پشاور کے ہسپتال سے نومولود بچے کے اختطاف کا لرزہ خیز واقعہ: بے اولادی سے جڑا معاشرتی جبر اور عورت کی نفسیاتی توڑ پھوڑ پر ایک لمحۂ فکریہ
تحریر: سلمیٰ جہانگیر
اکتوبر کی ایک سرد شام پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ) سے نومولود بچے کے اختطاف کی خبر نے ہر دل کو دہلا دیا۔ اطلاعات کے مطابق، ایک خاتون نوزائیدہ بچے کو ہسپتال کی حدود سے خاموشی سے اٹھا کر لے گئی، جسے بعد ازاں پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تحویل میں لے لیا۔ اس دردناک واقعے نے جہاں ایک طرف ہسپتالوں میں نوزائیدہ بچوں کی سیکیورٹی کے انتظامات پر سوالیہ نشان ثبت کیا، وہاں دوسری جانب بے اولادی جیسے حساس مسئلے سے وابستہ سفاکانہ معاشرتی رویوں اور عورت کی بکھرتی نفسیات پر بھی گہرے غور و فکر کی ضرورت کو اجاگر کیا۔
کیا ہمارے بظاہر مہذب معاشرے میں سونی گود کا داغ اور بے اولادی کا جبر اتنا روح فرسا ہو سکتا ہے کہ عورت کی پوری زندگی مسلسل ذہنی کرب اور اذیت کا جہنم بن جائے؟ اگرچہ کسی فرد کے انتہائی یا غیر قانونی اقدام کی اصل وجہ کو حتمی تحقیقات اور تصدیق شدہ شواہد کے بغیر متعین نہیں کیا جا سکتا، لیکن اس کڑوے سچ سے آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں کہ ہمارے ہاں بے اولادی کو فطری یا طبی مسئلے کے بجائے صرف عورت کی ایک ناکامی تصور کیا جاتا ہے، اور اس سنگین المئے کا تمام تر بوجھ تنہا عورت ہی کو اپنے ناتواں کاندھوں پر اٹھانا پڑتا ہے۔
پشاور سے تعلق رکھنے والی شبانہ کی آپ بیتی اسی معاشرتی بے حسی اور طعنہ زنی کا آئینہ دار ہے۔ رواں برس دسمبر میں ان کی ازدواجی زندگی کے گیارہ سال مکمل ہو جائیں گے، مگر بیتے گیارہ برسوں کے ایک ایک پل میں وہ اولاد جیسی انمول نعمت کیلئے ترستی رہی ہیں۔ ایک طرف تو آرزوؤں کی نفی اور بے اولادی کا اپنا ذاتی دکھ، اور دوسری طرف سماج کی سفاکی کہ قدرت کی اس آزمائش کو ان کا قصور بنا کر انہیں تندو تیز طعنوں کے تیروں سے چھلنی کیا جاتا رہا۔ ان طعنوں نے نہ صرف ان کا سکون چھین لیا بلکہ ان کی ازدواجی زندگی کی بنیادوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔
شبانہ دل گرفتہ لہجے میں بتاتی ہیں کہ ان کے شوہر اور سسرالی اہل خانہ کے ہاں اولادِ نرینہ (بیٹے) کی شدید خواہش تھی۔ جب انتظار کی گھڑیاں طویل ہوئیں تو سارا نزلہ ان ہی پر گرنے لگا۔ شادی کے محض تین ماہ بعد ہی ان کی نند نے بظاہر بے ساختگی مگر زہر میں بجھے ہوئے لہجے میں یہ کہہ دیا کہ ہم اپنے بھائی کیلئے دوسری بیوی لے آئیں گے۔ ادھر ساس کی طرف سے پوتے کا مسلسل مطالبہ ان کے دامنِ صبر پر ایک مستقل دباؤ بن گیا۔
شبانہ کیلئے یہ حالات اور بھی دلدوز تھے کیونکہ ان کے شوہر روزگار کے سلسلے میں شہر سے باہر مقیم تھے، جبکہ وہ خود مقامی سطح پر ملازمت سے وابستہ تھیں، جس کے باعث شوہر کے ساتھ جا کر رہنا ممکن نہ تھا۔ یوں ایک طرف دوریوں اور تنہائی کے فاصلے تھے تو دوسری طرف سسرال اور معاشرے کی غیر منطقی توقعات اور طنز و طعنوں کے تازیانے۔
شبانہ یاد کرتی ہیں کہ شادی کے تیسرے ہی مہینے جب وہ پہلی بار ڈاکٹر کے پاس گئیں تو معالج نے انہیں کم از کم ایک سال معمول کے مطابق انتظار کرنے کا مشورہ دیا۔ مگر ہسپتال کے ویٹنگ روم میں بیٹھی دیگر خواتین نے ان کے اتنی جلدی ڈاکٹر کے پاس آنے پر حیرت اور سوالات کے تیر برسانا شروع کر دئے، کسی نے طعنہ زنی کرتے ہوئے مثال دی کہ سلیقہ مند خواتین تو شادی کے پہلے ہی مہینے خوشخبری سنا دیتی ہیں۔
یہ جملے بظاہر ایک عام چہ مگوئی کا حصہ تھے، لیکن شبانہ کی روح پر ضرب لگانے کیلئے کافی تھے۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے ہر ممکن طبی علاج کروایا، وقت پر پرواز چڑھتا رہا، مگر سالہا سال کی تھکا دینے والی کوششوں کے باوجود ان کی گود سونی ہی رہی۔ ان کی یہ کہانی صرف گیارہ سال کے طویل اور صبر آزما انتظار کی داستان نہیں، بلکہ اس تاریک معاشرتی سوچ کا نوحہ ہے جہاں بے اولادی کا سارا نزلہ اور الزام بغیر کسی طبی معائنے کے بلا جھجک عورت کے سر تھوپ دیا جاتا ہے۔

سارا خان: “طعنے عورت کی خود اعتمادی کو دیمک کی طرح چاٹ جاتے ہیں”
سوات سے تعلق رکھنے والی معروف ماہرِ نفسیات سارا خان کے مطابق، بے اولادی پر مسلسل طعنہ زنی اور معاشرتی دباؤ کسی بھی عورت کی نفسیاتی صحت کو تباہ کر کے رکھ دیتا ہے۔ جب اسے بار بار یہ باور کرایا جائے کہ گود سونی ہونے کی وجہ سے وہ نامکمل یا بے مصرف ہے، تو اس کا اعتماد دیمک کی طرح چاٹنے لگتا ہے اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی خود کو مجرم سمجھنے لگتی ہے۔
ایسی اذیت ناک صورت حال میں خواتین شدید بے چینی، افسردگی (ڈپریشن)، احساسِ کمتری اور تنہائی کے تاریک غار میں گر جاتی ہیں۔ وہ خوشیوں اور تقاریب میں جانے سے گریز کرنے لگتی ہیں، کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ وہاں بھی ان سے دل دکھانے والے سوالات کئے جائیں گے یا ان کا موازنہ دیگر صاحبِ اولاد خواتین سے کر کے انہیں شرمندہ کیا جائے گا۔
یہ مسلسل ذہنی دباؤ بعض خواتین میں نیند کی خرابی، چڑچڑاپن اور تارکُ الدنیا ہونے کے رجحانات کو جنم دیتا ہے۔ سارا خان کہتی ہیں کہ ایسے کٹھن حالات میں شوہر کا مثبت اور مضبوط رویہ اکہرے سہارے سے کم نہیں ہوتا۔ شوہر کو چاہئے کہ وہ اپنی شریکِ حیات کیلئے ڈھال بنے، اس کے جذبات کا احترام کرے اور اپنے گھر والوں کو طعنہ زنی سے سختی سے روکے۔ اگر ذہنی دباؤ حد سے بڑھنے لگے تو کسی ماہرِ نفسیات یا کونسلر سے رجوع کرنا بے حد ضروری ہے۔
بے اولادی کوئی گناہ ہے نہ ہی عورت کی ذات کا کوئی نقص یا اخلاقی کمزوری۔ اس لئے اسے شرمندہ کرنے کے بجائے ہمدردی اور محبت کی آغوش دینی چاہئے۔
ڈاکٹر نادیہ: “مسئلہ مرد یا عورت، دونوں میں سے کسی کا بھی ہو سکتا ہے”
گورنمنٹ جنرل ہسپتال نشترآباد پشاور کی کنسلٹنٹ گائنا کالوجسٹ ڈاکٹر نادیہ کے مطابق، بے اولادی ایک عام طبی عارضہ ہے جس کی وجوہات مرد اور عورت دونوں میں یکساں طور پر ہو سکتی ہیں۔ اس لئے بغیر تحقیق کے صرف عورت کو ہدفِ ملامت بنانا طبی و اخلاقی لحاظ سے سراسر ناانصافی ہے۔
خواتین میں انڈادانی کا مناسب کام نہ کرنا، ہارمونز کا عدم توازن، پولی سسٹک اووری سنڈروم (PCOS) اور فیلوپین ٹیوبز کی بندش جیسے مسائل حمل ٹھہرنے میں مانع ہو سکتے ہیں۔ بالکل اسی طرح مردوں میں سپرمز کی تعداد یا حرکت پذیری میں کمی اور دیگر پوشیدہ طبی پیچیدگیاں بھی بانجھ پن کی اہم وجہ ہوتی ہیں۔
ڈاکٹر نادیہ کے مطابق، اگر کوئی جوڑا مانع حمل تدابیر کے بغیر ایک سال تک مسلسل ازدواجی تعلقات کے باوجود اولاد سے محروم رہتا ہے تو دونوں شریکِ حیات کو ایک ساتھ معائنے کیلئے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔ 35 سال یا اس سے زائد عمر کی خواتین کو چھ ماہ کے بعد ہی معائنہ کرا لینا چاہئے۔
ان کا کہنا ہے کہ صرف خاتون کا معائنہ کروا لینا کافی نہیں بلکہ شوہر کا معائنہ اور ‘سیمین اینالیسس’ (Semen Analysis) انتہائی بنیادی مرحلہ ہے۔ جدید طبی سائنس میں ادویات، چھوٹے آپریشنز اور معاون تولیدی ٹیکنالوجی (ART) کے ذریعے اب علاج کے امکانات پہلے سے کہیں زیادہ روشن ہو چکے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ دنیا میں ہر چھٹا فرد زندگی میں کبھی نہ کبھی اس طبی مسئلے کا سامنا کرتا ہے، لہٰذا اسے صرف عورت سے منسوب کرنا جہالت ہے۔
شبانہ کی گیارہ سالہ جدوجہد اور ماہرینِ طب و نفسیات کی آرا ایک تلخ سچائی کو بے نقاب کرتی ہیں: بے اولادی کی طبی تکلیف اپنی جگہ، مگر معاشرے کے زہریلے طعنے عورت کیلئے اس سے بھی بڑا عذاب بن جاتے ہیں۔
کسی جوڑے کو بار بار یہ کہہ کر تنگ کرنا کہ “خوشخبری کب سنا رہے ہو؟” یا اولاد نہ ہونے پر عورت کو دوسری شادی کی دھمکیاں دینا کسی مسئلے کا حل نہیں۔ یہ روئے صرف رشتوں میں دراڑیں ڈالتے اور عورت کی ہنستی کھیلتی شخصیت کو مسخ کرتے ہیں۔
پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں پیش آنے والا ناخوشگوار واقعہ بھی ہمیں متوجہ کرتا ہے کہ بچوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ بے اولادی سے جڑے سماجی رویوں پر سنجیدہ مکالمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
شبانہ کی کہانی آخر میں ہمارے معاشرے سے ایک سوال پوچھتی ہے: کیا کسی عورت کا احترام، اس کی شناختی قدر اور زندگی کی قیمت صرف ماں بننے سے مشروط ہے، یا ایک انسان ہونے کے ناتے بھی وہ اسی عزت و احترام کی حق دار ہے جو قدرت نے ہر انسان کو عطا کیا ہے؟
یہ بھی ملاحظہ کیجئے: سونے کی کان پر بیٹھے بھکاری: قرض ملا ہے، ڈھول بجاؤ
Summary:
The Stigma of Childlessness Shabana’s 11-Year Struggle and Societal Pressures
Triggered by a shocking newborn kidnapping incident at Peshawar’s Lady Reading Hospital (LRH), this feature article delves deep into the heavy psychological burden, social isolation, and relentless taunts faced by women dealing with childlessness in traditional Pashtun society.
At the heart of the narrative is Shabana, a 30-year-old working woman from Peshawar whose marriage is approaching its eleventh year without children. Despite her professional life, Shabana has endured years of covert and overt emotional abuse, ranging from her in-laws’ obsession with male heirs and threats of her husband’s second marriage, to insensitive gossip from women in hospital waiting rooms. Her story highlights how society automatically blames the woman for infertility without medical validation.
To provide a well-rounded perspective, the article incorporates expert insights:
-
Psychological Impact: Swat-based psychologist Sara Khan explains that continuous taunts erode a woman’s self-esteem, plunging her into depression, anxiety, and deep isolation, stressing the vital need for a husband’s emotional support.
-
Medical Realities: Dr. Nadia, a consultant gynecologist at Government General Hospital Nauthia Peshawar, points out that infertility is a mutual medical condition that can affect either men or women. She emphasizes that comprehensive check-ups—including semen analysis for husbands—are essential, and medical science offers viable solutions like ART and advanced treatments.
Ultimately, the article challenges the societal mindset that reduces a woman’s worth solely to motherhood. It urges communities to replace cruel stigmas and blame with empathy, proper medical awareness, and emotional support for affected couples.




