An illustrative image split into two scenes. The top, right-hand scene shows a modern, guarded private jet labeled "GOVERNMENT" on a pristine runway, with a large house. The bottom, left-hand scene shows a poor, exhausted man emerging from a filthy sewer manhole in a impoverished street with bread lines. Large Urdu text overlays both sections, highlighting the contrast.

پاکستان کا معاشی بحران، اشرافیہ کی شاہ خرچیاں اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم: ایک تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ

دی خیبر ٹائمز : خصوصی تحریر
پاکستان اس وقت اپنی 77 سالہ تاریخ کے انتہائی سنگین اور پیچیدہ معاشی، سیاسی اور سماجی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف ملکی معیشت ملکی و غیر ملکی قرضوں کی دلدل میں دبی ہوئی ہے جہاں قومی آمدنی کا غالب حصہ محض سود کی ادائیگی کی نذر ہو جاتا ہے، تو دوسری طرف عوام کی اکثریت بنیادی انسانی ضروریات، بشمول غذا، علاج اور تعلیم سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔ اس معاشی انحطاط کا سب سے تشویشناک پہلو وسائل کا قحط نہیں، بلکہ ریاست کے مالیاتی و قدرتی وسائل کی غیر مساوی تقسیم، شفافیت کا فقدان اور سول و ملٹری اشرافیہ کا پرتعیش اور شاہانہ طرزِ زندگی ہے۔ کراچی بندرگاہ کے زرمبادلہ، قومی شاہراؤں اور موٹرویز کے اربوں روپے کے ٹول ٹیکس، اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے نکلنے والے بے شمار معدیات، تیل و گیس کے ذخائر سے خطیر محاصل پیدا ہونے کے باوجود یہ سوال شدت اختیار کر چکا ہے کہ یہ قومی ثروت آخر کس کھاتے میں جا رہی ہے اور عام شہری کی حالتِ زار میں بہتری کیوں ممکن نہیں ہو پا رہی۔
پاکستان کا کل مالیاتی ڈھانچہ غیر ملکی اور اندرونی قرضوں کی ادائیگیوں کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وزارتِ مالیات کے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، مارچ 2026 کے اختتام تک پاکستان کا کل عمومی عوامی قرضہ (Public Debt) 83,285 ارب روپے (83.285 ٹریلین روپے) کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ یہ حجم جون 2025 میں 80,518 ارب روپے اور جولائی 2024 میں 69.6 ٹریلین روپے ریکارڈ کیا گیا تھا۔ مجموعی قومی لائبلیٹیز اور عمومی عوامی قرضے کے دیگر سرکاری جائزے اس حجم کو 86.72 ٹریلین روپے کے قریب ظاہر کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں قرض کا جی ڈی پی سے تناسب تقریباً 68.3 فیصد سے 83.5 فیصد کے درمیان گردش کر رہا ہے۔
قومی مالیات پر سب سے سنگین بوجھ سود کی ادائیگی یعنی ڈیٹ سروسنگ کا ہے۔ مالیاتی سال 2026-27 کے وفاقی اخراجات کی تخصیص میں کل 25.16 ٹریلین روپے کے تخمینے کے مقابلے میں صرف قرضوں کے سود اور اصل زر کی ادائیگی کے لیے 8.054 ٹریلین روپے (8 کھرب 54 ارب روپے) کی رقم مختص کی گئی ہے۔ یہ تخصیص مجموعی وفاقی اخراجات کے 32 فیصد سے لے کر 42.9 فیصد حصے کو نگل جاتی ہے۔ اس رقم میں سے 6.982 ٹریلین روپے اندرونی (ملکی) قرضوں کی سروسنگ پر خرچ ہوں گے تاکہ ملکی بینکوں اور سکوک بانڈز کے واجبات ادا کئے جا سکیں، جبکہ 1.071 ٹریلین روپے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں و کمرشل بینکوں کے واجبات کی نذر ہو جائیں گے۔
مالیاتی عدم توازن کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وفاقی ترقیاتی بجٹ (PSDP) کیلئے کل 1.61 ٹریلین روپے رکھنا تجویز کیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی ڈیٹ سروسنگ کی رقم وفاقی ترقیاتی بجٹ کے مقابلے میں 5.0 گنا زیادہ ہے۔ سود کی ادائیگیاں قومی بجٹ کا وہ اہم ترین جزو بن چکی ہیں جس کی وجہ سے صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر جیسے عوامی بہبود کے شعبے یکسر نظر انداز ہو رہے ہیں۔
مالیاتی زوال کے براہِ راست اثرات عام شہری کی زندگی پر مرتب ہو رہے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور گلوبل ہنگر انڈیکس کی رپورٹس کے مطابق پاکستان خطے میں معاشی عدم استحکام اور بھوک کا نیا مرکز بن کر ابھرا ہے۔ گلوبل ہنگر انڈیکس میں پاکستان کا منفی اسکور 25.5 فیصد تک جا پہنچا ہے، جو کہ خطے کے دیگر ممالک جیسے بھارت (24.1) اور بنگلہ دیش (19.2) کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ابتر ہے۔
عالمی بینک کے معاشی اعداد و شمار اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ سال 2018-19 میں خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والی آبادی کی شرح 22 فیصد تھی، جو کہ اب بڑھ کر 29 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ ملک کی تقریباً 7 کروڑ سے زائد آبادی بنیادی انسانی ضرورتوں اور غذا کی شدید قلت کا شکار ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے سیاسی عدم استحکام، افراطِ زر کی بلند ترین شرح اور کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث عام شہری کی قوتِ خرید میں 60 فیصد تک ہولناک کمی واقع ہوئی ہے۔
عام شہری کے اس معاشی استحصال میں حکومتی پیٹرولیم پالیسی کا بنیادی کردار ہے۔ حکومت پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) کے نام پر شہریوں سے فی لیٹر 100 سے 150 روپے تک اضافی ٹیکس وصول کر رہی ہے۔ معاشی و صنعتی تجزیوں سے یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ملک میں استعمال ہونے والے ڈیزل کا 70 سے 87 فیصد حصہ مقامی ریفائنریز میں ہی تیار کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود، حکومت مقامی سطح پر تیار شدہ ڈیزل کی قیمتوں کا تعین بھی عالمی منڈی کی اعلیٰ ترین نرخوں (Import Parity Price) کے مطابق کرتی ہے۔ اس پالیسی کا سارا بوجھ دیہی معیشت، زراعت اور ٹرانسپورٹیشن پر پڑ رہا ہے، جہاں ٹیوب ویل اور ٹریکٹر چلانے کی لاگت میں بے پناہ اضافے نے زرعی اجناس کی قیمتوں کو عام آدمی کی رسائی سے باہر کر دیا ہے۔
قومی شاہراہوں، کراچی پورٹ اور معدنیات کی در آمدنی کا سچ
عوامی سطح پر یہ سوال کثرت سے اٹھایا جاتا ہے کہ اگر ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے تو موٹرویز، بندرگاہوں اور ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی اربوں روپے کی روزانہ کی آمدن کہاں جا رہی ہے۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کے مالیاتی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ٹول ٹیکس کی وصولیوں میں سالانہ بنیادوں پر نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مالیاتی سال 2018-19 میں NHA کی ٹول سے سالانہ آمدن 32.394 ارب روپے تھی، جو کہ مالیاتی سال 2024-25 میں بڑھ کر 64.79 ارب روپے ہو گئی۔ مالیاتی سال 2025-26 میں یہ وصولی مزید بڑھ کر 85.550 ارب روپے کے ریکارڈ ہندسے کو چھو گئی، جو پچھلے مالیاتی سال (64.430 ارب روپے) کے مقابلے میں 21 ارب روپے سے زائد کا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ حالیہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور ٹول ریٹس کی بنیاد پر NHA کی مجموعی سالانہ آمدن 110 ارب روپے سے بڑھ کر 160 ارب روپے کے ہدف کی طرف گامزن ہے۔
پچھلے 5 سالوں کے اعداد و شمار کے مطابق NHA نے قومی شاہراہوں اور موٹرویز سے مجموعی طور پر 178.894 ارب روپے ٹول ٹیکس کی مد میں جمع کئے۔ اس کے علاوہ موٹروے پولیس کے چالان اور فائنز سے 37.291 ارب روپے، سڑکوں کی حفاظت اور ایکسل لوڈ کنٹرول کرنے والے وزنی اسٹیشنز (Weigh Stations) سے 6.197 ارب روپے، اور این او سی فیس و رینٹل چارجز سے 23.734 ارب روپے حاصل ہوئے۔
قانون کے مطابق ٹول ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم روڈ مینٹیننس اکاؤنٹ (RMA) میں منتقل کی جاتی ہے تاکہ شاہراہوں کی مرمت اور بحالی پر خرچ کی جائے۔ لیکن اس خطیر رقم کے باوجود، NHA کو شدید مالیاتی قلت کا سامنا رہتا ہے اور ناقص معاشی منصوبہ بندی کے باعث اس کا التوا شدہ ترقیاتی بوجھ 1.192 ٹریلین روپے تک جمع ہو چکا ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ RMA کا ریونیو اکثر ترقیاتی اسکیموں کی ماضی کی نادہندگیاں چکانے، نجی ٹھیکیداروں کی ایڈجسٹمنٹس اور انتظامی اخراجات کی نذر ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے شفافیت کا فقدان قائم رہتا ہے۔
اسی طرح کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT) ایک خودمختار صنعتی و تجارتی ادارے کے طور پر سالانہ 61.7 ملین ڈالر (ساڑھے 6 کروڑ ڈالر) سے زائد کا ریونیو زرمبادلہ اور ڈیوٹیز کی مد میں پیدا کرتا ہے۔ یہ رقم اور ملک بھر سے جمع ہونے والا اربوں کا معدنی ریونیو براہِ راست مرکزی وفاقی کنسولیڈیٹڈ فنڈ اور خسارے کی ترسیل میں استعمال ہو جاتا ہے تاکہ جاری خسارے کو پورا کیا جا سکے اور قرضوں کی قسطیں چکائی جا سکیں، جس کا کوئی مانیٹرنگ میکانزم عام شہری کے سامنے پیش نہیں کیا جاتا۔

کرک اور وزیرستان کا تیل و گیس: قدرتی وسائل اور مقامی محرومی
پاکستان کا ایک اور بنیادی معاشی المیہ قدرتی وسائل سے مالا مال علاقوں کی مقامی آبادی کو ان کے آئینی ثمرات سے محروم رکھنا ہے۔ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع بالخصوص کرک، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان اس ناانصافی کی واضح مثال ہیں۔
ضلع کرک سے تیل اور گیس کی پیداوار ملکی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ او جی ڈی سی ایل اور دیگر تیل تلاش کرنے والی کمپنیوں کی رپورٹس کے مطابق کرک سے روزانہ ہزاروں بیرل خام تیل اور ملین کیوبک فٹ (MMCFD) گیس حاصل کی جاتی ہے۔ تاہم، سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خود ضلع کرک میں ایک بڑی آبادی پائپ لائن گیس اور پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ آئل اینڈ گیس رائلٹی اور پیداواری بونس کی جو خطیر رقم مقامی آبادی کی بہبود، اسکولوں، سڑکوں اور اسپتالوں کیلئے مختص ہونی چاہئے، وہ صوبائی اور وفاقی بیوروکریٹک طریقہ کار اور انتظامی تاخیر کی نذر ہو جاتی ہے۔
اسی طرح شمالی وزیرستان کے علاقے (مثلاً شیوہ گیس فیلڈ) سے ماڑی پیٹرولیم اور OGDCL کی جانب سے گیس اور کنڈینسائٹ کے نئے اور بڑے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ ان فیلڈز سے روزانہ کروڑوں کیوبک فٹ گیس قومی گرڈ میں شامل کی جا رہی ہے تاکہ ملک کے دیگر صنعتی مراکز کو توانائی فراہم کی جا سکے۔ لیکن وزیرستان کے مقامی قبائلی شہری، جو دہائیوں سے ناامنی اور بے گھر ہونے کے عذاب سے گزرے ہیں، ان قدرتی ذخائر کی آمدن اور ترقیاتی ثمرات سے محروم ہیں۔ مرکز اور صوبے کے درمیان رائلٹی کی رقم کا عدم شفاف تبادلہ اور مقامی بنیادی ڈھانچے کی عدم توجہی اس خطے میں معاشی محرومی کو مزید گہرا کر رہی ہے۔
اس سے کہیں ذیادہ تشویشناک صورتحال بلوچستان کی ہے، جو گیس پٹرولیم اور دیگر قیمتی معدنیات کی بدولت ملکی خزانے کو بھاری زرمبادلہ اور معاشی استحکام فراہم کرسکتا ہے، تاہم خود اس صوبے کے عوام انتہائی ناگفتہ بہ حالات کا شکار ہیں، جو اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ ریاست اپنے فرائض اور مساوی حقوق کی فراہمی میں نا انصافی کر رہی ہے۔

اشرافیہ کے پرتعیش اخراجات بمقابلہ سینیٹری ورکرز کا انسانی المیہ
معاشی بحران کے دوران جہاں عام عوام پر ٹیکسوں اور افراطِ زر کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے، وہاں حکمران طبقے کی مراعات، سرکاری جیٹس کے استعمال اور غیر پیداواری اخراجات میں کوئی کمی نہیں دیکھی گئی۔
ریاستی آمدنی کا 32 فیصد سے زائد حصہ صرف دفاع اور فوجی پینشنز کی نذر ہو جاتا ہے، جبکہ 8 ٹریلین روپے سے زائد رقم قرضوں کے سود کی ادائیگی میں بہہ جاتی ہے۔ اس کے بعد بچنے والے نا کافی وسائل کو عوامی بہبود، صحت اور بنیادی صفائی کے نظام کو جدید بنانے کے بجائے اشرافیہ کے پروٹوکول اور اعلیٰ اداروں کے بجٹ پر صرف کیا جاتا ہے۔
انگریزی و ملکی قانون سازی کے ایوانوں پر ہونے والے اخراجات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کو چلانے اور انتظامی امور پر سالانہ 27 ارب روپے کا بھاری بجٹ خرچ ہو رہا ہے، جس کے بدلے عوام کو کوئی مستحکم معاشی راحت نہیں مل رہی۔ اسی طرح اعلیٰ عدلیہ اور آئینی عدالتوں کا سالانہ مشترکہ بجٹ 15 ارب روپے کے قریب ہے، جبکہ التوا شدہ مقدمات کے ڈھیر جوں کے توں موجود ہیں۔
اس کے متوازی، حکمرانوں، وزرائے اعلیٰ اور اعلا حکام کیلئے خریدی گئی ایک نئی وی آئی پی ایگزیکٹو فلائٹ یا سرکاری طیارے پر اربوں روپے لاگت آتی ہے۔ اگر محض ایک ایسے طیارے کی رقم کا موازنہ عوامی سہولیات سے کیا جائے تو اس کی لاگت سے سٹرکوں اور گٹروں کی صفائی کرنے والی 5,000 جدید وکیوم مشینیں خریدی جا سکتی تھیں۔
اس ترجیح کا المناک نتیجہ شہری صفائی کے نظام میں دیکھا جا سکتا ہے۔ جدید اور مکینیکل مشینری کی عدم دستیابی کے باعث سیوریج کی زیرِ زمین نالیوں میں اترنے والے غریب سینیٹری ورکرز (جن کا بڑا تعلق اقلیتی مسیحی برادری سے ہے) زہریلی گیسوں کی وجہ سے بلاک شدہ گٹروں میں دم گھٹنے سے جاں بحق ہو جاتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق، گزشتہ 14 ماہ کے دوران ملک بھر میں ایسے دلخراش واقعات میں 50 کے قریب سینیٹری ورکرز اپنی قیمتی جانیں گنوا چکے ہیں۔ ایک طرف اربوں روپے کے سرکاری جیٹس کی دیکھ بھال کی جاتی ہے، اور دوسری طرف چند لاکھ روپے کی وکیوم صفائی مشینوں کی عدم دستیابی غریب مزدوروں کی موت کا باعث بن رہی ہے۔

معاشی انحطاط کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی خراب صورتحال نے صوبائی معاشی پہلوؤں کو مزید مفلوج کر دیا ہے۔ عسکریت پسندی کی لہر اور سیکورٹی اداروں کی یکطرفہ حکمتِ عملی کی وجہ سے مقامی انتظامیہ، پولیس اور عوام کے اعتماد میں گہری دراڑیں پیدا ہوئی ہیں۔
سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور، غیر فعال اور مغوی وزیر اعلیٰ سھیل افریدی اور صوبائی حکام کا موقف رہا ہے کہ وفاق کی جانب سے انسدادِ دہشتگردی کیلئے مقامی پولیس کو جدید ٹیکنالوجی دینے کے بجائے سیاسی رسہ کشی اور یکطرفہ پالیسیاں اپنائی گئیں۔ وفاقی پارلیمان کی جانب سے صوبے میں ہنگامی حالات یا ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کے اقدامات کو قانونی و آئینی ماہرین نے آئین کے طے شدہ تقاضوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اس سیاسی اور سکیورٹی کشمکش کی وجہ سے خیبر پختونخوا میں نہ صرف تجارتی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہیں بلکہ مقامی وسائل کی پیداوار پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
پاکستان میں جاری معاشی تباہی کی اصل وجہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ ان کی غیر مساوی اور غیر منصفانہ تقسیم، اشرافیہ کا پرتعیش طرزِ زندگی اور عوام دشمن ترجیحات ہیں۔ جب تک ملک کے وسائل کو نجی مراعات، پروٹوکول کلچر اور سود کی ادائیگیوں سے نکال کر عوامی بہبود، تعلیم، صحت اور صنعتی پیداوار کی طرف نہیں موڑا جائے گا، تب تک معاشی زوال کا یہ چکر ختم نہیں ہو سکتا۔
مقامی طور پر تیار شدہ ڈیزل اور پیٹرول پر پورٹ پرائمری یا امپورٹ پیریٹی پرائسنگ کے بجائے اصل پیداواری لاگت کے مطابق قیمتیں مقرر کی جائیں تاکہ زراعت اور دیہی معیشت کو فوری راحت مل سکے۔
NHA اور KPT ریونیو کی آڈٹ و شفافیت: نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے روڈ مینٹیننس اکاؤنٹ اور بندرگاہوں سے حاصل ہونے والے ریونیو کو لازمی طور پر پبلک آڈٹ کے تحت لایا جائے اور 1.192 ٹریلین کے تھرو فارورڈ بوجھ کو ختم کرنے کیلئے غیر ضروری نجی ٹھیکیداروں کی کٹوتی کی جائے۔
قدرتی وسائل کے حقوق کی فراہمی: کرک اور وزیرستان کے آئل و گیس فیلڈز سے حاصل ہونے والی رائلٹی کا طے شدہ حصہ براہِ راست ان اضلاع کی مقامی آبادی کے پینے کے پانی، اسکولوں اور بنیادی انفراسٹرکچر پر خرچ کرنے کا پابند نظام بنایا جائے۔
تمام سرکاری اداروں، پارلیمان، عدلیہ اور انتظامیہ کے غیر ضروری اخراجات، نئے طیاروں کی خریداری اور وی آئی پی پروٹوکول پر مکمل پابندی عائد کی جائے، اور ان بچائے گئے فنڈز کو بلدیاتی سطح پر جدید اور خودکار صفائی کی مشینری کی خریداری پر منتقل کیا جائے۔

یہ ملاحظہ کیجئے: سونے کی کان پر بیٹھے بھکاری: قرض ملا ہے، ڈھول بجاؤ

Summery

1. Historical Economic Crisis and the Burden of Debt

  • The Debt Trap: Pakistan’s total public debt has reached a historic peak of 83.28 trillion rupees (83,285 billion rupees), which accounts for roughly 68% to 83% of the country’s Gross Domestic Product (GDP).
  • Debt Servicing Consuming the Budget: In the federal budget allocation for the fiscal year 2026-27, a massive 32% to 42.9% (8.054 trillion rupees) will be swallowed solely by the payment of interest and principal on past loans.
  • Suspension of Development: The country’s debt servicing cost is 5 times higher than the federal Public Sector Development Program (PSDP), leaving vital public welfare sectors like health, education, and infrastructure completely neglected.

2. Exploitation of the Common Citizen and Rising Hunger

  • Poverty and Hunger Index: Pakistan’s score on the Global Hunger Index has worsened to 25.5% (higher and more severe than neighbors like India at 24.1 and Bangladesh at 19.2). The population living below the poverty line has surged from 22% to 29% (over 70 million people).
  • Decline in Purchasing Power: Due to political instability and soaring inflation, ordinary citizens have experienced a drastic 60% drop in their purchasing power.
  • The Petroleum Pricing Injustice: Despite 70% to 87% of diesel being refined locally, the government extracts an additional 100 to 150 rupees per liter via Petroleum Development Levy (PDL) and prices local diesel against high international import parity rates, crushing the agricultural and rural economy.

3. Where Do Billions from Highways, Ports, and Minerals Go?

  • NHA Toll Revenue: The National Highway Authority’s annual toll revenue jumped from 32.39 billion rupees in FY 2018-19 to 85.55 billion rupees, targeting up to 160 billion rupees. However, due to poor planning and private contractor deductions, its pending development backlog has swelled to 1.192 trillion rupees.
  • Karachi Port Trust (KPT): KPT generates over $61.7 million annually in foreign exchange and duties, yet this revenue and mineral proceeds directly flow into federal consolidated funds and deficit financing without any transparent monitoring mechanism for the public.

4. Deprivation of Resource-Rich Regions

  • Oil and Gas in Karak and Waziristan: Southern districts of Khyber Pakhtunkhwa, particularly Karak and North Waziristan (Shiva gas field), pump thousands of barrels of crude oil and millions of cubic feet of gas daily into the national grid. Yet, local populations remain deprived of piped gas and clean drinking water, while statutory royalties and production bonuses get lost in bureaucratic red tape.
  • The Balochistan Paradox: Although Balochistan provides immense foreign exchange and economic stability through gas, petroleum, and minerals, its local population suffers in deeply deplorable conditions, reflecting a severe failure of the state to ensure equal rights and resource distribution.

5. Elite Profligacy vs. The Sanitary Workers’ Tragedy

  • Luxurious Expenditures: Running the Parliament (National Assembly and Senate) costs an annual budget of 27 billion rupees, while the judiciary’s joint budget sits near 15 billion rupees. The cost of a single new VIP executive jet for rulers could have funded 5,000 modern automatic vacuum cleaning machines.
  • Tragic Deaths of Sanitary Workers: Due to a lack of modern machinery, nearly 50 sanitary workers (predominantly from the minority Christian community) have suffocated to death from toxic gases inside blocked sewer lines over the past 14 months.
  • Security Crisis in KP: Political turmoil, Governor’s Rule/Emergency declarations, and one-sided security policies in Khyber Pakhtunkhwa have disrupted local trade and paralyzed the provincial economy.

Key Recommendations (Solutions):

  1. Fair Fuel Pricing: Locally produced diesel and petrol should be priced according to actual production costs rather than import parity to provide immediate relief to agriculture and rural livelihoods.
  2. Audit and Transparency: NHA’s Road Maintenance Account (RMA) and port revenues must be subjected to mandatory public audits, eliminating unnecessary private contractor deductions.
  3. Local Resource Rights: A binding framework must ensure a fixed portion of royalties from Karak, Waziristan, and Balochistan goes directly toward local clean water, schools, and infrastructure.
  4. Curbing Elite Privilege: Absolute restrictions must be placed on non-development expenditures, VIP jets, and protocol culture across all state organs, redirecting those funds toward procuring automated municipal cleaning equipment.

About the Author

Nasir Dawar is a journalist, researcher and Editor of The Khyber Times, with extensive experience covering militancy, conflict, security and political developments in Khyber Pakhtunkhwa, the former FATA and Afghanistan. His research focuses particularly on militant movements, regional security, Afghanistan and Pakistan-Afghanistan relations.

Contact: dawarjan@gmail.com