Editorial illustration showing Pakistan’s natural resources, including gold, copper, coal and emeralds, contrasted with rising debt, elite privileges, poverty and the financial burden on ordinary citizens and future generations.

سونے کی کان پر بیٹھے بھکاری: قرض ملا ہے، ڈھول بجاؤ

ریکوڈک سے تھر تک خزانے ہی خزانے، مگر قوم کشکول لئے کھڑی ہے، حکمران قرض لیتے ہیں، اشرافیہ فائدہ اٹھاتی ہے اور آنے والی نسلیں قیمت ادا کرتی ہیں

تحریر و تحقیق: ناصر داوڑ
پاکستان عجیب ملک ہے۔ زمین کے نیچے سونا بھی ہے، تانبا بھی، کوئلہ بھی، لوہا بھی، زمرد بھی اور ایسی معدنی دولت بھی جسے دنیا کی بڑی معیشتیں اپنے مستقبل کی ضمانت سمجھتی ہیں۔ بلوچستان کے ریکوڈک میں اربوں ڈالر مالیت کے سونے اور تانبے کے ذخائر ہیں، تھر میں تقریباً 175 ارب ٹن کوئلے کے ذخائر موجود ہیں، خیبر پختونخوا کے پہاڑ قیمتی پتھروں اور معدنیات سے بھرے پڑے ہیں، مگر ان سب کے باوجود ہمارا قومی ہاتھ آج بھی کشکول پکڑے ہوئے ہے۔
اور مزے کی بات یہ ہے کہ ہمیں اس کشکول پر شرمندگی بھی نہیں۔
قرض ملتا ہے تو خوشی ہوتی ہے۔ قرض کی اگلی قسط آتی ہے تو حکومت کامیابی کا اعلان کرتی ہے۔ آئی ایم ایف سے معاہدہ ہو جائے تو وزیر خزانہ کے چہرے پر اطمینان آ جاتا ہے۔ دوست ملک کچھ ارب ڈالر دے دے تو قوم سکون کا سانس لیتی ہے۔
گویا ہم نے قومی ترقی کا نیا پیمانہ دریافت کر لیا ہے:
ملک نے کتنا کمایا نہیں، ملک نے کتنا قرض لیا۔
حالیہ قرضوں کی منظوری پر بھی اگر حکومت اور اس کے حامی جشن منانا چاہتے ہیں تو ضرور منائیں۔ ڈھول بجائیں، بھنگڑا ڈالیں، مٹھائیاں تقسیم کریں اور ایک دوسرے کو مبارکباد دیں کہ پاکستان ایک بار پھر قرض حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔
بس جشن کے دوران ایک چھوٹا سا کام اور کر لیں۔ “اپنے بچوں کو سامنے بٹھا لیں”۔
انہیں بتائیں کہ جو پیسہ آج ہم خرچ کر رہے ہیں وہ ہماری آمدنی نہیں، ان کا مستقبل گروی رکھ کر حاصل کیا گیا قرض ہے۔
شاید پھر بھنگڑے کی آواز کچھ مدھم پڑ جائے۔
غربت بڑھ رہی ہے، مگر شرمندگی کم ہو رہی ہے: عالمی بینک کی 7 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان پر مشتمل خطے کے انتہائی غریب لوگوں میں تقریباً 48 فیصد پاکستان میں رہتے ہیں۔ بین الاقوامی غربت کی 3 ڈالر یومیہ کی لکیر پر پاکستان میں غربت کی شرح میں 6.4 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے اور 20 فیصد سے زیادہ آبادی انتہائی غربت کی سطح پر پہنچ چکی ہے۔
یہ صرف چند اعداد نہیں۔
یہ کروڑوں انسان ہیں۔
یہ وہ گھر ہیں جہاں مہینے کے آخری ہفتے میں آٹا سوچ کر خریدا جاتا ہے۔ یہ وہ والدین ہیں جو بچے کی فیس اور بجلی کے بل میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو یونیورسٹی کی ڈگری ہاتھ میں لے کر بیرون ملک ویزے کیلئے قطار میں کھڑے ہیں کیونکہ اپنے ملک میں ان کیلئے مستقبل کی قطار بہت مختصر ہے۔
لیکن اسلام آباد میں ایک اور دنیا آباد ہے۔
وہاں قرض آتا ہے، پریس کانفرنس ہوتی ہے، بیان جاری ہوتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ معیشت اب مستحکم ہو رہی ہے۔
کمال یہ ہے کہ معیشت مستحکم ہونے کی خبر ہمیشہ غریب کو مہنگائی کے ذریعے ملتی ہے۔
86.72 کھرب کا سوال؟
مالی سال 2026 کے اختتام پر پاکستان کا عمومی قرضہ 86.72 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ بیرونی قرض اور واجبات 138.85 ارب ڈالر کی سطح تک جا پہنچے ہیں۔
یہ اعداد سن کر شاید عام آدمی کے ذہن میں کوئی خاص تصویر نہ بنے۔ کھرب ایک ایسا لفظ ہے جو اتنا بڑا ہے کہ اس میں غریب آدمی کا پورا محلہ بھی گم ہو سکتا ہے۔
اس لئے اسے یوں سمجھیں کہ ہم اتنے قرض میں ڈوب چکے ہیں کہ وفاقی حکومت کو صرف قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے مالی سال 2026 میں تقریباً 6.948 کھرب روپے درکار ہیں۔
یعنی بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ اس کام پر خرچ ہو رہا ہے کہ ماضی میں لئے گئے قرضوں کی قیمت ادا کی جائے۔
یہ پیسہ نئی یونیورسٹی بنانے میں نہیں جا رہا۔
نئی صنعت لگانے میں نہیں جا رہا۔
ہسپتالوں میں نہیں جا رہا۔
تحقیق میں نہیں جا رہا۔
روزگار پیدا کرنے میں نہیں جا رہا۔
یہ ماضی کے قرض کی قیمت ہے۔
اور ہم اسے معمول سمجھ کر آگے بڑھ رہے ہیں۔
78 سال، 36 سال آئی ایم ایف کے ساتھ
پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں تقریباً 36 سال مختلف ادوار میں آئی ایم ایف کے پروگراموں کے ساتھ گزرے ہیں۔ مختلف حکومتیں آئیں، مختلف منشور آئے، مختلف نعرے لگے، مگر معاشی بیماری تقریباً وہی رہی۔
ہم نے قرض لیا، کچھ عرصہ گزارا، بحران آیا، پھر آئی ایم ایف کے پاس گئے۔
پھر اصلاحات کا وعدہ کیا۔
پھر کچھ عرصہ گزارا۔
پھر بحران آیا۔
پھر وہی کشکول۔
یہ سلسلہ اتنا پرانا ہو چکا ہے کہ نئی نسل کیلئے شاید آئی ایم ایف بھی کسی عالمی مالیاتی ادارے سے زیادہ پاکستان کے معاشی نظام کا مستقل حصہ محسوس ہوتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ آئی ایم ایف برا ہے یا اچھا۔
سوال یہ ہے کہ ہم ہر سال اسی دروازے پر کیوں کھڑے ہوتے ہیں؟
اگر ایک مریض تین دہائیوں سے ایک ہی بیماری کی دوا کھا رہا ہو اور ہر بار بیماری واپس آ رہی ہو تو شاید مسئلہ صرف دوا کا نہیں، علاج کے پورے طریقہ کار کا ہے۔
اشرافیہ کیلئے رعایت، عوام کیلئے بل:
پاکستان میں سب سے دلچسپ معاشی تماشا یہ ہے کہ جس ریاست کے پاس عام آدمی کو ریلیف دینے کیلئے پیسے نہیں، اسی ریاست کے پاس طاقتور طبقات کو مراعات دینے کیلئے وسائل نکل آتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام سے منسوب ایک تخمینے کے مطابق پاکستان کی صنعتی، جاگیردارانہ، سیاسی اور بیوروکریٹک اشرافیہ کو سالانہ تقریباً 17.4 ارب ڈالر کی مراعات، ٹیکس استثنیٰ اور سبسڈی حاصل ہوتی ہیں۔
سترہ ارب ڈالر!
ذرا اس رقم کو پاکستان کے ایک عام شہری کے بجلی کے بل کے ساتھ رکھ کر دیکھئے۔
ایک طرف وہ شخص ہے جو چند ہزار روپے کا بل ادا نہ کر سکنے پر میٹر کٹنے کے خوف میں مبتلا ہے۔
دوسری طرف وہ نظام ہے جہاں اربوں ڈالر کی مراعات پر بحث بھی شاید اتنی سنجیدگی سے نہیں ہوتی جتنی ایک غریب کے چند سو روپے کے واجب الادا بل پر ہوتی ہے۔
یہ معاشی انصاف نہیں۔
یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں کمزور سے ریاست اپنی پوری طاقت سے وصول کرتی ہے اور طاقتور کے سامنے اپنی طاقت بھول جاتی ہے۔
TERF کے اربوں اور راز داری کی دیوار
کووڈ کے زمانے میں Temporary Economic Refinance Facility یعنی TERF کے ذریعے صنعتی شعبے کو تقریباً 3 ارب ڈالر کے قرضے فراہم کئے گئے۔ ان قرضوں پر شرح سود انتہائی کم، بعض معاملات میں صفر کے قریب، رکھی گئی تاکہ صنعت کو سہارا مل سکے۔
اصولاً یہ ایک معاشی پالیسی تھی جس کا مقصد سرمایہ کاری اور صنعتی سرگرمی بڑھانا تھا۔
لیکن سوال وہاں پیدا ہوا جہاں عوامی نمائندوں نے اسمبلی فلور سے ان قرضوں کے مستفید ہونے والوں کی تفصیلات مانگیں اور شفافیت کا مسئلہ سامنے آیا۔
اگر عوامی وسائل سے رعایتی مالی سہولت دی گئی ہے تو عوام یہ جاننے کا حق کیوں نہ رکھیں کہ فائدہ کس کو ملا؟
یہ سوال کسی ایک صنعت کار کے خلاف نہیں۔
یہ ریاستی شفافیت کے بارے میں سوال ہے۔
بنک سے جواب ملا کہ وہ ان ناموں کی تفصیل اس لئے نہیں دے سکتے ہیں، کیونکہ اس سے کسی کا راز فاش ہوتا ہے، اور ان کی بے عزتی ہوتی ہے، اور وہ ایسا نہیں کرسکتا۔
آخر عوام سے ٹیکس لینے میں کوئی رازداری نہیں تو عوام کے پیسے سے رعایت دینے میں اتنی پردہ داری کیوں؟
NHA کے 42 ارب اور سڑک پر کھڑا سوال
ہم ٹول ٹیکس بھی دیتے ہیں۔
پٹرول پر ٹیکس بھی دیتے ہیں۔
بجلی پر ٹیکس بھی دیتے ہیں۔
خریداری پر ٹیکس بھی دیتے ہیں۔
پھر اگر کہیں مالی بے قاعدگی سامنے آ جائے تو اس کی قیمت بھی بالآخر وہی شہری ادا کرتا ہے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے معاملات سے متعلق تقریباً 42 ارب روپے کی مالی بے قاعدگیوں کے اعتراضات سامنے آ چکے ہیں۔ الیکٹرانک ٹول کلیکشن کے حوالے سے بھی اربوں روپے کے معاملات پر سوالات اٹھے، جبکہ بعض رپورٹس میں 3.49 ارب روپے کے جرمانوں کی وصولی کا مسئلہ بھی سامنے آیا۔
یہاں ایک عام پاکستانی کیلئے سوال بہت سادہ ہے:
اگر حکومت ٹول لینے میں اتنی تیز ہے تو حساب دینے میں اتنی سست کیوں؟
بجلی استعمال کرو یا نہ کرو، پیسے دو
توانائی کا شعبہ تو ہماری معاشی کہانی کا مستقل المیہ بن چکا ہے۔
آئی پی پیز کے ساتھ کئے گئے معاہدوں، کیپیسٹی پیمنٹس اور گردشی قرضے پر برسوں سے بحث جاری ہے۔ بجلی استعمال ہو یا نہ ہو، بعض معاہدوں کے تحت پیداواری صلاحیت کیلئے ادائیگیوں کا نظام صارفین اور ریاست دونوں پر بھاری پڑتا رہا ہے۔؎
مہنگی بجلی۔بجلی کے بلوں میں ٹیکس۔صنعت کیلئے مہنگی توانائی۔عام آدمی کے لئے مہنگا پنکھا۔ اور حکومت کیلئے بڑھتا ہوا گردشی قرض۔
پاور سیکٹر کا گردشی قرض تقریباً 2.4 کھرب روپے کی سطح پر پہنچ چکا ہے۔
پھر ایک عام انسان حیران ہوتے ہیں کہ صنعت کیوں نہیں چل رہی۔
صنعت بند ہو تو روزگار کم ہوتا ہے۔
روزگار کم ہو تو نوجوان باہر جاتا ہے۔
نوجوان باہر جائے تو ترسیلات زر آتی ہیں۔
ترسیلات زر آئیں تو حکومت سکون کا سانس لیتی ہے۔
اور پھر اسی ترسیلات زر کو زرمبادلہ کے ذخائر اور قرض کی ادائیگی کے نظام میں استعمال کرکے ہم اعلان کرتے ہیں:
معیشت بچ گئی۔
کیا واقعی؟
کراچی کماتا ہے، پاکستان خرچ کرتا ہے
پاکستان کے ٹیکس نظام کی ایک اور تلخ حقیقت علاقائی اور طبقاتی تقسیم ہے۔
مالی سال 2025 میں لارج ٹیکس پیئر یونٹ کراچی نے تقریباً 3.256 کھرب روپے ریونیو جمع کیا جبکہ سندھ ریونیو بورڈ نے 306.6 ارب روپے وصول کئے۔
کراچی صرف ایک شہر نہیں، پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے۔
بندرگاہیں، صنعت، تجارت، بینکاری، درآمدات اور برآمدات سب اس شہر کو قومی معیشت کیلئے غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں۔
اس کے باوجود قومی وسائل کی تقسیم، شہری سہولتوں اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل ختم نہیں ہوئے۔
دوسری طرف زرعی شعبہ قومی پیداوار کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ پیدا کرتا ہے لیکن زرعی آمدنی پر مؤثر ٹیکس وصولی ہمیشہ سیاسی مزاحمت اور انتظامی کمزوریوں کا شکار رہی ہے۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں ایک سوال پھر کھڑا ہوتا ہے:
پاکستان میں ٹیکس دینے والا ہی ہمیشہ کیوں نظر آتا ہے اور ٹیکس نہ دینے والا طاقتور کیوں نہیں؟
ہماری سب سے قیمتی برآمد: نوجوان
پاکستان شاید اپنی سب سے قیمتی چیز خام مال کی شکل میں نہیں بلکہ انسانی صلاحیت کی شکل میں برآمد کر رہا ہے۔
ڈاکٹر باہر۔
انجینئر باہر۔
آئی ٹی ماہر باہر۔
نرس باہر۔
سائنس دان باہر۔
ہنرمند نوجوان باہر۔
اور پھر انہی لوگوں کی بھیجی ہوئی ترسیلات زر پاکستان کو سہارا دیتی ہیں۔
حالیہ برسوں میں بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات سالانہ 35 سے 40 ارب ڈالر کے قریب رہی ہیں۔
ذرا تصور کریں اگر یہی لوگ پاکستان میں رہ کر اتنی ہی بڑی معاشی سرگرمی پیدا کرتے تو کیا ہوتا؟
ہمیں زرمبادلہ بھی ملتا۔
صنعت بھی بنتی۔
ٹیکس بھی آتا۔
تحقیق بھی ہوتی۔
نئی کمپنیاں بھی بنتیں۔
روزگار بھی پیدا ہوتا۔
لیکن ہم نے ایسا ماحول پیدا کرنے کے بجائے نوجوان کو پاسپورٹ پکڑا دیا۔
جس ملک کے بہترین نوجوان مستقبل تلاش کرنے کیلئے ملک سے باہر نکل جائیں، اسے صرف برین ڈرین نہیں کہتے، اسے قومی اعتماد کا بحران کہتے ہیں۔
افغان سرحد بند، معیشت بھی بند
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی نے ایک اور معاشی موقع کو نقصان پہنچایا ہے۔
اکتوبر 2025 سے تورخم اور چمن سمیت اہم سرحدی راستوں کی بندش اور تجارت میں رکاوٹوں کے نتیجے میں پاکستانی تاجروں اور برآمد کنندگان کو بڑے مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
دستیاب تخمینوں کے مطابق براہ راست تجارتی نقصان 1.4 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ برآمد کنندگان کو ماہانہ تقریباً 177 ملین ڈالر کے نقصان کا سامنا رہا۔ سرحد پر پھنسے کنٹینرز کی وجہ سے روزانہ تقریباً 1.2 ملین ڈالر تک اضافی لاگت اور جرمانوں کی بات بھی سامنے آئی ہے۔
یہاں پھر ایک بنیادی حقیقت سامنے آتی ہے:
پاکستان صرف جنگ اور سلامتی کا ملک نہیں۔
پاکستان تجارت کا ملک بھی ہے۔
اسے افغانستان کے راستے وسطی ایشیا تک جانا ہے۔
اسے اپنی برآمدات بڑھانی ہیں۔
اسے بندرگاہوں کو استعمال کرنا ہے۔
اسے علاقائی تجارت میں حصہ لینا ہے۔
لیکن اگر ہر سیاسی اور سکیورٹی بحران میں سرحد بند ہو جائے تو پھر تجارت کیسے بڑھے گی؟
سلامتی ضروری ہے، مگر معاشی خودکشی کو سلامتی کی پالیسی کا مستقل متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔
اور پھر ہم ماسکو میں بھی لڑ رہے ہیں
پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلاف اب صرف سرحدی چوکیوں تک نہیں رہا۔
ماسکو فارمیٹ کے حالیہ اجلاس میں دونوں جانب سے سخت مؤقف سامنے آئے اور مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہو سکا۔ یعنی ایک ایسا علاقائی فورم جو افغانستان کے مسئلے پر بات چیت اور تعاون کیلئے بنایا گیا تھا، وہ بھی پاکستان اور افغان طالبان کے بنیادی اختلافات کو کسی مشترکہ زبان میں ڈھالنے میں ناکام رہا۔
پاکستان ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی اور افغانستان میں ان کی مبینہ موجودگی کو بنیادی مسئلہ قرار دیتا ہے۔
افغان طالبان پاکستان کی پالیسیوں اور سرحد پار کارروائیوں کو مسئلہ قرار دیتے ہیں۔
دونوں اپنے اپنے حق میں دلائل رکھتے ہیں۔
مگر اس سیاسی کشمکش کی قیمت سرحدی تاجر، ٹرانسپورٹر، مزدور، برآمد کنندہ اور عام شہری ادا کرتا ہے۔
اور ہم پھر بھی بھنگڑا ڈال سکتے ہیں، کیونکہ قرض ابھی منظور ہوا ہے۔
اصل غربت پیسوں کی نہیں، سوال کی ہے
پاکستان کی سب سے خطرناک غربت شاید جیب کی غربت نہیں۔
سوال کرنے کی غربت ہے۔
ہم نے پوچھنا چھوڑ دیا ہے کہ قرض کیوں لیا؟
کتنا لیا؟
کہاں خرچ ہوا؟
کون فائدہ اٹھا رہا ہے؟
واپس کون کرے گا؟
ٹیکس کون دے رہا ہے؟
مراعات کس کو مل رہی ہیں؟
سرکاری ادارے خسارے میں کیوں ہیں؟
نوجوان ملک سے کیوں جا رہے ہیں؟
بجلی اتنی مہنگی کیوں ہے؟
برآمدات اتنی کم کیوں ہیں؟
زراعت پر مؤثر ٹیکس کیوں نہیں؟
اور سب سے اہم سوال:
قدرت نے ہمیں اتنا کچھ دیا تو ہم پھر بھی غریب کیوں ہیں؟
ہم نے سوال کی جگہ شخصیت پرستی رکھ دی۔
احتساب کی جگہ جماعتی وابستگی رکھ دی۔
معاشی بحث کی جگہ سیاسی نعرہ رکھ دیا۔
اور قومی مفاد کی جگہ اپنے اپنے گروہ کا مفاد رکھ لیا۔
اسی لئے حکمران بدلتے رہے، مگر کشکول وہیں رہا۔
اب بھی وقت ہے، مگر شاید ہم سنجیدہ نہیں
پاکستان کے پاس ابھی بھی وسائل ہیں۔
نوجوان ہیں۔
زرعی زمین ہے۔
سمندر ہے۔
بندرگاہیں ہیں۔
معدنیات ہیں۔
مقامِ جغرافیہ ہے۔
بیرون ملک پاکستانی ہیں۔
اور سب سے بڑھ کر ایک ایسی آبادی ہے جو اگر درست پالیسی، تعلیم، ہنر اور مواقع حاصل کرے تو کسی بھی معیشت کو بدل سکتی ہے۔
لیکن قدرتی وسائل خود ملک کو امیر نہیں بناتے۔
کرپشن کے خلاف تقریر بھی کافی نہیں۔
اصل تبدیلی اس وقت آئے گی جب ریاست کا نظام طاقتور کو جواب دہ اور عام شہری کو بااختیار بنائے گا۔
جب ٹیکس کا بوجھ منصفانہ ہوگا۔
جب مراعات کی قیمت عوام سے چھپائی نہیں جائے گی۔
جب قرض ترقی کے لیے لیا جائے گا، تنخواہوں اور پرانے قرض کی قسطوں کے لیے نہیں۔
جب معدنی دولت قومی خزانے اور مقامی آبادی دونوں کے فائدے میں استعمال ہوگی۔
جب نوجوان کو ملک چھوڑنے کے بجائے ملک میں رہنے کی وجہ ملے گی۔
اور جب حکومت قرض ملنے کو کامیابی نہیں بلکہ قرض اتارنے کی ذمہ داری سمجھے گی۔
تو پھر بھنگڑا ڈالیں یا حساب مانگیں؟
آخر میں فیصلہ ہمارا ہے۔
اگر ہمیں واقعی موجودہ حکمرانوں کی کارکردگی پسند ہے، اگر ہمیں 86.72 کھرب روپے کا قرض قابل فخر لگتا ہے، اگر 138.85 ارب ڈالر کا بیرونی قرض ہمیں پریشان نہیں کرتا، اگر 6.948 کھرب روپے کا سود ہماری ترجیح نہیں، اگر 17.4 ارب ڈالر کی اشرافیائی مراعات پر سوال نہیں اٹھانا، اگر نوجوانوں کا ملک چھوڑنا ہمیں معمول لگتا ہے، اگر بجلی کے بل اور پٹرول کی قیمت ہمیں قسمت کا لکھا محسوس ہوتی ہے اور اگر ہر نئے قرض پر ہمیں قومی کامیابی کا احساس ہوتا ہے تو پھر واقعی:
ڈھول نکالئے۔
بھنگڑا ڈالئے۔
مٹھائیاں بانٹئے۔
قرض منظور ہو گیا ہے!
لیکن اگر ہم ذرا سا بھی مستقبل کے بارے میں سوچتے ہیں تو جشن کے بجائے سوال کرنا چاہئے۔
کیونکہ آج جو قرض حکومت کے لئے ’’مالی سہولت‘‘ ہے، کل وہ ہمارے بچوں کے لئے قسط ہوگا۔
آج جو رقم ہمارے لئے ’’ریلیف‘‘ ہے، کل وہ ان کے بجٹ سے کٹنے والی رقم ہوگی۔
آج جو حکمران تالیاں وصول کر رہے ہیں، کل وہ نہیں ہوں گے۔
قرض رہے گا۔
اس کا سود رہے گا۔
اس کی قسط رہے گی۔
اور اسے ادا کرنے کیلئے ایک نئی نسل کھڑی ہوگی۔
پاکستان کے پاس سونا ہے، تانبا ہے، کوئلہ ہے، زمرد ہے، سمندر ہے، نوجوان ہیں اور دنیا کے بہترین جغرافیائی مقامات میں سے ایک ہے۔
بس ایک چیز کی شدید کمی ہے،اپنے حکمرانوں سے حساب مانگنے والی قوم۔
اور شاید یہی ہماری اصل غربت ہے۔
کشکول ہاتھ میں نہیں، ذہن میں ہے۔
اور جب تک ہم سوال کرنا نہیں سیکھتے، سونے پر بیٹھا یہ ملک قرض پر ہی بھنگڑا ڈالتا رہے گا۔

یہ بھی ملاحظی کیجئے: پاک افغان تعلقات اور آٹھواں ماسکو فارمیٹ: کیا علاقائی سفارت کاری کشیدگی کم کر سکے گی؟

Short Summary

Pakistan is rich in natural resources but remains trapped in rising debt, poverty, economic inequality and weak governance. Despite vast reserves of gold, copper, coal and other minerals, the country continues to rely heavily on domestic and foreign borrowing, while debt servicing, elite privileges, tax inequities, energy-sector liabilities and economic mismanagement place increasing pressure on ordinary citizens. The article examines how Pakistan’s economic potential has failed to translate into broad-based prosperity and questions the growing public acceptance of borrowing as an achievement rather than a burden on future generations.