پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) امریکا نے ایران کے ساتھ تجارتی روابط رکھنے والی چین میں قائم ایک بڑی آئل ریفائنری، تقریباً 40 شپنگ کمپنیوں اور درجنوں آئل ٹینکرز پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک اور اداروں کو خبردار کرنے کے بعد سامنے آیا ہے اور اسے تہران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی نئی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ چین کی ایک معروف نجی آئل ریفائنری اور اس سے منسلک شپنگ نیٹ ورک ایران سے خام تیل خریدنے، ذخیرہ کرنے اور عالمی منڈیوں تک منتقل کرنے میں ملوث پایا گیا، جس کے بعد ان پر باضابطہ پابندیاں نافذ کردی گئی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیوں میں متعدد شپنگ فرمیں، سمندری لاجسٹک آپریٹرز، آئل بروکرز اور تقریباً 40 ٹینکرز شامل ہیں جو مبینہ طور پر ایرانی تیل کو خفیہ راستوں، جعلی دستاویزات اور مختلف جھنڈوں کے تحت عالمی منڈیوں تک پہنچاتے رہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اپنی تیل برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی کو خطے میں عسکری سرگرمیوں، اتحادی ملیشیاؤں کی معاونت اور حساس جوہری پروگرام کے لئے استعمال کرتا ہے، اس لیے واشنگٹن ایران کے ہر اس مالی ذریعے کو نشانہ بنا رہا ہے جو اسے عالمی پابندیوں کے باوجود زندہ رکھے ہوئے ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ، جو کمپنیاں، بینک، شپنگ ادارے یا ریفائنریز ایرانی تیل کے کاروبار میں شریک ہوں گی، انہیں امریکی مالیاتی نظام تک رسائی سے محروم کیا جائے گا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں صرف ایران ہی نہیں بلکہ ان تمام بین الاقوامی نیٹ ورکس کے خلاف ہیں جو تہران کی تیل تجارت کو سہارا دے رہے ہیں۔
یہ پابندیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل ایک سخت بیان میں کہا تھا کہ جو بھی ملک یا کمپنی ایران سے تیل خریدے گی یا اس کے ساتھ کاروبار کرے گی، اسے امریکی پابندیوں کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یہ واضح کیا گیا تھا کہ ایران کو معاشی طور پر مکمل تنہائی میں دھکیلنا واشنگٹن کی ترجیح ہے تاکہ تہران کو اپنے جوہری اور علاقائی پالیسیوں پر پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق تازہ پابندیاں اسی زیرو ایرانی آئل ایکسپورٹ حکمت عملی کا تسلسل ہیں۔
عالمی توانائی مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق چین ایران سے خام تیل خریدنے والے بڑے خریداروں میں شامل ہے۔ اگرچہ چین سرکاری سطح پر امریکی یکطرفہ پابندیوں کو تسلیم نہیں کرتا، تاہم چینی نجی ریفائنریز اور آزاد شپنگ نیٹ ورکس ایران سے رعایتی نرخوں پر خام تیل حاصل کرتے رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران امریکی پابندیوں کے باوجود اپنی یومیہ لاکھوں بیرل تیل کی فروخت کا بڑا حصہ چین کو مختلف غیر رسمی راستوں سے بھیجتا ہے۔ اس مقصد کے لئے اکثر جہازوں کے نام تبدیل کئے جاتے ہیں
سمندر میں تیل ایک ٹینکر سے دوسرے میں منتقل کیا جاتا ہے۔
کارگو دستاویزات میں اصل ملک چھپایا جاتا ہے، مختلف ممالک کے جھنڈے استعمال کئے جاتے ہیں
امریکا کا دعویٰ ہے کہ تازہ پابندیاں اسی خفیہ نیٹ ورک کو توڑنے کیلئے لگائی گئی ہیں۔
ایران کی معیشت پہلے ہی شدید افراط زر، کرنسی کی گراوٹ، بے روزگاری اور بین الاقوامی تنہائی کا شکار ہے۔ ایسے میں تیل کی برآمدات ہی تہران کیلئے سب سے بڑا زرمبادلہ ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر چین کی ریفائنریز اور شپنگ نیٹ ورکس پر امریکی دباؤ مؤثر ثابت ہوتا ہے تو
ایران کی یومیہ تیل برآمدات میں کمی آسکتی ہے، حکومت کی آمدنی متاثر ہوگی، عالمی ادائیگیوں کا نظام مزید محدود ہوگا، ایرانی ریال پر دباؤ بڑھے گا۔
بیجنگ نے فوری طور پر ان پابندیوں پر باضابطہ ردعمل نہیں دیا، تاہم ماضی میں چین امریکی یکطرفہ اقتصادی اقدامات کو بین الاقوامی تجارت میں مداخلت قرار دیتا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب، امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ دوبارہ شدت اختیار کر رہی ہے۔
ایران امریکا جوہری مذاکرات غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، اس لئے تازہ پابندیاں صرف ایران مخالف اقدام نہیں بلکہ چین کو بھی ایک واضح سفارتی پیغام تصور کی جا رہی ہیں۔
توانائی ماہرین کے مطابق اگر ایرانی تیل کی سپلائی مزید محدود ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی سیکیورٹی خدشات اور سمندری راستوں کی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز اور خلیجی بحری گزرگاہوں میں کسی بھی نئی کشیدگی سے عالمی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اب ایران کے خلاف صرف براہ راست پابندیوں تک محدود نہیں بلکہ تہران کے ہر تجارتی شراکت دار، خریدار اور ترسیلی نیٹ ورک کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ، واشنگٹن ایران کو معاشی طور پر اس نہج پر لے جانا چاہتا ہے جہاں وہ یا تو مذاکرات میں مکمل لچک دکھائے یا شدید مالی بحران کا سامنا کرے۔




