وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا وزیراعظم شہباز شریف کو سخت گیر خط، ضم شدہ اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس استثنیٰ کے خاتمے کو وفاقی وعدوں سے انحراف قرار دے دیا۔
پشاور( دی خیبر ٹائمز پولیٹکل ڈیسک ) خیبرپختونخوا اور وفاقی حکومت کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وزیراعظم پاکستان کو ایک ہنگامی اور تفصیلی خط ارسال کر دیا ہے جس میں وفاقی حکومت کے ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کے فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے انضمام کے وقت کئے گئے وعدوں کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے خط کے متن میں وزیر اعظم اور وفاقی حکومت پر واضح کیا ہے کہ سابقہ فاٹا کے انضمام کے وقت وفاق نے ترقی اور مالی معاونت کے جو وعدے کئے تھے، وہ آج تک پورے نہیں کئے جارہے ہیں، وفاق نے این ایف سی شیئر دینے کا وعدہ کیا تھا جو تاحال عملی شکل اختیار نہ کر سکا، جس سے صوبے کے مالی معاملات بری طرح متاثر ہیں۔
وزیراعلیٰ نے یاد دلایا کہ صوبہ آج بھی دہشتگردی کے خلاف جنگ، پولیسنگ اور انفراسٹرکچر کی بحالی پر قومی مفاد میں اربوں روپے خرچ کر رہا ہے، لیکن وفاق کی جانب سے مالی وعدے وفا نہ ہوئے۔
وزیراعلیٰ نے نشاندہی کی کہ وفاقی کمیٹی نے ابھی تک مشاورت مکمل نہیں کی، اور اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لئے بغیر ٹیکس نافذ کرنے کی کوشش عوامی اعتماد کو مجروح کر سکتی ہے۔ 2 جولائی 2026 کو خیبرپختونخوا اسمبلی نے متفقہ قرارداد (نمبر 260) کے ذریعے ان ٹیکسوں کے نفاذ کو مسترد کیا تھا۔
وزیراعلیٰ نے وزیراعظم کو خبردار کیا ہے کہ سرحدی تجارت کی بندش اور صنعتی ترقی کے فقدان میں ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنا خطے کی معیشت کو تباہ کر دے گا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں مطالبہ کیا ہے کہ: ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کا فیصلہ فوری طور پر مؤخر کیا جائے۔ انضمام کے وقت کئے گئے وعدوں (بشمول این ایف سی شیئر) کو پہلے پورا کیا جائے، خطے کے معاشی حالات بہتر ہونے تک استثنیٰ کو برقرار رکھا جائے۔
وزیراعلیٰ کے اس خط نے وفاقی حکومت کو ایک ایسے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ایک طرف معاشی مجبوری ہے تو دوسری طرف ضم شدہ اضلاع اور مالاکنڈ کے عوام کا اعتماد۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر وفاق نے اپنے یکطرفہ فیصلے پر نظرثانی نہ کی تو صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور وفاقی و صوبائی تعلقات میں مزید بگاڑ پیدا ہوسکتا ہے۔
کیا وفاق صوبے کے ان جائز تحفظات کو تسلیم کرے گا یا تناؤ میں مزید اضافہ ہوگا؟ آنکھیں اس اہم معاملے پر جمی ہیں۔




