خصوصی رپورٹ
پشاور کی کسی تنگ گلی میں صبح سویرے ایک رکشہ چلانے والا اپنی سواری نکالتا ہے۔ اس کے ذمے بیوی کی دوائیں ہیں، بچوں کی اسکول فیس ہے، کرایہ ہے اور اگلے سال بیٹی کی شادی کا خواب بھی ہے، سب کچھ اسی ایک رکشے پر۔ وہ دن بھر دھوپ میں پسینہ بہاتا ہے، ہر پیسے کا حساب رکھتا ہے اور شام کو سونے سے پہلے جانتا ہے کہ گھر چلا یا نہیں چلا۔ وہ کبھی خسارے میں نہیں جاتا کیونکہ اگر گیا تو بچے بھوکے سوئیں گے۔
دوسری طرف ایک ایسا ادارہ ہے جو دیکھنے میں تو پاکستان ریلوے ہے، مگر اندر سے ایک ایسا اژدہا ہے جس کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا ۔ 515 ارب روپے کے اثاثے نگل گیا، سات ہزار کلومیٹر پٹری بچھا کر بیٹھا ہے، سیکڑوں انجن اور ہزاروں بوگیاں اس کے حوالے ہیں، ملک بھر کی قیمتی زمینیں اس کے نام ہیں ، اور یہ سب ہضم کرنے کے بعد بھی ہر سال 61 ارب روپے کا مزید بوجھ قومی خزانے پر ڈال دیتا ہے۔
یہ ادارہ پاکستان ریلویز ہے۔
سوال صرف یہ ہے کہ جو کام ایک رکشہ والا ایک گاڑی سے کر لیتا ہے، وہ کام اتنا بڑا ادارہ کیوں نہیں کر پاتا؟ اور اگر نہیں کر پاتا تو آخر کیوں؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہی اس تحریر کا مقصد ہے۔
ایک سفر جو 1861ء میں شروع ہوا
قیام پاکستان سے بھی قبل، برصغیر پاک و ہند میں ریل کا پہلا انجن 13 مئی 1861ء کو چلا۔ برطانوی نوآبادیاتی دور میں یہ ریلوے سامراجی ضروریات کیلئے بچھائی گئی تھی، فوج کو ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچانا، کپاس اور اناج کو بندرگاہوں تک لانا۔ مگر آہستہ آہستہ یہ سامراجی منصوبہ عوام کا اپنا بن گیا، وہی ٹرین جو انگریز کا مال ڈھوتی تھی، اب غریب کے بچے اسکول پہنچاتی تھی اور مزدور کو شہر لے جاتی تھی۔
1889ء میں روہڑی اور سکھر کے درمیان لینسڈاؤن پل بنا تو کراچی اور پشاور پہلی بار ریل کے ذریعے ایک ہوئے، دو شہر، ایک دھاگہ۔ 1900ء تک کراچی سے پشاور تک مکمل مرکزی لائن بچھ چکی تھی۔ پھر 1947ء آیا، ملک بنا اور یہ ادارہ “شمال مغربی ریلوے” کے نام سے نئی مملکت کو ورثے میں ملا۔ 1961ء میں “پاکستان ویسٹرن ریلوے” بنا اور 1974ء میں آج والا نام “پاکستان ریلویز” ملا، نام بدلتے رہے، مگر اصل میں یہ وہی پرانی پٹری تھی جس پر اب ایک نئی قوم کے خواب سوار تھے۔
1960ء کی دہائی اس ادارے کا سنہری دور تھا۔ ٹرینیں وقت پر چلتی تھیں، ملازمین میں جذبہ تھا، آمدنی اور اخراجات کا توازن برقرار تھا۔ پھر سیاسی مداخلت شروع ہوئی، اقربا پروری کی بنیاد پر بھرتیاں ہوئیں اور ریلوے آہستہ آہستہ زوال کی پٹری پر چڑھ گئی اور آج تک اتری نہیں۔
پٹری کا جال اور دوڑتی ٹرینیں
کاغذوں پر پاکستان ریلویز ایک قابلِ رشک ادارہ ہے۔ ملک بھر میں 7,791 کلومیٹر آپریشنل ٹریک ہے، 625 فعال اسٹیشن ہیں اور ٹرینوں کی زیادہ سے زیادہ رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ یہ نیٹ ورک چار مرکزی لائنوں پر قائم ہے جن میں سب سے اہم کراچی سے پشاور تک کی لائن ہے جو پورے پاکستان کو ایک دھاگے میں پروتی ہے۔ کوئٹہ سے تفتان تک 633 کلومیٹر طویل لائن ایران سے جا ملتی ہے اور مہینے میں دو بار تجارتی و مسافر ٹرینیں وہاں تک جاتی ہیں۔
انہی پٹریوں پر درجنوں ٹرینیں سفر کرتی ہیں، کراچی سے لاہور تک گرین لائن اور شالیمار ایکسپریس، کراچی سے پشاور تک خیبر میل، کراچی سے کوئٹہ تک بولان میل، پشاور سے کوئٹہ تک جعفر ایکسپریس اور لاہور سے کراچی تک تیزگام۔ مسافر ٹرینوں کے ساتھ ساتھ مال بردار ٹرینوں کا ایک الگ نیٹ ورک ہے جو گندم، کھاد، تیل اور صنعتی سامان ملک کے طول و عرض میں پہنچاتا ہے۔ یہ سب دیکھ کر لگتا ہے کہ ادارہ چل رہا ہے، مگر اعداد و شمار کا پردہ اٹھائیں تو اندر کی تصویر بالکل الٹ ہے۔
خسارے کی دلدل
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی تازہ رپورٹ پڑھیں تو دل بیٹھ جاتا ہے۔ مالی سال 2024-25 میں پاکستان ریلویز کو 61 ارب روپے سے زائد کا خالص نقصان ہوا — گزشتہ سال کے مقابلے میں 9 ارب یعنی تقریباً 19 فیصد زیادہ۔ اس سال مجموعی آمدنی 92.7 ارب روپے رہی مگر آپریٹنگ اخراجات 153 ارب روپے تک جا پہنچے۔ سیدھا حساب یہ ہے کہ ادارہ 100 روپے کماتا ہے اور 165 روپے خرچ کرتا ہے، آپریٹنگ نقصان کی شرح 65 فیصد۔
یہ کوئی ایک سال کی کہانی نہیں۔ 2020-21 سے 2024-25 کے پانچ برسوں میں آپریٹنگ اخراجات 60 فیصد بڑھ گئے مگر آمدنی اس رفتار کا ساتھ نہ دے سکی۔ حکومت نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کیلئے 34.7 ارب روپے کا بجٹ دیا مگر انتظامیہ نے اس میں سے 4.2 ارب روپے خرچ ہی نہیں کئے، اور یہ اس وقت کہ غیر ملکی قرضوں کا سود تک ادا نہیں ہو رہا تھا۔ آڈیٹر جنرل نے اسے مالی منصوبہ بندی کی سنگین ناکامی قرار دیا۔
ایک روشن پہلو بھی سامنے آرہا ہے۔ وہ یہ کہ مالی سال 2025-26 میں ریلوے نے آمدنی کا نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے 103 ارب روپے کمائے ، مسافر ٹرینوں سے ساڑھے 47 ارب، مال گاڑیوں سے ساڑھے 31 ارب اور متفرق ذرائع سے ساڑھے 9 ارب۔ یہ ریلوے کی 78 سالہ تاریخ کی بلند ترین آمدنی ہے اور ایک امید کی کرن ضرور ہے، مگر جب تک اخراجات کا پہاڑ سر پر کھڑا ہے، یہ خوشی ادھوری ہے۔
ریلوے میں لوٹ مار کا بازار
خسارے کی ایک وجہ کم آمدنی ہے، دوسری زیادہ اخراجات ، مگر تیسری اور سب سے تکلیف دہ وجہ وہ ہے جسے صرف ایک لفظ میں بیان کیا جا سکتا ہے: “کرپشن”۔
آڈٹ رپورٹ نے ریلویز کی 160 میں سے صرف 84 تشکیلوں کا جائزہ لیا اور اسی محدود دائرے میں 34.42 ارب روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں، 24.6 ارب روپے بجٹ سے متعلق بے قاعدگیاں، 11.2 ارب روپے کمزور مالیاتی نظم و نسق کی نذر اور 11.5 ارب روپے زمین و اثاثوں کے معاملات میں غائب۔ یاد رہے کہ یہ صرف آدھے ادارے کا حال ہے، باقی آدھے کا کسی نے حساب ہی نہیں لیا۔
ریلوے زرائع کے مطابق زمین کا معاملہ اس سے بھی بڑا ہے۔ چاروں صوبوں میں ریلوے کی سیکڑوں ایکڑ قیمتی اراضی پر ناجائز قبضوں اور لیز کی آڑ میں 40 ارب روپے سے زائد کے فراڈ کا انکشاف ہوا ہے۔ لاہور میں رائل پام کنٹری کلب کو لیز پر دے کر 2 ارب 16 کروڑ روپے کے بقایاجات ہڑپ کئے گئے، مردان میں ریلوے زمین پر 25 کروڑ کا فراڈ ہوا اور کراچی میں 42 ایکڑ اراضی کے معاملے میں 20 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا گیا۔ یہ کیسز اب نیب کے پاس ہیں۔
ریلوے کے زرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ، کہ بکنگ کاؤنٹر پر نقد پیسے لے کر ریکارڈ میں درج نہ کرنا، مال گاڑیوں پر سامان کم لکھ کر فرق جیب میں ڈالنا، خریداری میں اوور انوائسنگ اور مردہ یا غیر حاضر ملازمین کی تنخواہیں سالوں تک جاری رکھنا، یہ سب وہ طریقے ہیں جن سے ایک قیمتی قومی ادارہ ہر روز اندر سے کھوکھلا کیا جا رہا ہے۔
رکشہ والے کا سبق اور آگے کا راستہ
ایک رکشہ چلانے والے کی زندگی میں کوئی سبسڈی نہیں، کوئی سرکاری ضمانت نہیں۔ وہ اس لئے نہیں اٹھتا کہ تنخواہ بہرحال ملے گی۔ وہ اس لئے اٹھتا ہے کہ اگر نہ اٹھا تو بچوں کا کھانا نہیں پکے گا۔ یہی جوابدہی اسے ایمانداری سکھاتی ہے اور یہی ذمہ داری اسے کبھی خسارے میں نہیں جانے دیتی۔ پاکستان ریلویز میں یہ جوابدہی سرے سے موجود ہی نہیں، ادارہ 61 ارب روپے ڈبوئے یا 161 ارب، افسران کی مراعات بہرحال جاری رہتی ہیں اور کسی کو جواب نہیں دینا پڑتا۔
حکومت نے کچھ قدم ضرور اٹھائے ہیں، 348 اسٹیشنوں پر ڈیجیٹل ٹکٹنگ، لاہور سے کراچی کیلئے جدید بزنس ٹرین، کرپشن کے کیسز نیب کو بھجوانا اور ازبکستان، افغانستان، پاکستان ریل راہداری کا منصوبہ۔ یہ سب اچھے اقدامات ہیں مگر اس وقت تک ناکافی ہیں جب تک سیاسی مداخلت ختم نہیں ہوتی، میرٹ پر بھرتیاں نہیں ہوتیں اور ہر افسر کی جوابدہی یقینی نہیں بنتی۔
پاکستان ریلویز کے پاس وسائل بھی ہیں، تاریخ بھی ہے اور صلاحیت بھی، مگر جب تک نیت اور نظم نہیں، لوہے کی یہ پٹری صرف خسارے کی سواری بنی رہے گی اور قومی خزانہ لٹتا رہے گا۔




