Heavy machinery, excavators, and trucks operating at an open-cast mining site in Khyber Pakhtunkhwa.

اسلام آباد: آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کا دھماکہ خیز انکشاف، خیبر پختونخوا کے محکمہ معدنیات میں 16 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیاں فاش

اسلام آباد ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) آڈیٹر جنرل آف پاکستان (AGP) نے اپنی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں خیبر پختونخوا کے محکمہ معدنیات و معدنی ترقی میں کروڑوں اور اربوں روپے نہیں بلکہ 16 ارب روپے سے زائد کی سنگین مالی بے ضابطگیوں اور بدعنوانیاں کا انکشاف کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق محکمے کی لاپروائی، غیر قانونی کان کنی اور نادہندگان سے وصولیاں نہ ہونے کے باعث صوبائی خزانے کو شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق محکمہ معدنیات میں مجموعی طور پر 16 ارب 94 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیاں اور انتظامی بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں۔ صوبے بھر میں غیر قانونی کان کنی  کی روک تھام میں ناکامی کے باعث خیبر پختونخوا کے سرکاری خزانے کو 8 ارب روپے کا براہ راست نقصان پہنچا ہے۔
آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نادہندہ ٹھیکیداروں اور لیز ہولڈرز سے 4 ارب 31 کروڑ روپے کے بقایا جات اور واجبات وصول ہی نہیں کیے جا سکے، جس سے محکمے کی مالیاتی ریکوری کی کارکردگی پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
معدنیات کے مختلف لیز ہولڈرز سے بروقت واجبات وصول نہ کرنے کی وجہ سے 81 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ جوائنٹ وینچر (JV) معاہدوں کے تحت حاصل ہونے والا منافع صوبائی خزانے میں جمع نہ کرائے جانے سے صوبے کو 58 کروڑ روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔  محکمے کی جانب سے معدنی شعبے کیلئے استعمال ہونے والی سرکاری اراضی کا کرایہ مارکیٹ ریٹ کے برعکس انتہائی کم وصول کیا گیا، جس سے صوبائی خزانے کو مزید 14 کروڑ روپے کا زادِ راہ دینا پڑا۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں ان مالی بے ضابطگیوں پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت اور متعلقہ حکام کو انکوائری قائم کرنے، نادہندگان سے فوری ریکوری کرنے اور ذمہ دار افسران کا تعین کر کے قانونی کارروائی کرنے کی سفارش کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا جیسے قدرتی وسائل سے مالامال صوبے میں اتنے بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیاں صوبائی معیشت کیلئے ایک بڑا دھچکا ہیں۔

Summary: KP Minerals Department Irregularities

  • Massive Irregularities Uncovered: An audit report by the Auditor General of Pakistan (AGP) revealed financial irregularities exceeding PKR 16.94 billion in the Khyber Pakhtunkhwa Minerals Department.
  • Loss from Illegal Mining: The provincial exchequer suffered a direct loss of PKR 8 billion due to unchecked illegal mining across the province.
  • Unrecovered Dues from Defaulters: Outstanding dues worth PKR 4.31 billion could not be recovered from defaulting contractors and leaseholders.
  • Losses in Leases & Joint Ventures: Non-recovery of dues from mineral leaseholders caused a loss of PKR 810 million, while uncollected joint venture profits resulted in an additional loss of PKR 580 million.
  • Underpriced Government Land: Charging below-market lease rates for government land used in mining led to a further loss of PKR 140 million.