Crowds of local tribesmen and security personnel along the blocked Bannu-Miranshah road in North Waziristan.

وزیرستان: دہشت گردی کی دھول میں گم ہوتے قبائلی تنازعات

تحریر: ناصر داوڑ

ہفتے کے روز جب میں میرعلی سے میرانشاہ پریس کلب کیلئے روانہ ہوا، تو خدی کے مقام پر مین بنوں میرانشاہ روڈ پر مال بردار اور مسافر گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھ کر قدم تھم گئے۔ کچھ لوگ پیادہ سفر کی ناکام کوششیں کر رہے تھے تو کچھ اپنی گاڑیوں کے قریب بے بسی سے چہل قدمی میں مصروف تھے۔ سڑک کے کئی مقامات پر کالے دھوئیں کے بادل اور آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے، جبکہ جگہ جگہ درختوں کے تنے اور منوں وزنی پتھر رکھ کر راستے بلاک کئے گئے تھے۔ خدا خدا کر کے کچھ مقامی شناساؤں کی مدد سے راستہ ملا اور میں خدی کی حدود سے آگے نکلا، لیکن بمشکل ایک کلومیٹر ہی گزرا تھا کہ عیدک قبیلے کے سنکڑوں نوجوان ڈھول کی تھاپ پر دیوانہ وار رقصاں نظر آئے۔ ہمارے ایک دوست اس جلوس نما مظاہرے کی قیادت کر رہے تھے، جن سے تعلق کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں آگے نکل گیا۔ تاہم مزید ایک کلومیٹر آگے نورک کے مقام پر ایک نیا جمِ غفیر جمع تھا، جہاں مجمع کے تیور بتا رہے تھے کہ وہ بھی کچھ ہی دیر میں سڑک کو مکمل طور پر بلاک کر دیں گے۔

جوں توں کر کے میرانشاہ پریس کلب تو پہنچ گئے، لیکن سہ پہر کو واپسی کا سوچ کر ہی دل ہول رہا تھا، اور بالآخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ نورک پہنچتے ہی نہ صرف بنوں کی طرف جانے والی گاڑیوں کے لمبے جام لگے ہوئے تھے، بلکہ پولیس اور لیویز فورس کے بھی سینکڑوں اہلکار موقع پر موجود تھے۔ پاس ہی پتھریلی زمین پر چٹائیاں بچھائے اسسٹنٹ کمشنر میرعلی اور چند جرگہ اراکین سر جوڑ کر بیٹھے صورتِ حال پر غور و فکر کر رہے تھے۔ اس جرگے کو وہیں چھوڑ کر ہم نے پہاڑیوں کا کٹھن راستہ اختیار کیا اور محض تین کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے میں تین گھنٹے لگ گئے، لیکن پورے راستے ذہن میں بار بار ایک ہی سوال کچوکے لگاتا رہا کہ شمالی وزیرستان کی اس پاک سرزمین کو کس کی نظر لگ گئی ہے؟

گزشتہ دو دہائیوں سے جب بھی دہشتگردی کی آفت سے تھوڑی مہلت ملتی ہے، تو خود ہمارے اپنے اندر بیک وقت کئی کئی قبائلی تنازعات سر اٹھا لیتے ہیں۔ اگر کچھ دیر کیلئے مان بھی لیا جائے کہ ان تمام تنازعات کے پیچھے کوئی نادیدہ طاقت ہے، تب بھی یہ سوال باقی رہتا ہے کہ جرگے اور مرکے کی مضبوط روایات کے حامل وہ لوگ جو صدیوں سے بغیر کسی حکومتی عمل داری کے بھی پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر زندگی گزارتے آئے ہیں۔ آج اس حد تک اخلاقی انحطاط کا شکار کیوں ہو چکے ہیں؟ ہم آخر اپنے بچوں کے ہاتھوں میں بندوق، کلہاڑی، ڈنڈے اور خنجر تھما کر دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟

کیا بیسیوں سال سے جاری دہشتگردی، خونریزی، مسخ شدہ لاشیں، عسکری آپریشن، توپوں کی گرج، بمباری، بے گھری کا کرب، راشن کی قطاروں میں اٹھائی جانے والی ذلتیں اور ہمسایہ علاقوں میں رسوائیاں بھی ہمیں کوئی سبق سکھانے میں ناکام رہیں؟ شمالی و جنوبی وزیرستان گزشتہ بیس سال سے مسائل کے جس دلدل میں جکڑے ہوئے ہیں، اس نے امن کے اس گہوارے کو اس حد تک متاثر کیا ہے کہ خود اس مٹی کے فرزند بھی یہاں آنے سے پہلے سو بار سوچتے ہیں۔ آپریشن راہِ نجات اور ضربِ عضب کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ لوگوں کے طرزِ فکر میں مثالی تبدیلی آئے گی اور قبائلی معاشرہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ایک نئی صبح کا آغاز کرے گا، جہاں بچوں کی تعلیم پر توجہ دی جائے گی اور آنے والی نسلوں کو ایک پرامن ماحول فراہم کیا جائے گا۔

تلخ حقیقت یہ ہے کہ آپریشنز کے بعد صوبائی ضم ہوا، عدالتیں قائم ہوئیں، پولیس فورس آئی، پولیٹیکل ایجنٹ کی جگہ ضلعی انتظامیہ نے لی اور ایف سی آر کے بجائے باقاعدہ ملکی قوانین لاگو کر دیے گئے… مگر ان تمام تبدیلیوں کے باوجود اگر کچھ نہیں بدلا، تو وہ ہمارے اپنے روئے ہیں۔ صرف میرعلی سب ڈویژن میں اس وقت ایپی بمقابلہ مادی خیل، زیرکی قبیلے کا آپسی پہاڑی تنازع، خیسور کی اراضی کے جھگڑے، خدی بمقابلہ مچی خیل، عیسوڑی بمقابلہ مچی خیل، عیدک بمقابلہ بورا خیل، نیز نورک، عزیز خیل، حکیم خیل، اور میرانشاہ و رزمک کے مقامی تنازعات پوری شدت سے جاری ہیں۔

سفاک سچائی یہ ہے کہ ان مسائل کا حل نہ تو ہمارے ان معززین و عمائدین کے پاس ہے جو کبھی پیچیدہ ترین تنازعات منٹوں میں حل کر لیا کرتے تھے، اور نہ ہی انتظامیہ کے پاس۔ اہل دانش یہ سوال اٹھانے میں بجا ہیں کہ قبائلی علاقوں میں اختیارات کا اصل مرکز کون ہے، اور اگر باقاعدہ عدالتیں قائم ہو چکی ہیں تو پھر سابقہ رواج اور تنازعات کا یوں سڑکوں پر فیصلہ کیوں ہو رہا ہے؟ فی الوقت ہر طرف ایک اندھیر نگری اور فکری جمود کی کیفیت ہے۔ وزیرستان کے عوام کو اب اپنے رویوں میں بنیادی اور انقلابی تبدیلی لانی ہوگی اور سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ وہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کیسا وزیرستان چھوڑ کر جا رہے ہیں، کلہاڑیوں، ڈنڈوں اور بندوقوں سے لیس وزیرستان، یا پھر ایک پرامن، باوقار اور تعلیم یافتہ معاشرہ؟ ہمیں تاریخ کے اس انتہائی نازک موڑ پر خود فیصلہ کرنا ہوگا، ورنہ نظام کے معجزوں کا انتظار کرتے کرتے یہاں رہی سہی زندگی کے آثار بھی ختم ہو جائیں گے۔

Here is an exclusive short summary of the column:

Exclusive Summary: Waziristan at a Critical Crossroads

  • Gridlock and Ground Reality: A journey along the main Bannu–Miranshah highway reveals a region paralyzed by road blockades, burning tires, and protests at Khadi, Eidak, and Noorak, stranding hundreds of daily commuters and exposing severe administrative helplessness.

  • From Terrorism to Internal Conflict: After surviving two decades of military operations, displacement, and terrorism, North Waziristan now faces a rising tide of intra-tribal land and boundary disputes across Mirali, Razmak, and Miranshah.

  • The Post-Merger Paradox: Despite the formal FATA merger—which brought courts, police, and civil administration to replace the FCR—governance remains ambiguous, while traditional tribal jirgas have largely lost their historical mediation power.

  • A Call for Self-Reflection: The piece poses a fundamental question to the people of Waziristan: whether to continue handing down weapons and tribal feuds to the next generation or to break the cycle by choosing peace, education, and institutional accountability.

اپنا تبصرہ بھیجیں