A combined photograph within a decorative wooden frame. The left panel is a formal portrait of a man in a navy blue suit with a Pakistani flag pin. The right panel is an organizational flowchart for the 'Area Representative & Development Council' for Khyber Pakhtunkhwa (KP). The chart shows Shoukat Ullah Khan as Chairman and Malik Khan Marjan as Vice Chairman, with a list of lower-level council divisions and member numbers. The bottom plaque has Urdu text 'کونسل کی مکمل تفصیلات'.

مشاورتی کونسل کا قیام اور عوامی اعتماد کا بحران

تحریر: رسول داوڑ

خیبر پختونخوا کے 12 حساس اور ضم شدہ اضلاع میں قیامِ امن، ٹارگٹڈ آپریشنز اور ترقیاتی سرگرمیوں کی نگرانی کیلئے قائم کی گئی 48 رکنی مشاورتی کونسل کی تشکیل ابتدا ہی سے شدید سوالات اور تنازعات کی زد میں ہے۔ کونسل میں نامزد نمایاں سیاسی و قبائلی رہنماؤں کی جانب سے شمولیت سے معذرت، مزید ممکنہ دستبرداریوں اور نامزدگی کے غیر شفاف طریقہ کار پر اٹھنے والے اعتراضات نے اس انتظامی اقدام کی افادیت اور عوامی قبولیت کو سخت داؤ پر لگا دیا ہے۔
حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق سابق وفاقی وزیر اور سابق گورنر خیبر پختونخوا انجینئر شوکت اللہ خان کو کونسل کا چیئرمین، جبکہ شمالی وزیرستان کے ممتاز قبائلی رہنما ملک خان مرجان کو وائس چیئرمین نامزد کیا گیا ہے۔ تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ اس کونسل کے پسِ پردہ کیا حکمتِ عملی کارفرما ہے؟ اس کے قانونی و انتظامی اختیارات کی نوعیت کیا ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا اسے ان علاقوں کی مقامی آبادی کا اعتماد حاصل ہے جن کے مسائل کے حل کے نام پر یہ فورم تشکیل دیا گیا؟
کونسل کے الاؤنسز اور نامزدگیوں کے فوراً بعد انکار کا ایک سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا مصباح اللہ داوڑ نے کونسل کا حصہ بننے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ اس سے قبل بنوں سے عوامی نیشنل پارٹی کے سینیئر رہنما باز محمد خان اور باجوڑ سے سابق رکن قومی اسمبلی شہاب الدین خان بھی شمولیت سے معذرت کر چکے ہیں۔ اپر جنوبی وزیرستان سے جے یو آئی کے سابق رکن پارلیمنٹ مولانا جمال الدین نے بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کی جماعت کا کوئی بھی فرد اس کونسل کا حصہ نہیں بنے گا۔ مزید برآں، کئی دیگر اضلاع سے نامزد ارکان بھی آپس میں مشاورت کر رہے ہیں اور جلد ان کی جانب سے بھی دستبرداری کا امکان ہے۔
جس فورم کو قبائلی و دیگر حساس اضلاع میں امن و امان اور ترقیاتی امور کیلئے تشکیل دیا گیا ہو، اگر اس کے بنیادی ارکان ہی اس کا حصہ بننے پر تیار نہ ہوں تو اس کی نمائندہ حیثیت اور عملی افادیت خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔ تاہم، ان انکاروں کو محض سیاسی مخالفت قرار دے کر سائیڈ لائن کر دینا سنگین غلطی ہوگی۔ حکومت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان نامزد ارکان کے بنیادی تحفظات کیا ہیں؟
اس معاملے کا سب سے اہم پہلو جمہوری اور آئینی نمائندگی کا ہے۔ متعلقہ اضلاع سے عوام کے منتخب نمائندے (ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی) پہلے سے موجود ہیں۔ ایسے میں منتخب فورمز کی موجودگی کے باوجود ایک متوازی مشاورتی ڈھانچے کی تشکیل سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس نئے ادارے کے مقاصد اور اختیارات کیا ہیں؟ اور منتخب نمائندوں کے ساتھ اس کا رابطہ یا توازن کس طرح قائم ہو گا؟ اگر یہ کونسل صرف ایک ایڈوائزری/مشاورتی باڈی ہے تو کیا مقامی انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے اس کی سفارشات پر عمل درآمد کے پابند ہوں گے؟ اور اگر اس کے پاس فیصلہ سازی اور عمل درآمد کے اختیار ہی نہیں، تو پھر اس کے قیام سے عوامی سطح پر کیا عملی تبدیلی آئیگی؟
اس انتظامی نااہلی اور بدانتظامی کا سب سے حیران کن اور سنجیدہ پہلو شمالی وزیرستان کے مرحوم قبائلی رہنما ملک حاجی شیر محمد کا نام کونسل کی فہرست میں شامل کیا جانا ہے۔ دستیاب اطلاعات اور نوٹیفکیشن کے مطابق، جون 2023ء میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے شہید ہونے والے ملک حاجی شیر محمد کو بھی اس کونسل کا رکن نامزد کر دیا گیا ہے۔ کسی متوفی/شہید شخص کی تصویر اور نام سرکاری نوٹیفکیشن میں شامل ہونا محض ایک فیلڈ کی غلطی نہیں، بلکہ یہ نامزدگیوں کے عمل میں معلومات کی تصدیق، حتمی جانچ پڑتال اور انتظامی سنجیدگی پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں اس کونسل کے بعض دیگر ارکان کے ماضی کے سیاسی موقوف خصوصاً فاٹا انضمام (25ویں آئینی ترمیم) کی مخالفت پر بھی شدید بحث جاری ہے۔ بعض حلقوں کا اعتراض ہے کہ جو افراد سابق قبائلی اضلاع کے صوبے میں انضمام کے مخالف رہے ہیں، انہیں موجودہ سیٹ اپ میں نمائندگی دینا مقامی آبادی کی موجودہ امنگوں کی نفی ہے۔ تاہم یہاں یہ نکتہ ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ ماضی کا کوئی موقف کسی قبائلی مشر کی عوامی حمایت کا حتمی معیار نہیں ہوتا؛ اصل معیار یہ ہونا چاہئے کہ نامزد شخص کو اپنے علاقے کے حقیقی مسائل پر کتنا عبور حاصل ہے اور وہ مقامی قبائل و طبقات کا کتنا اعتماد رکھتا ہے۔
ایک حساس اور پیچیدہ خطے میں پالیسی سازی کی معمولی سی غلطی بھی شدید بداعتمادی کو جنم دے سکتی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہئے کہ وہ اس معاملے میں شفافیت کا مظاہرہ کریں:
1. کیا ان ارکان کی نامزدگی سے پہلے ان سے باضابطہ رضامندی لی گئی تھی؟
2. کیا مقامی سیاسی و قبائلی قیادت کو اعتماد میں لیا گیا تھا؟
3. اور کیا کونسل کے دائرہ اختیار کیلئے کوئی قانونی و آئینی فریم ورک موجود ہے؟
خیبر پختونخوا کے ان حساس اضلاع میں دائمی امن کا قیام، پائیدار ترقی اور عوامی مسائل کا حل وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ تاہم، یہ مقاصد صرف کاغذی کونسلوں، نامزدگیوں کی تقسیم یا مصنوعی فورمز سے حاصل نہیں کئے جا سکتے۔ جب تک پالیسی سازی میں شفافیت، زمینی حقائق کا احترام اور عوامی اعتماد شامل نہیں ہوگا، ایسی کونسلیں مسائل کا حل بننے کے بجائے اختیارات، نمائندگی اور سیاسی تقسیم کی ایک نئی بحث کو ہی جنم دیتی رہیں گی۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: سونے کی کان پر بیٹھے بھکاری: قرض ملا ہے، ڈھول بجاؤ

Executive Summary
Title: Advisory Council Formation, Declinations by Nominees, and the Crisis of Public Trust
Author: Rasul Dawar
* Controversial Setup: The newly formed 48-member Area Representative and Development Council, established to oversee peace, targeted operations, and development across 12 sensitive districts of Khyber Pakhtunkhwa, faces immediate skepticism regarding its legitimacy and strategy.
* Wave of Rejections: High-profile political figures and tribal elders including JUI-F’s Maulana Misbahullah (North Waziristan), ANP’s Baz Muhammad Khan (Bannu), former MNA Shahabuddin Khan (Bajaur), and JUI-F’s Maulana Jamaluddin (Upper South Waziristan) have publicly declined their nominations, refusing to join the council.
* Administrative Oversight: A major administrative failure highlighted in the report is the inclusion of late tribal elder Malik Haji Sher Muhammad (North Waziristan) in the official council list, despite his martyrdom in June 2023. This raises severe questions about the government’s vetting and verification process.
* Lack of Mandate & Transparency: The article questions the need for a parallel advisory body when elected representatives (MNAs/MPAs) already exist. It emphasizes that without clear decision-making powers, legal status, or prior consultation with local stakeholders, such councils fail to address core issues and instead deepen public distrust.
* Conclusion: Real peace and development in sensitive tribal areas require transparent governance, local consensus, and accountability rather than artificial administrative setups.