تحقیق و تحریر: ناصر داوڑ
11 اکتوبر 2026 کو وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ہنگامی حالت (ایمرجنسی) اور آرٹیکل ۲۳۴ کے تحت گورنر راج کے نفاذ کو 10 دن مکمل ہو چکے ہیں۔ وفاقی کابینہ اور صدر مملکت کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے اکثریت سے اس فیصلے کی توثیق کی، جس کا بنیادی مقصد صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور دہشتگردی کے واقعات میں اضافے کو قرار دیا گیا۔ تاہم، اس فیصلے کے بعد خیبر پختونخوا میں ایک سنگین آئینی اور سیاسی بحران نے جنم لیا ہے۔ ایک طرف جہاں صوبائی حکومت کا انتظامی کنٹرول گورنر فیصل کریم کنڈی کے پاس منتقل کر دیا گیا ہے، وہیں دوسری طرف منتخب صوبائی قیادت کی روپوشی و حبسِ بے جا اور آئینی اداروں کے مفلوج ہونے نے وفاق اور صوبے کے درمیان تناؤ میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔
گورنر راج کے نفاذ کے 10 دن بعد بھی خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی کا انتظامی صورتحال پر باضابطہ موقف سامنے لانے کی راہ میں شدید انتظامی و سیکیورٹی رکاوٹیں حائل ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی اور صوبائی قیادت کے مطابق 11 اکتوبر کے ہنگامی احکامات کے فوراً بعد وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکر بابر سلیم سواتی، پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر اور رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک کو غیر قانونی طور پر تحویل میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت کے سربراہ اور اسپیکر کو جبراً غائب کرنا جمہوری و آئینی مشینری کی معطلی کا واضح ثبوت ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے طلال چوہدری نے بعض افراد کی لاء اینڈ آرڈر کے تحت حراست کی تصدیق کی، مگر صریح گرفتاریوں یا وزیر اعلیٰ کی موجودہ صورتحال پر کھل کر بات کرنے سے گریز کیا۔ اس صورتحال کے خلاف پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے پشاور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کرتے ہوئے اس فیصلے کو آئین کی روح کے منافی قرار دیا ہے۔ قانونی ماہرین اور اپوزیشن رہنماؤں کا استدلال ہے کہ اسمبلی کو تحلیل کئے بغیر قانون سازی کے اختیارات پارلیمنٹ کو سونپنا اور منتخب نمائندوں کو قید کرنا نہ صرف صوبائی خودمختاری پر حملہ ہے بلکہ اس سے انسدادِ دہشتگردی کے قومی یکجہتی کے اہداف بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ پشاور ہائی کورٹ اور دیگر عدالتوں میں وکلاء کی جانب سے احتجاجاً بائیکاٹ نے اس آئینی تصادم کو مزید شدید بنا دیا ہے۔
صوبے کے 12 اضلاع میں ہنگامی حالت کے نفاذ کی وجوہات اور سیکیورٹی حکمت عملی
وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے تمام 12 حساس اور قبائلی اضلاع میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی نافذ کی ہے۔ ان اضلاع میں کُرم، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر، جنوبی وزیرستان لوئیر، باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان شامل ہیں۔ وفاقی وزراء کے مطابق ان علاقوں میں عسکریت پسندی کی لہر میں 196 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے وفاق کو براہِ راست انتظامی مداخلت کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔
ان اضلاع میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کی بنیادی ترجیحات ان کی مخصوص جغرافیائی اور سیکیورٹی حساسیت پر مبنی ہیں۔ مثلاً ضلع کُرم اور باجوڑ میں پاک افغان سرحد سے متصل ہونے کی وجہ سے دراندازی اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو کنٹرول کرنا مقصود ہے، جبکہ شمالی و جنوبی وزیرستان کے علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خفیہ مراکز کے خلاف کلئیرنس آپریشنز کو بلا تعطل جاری رکھنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ خیبر اور مہمند کے اضلاع میں بین الاقوامی تجارتی راستوں اور طورخم شاہراہ کو محفوظ بنانا ترجیح ہے، جبکہ اورکزئی، بنوں اور لکی مروت میں مقامی سیکیورٹی نیٹ ورکس کی سرکوبی اور پولیس فورس کی صلاحیت کو بحال کرنا ہے۔ اس کے علاوہ ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان جیسے اسٹریٹجک اضلاع میں صوبائی سرحدوں کی نگرانی اور ٹارگٹ کلنگ کے انسداد کیلئے ایمرجنسی احکامات نافذ کئے گئے ہیں۔
وفاق کا موقف ہے کہ آرٹیکل 232 کے نفاذ سے سیکیورٹی اداروں کو آرٹیکل 233 کے تحت اضافی اختیارات حاصل ہو گئے ہیں، جس سے شہری آزادیوں اور نقل و حرکت پر عارضی پابندیاں عائد کر کے عسکریت پسندوں کے خلاف ٹارگٹڈ اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ تاہم، سیاسی نقادوں کے مطابق ان اضلاع میں سیکیورٹی چیلنجز کا حل آئینی اور سیاسی عمل کو معطل کرنے میں نہیں بلکہ مقامی آبادی کو اعتماد میں لینے میں ہے۔
وفاق کی جانب سے مذاکرات کی دعوت اور سیاسی و سیکیورٹی ماحول میں ان کا امکان!
گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پیدا ہونے والے تناؤ کو کم کرنے کیلئے وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی اور اپوزیشن کو باہمی گفتگو کی دعوت دی ہے۔ بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ اگر اپوزیشن انسدادِ دہشتگردی کی مشترکہ قومی حکمت عملی پر متفق ہو جائے اور سیکیورٹی فورسز کے اقدامات کی حمایت کرے تو ایمرجنسی اور گورنر راج کی منسوخی کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی کابینہ اجلاس میں یہ مؤقف دہرایا کہ حکومت نے سیاسی کشیدگی سے بچنے کیلئے مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی تھی، لیکن اپوزیشن نے طے شدہ معاہدے سے انحراف کرتے ہوئے اسلام آباد پر چڑھائی کے منصوبے کو ترجیح دی، جس کی وجہ سے سخت فیصلے کرنا پڑے۔
موجودہ کشیدہ ماحول میں سیاسی مذاکرات کی کامیابی کے امکانات انتہائی معدوم دکھائی دیتے ہیں۔ اس ناکامی کی بنیادی وجہ فریقین کے درمیان اعتماد کا شدید فقدان اور یکسر متضاد پیشگی شرائط ہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت کا بنیادی نقطہ نظر یہ ہے کہ جب تک ان کے منتخب وزیر اعلیٰ، اسپیکر اور اراکین اسمبلی قید میں ہیں،اور پارٹی پر شدید سیاسی دباؤ ڈالا جا رہا ہے، اس وقت تک وفاق کی جانب سے مذاکرات کی دعوت محض ایک سیاسی ڈرامہ اور بین الاقوامی سطح پر جمہوری چہرہ دکھانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا مطالبہ ہے کہ اپوزیشن عسکریت پسندی کی مبینہ سرپرستی اور پرتشدد احتجاجی سیاست سے مکمل دستبرداری کا اعلان کرے۔ اس سیاسی قطبیت اور غیر لچکدار رویوں نے صوبے میں کسی بھی مثبت گفت و شنید کا راستہ مسدود کر دیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کے الزامات، فاٹا کے الحاق سے متعلق خدشات اور پالیسی پر تنقید
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی حالت کے نفاذ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے صوبے میں نئے، شفاف اور غیر جانبدارانہ عام انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کا استدلال ہے کہ سیکیورٹی بحران کو جواز بنا کر منتخب حکومت کو معطل کرنا اور گورنر راج قائم کرنا نہ تو آئینی تقاضوں کو پورا کرتا ہے اور نہ ہی اس سے دہشتگردی کے ناسور کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے سابق فاٹا (FATA) کے خیبر پختونخوا میں الحاق کے فیصلے کا ازسرنو جائزہ لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نے اس الحاق کی پہلے دن سے مخالفت کی تھی۔ ان کے مطابق قبائلی علاقوں کے روایتی انتظامی و جرگہ سسٹم کو ختم تو کر دیا گیا، لیکن وفاق نے ان علاقوں کو بنیادی آئینی حقوق، سیکیورٹی اور عدالتی نظام فراہم کرنے میں مجرمانہ غفلت برتی، جس کی وجہ سے ایک وسیع انتظامی خلا پیدا ہوا جس کا فائدہ عسکریت پسند گروہوں نے اٹھایا۔ اس کے علاوہ مولانا فضل الرحمان نے وفاقی حکومت اور سابق صوبائی حکومت دونوں پر سنگین الزامات عائد کئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر پی ٹی آئی حکومت ملٹری آپریشنز اور انسدادِ دہشتگردی میں رکاوٹ بن رہی تھی تو وفاق اور عسکری اداروں نے سالوں تک اس کی اجازت کیوں دی؟ انہوں نے پارلیمنٹ میں ان کیمرہ اجلاس کا مطالبہ کیا تاکہ قوم کو بتایا جا سکے کہ طالبان کی دوبارہ آباد کاری اور عسکریت پسندوں کو مرکزی دھارے میں لانے کے نام پر کن اقتدار پرست طبقوں نے ریاست کے تحفظ کو داؤ پر لگایا۔
مشاورتی کونسل کا قیام اور متنازعہ و مرحوم ناموں کی شمولیت کا تنازع
صوبائی حکومت کی معطلی کے بعد وفاقی آرڈر نمبر 1/2026 کے تحت گورنر فیصل کریم کنڈی کو انتظامی امور میں مشورہ دینے کیلئے 11 رکنی ٹیکنو کریٹک مشاورتی کونسل تشکیل دی گئی۔ اس کونسل میں شامل اہم شخصیات اور ان کو تفویض کردہ شعبہ جات کی تفصیل ذیل میں یکجا کی گئی ہے۔
امورِ داخلہ و قبائلی جات کی نگرانی سابق آئی جی جیل خانہ جات اور سابق چیئرمین فاٹا ٹربیونل کفایت اللہ خان کے سپرد کی گئی۔ مالیات، محصولات اور ایکسائز کی ذمہ داری سابق چیئرمین ایف بی آر طارق محمود پاشا کو دی گئی، جبکہ قانون و پارلیمانی امور کی مشاورت کیلئے سابق ایڈووکیٹ جنرل عامر جاوید کو شامل کیا گیا۔ تعلیم کے شعبے کیلئے سابق نگران وزیر اور انسدادِ دہشتگردی کے ماہر ڈاکٹر سید عامر عبداللہ، صحت کیلئے سابق سرجن جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر خان، اور معدنیات و کان کنی کیلئے ماہرِ معاشیات ڈاکٹر سرفراز علی شاہ کو نامزد کیا گیا۔ مزید برآں، صنعت و تجارت کی دیکھ بھال سابق چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر محمد ارشاد، مواصلات و بلدیات کی ذمہ داری سابق نگران وزیر آصف رفیق آفریدی، اور مذہبی امور و اوقاف کی نگرانی چیف خطیب مولانا محمد طیب قریشی کو سونپی گئی۔ توانائی و منصوبہ بندی کیلئے سابق سینیٹر عثمان سیف اللہ خان اور اطلاعات و نشریات کیلئے سابق رکن اسمبلی ثمر ہارون بلور کو کونسل کا حصہ بنایا گیا۔
مشاورتی کونسل کا اعلان ہوتے ہی پشاور اور اسلام آباد کے صحافتی و سیاسی حلقوں میں ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا۔ ایمرجنسی کے نفاذ والے12 اضلاع کے لیے قائم کردہ کونسل کی نامزدگیوں اور وسیع تر مشاورتی کمیٹیوں کے مجوزہ ڈرافٹس نے شدید انتظامی نااہلی اور ناکافی معلومات کو طشت از بام کر دیا۔ ان فہرستوں میں کچھ ایسی شخصیات کے نام بھی شامل کئے گئے جو یا تو وفات پا چکی تھیں، یا شدید معذوری و بیماری کے باعث غیر فعال تھیں، جبکہ چند ایسی شخصیات کو بھی شامل کیا گیا جن سے کوئی مشاورت ہی نہیں کی گئی تھی۔ ان شخصیات نے ناموں کے اعلان کے فوراً بعد کونسل کا حصہ بننے سے معذرت کر لی۔ اس فاش غلطی نے نہ صرف وفاقی حکومت کی سنجیدگی پر سوالات اٹھا دئے ہیں بلکہ عوام اور سیاسی جماعتوں میں اس کونسل کی افادیت پر بھی سنگین خدشات پیدا کر دئے ہیں، جس سے یہ تاثر مزید پختہ ہوا کہ اسلام آباد کا بیوروکریٹک سیٹ اپ خیبر پختونخوا کی حقیقی صورتِ حال سے مکمل طور پر ناواقف ہے۔
خیبر پختونخوا کی سیاست میں عوامی نیشنل پارٹی (ANP) اور جمعیت علمائے اسلام (JUI-F) دو انتہائی اہم اور بااثر سیاسی دھڑے ہیں۔ وفاق کی جانب سے ان دونوں بڑی جماعتوں کو اعتماد میں لئے بغیر یکطرفہ طور پر گورنر راج قائم کرنے اور کونسل کی تشکیل پر شدید عوامی و سیاسی ردِعمل سامنے آیا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت کا کوئی شخص نہ تو اس کونسل کا حصہ بنے گا اور نہ ہی وہ وفاق کی اس غیر آئینی ایڈونچر ازم کی حمایت کریں گے۔ دوسری جانب، عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ سیمیٹر ایمل ولی خان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وفاق کے نفاذ کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ ایمل ولی خان نے واضح کیا کہ عسکریت پسندی کی نفی اور پی ٹی آئی کی مخالفت اپنی جگہ، مگر ریاست کی جانب سے صوبائی خودمختاری کو پامال کرنا اور تمام قوم پرست و سیاسی قوتوں سے مشاورت سے گریز کرنا کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔
اہم سیاسی جماعتوں کو نذرِ انداز کرنے کے نتیجے میں صوبے کے اندر گورنر راج کیلئے عوامی پذیرائی اور سیاسی مشروعیت کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ نیشنلسٹ اور مذہبی قوتوں کی اس عدم شمولیت سے پختون خطے میں مرکز کے خلاف محرومی اور غصے کی نئی لہر جنم لے رہی ہے۔ سیاسی اتفاقِ رائے کے بغیر محض انتظامی احکامات کے ذریعے عسکریت پسندی سے نمٹنے کی کوششیں ماضی کی طرح ایک بار پھر ناکامی سے دوچار ہو سکتی ہیں، کیونکہ مقامی آبادی کے اعتماد کے بغیر کئے جانے والے سیکیورٹی آپریشنز کے دیرپا نتائج حاصل ہونا ناممکن ہے۔
خیبر پختونخوا میں 11 اکتوبر 2026 کو نافذ کئے گئے ہنگامی اقدامات اور گورنر راج کو 10 دن مکمل ہونے پر صوبہ کسی سیکیورٹی استحکام کی بجائے مزید سیاسی اور آئینی دلدل میں دھنستا ہوا نظر آ رہا ہے۔ وفاق کا یہ تصور کہ جمہوری و صوبائی سیٹ اپ کو معطل کر کے دہشتگردی کو نکیل ڈالی جا سکتی ہے، زمینی حقائق کے یکسر منافی ثابت ہو رہا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ میں دائر آئینی درخواستوں پر عدالتِ عالیہ کا متوقع فیصلہ اور آئینی حقوق کی بحالی ہی اس انتظامی بحران کے حل کی سمت کا تعین کر سکتی ہے۔ اگر وفاقی حکومت اور عسکری قیادت نے سیاسی انتقام کے بیانئے کو ترک کر کے پی ٹی آئی، جے یو آئی ف اور اے این پی سمیت تمام جمہوری فریقین کے ساتھ سچا اور غیر مشروط مذاکراتی عمل شروع نہ کیا، تو خیبر پختونخوا کا یہ گہرا آئینی خلا قومی سلامتی اور وفاقی یکجہتی کیلئے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بھی ملاحظہ کیجئے: مشاورتی کونسل کا قیام اور عوامی اعتماد کا بحران
Summary
Ten Days of Governor’s Rule and Emergency in Khyber Pakhtunkhwa: A Detailed Analysis of the Constitutional, Political, and Security Crisis
Unilateral Constitutional Actions and Detention of Provincial Leadership Ten days have passed since the federal government imposed a state of emergency under Article 232 and Governor’s Rule under Article 234 in Khyber Pakhtunkhwa on October 11, 2026. Approved by the federal cabinet, president, and a joint session of parliament, the move was justified by rising terrorism and worsening law and order. However, it has triggered a severe political crisis. With administrative control transferred to Governor Faisal Karim Kundi, the enforced disappearance and detention of provincial leaders—alongside paralyzed constitutional institutions—have sharply escalated federal-provincial tensions.
Chief Minister Sohail Afridi and Provincial Assembly Speaker Babar Saleem Swati remain unaccounted for, with PTI leadership confirming their illegal detention alongside Provincial President Junaid Akbar and MNA Shahid Khattak. PTI Chairman Barrister Gohar Ali Khan challenged the measures in the Peshawar High Court, arguing that suspending provincial autonomy without dissolving the assembly violates the constitution. Legal experts and opposition parties warn that detaining elected representatives undermines national counter-terrorism unity, while lawyers’ boycotts in the courts have further deepened the institutional clash.
Security Strategy and Reasons for Emergency in 12 Districts The emergency was enforced across 12 sensitive tribal and border districts, including Kurram, North Waziristan, Upper/Lower South Waziristan, Bajaur, Mohmand, Khyber, Orakzai, Bannu, Lakki Marwat, Tank, and D.I. Khan, where federal authorities reported a 196% surge in militancy. Priorities include controlling cross-border infiltration in Kurram and Bajaur, clearing militant hideouts in Waziristan, securing trade routes in Khyber and Mohmand, curbing local militant networks in Orakzai, Bannu, and Lakki Marwat, and enhancing border surveillance in Tank and D.I. Khan. While Article 232 grants security forces extra powers to curb militancy, critics argue that security challenges require local engagement rather than the suspension of constitutional processes.
Federal Negotiation Invitations and Political Stalemate Amid mounting tension, the federal government and PPP Chairman Bilawal Bhutto Zardari invited the opposition for talks, conditional on supporting a joint counter-terrorism strategy. Prime Minister Shehbaz Sharif noted that while a negotiation committee was previously formed, the opposition opted for confrontational politics. However, prospects for dialogue remain bleak due to a profound lack of trust and rigid preconditions. PTI refuses to talk while its leadership is imprisoned, whereas the federal establishment demands a complete disavowal of violent protests.
مولانا Fazlur Rehman’s Critiques and FATA Merger Concerns JUI-F Chief Maulana Fazlur Rehman rejected Governor’s Rule, demanded fresh and impartial general elections, and called for a reassessment of the former FATA merger. He argued that abolishing the traditional tribal jirga system without providing adequate constitutional, security, and judicial frameworks created an administrative vacuum exploited by militants. He also questioned why the federal government and military institutions tolerated the PTI government for years if it genuinely obstructed counter-terrorism operations, demanding an in-camera parliamentary probe into the return and mainstreaming of militants.
Controversial Formation of the Advisory Council Following the provincial suspension, an 11-technocrat advisory council was formed under Federal Order No. 1/2026 to advise Governor Kundi, featuring figures like Kifayatullah Khan (Home/Tribal Affairs), Tariq Mahmood Pasha (Finance), Lt. Gen. (R) Nigar Johar (Health), Samar Haroon Bilour (Information), and others. However, the rollout sparked immediate controversy due to administrative incompetence: several nominated individuals were either deceased, severely disabled/ill, or had never been consulted and promptly declined. This misstep severely damaged the federal government’s credibility, reinforcing perceptions that Islamabad’s bureaucracy is entirely detached from ground realities in KP.
Major regional parties like JUI-F and ANP strongly condemned the unilateral takeover without stakeholder consultation. JUI-F refused to participate, while ANP Chief Aimal Wali Khan denounced the violation of provincial autonomy. The exclusion of key political forces has deepened the legitimacy crisis of Governor’s Rule, fueling a new wave of alienation and anger in the Pakhtun belt. Without local political consensus, security operations risk failure. Unless the center initiates unconditional, genuine dialogue with all democratic stakeholders, the deepening constitutional vacuum in Khyber Pakhtunkhwa could prove catastrophic for national unity.
About the Author
Nasir Dawar is a journalist, researcher and Editor of The Khyber Times, with extensive experience covering militancy, conflict, security and political developments in Khyber Pakhtunkhwa, the former FATA and Afghanistan. His research focuses particularly on militant movements, regional security, Afghanistan and Pakistan-Afghanistan relations.
Contact: dawarjan@gmail.com




