An editorial illustration of hundreds of distressed men gathered in the dusty courtyard of a large, cracked ancient stone fortress. Prominent white Urdu text at the top reads, 'P.T.I.'s strong fort is conquered,' and below it, 'P.T.I. leadership is missing, workers are helpless.' A banner on the fort wall says, 'P.T.I.'s strong fort.' Tattered flags hang from the ramparts. The scene conveys a sense of defeat and abandonment, with men seated sadly on the ground and an empty podium.

خیبر پختونخوا میں گورنر راج: پی ٹی آئی کے پروان چڑھتے دعوے، زمینی حقیقت اور خاموشی کا المیہ

دی خیبر ٹائمز ڈیسک
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں خیبر پختونخوا کو ہمیشہ سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا ناقابلِ تسخیر قلعہ اور اسٹریٹ پاور کا مرکز سمجھا جاتا رہا ہے۔ لیکن اکتوبر کے اس مہینے میں رونما ہونے والے سیاسی زلزلے اور گورنر راج کے نفاذ نے اس دعوے کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک ایسی سیاسی جماعت جو وفاق کو روزانہ کی بنیاد پر سڑکوں پر نکلنے، گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کرنے اور اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکیاں دیتی تھی، اس کے قلعے میں جب حقیقت کا سامنا کرنے کا وقت آیا تو وہاں ایک پراسرار، گہری اور معنی خیز خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ یہ صورتحال محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں، بلکہ اس بات کا غماز ہے کہ جب نظریاتی بنیادیں کھوکھلی ہوں اور صفوں میں تنظیمی انتشار موجود ہو، تو بڑے بڑے دعوے ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔

گورنر راج کے نفاذ سے قبل صوبائی قیادت اور کارکنان جس خوش فہمی کا شکار تھے، اس کا پول اس وقت کھلا جب ریاست کی طرف سے باقاعدہ حکمتِ عملی کے تحت کریک ڈاؤن کا آغاز ہوا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات نے پی ٹی آئی کی صفوں میں ایسی دراڑیں ڈالیں جنہیں چھپانا اب ناممکن ہو چکا ہے۔ کارروائیوں کا دائرہ اتنا وسیع تھا کہ اس نے پارٹی کی اگلی اور دوسری صف کے تمام اہم رہنماؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پشاور میں وزیر اعلیٰ ہاؤس سے غیر فعال وزیراعلیٰ سہیل افریدی کی گرفتاری یا تحویل ہو، اسپیکر ہاؤس سے بابر سلیم سواتی کا بغیر کسی مزاحمت کے اٹھایا جانا ہو، یا پھر خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے صدر اور رکن قومی اسمبلی جنید اکبر خان کو نامعلوم مقام پر منتقل کیا جانا ہو، ان تمام واقعات نے یہ ثابت کر دیا کہ قیادت کے پاس ریاست کے دباؤ کا مقابلہ کرنے کیلئے کوئی لائحہ عمل موجود ہی نہیں تھا۔

اس کریک ڈاؤن کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے ایوانوں سے لے کر گلی محلوں تک پی ٹی آئی کے نمائندے غائب یا بے بس دکھائی دئے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ڈیڑھ درجن سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، جن میں علی امین گنڈاپور اور علالت کے باعث بستر سے نہ اٹھ سکنے والے مشتاق غنی کی نظر بندیاں بھی شامل ہیں۔ مردان، کوہاٹ، چارسدہ، سوات اور ایبٹ آباد سے لے کر اسلام آباد تک، جہاں جہاں پی ٹی آئی کے رہنما موجود تھے، انہیں یا تو حراست میں لے لیا گیا یا ان کے عزیز و اقارب اور گن مینوں کو اٹھا کر ریاست کی رِٹ کو مسلط کر دیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جو جماعت کل تک وفاق کو للکار رہی تھی، آج اس کے سرکردہ رہنما یا تو روپوش ہیں یا پھر سوشل میڈیا پر چند علامتی بیانات یا ویڈیوز جاری کرنے تک محدود ہیں۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا یہ بیان اس سیاسی المئے پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے کہ انتظامیہ ہر قسم کی مزاحمت اور گورنر ہاؤس کے گھیراؤ کیلئے مکمل طور پر تیار بیٹھی تھی، لیکن نہ تو کوئی دیوار کے قریب آیا اور نہ ہی کسی نے گیٹ پر دستک دی۔ اس کے برعکس، صوبے کے کئی حصوں میں حکومت کے خاتمے پر خاموشی کے ساتھ ساتھ خوشی اور مٹھائیاں تقسیم ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ زمینی حقائق دعووں سے یکسر مختلف تھے۔

آج صورتحال یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں کارکنوں کی تعداد کے لحاظ سے ووٹر بیس شاید اب بھی موجود ہے، لیکن مناسب قیادت، باضابطہ تنظیم اور بروقت فیصلوں کے فقدان کی وجہ سے یہ ایک منظم سیاسی قوت کے بجائے محض ایک بکھرا ہوا ہجوم بن کر رہ گیا ہے۔ لیڈرز کی خاموشی اور کارکنوں کی بے بسی اس بات کا اشارہ ہے کہ پی ٹی آئی کو اس وقت کسی بیرونی دباؤ سے زیادہ اپنے اندرونی تنظیمی بحران، قیادت کے خوف اور حکمتِ عملی کی ناکامی کا سامنا ہے۔ اگر اس نوعیت کا سیاسی انجماد برقرار رہا، تو بادی النظر میں یہ دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی مقبول جماعت کا یہ گڑھ اپنی سیاسی اہمیت اور مزاحمتی سحر کو طویل عرصے کیلئے کھو بیٹھے گا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: اکتوبر پھر تاریخ کے کٹہرے میں: گورنر راج، ایمرجنسی اور خیبر پختونخوا کی منتخب قیادت کی حفاظتی تحویل

Editorial Summary: Khyber Pakhtunkhwa Under Governor’s Rule
* The Political Shift: Khyber Pakhtunkhwa (KP), long considered the invincible stronghold and center of street power for Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI), experienced a severe political shock following the imposition of Governor’s Rule.
* The Crackdown & Leadership Arrests: State machinery initiated a widespread, coordinated crackdown across the province:
* Former/Incapacitated Chief Minister Sohail Afridi was taken into protective custody from CM House in Peshawar without resistance.
* KP Assembly Speaker Babar Saleem Swati was taken into custody from Speaker House, while former GB CM Khalid Khursheed resisted and was forcibly removed.
* PTI KP Provincial President Junaid Akbar Khan (MNA) was detained and relocated from Peshawar.
* Over 200 individuals have been detained across KP and Islamabad, including 15 top lawmakers (11 MPAs and 4 MNAs).
* Raids were conducted on over 16 parliamentarians’ residences, including Ali Amin Gandapur, Mushtaq Ghani (both placed under house arrest), Aftab Alam, Zahir Shah Toru, Taimur Jhagra, and others.
* The Resistance Void: Despite prior threats from provincial leadership to surround Governor House and launch massive street protests against Governor’s Rule, the streets across Peshawar and KP remained silent. KP Governor Faisal Karim Kundi noted that no protesters approached the gates, and calm or public celebrations were observed in several districts instead.
* Analytical Takeaway: The article concludes that while PTI retains a large voter base in KP, the absence of active frontline leadership and lack of ground-level organization transformed the supporters into a “leaderless, scattered crowd.” Internal factions, sycophancy, and over-reliance on social media rather than physical mobilization led to the collapse of its resistance power.

About the Author
Nasir Dawar is a journalist, researcher and Editor of The Khyber Times, with extensive experience covering militancy, conflict, security and political developments in Khyber Pakhtunkhwa, the former FATA and Afghanistan. His research focuses particularly on militant movements, regional security, Afghanistan and Pakistan-Afghanistan relations.
Contact: dawarjan@gmail.com