Bannu blast Barghantu peace committee and بنوں دھماکہ برغنتو امن کمیٹی

بنوں دھماکے: امن کمیٹی بنانے کی پاداش میں 7 قبائلی مزدور جاں بحق، مسلح تنظیموں کی کھلی دھمکی

بنوں ( دی خیبرٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک) بنوں کے سابقہ نیم قبائلی علاقے برغنتو میں امن کی کوششیں ایک بار پھر خون میں نہا گئیں۔ ریاست اور خطے میں امن کے قیام کیلئے کھڑے ہونے والے عام قبائلیوں کو شدت پسندوں نے عبرت کا نشان بنانے کی ہولناک کوشش کی ہے۔ آج صبح سویرے جب ہاتھی خیل قبیلے کے غریب محنت کش اور علیٰ الصبح محنت و مزدور کرنے کیلئے بنوں بازار کی طرف جا رہے تھے، تو گھات لگائے بیٹھے دہشت گردوں نے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دو پے در پے دھماکے کئے۔ پہلا دھماکہ پک اپ ڈاٹسن گاڑی پر ہوا، جبکہ دوسرا دھماکہ اس وقت کیا گیا جب زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا، جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آور کسی کو زندہ نہیں چھوڑنا چاہتے تھے۔
اس قبیلے نے دہشتگردوں اور تمام مسلح تنظیموں کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہونے کیلئے ایک مقامی امن کمیٹی بنائی تھی، جو شدت پسندوں کو شدید ناگوار گزری۔ ذرائع کے مطابق مسلح تنظیموں نے اب باقاعدہ اعلان کر رکھا ہے کہ امن کمیٹیاں ان کے براہِ راست نشانے پر ہیں اور وہ جہاں بھی ملیں، انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔ ڈی پی او یاسر آفریدی کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں، لیکن اس واقعے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ خطے میں امن کیلئے اٹھنے والی ہر آواز کو دبانے کیلئے شدت پسند کس حد تک جا سکتے ہیں۔