبی ایران کے شہر میناب میں ایک اسکول پر بمباری سے 168 کمسن بچے جان سے گئے تھے۔ ان مناظر نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا مگر رضا پہلوی نے ان جانوں کو بھی سیاسی مقصد کے نیچے دبا دیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے رضا پہلوی کے بیان کو غیر انسانی اور بے حس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی جنگ میں معصوم شہریوں کی ہلاکت کو ضمنی نقصان کہنا دراصل ظلم کو جائز قرار دینے کے مترادف ہے۔ مبصرین کے مطابق ایک ایسا شخص جو اپنے ہی ملک کے بچوں کی لاشوں پر سیاسی تبدیلی کی امید باندھے وہ اخلاقی طور پر قیادت کا دعویٰ کھو دیتا ہے۔ رضا پہلوی ایران کے آخری بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی کے بیٹے ہیں جن کے خاندان کو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران سے فرار ہونا پڑا تھا۔ تب سے وہ مغربی دنیا میں رہتے ہوئے خود کو ایران میں نظام کی تبدیلی کا متبادل چہرہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ تاہم ایران کے اندر انہیں ایک ایسے شخص کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو بیرونی طاقتوں کے سہارے اقتدار کے خواب دیکھتا ہے۔ ان پر طویل عرصے سے یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ اسرائیل اور امریکا کے ایران مخالف ایجنڈے کے قریب ہیں۔ یہ تاثر اس وقت مزید گہرا ہوا جب رضا پہلوی گزشتہ برس اسرائیل کے غیر معمولی دورے پر گئے اور وہاں اسرائیلی قیادت سے ملاقاتیں کرکے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے امریکی اداروں اور تھنک ٹینکس میں بھی بارہا ایران پر مزید پابندیوں اور عالمی دباؤ کی وکالت کی۔ اب تازہ بیان نے ناقدین کو یہ کہنے کا موقع دیا ہے کہ رضا پہلوی صرف حکومت کے مخالف نہیں بلکہ ایران پر بیرونی حملوں کے بھی سیاسی حامی بن چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے اس مؤقف پر صرف ایرانی حکومت ہی نہیں بلکہ بیرون ملک موجود ایرانی اپوزیشن کے کئی حلقے بھی ان سے دور ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ متعدد اپوزیشن کارکنوں نے کہا ہے کہ حکومت سے اختلاف اپنی جگہ مگر غیر ملکی بمباری میں معصوم شہریوں کی موت کو نظرانداز کرنا ناقابل قبول ہے۔ ایسے بیانات کسی بھی ممکنہ قومی رہنما کو عوام کے دلوں سے نکالنے کیلئے کافی ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایرانی صارفین نے سخت ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ جو شخص اپنے ہی وطن کے بچوں خواتین اور عام شہریوں کے خون کو محض ضمنی نقصان کہے وہ ایران کا نجات دہندہ نہیں ہو سکتا۔ کئی صارفین نے انہیں جنگ کا سیاسی تماشائی اور مغربی منصوبے کا ترجمان قرار دیا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ رضا پہلوی شاید یہ سمجھ رہے تھے کہ جنگی دباؤ سے ایرانی حکومت کمزور ہوگی اور وہ خود ایک متبادل سیاسی چہرے کے طور پر ابھریں گے لیکن شہری ہلاکتوں پر ان کی بے حسی نے یہ امکان بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ ایرانی عوام پہلے ہی بیرونی حملوں پر مشتعل ہیں اور اب ایسے بیانات ان شخصیات کے خلاف بھی نفرت بڑھا رہے ہیں جو اس تباہی کو جائز قرار دے رہی ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق رضا پہلوی کا یہ بیان صرف ایک سیاسی لغزش نہیں بلکہ ان کی سوچ کی عکاسی ہے جس میں اقتدار کی خواہش انسانی جانوں کے احترام سے زیادہ اہم دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا یہ انٹرویو اب ایران کی جنگی سیاست میں ایک نئے اور نہایت تلخ تنازعے کا مرکز بن چکا ہے۔

رضا پہلوی نے ایرانی شہریوں کی ہلاکتوں کو بھی نظرانداز کردیا، امریکا اسرائیل بمباری میں ہزاروں اموات کو ضمنی نقصان قرار دیدیا

پشاور (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے معزول شاہ کے بیٹے اور خود ساختہ جلاوطن اپوزیشن رہنما رضا پہلوی نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کی شدید بمباری میں ہونے والی ہزاروں شہری ہلاکتوں کو بھی معمولی قرار دے کر اپنے ہی ملک کے عوام کو چونکا دیا ہے۔ رضا پہلوی نے ان تباہ کن حملوں میں مرنے والے بچوں خواتین اور عام شہریوں کی اموات کو ضمنی نقصان کہہ کر نہ صرف ایک بڑا سیاسی طوفان کھڑا کر دیا بلکہ اپنی سیاسی سوچ پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دئے ہیں۔
ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کو دئے گئے انٹرویو میں صحافی نے جب ان سے دو ٹوک سوال کیا کہ آپ جسے ضمنی نقصان کہہ رہے ہیں وہ دراصل ہزاروں ایرانی شہریوں کی جانیں ہیں۔ کیا آپ ایران پر مسلط جنگ کی حمایت کرکے اپنے لئے ایرانی سیاست میں کوئی جگہ باقی چھوڑ رہے ہیں۔ اس پر رضا پہلوی نے نہایت سرد مہری سے جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم آپ کے نزدیک بڑے نقصان سے کیا مراد ہے کیونکہ مجھے ایرانی حکومت کے اعداد و شمار پر یقین نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس جنگ میں اموات ہوئی ہیں لیکن زیادہ تر ہلاکتیں حکومتی عناصر کی ہیں۔
رضا پہلوی کے اس بیان نے سوشل میڈیا سے لے کر سیاسی حلقوں تک غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے کیونکہ عالمی رپورٹس ان کے اس دعوے کے بالکل برعکس تصویر پیش کر رہی ہیں۔ برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق 28 فروری سے جنگ بندی تک امریکا اور اسرائیل کی مسلسل بمباری میں کم از کم 3 ہزار 400 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے۔ تباہ ہونے والی عمارتوں میں رہائشی مکانات اسکول اسپتال اور بنیادی شہری تنصیبات شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف جنوبی ایران کے شہر میناب میں ایک اسکول پر بمباری سے 168 کمسن بچے جان سے گئے تھے۔ ان مناظر نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا مگر رضا پہلوی نے ان جانوں کو بھی سیاسی مقصد کے نیچے دبا دیا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے رضا پہلوی کے بیان کو غیر انسانی اور بے حس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی جنگ میں معصوم شہریوں کی ہلاکت کو ضمنی نقصان کہنا دراصل ظلم کو جائز قرار دینے کے مترادف ہے۔ مبصرین کے مطابق ایک ایسا شخص جو اپنے ہی ملک کے بچوں کی لاشوں پر سیاسی تبدیلی کی امید باندھے وہ اخلاقی طور پر قیادت کا دعویٰ کھو دیتا ہے۔
رضا پہلوی ایران کے آخری بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی کے بیٹے ہیں جن کے خاندان کو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران سے فرار ہونا پڑا تھا۔ تب سے وہ مغربی دنیا میں رہتے ہوئے خود کو ایران میں نظام کی تبدیلی کا متبادل چہرہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ تاہم ایران کے اندر انہیں ایک ایسے شخص کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو بیرونی طاقتوں کے سہارے اقتدار کے خواب دیکھتا ہے۔ ان پر طویل عرصے سے یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ اسرائیل اور امریکا کے ایران مخالف ایجنڈے کے قریب ہیں۔

یہ تاثر اس وقت مزید گہرا ہوا جب رضا پہلوی گزشتہ برس اسرائیل کے غیر معمولی دورے پر گئے اور وہاں اسرائیلی قیادت سے ملاقاتیں کرکے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے امریکی اداروں اور تھنک ٹینکس میں بھی بارہا ایران پر مزید پابندیوں اور عالمی دباؤ کی وکالت کی۔ اب تازہ بیان نے ناقدین کو یہ کہنے کا موقع دیا ہے کہ رضا پہلوی صرف حکومت کے مخالف نہیں بلکہ ایران پر بیرونی حملوں کے بھی سیاسی حامی بن چکے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے اس مؤقف پر صرف ایرانی حکومت ہی نہیں بلکہ بیرون ملک موجود ایرانی اپوزیشن کے کئی حلقے بھی ان سے دور ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ متعدد اپوزیشن کارکنوں نے کہا ہے کہ حکومت سے اختلاف اپنی جگہ مگر غیر ملکی بمباری میں معصوم شہریوں کی موت کو نظرانداز کرنا ناقابل قبول ہے۔ ایسے بیانات کسی بھی ممکنہ قومی رہنما کو عوام کے دلوں سے نکالنے کیلئے کافی ہوتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ایرانی صارفین نے سخت ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ جو شخص اپنے ہی وطن کے بچوں خواتین اور عام شہریوں کے خون کو محض ضمنی نقصان کہے وہ ایران کا نجات دہندہ نہیں ہو سکتا۔ کئی صارفین نے انہیں جنگ کا سیاسی تماشائی اور مغربی منصوبے کا ترجمان قرار دیا۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ رضا پہلوی شاید یہ سمجھ رہے تھے کہ جنگی دباؤ سے ایرانی حکومت کمزور ہوگی اور وہ خود ایک متبادل سیاسی چہرے کے طور پر ابھریں گے لیکن شہری ہلاکتوں پر ان کی بے حسی نے یہ امکان بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ ایرانی عوام پہلے ہی بیرونی حملوں پر مشتعل ہیں اور اب ایسے بیانات ان شخصیات کے خلاف بھی نفرت بڑھا رہے ہیں جو اس تباہی کو جائز قرار دے رہی ہیں۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق رضا پہلوی کا یہ بیان صرف ایک سیاسی لغزش نہیں بلکہ ان کی سوچ کی عکاسی ہے جس میں اقتدار کی خواہش انسانی جانوں کے احترام سے زیادہ اہم دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا یہ انٹرویو اب ایران کی جنگی سیاست میں ایک نئے اور نہایت تلخ تنازعے کا مرکز بن چکا ہے۔