A high-resolution photograph taken from a slightly elevated position of a massive political rally in a historical square in Peshawar, Khyber Pakhtunkhwa. Prominent leader Sohail Afridi, wearing a blue waistcoat over a white shalwar kameez, stands on a raised platform with his right fist raised holding a string of prayer beads, speaking into an array of microphones. Another bearded man in a brown vest stands next to him. Before them, an enormous, tightly packed crowd of thousands of Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) supporters fill the space, waving a dense sea of red and green PTI flags and holding banners with Urdu text. Historical stone fort-like buildings and mountains are visible in the background under a clear sky. Multiple media photographers and cameras are in the foreground. Large Urdu text overlays at the top and on a podium banner identify the event as the 'Movement Against Governor's Rule' in Khyber Pakhtunkhwa, with Sohail Afridi as a key figure and the crowd as a 'sea of workers' calling for revolution.

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور پی ٹی آئی کی مزاحمتی ناکامی: اسباب، داخلی کمزوریاں اور زمینی حقائق

دی خیبر ٹائمز : خصوصی تجزیہ

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبے کی سب سے بڑی سیاسی قوت یعنی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے کسی مؤثر، جاندار اور بڑی عوامی مزاحمت کا سامنے نہ آنا ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جس نے سیاسی حلقوں میں گہری بحث چھڑ دی ہے۔ وہ جماعت جو اپنی اسٹریٹ پاور اور عوامی طاقت پر فخر کرتی تھی، اقتدار سے بے دخلی اور صوبے میں غیر معمولی انتظامی اقدامات کے باوجود سڑکوں پر وہ ہلچل پیدا نہ کر سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی، کیونکہ غالباً پی ٹی آئی قیادت خود فریبی اور خوش فہمی کا شکار تھی۔ اس صورتحال کے پیچھے چند بنیادی تنظیمی، سیاسی اور نفسیاتی اسباب کارفرما ہیں۔
پہلی وجہ پی ٹی آئی کا تنظیمی ڈھانچہ طویل عرصے سے اندرونی کمزوریوں کا شکار رہا ہے۔ اگرچہ صوبائی اور ضلعی سطح پر عہدے بانٹے گئے، لیکن ضلعی، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر حقیقی تنظیم سازی اور موبلائزیشن کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں تھا. لانگ مارچ یا احتجاجی تحریک سے قبل نچلی سطح پر کارکنوں کو متحرک کرنے کیلئے کوئی گراؤنڈ ورک نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے اعلان کے باوجود عام کارکن سڑکوں پر نکلنے سے قاصر رہا۔
پارٹی قیادت کی توانائیاں ایک دوسرے کو قابو کرنے کا عنصر بھی ہم نظر انداز نہیں کرسکتے، جو ان کا انتہائی اہم وقت داخلی رسہ کشی اور گروہ بندیوں میں ضائع ہوتی رہیں۔ مختلف دھڑوں (جیسے فارم 45 کے متاثرین، ناراض اراکین اور علاقائی گروپوں) میں تقسیم نے پارٹی کی ہم آہنگی کو پارہ پارہ کر دیا. صوبائی سطح پر طاقت کے حصول اور اثر و رسوخ کی جنگ نے اجتماعی مفاد اور سیاسی مزاحمت کی صلاحیت کو کمزور کر دیا۔
قیادت کے اردگرد ایسے افراد کا گھیراؤ بن گیا جو زمینی حقائق سے آگاہ کرنے کے بجائے صرف خوشامد اور تعریفوں میں مصروف رہے۔ اس خوشامدی ٹولے نے قیادت کو یہ باور کرایا کہ عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور ایک پکار پر انقلاب آ جائیگا۔ اس فکری خول اور جعلی مقبولیت کے غبارے نے قیادت کو عام کارکنوں اور زمینی سچائیوں سے بالکل کاٹ کر رکھ دیا، جبکہ مسلسل غیر فعال وزرائے اعلیٰ کو خوش فہمیوں اور اندھیرے میں رکھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ منصب پر فائز ہونے کے باوجود وہ غیر ذمہ دارانہ لہجے اور بیانات میں مصروف نظر آئے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ تمام تر دعووں، اسٹریٹ پاور اور ملک کی سب سے مقبول پارٹی ہونے کے وجود ہر طرف مکمل خاموشی چھائی ہوئی ہے۔
جب مشکل وقت آیا اور حکومتی و انتظامی دباؤ بڑھا تو وہ تمام وزراء، مشیر اور عہدے دار جو اختیارات اور فنڈز کے مالک تھے، عملی میدان سے غائب ہو گئے. ان کی سیاست صرف سوشل میڈیا ٹویٹس تک محدود ہو گئی. تاریخی طور پر جب بھی پی ٹی آئی نے بڑی تحریکیں چلائیں، تو مرکزی قیادت آگے بڑھ کر سڑکوں پر آئی، لیکن اس بار صفِ اول کی قیادت کا اس طرح پس منظر میں چلے جانا کارکنوں کیلئے مایوسی کا باعث بنا۔
گورنر راج سے قبل جب وکلاء رہنماؤں، صوبائی وزراء، اراکینِ اسمبلی اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع ہوا اور گرفتاریاں ہوئیں، تو اس پر انتہائی کیجوئل اور کمزور ردعمل ظاہر کیا گیا۔ جب ابتدائی جارحانہ اقدامات پر پارٹی کی طرف سے کوئی سخت ردعمل نہیں آیا تو اس نے ریاستی اداروں کو مزید کارروائیوں کا حوصلہ دیا اور کارکنوں کا مورال بھی پست ہوا۔
یہ حقیقت اپنی جگہ درست ہے کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے پاس آج بھی سب سے بڑی اسٹریٹ پاور موجود ہے، لیکن بے سمت قیادت، اندرونی تقسیم، تنظیمی زوال اور فرنٹ لائن سے فرار قیادت نے اس طاقت کو بے اثر کر دیا۔ گورنر راج اور ہنگامی حالات عارضی ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن پی ٹی آئی کیلئے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ محض بیانات اور ڈیجیٹل احتجاج کی سیاست سے نکل کر اندرونی احتساب اور حقیقی تنظیمی بحالی کی طرف توجہ دے، ورنہ سیاسی خلا کو پر کرنا مزید مشکل ہوتا جائے گا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کا امکان: وفاقی کنٹرول، صوبائی خودمختاری اور سکیورٹی حکمت عملی کے اہم سوالات

Summery

Governor’s Rule and PTI’s Silence: Following the imposition of governor’s rule and emergency in Khyber Pakhtunkhwa, the Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) failed to launch any significant or effective public resistance, despite claiming massive street power.
Organizational Weaknesses: The party suffered from a weak organizational structure without any grassroots mobilization at the district, tehsil, or village council levels prior to the crisis.
Internal Factions and Conflicts: Party leadership’s energy was drained by internal power struggles, group divisions, and factional politics rather than unified resistance.
Echo Chamber and Complacency: Surrounded by sycophants who fed them false perceptions of popular support, the leadership became disconnected from ground realities, leading to a state of self-delusion.
Disappearance of Leadership: When pressure mounted and crackdowns began, major ministers, advisors, and front-line leaders retreated into the background, restricting their actions to social media posts and leaving workers demoralized.