دی خیبر ٹائمز خصوصی تجزیہ
پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات ایک بار پھر شدید سفارتی و عسکری کشیدگی کا شکار ہو چکے ہیں، جس کے منفی اثرات دونوں ممالک کے دوطرفہ اور ٹرانزٹ تجارت کی معطلی کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ ایک طرف پاکستان کی جانب سے افغانستان میں کالعدم تنظیموں کی موجودگی اور سرحد پار دہشتگردی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، تو دوسری جانب افغان طالبان کی عبوری حکومت ان الزامات کی تردید کر رہی ہے۔
پاکستان کے ترجمان دفترِ خارجہ سجاد حیدر خان نے اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ میں کہا ہے، کہ اس وقت افغانستان کی عبوری حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع کرنے کی کوئی آئینی یا منطقی بنیاد موجود نہیں ہے۔
ترجمان نے اقوامِ متحدہ (UN) کی مختلف تجزیاتی رپورٹس کا حوالہ دیا، جن میں واضح طور پر نشاندہی کی گئی ہے کہ اس وقت افغانستان کی سرزمیں پر 20 سے زائد غیر ملکی عسکریت پسند گروپس متحرک ہیں اور اقوامِ متحدہ نے ان گروہوں کو عالمی سلامتی کیلئے خطرناک قرار دیا ہے۔
سجاد حیدر خان نے کہا کہ افغان طالبان حکومت دنیا بھر کے تحقیقی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے مسلمہ دعوؤں اور شواہد سے مکمل لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے دہشتگردوں کے وجود سے ہی انکاری ہے۔ ایسے حالات میں جب کابل انتظامیہ بنیادی حقیقت ماننے سے گریزاں ہے، تو مذاکرات کا کوئی راستہ نہیں نکل سکتا۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ صرف پاکستان ہی نہیں، بلکہ افغانستان کے دیگر سرحدی اور علاقائی پڑوسی ممالک بھی اسی نوعیت کی سیکیورٹی شکایتیں اور تحفظات رکھتے ہیں۔
پاکستان کے سخت ردِعمل کے جواب میں افغان طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستانی الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ تاہم ان کا یہ تازہ بیان ان کے روایتی سخت بیانات کے مقابلے میں قدرے مختلف اور دھیما دکھائی دیتا ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ “پاکستان اپنی اندرونی سیکیورٹی کی ناکامی کا ملبہ افغانستان پر نہ ڈالے، یہ کوئی دانشمندی نہیں ہے۔” انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ افغان حکومت پاکستان میں کسی بھی قسم کے عدم استحکام کی حمایت نہیں کرتی کیونکہ پاکستان میں بد امنی افغانستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ افغانستان کے پاس ایسے وسائل یا ذرائع نہیں ہیں کہ وہ کسی دوسرے ملک میں عدم استحکام پیدا کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں یا پاکستان میں سیکیورٹی کا فقدان افغانستان کیلئے بھی انسانی بنیادوں پر نقصان دہ ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ افغانستان کے دیگر پڑوسی ممالک بھی ہیں لیکن ان میں سے کسی کو افغانستان سے ایسی سیکیورٹی شکایت نہیں ہے۔
کابل کا یہ نرم یا مختلف بیان شاید واشنگٹن اور اسلام آباد کو مطمئن کرنے کی ایک کوشش ہو، کیونکہ پاکستان بارہا ٹی ٹی پی (TTP) اور دیگر عسکریت پسندوں کے مراکز کے ناقابلِ تردید ثبوت کابل کو فراہم کر چکا ہے، جنہیں تسلیم کرنے سے افغان حکام مسلسل انکاری ہیں۔
افغان ترجمان کے بیانات کے برعکس، زمینی سیکیورٹی حقائق اور انٹیلی جنس رپورٹس کابل کے دعوؤں کی نفی کرتی ہیں۔
پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے والی عسکریت پسند تنظیمیں وہی جدید اور مہلک ہتھیار استعمال کر رہی ہیں جو 2021 میں امریکی و نیٹو فورسز کے انخلا کے وقت افغانستان میں چھوڑا گیا اسلحے کے ثبوت پیش کئے گئے ہیں۔
پاکستان میں سیکیورٹی فورسز اور سرحد پر حملوں کے دوران سنائپر رائفلز، تھرمل سائٹس ، اور نائٹ ویژن ڈیوائسز کا بڑھتا ہوا استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے خلاف برسر پیکار گروہوں کو جدید اسلحہ کے گوداموں تک رسائی حاصل ہے۔
پاک افغان تناؤ کے خاتمے اور سرحدی کشیدگی کم کرنے کیلئے متعدد عالمی اور علاقائی طاقتوں نے بھی سفارتی سطح پر پیش رفت کی ہے۔ اس سلسلے میں روس نے ماسکو فارمیٹ 8 کے تحت دونوں ممالک کے مابین معاملات کو سلجھانے کی کوشش کی، تاہم اس فورم کی نشستیں کوئی ٹھوس عملی نتائج دینے میں ناامید رہیں۔ دوسری جانب چین سی پیک (CPEC) کی سیکیورٹی اور علاقائی تجارت کو محفوظ بنانے کیلئے بیجنگ اور تہران کے راستے ہمدردانہ اور سفارتی ثالثی کیلئے مسلسل متحرک ہے۔ اسی طرح قطر، ترکی اور سعودی عرب نے بھی دونوں ممالک کے مابین سفارتی رابطے بحال کرانے اور تناؤ میں کمی لانے کی کوششیں کی ہیں، لیکن کابل اور اسلام آباد کے بنیادی تحفظات پر تاحال کوئی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی ہے۔
اس سیاسی و سیکیورٹی تعطل کا سب سے بڑا خمیازہ دونوں ممالک کے تاجروں اور عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے:
طورخم، چمن، خرلاچی اور غلام خان بارڈرز پر تجارت کی مسلسل بندش سے اربوں روپے کا سامان پھنسا ہوا ہے۔ پاکستان سے افغانستان کو ہونے والی تازہ پھلوں، سبزیوں، اور ادویات کی برآمدات شدید متاثر ہوئی ہیں، جبکہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے کنٹینرز کی ہولڈنگ کاسٹ اور ڈیمریج چارجز میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۔
افغانستان اب پاکستان کے راستے کے بجائے ایران (چابہار/بندر عباس) اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت بڑھانے پر مجبور ہو رہا ہے، جس سے طویل مدتی بنیادوں پر پاکستانی برآمد کنندگان کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
پاک افغان کشیدگی اس وقت ایک انتہائی پیچیدہ موڑ پر ہے۔ جب تک کابل انتظامیہ اپنی سرزمیں پر موجود کالعدم عسکریت پسند گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق عملی اقدامات نہیں کرتی، تب تک سرحدوں کی مکمل بحالی اور دوطرفہ تجارت کو پرامید بنانا ناممکن نظر آتا ہے۔
یہ بھی ملاحظہ کیجئے: معدنیات کا معما اور خیبر پختونخوا کا سیاسی بحران: بین الاقوامی مفادات، ریاستی بیانیہ اور اپوزیشن کے خدشات
summary
Pak-Afghan Diplomatic Standoff & Border Trade Closure: Key Highlights
1. Pakistan’s Official Stance: “No Basis for Talks”
* Pakistan Foreign Office Spokesperson Sajjad Haider Khan stated there is currently no logical or constitutional basis to resume negotiations with the Afghan interim government.
* Citing UN reports, Pakistan highlighted the presence of over 20 foreign militant groups operating inside Afghanistan that pose a global threat.
* Islamabad criticized Kabul for failing to acknowledge grounded realities and ignoring international evidence regarding terrorist havens.
2. Afghan Taliban’s Response
* Afghan interim government spokesperson Zabihullah Mujahid rejected Pakistan’s allegations, calling it unwise to blame Afghanistan for Pakistan’s internal security failures.
* He emphasized that instability in Pakistan is harmful to Afghanistan as well and claimed that Kabul does not harbor groups aiming to destabilize neighboring countries.
* Observers note this statement is relatively softer than usual, though Pakistan views it as insufficient without concrete ground actions.
3. Ground Realities & Modern Military Weaponry
* Despite Kabul’s denials, ground intelligence confirms militant groups targeting Pakistan are utilizing advanced military hardware—such as thermal optics, sniper rifles, and night-vision devices—left behind by NATO forces in 2021.
4. International Mediation Efforts
* Regional and international players—including Russia (via the Moscow Format), China, Qatar, Turkey, and Saudi Arabia—have offered diplomatic mediation to de-escalate tensions.
* However, these efforts have yielded limited success due to fundamental disagreements between Islamabad and Kabul.
5. Economic & Trade Impact
* Major Pak-Afghan trade routes and border crossings (Torkham, Chaman, Kharlachi, and Ghulam Khan) remain frequently suspended, leaving billions of rupees worth of goods stranded.
* Pakistan’s exports of perishables and transit trade goods are suffering heavy financial losses.
* Consequently, Afghanistan is increasingly shifting its trade routes toward Iran (Chabahar/Bandar Abbas) and Central Asian nations, posing long-term trade implications for Pakistani exporters.
About the Author
Nasir Dawar is a journalist, researcher and Editor of The Khyber Times, with extensive experience covering militancy, conflict, security and political developments in Khyber Pakhtunkhwa, the former FATA and Afghanistan. His research focuses particularly on militant movements, regional security, Afghanistan and Pakistan-Afghanistan relations.
Contact: dawarjan@gmail.com




