قدرتی آفت یا انسانی المیہ؟ خیبرپختونخوا میں سیلاب کی ہولناکی اور بچاؤ کا راستہ
تحریر: مہوش تسلیم
خیبرپختونخوا پاکستان کا وہ صوبہ ہے جو اپنی منفرد جغرافیائی خصوصیات، جیسے بلند و بالا پہاڑی سلسلے، گہری اور تنگ وادیاں، تیز رفتار دریا اور ہزاروں گلیشیئرز کے باعث قدرتی آفات، خصوصاً سیلاب کے سامنے ہمیشہ بے حد حساس رہا ہے۔ لیکن گزشتہ دو دہائیوں میں، اور خاص طور پر حالیہ برسوں کے دوران، ان سیلابوں کی تعداد، شدت اور تباہ کاریوں میں ایک خوفناک حد تک تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ یہ تشویشناک صورتحال محض ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ بدلتے ہوئے عالمی درجہ حرارت اور مقامی انتظامی کوتاہیوں کا ایک پیچیدہ امتزاج ہے۔
اس بڑھتے ہوئے بحران کی جڑوں کو تلاش کرنے کیلئے اگر ہم سب سے بڑے اور بنیادی عنصر پر نظر ڈالیں تو وہ موسمیاتی تبدیلی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی شدید بارشیں ہیں۔ پاکستان عالمی موسمیاتی خطرے کی فہرست (Germanwatch Climate Risk Index) میں مسلسل سرفہرست رہنے والے ممالک میں شامل ہے، جبکہ کاربن کے اخراج میں اس کا حصہ عالمی کل کے صرف ایک فیصد سے بھی کم ہے، جو کہ ایک انتہائی ماحولیاتی ناانصافی ہے جس کا خمیازہ خیبرپختونخوا کے معصوم عوام بھگت رہے ہیں۔ عالمی درجہ حرارت بڑھنے سے فضا میں زیادہ نمی جمع ہوتی ہے جو بادل پھٹنے (Cloud Burst) اور ریکارڈ توڑ بارشوں کی صورت میں برستی ہے۔ مثال کے طور پر، اگست 2025ء میں بونیر میں صرف ایک گھنٹے کے اندر 150 ملی میٹر سے زیادہ بارش برسی، جو پورے ایک ماہ کی اوسط بارش سے کہیں زیادہ تھی، اور یہی کلاؤڈ برسٹ وہاں 200 سے زیادہ قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بنا۔ پاکستان کے چیف میٹرولوجسٹ ڈاکٹر سید فیصل سعید کے مطابق، آنے والی دہائیوں میں مون سون بارشوں میں مزید اضافے اور ان کی شدت میں تبدیلی کا واضح امکان ہے، لہٰذا یہ محض کسی ایک سال کا عارضی مسئلہ نہیں بلکہ ایک طویل مدتی بقا کی جنگ ہے۔
شدید بارشوں کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا کو گلیشیئروں کے تیز پگھلاؤ (GLOF) کا بھی سامنا ہے۔ پاکستان دنیا کا تیسرا بڑا گلیشیئر ذخیرہ رکھنے والا ملک ہے، جہاں ایک اطالوی غیر سرکاری ادارے EvK2CNR کی 2024ء کی تحقیق کے مطابق 13,032 گلیشیئرز موجود ہیں جو 13,546 مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں، جن کی بڑی تعداد خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں واقع ہے۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے یہ گلیشیئرز پہلے سے کہیں تیز رفتاری سے پگھل رہے ہیں، جس کے نتیجے میں گلیشیئل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (GLOF) کے واقعات تواتر سے پیش آ رہے ہیں، جہاں پہاڑوں کے اوپر جھیلیں بنتی ہیں، ان کے بند ٹوٹتے ہیں اور اچانک ایک خوفناک ریلہ نیچے موجود آبادیوں کو روندتا ہوا چلا جاتا ہے، جیسا کہ اگست 2025ء میں گلگت بلتستان کے ضلع غذر اور خیبرپختونخوا کے ملحقہ علاقوں میں دیکھا گیا۔
اس قدرتی بحران کو مزید ہولناک بنانے میں جنگلات کی اندھا دھند کٹائی کا بڑا ہاتھ ہے، کیونکہ جنگل قدرت کا وہ اسفنج ہے جو بارش کا پانی اپنے اندر جذب کرتا ہے، مٹی کے کٹاؤ کو روکتا ہے اور سیلابی ریلوں کی رفتار کو کافی حد تک دھیما کر دیتا ہے۔ جب پہاڑ اور وادیاں درختوں سے خالی ہو جاتی ہیں تو بارش کا پانی سیدھا تیز رفتار سیلابی بہاؤ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں ہر سال 11,000 ہیکٹر جنگل ضائع ہو رہا ہے اور ملک کا صرف 5 فیصد رقبہ جنگلات سے ڈھکا ہے، جو دنیا بھر میں جنگلات کی کم ترین شرحوں میں سے ایک ہے۔
خیبرپختونخوا کے پہاڑی اضلاع میں غیر قانونی لکڑی کی کٹائی اور ٹمبر مافیا کی سرگرمیاں ایک مستقل مسئلہ بینی ہوئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی متعدد ویڈیوز، جیسے بٹگرام روڈ کے کنارے قیمتی عمارتی لکڑی کے بڑے ڈھیر، اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت کمزور ہے۔ ماہرین کے مطابق، 2022ء کے بڑے سیلاب کے بعد نجی ملکیت کے جنگلات میں کٹائی کی شرح دگنی ہو گئی، کیونکہ بے گھر ہونے والے مقامی افراد نے جلانے کی لکڑی کیلئے درختوں پر اپنا انحصار بہت زیادہ بڑھا دیا تھا، جس نے پہاڑوں کو مزید ننگا اور مستقبل کے سیلابوں کیلئے سازگار بنا دیا۔
ان اسباب میں سب سے زیادہ تشویشناک اور انسانی ہاتھوں کا پیدا کردہ پہلو دریاؤں کے کنارے اور ان کے بستر (River Beds) پر غیر قانونی تعمیرات کا ہونا ہے۔ دریاؤں کا ایک فطری طریقہ کار ہوتا ہے کہ وہ سیلاب کے موقع پر اپنے قدرتی سیلابی میدانوں (Flood Plains) میں پھیلتے ہیں، جو عام طور پر انسانی آبادی سے دور ہوتے ہیں، لیکن جب انسان دریا کے کناروں اور خود دریا کے راستے میں ہوٹل، ریزورٹس، دکانیں اور رہائشی مکانات بنا لیتا ہے، تو سیلاب کا پانی اپنے راستے میں آنے والی ان تمام کنکریٹ کی عمارتوں کو تنکوں کی طرح بہا لے جاتا ہے۔ سوات میں 2025ء کے سیلاب کے بعد خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے خود اعتراف کیا تھا کہ انتظامیہ کے پاس کارروائی کیلئے ایک 45 منٹ کی کھڑکی موجود تھی جس میں کام کیا جا سکتا تھا، لیکن ردعمل میں تاخیر نے ایک چھوٹی غلطی کو ایک بہت بڑے المئے میں بدل دیا۔ اگرچہ بعد میں حکومت نے دریائے سوات کے کنارے کریک ڈاؤن کا آغاز کیا اور غیر قانونی ہوٹلوں کو گرایا،لیکن یہ اقدامات ہمیشہ چڑیاں چگ گئیں کھیت کے مصداق، نقصان ہو جانے کے بعد ہی کئے جاتے ہیں۔
بین الاقوامی ماہر قانون اور ماحولیاتی وکیل احمد رفعی عالم کے بقول، ہمیں دریاؤں کے ساتھ اپنے روئے پر ازسرنو غور کرنا ہوگا، کیونکہ یہ سیلاب موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے شدید تو ہوئے ہیں لیکن انسانی کوتاہیوں نے ان کی تباہ کاری کی شرح کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ مزید برآں، ماہر آب و ہوا لیغاری نے خبردار کیا ہے کہ جنگلات کی کٹائی سے بڑے پیمانے پر مٹی اور تلچھٹ دریاؤں میں آتی ہے جس سے دریاؤں کا بستر بلند ہو رہا ہے۔ دریائے سندھ کے بستر میں 17.75 فیصد بلندی آ چکی ہے جس سے اس کے پانی سنبھالنے کی گنجائش اسی تناسب سے کم ہو گئی ہے، یعنی اب اتنی ہی بارش سے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقبہ زیر آب آتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بے منصوبہ اور غیر قانونی شہر کاری نے پشاور جیسے بڑے شہروں میں پانی جذب کرنے والی زمین کو سکڑ کر رکھ دیا ہے۔ پشاور میں بڈنی نالہ پر ہونے والی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق، 2017ء سے 2025ء کے درمیان اس علاقے میں زرعی زمین 58 فیصد سے کم ہو کر صرف 32 فیصد رہ گئی ہے اور کچے کھیتوں کی جگہ کنکریٹ کی بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیوں نے لے لی ہے جو نالوں کے بالکل اندر تک بنائی گئی ہیں، جس سے شہری سیلاب (Urban Flooding) کا خطرہ سنگین ہو چکا ہے۔
ان تمام اسباب کے نتیجے میں اگست اور ستمبر 2025ء کے مون سون سیزن کے دوران خیبرپختونخوا کو تاریخ کی بدترین تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ قومی آفات سے نمٹنے کی اتھارٹی (NDMA) کے جاری کردہ دل دہلا دینے والے اعداد و شمار کے مطابق، ملک بھر میں سیلاب کے باعث 972 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں سے آدھے سے زیادہ یعنی صرف خیبرپختونخوا میں 509 سے زائد ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں۔ صوبے میں سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 16 لاکھ سے تجاوز کر گئی، جبکہ ملک بھر میں 8,481 کے قریب مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے۔ بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صوبے بھر میں 239 پُل گر گئے اور 674 کلومیٹر سے زائد طویل سڑکیں پانی میں بہہ گئیں یا شدید متاثر ہوئیں۔ اکیلے بونیر ضلع میں صرف ایک رات کے اندر 200 سے زیادہ افراد جانبحق ہوئے، جبکہ باجوڑ, بٹگرام، مانسہرہ اور سوات کے اضلاع بھی شدید ترین متاثرہ علاقوں میں شامل تھے۔ امدادی کارروائیوں کی ابتر صورتحال کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ صوبائی حکومت کا ایک امدادی ہیلی کاپٹر خود مہمند کے علاقے میں حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہوا، جس میں 5 افراد جاں بحق ہو گئے۔ پہاڑی علاقوں میں سڑکوں اور پلوں کے ٹوٹنے سے نہ صرف فوری جانی نقصان ہوتا ہے بلکہ پورے پورے اضلاع کا رابطہ دنیا سے منقطع ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے زخمیوں اور بھوکے پیاسے لوگوں تک امداد کی رسائی میں تاخیر ہوتی ہے اور یہ تاخیر مزید ہلاکتوں کا سبب بنتی ہے۔ لوگ ندی نالوں کے قریب بڑھتی ہوئی آبادی اور زمین کی تنگی کی وجہ سے کچے اور غیر معیاری مکانات بنانے پر مجبور ہیں، جو سیلابی ریلے کا پہلا جھٹکا بھی برداشت نہیں کر پاتے۔
جانی اور مالی نقصانات کے علاوہ، یہ سیلاب زراعت، لائیو اسٹاک اور چھوٹے ڈیری فارمز کیلئے ایک خاموش لیکن طویل مدتی تباہی بن کر سامنے آتے ہیں۔ 2025ء کے سیلاب میں صرف خیبرپختونخوا کے اندر 31,595 ایکڑ زرعی زمین مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ اس تباہی میں بونیر میں کھڑی مکئی کی 23,487 ایکڑ فصل، صوبے بھر میں 1,300 ایکڑ چاول، 700 ایکڑ سبزیاں اور 641 ایکڑ پر محیط پھلوں کے باغات شامل تھے، جن پر غریب کسانوں نے اپنے پورے سال کی جمع پونجی لگا رکھی تھی۔ سیلاب کا پانی نہ صرف تیار فصلیں بہا لے جاتا ہے بلکہ مٹی کی بالائی زرخیز تہہ کو بھی ختم کر دیتا ہے اور زمین پر ریت اور بڑے پتھر چھوڑ جاتا ہے، جس سے زمین کئی موسموں تک کاشت کے قابل نہیں رہتی۔ اسی طرح، پہاڑی اضلاع میں چھوٹے پیمانے پر چلنے والے ڈیری اور مرغبانی کے کاروبار یکسر تباہ ہو گئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، خیبرپختونخوا میں 5,727 مویشی سیلابی پانی میں بہہ کر ہلاک ہوئے، حالانکہ حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ بتائی جاتی ہے۔ مانسہرہ، بٹگرام اور سوات کے کسانوں کیلئے یہ مویشی ان کا واحد اثاثہ اور بینک اکاؤنٹ کی مانند تھے جو ایک ہی رات میں ختم ہو گئے، جس کے نتیجے میں دودھ اور گوشت کی شدید قلت پیدا ہوئی اور دیہی خاندان غربت کی دلدل میں مزید دھنس گئے۔
اس وسیع پیمانے پر ہونے والی تباہی کے بعد حکومتی ذمہ داریوں کا ایک طویل موازنہ سامنے آتا ہے۔ ہنگامی بنیادوں پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) اور ریسکیو 1122 نے 3,567 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل تو کیا، لیکن جدید آلات اور ہیلی کاپٹرز کی شدید کمی محسوس کی گئی، جس پر عوام میں شدید غصہ پایا گیا۔ اب ایک بار پھر مون سون کی بارشوں کا سیزن ہے، جبکہ گرمی کی شدت کے باعث خیبرپختونخوا کے بالائی اضلاع میں گلیشیئر پگھلنے کی بھی روز رپورٹس آرہی ہیں، جس کیلئے پی ڈی ایم اے کی جانب سے ریڈ الرٹ بھی جاری کیا جاتا ہے، تاکہ نقصان کم سے کم ہونے کا خدشہ ہو، دریاوں کے کناروں پر بسنے والوں کو بھی فی الحال مکانات خالی کرنے کا کہا گیا ہے، اور ہر سال کی طرح اس سال بھی تباہی کا خدشہ ہے، چونکہ ذمہ داری پی ڈی ایم اے کی ہے، اس لئے روزانہ کی بنیاد پر ریڈ الرٹ کی پریس ریلیز جاری کئے جاتے ہیں۔ اگرچہ صوبائی حکومت نے متاثرین کی بحالی کے لیے 50 کروڑ روپے جاری کئے اور ہر متاثرہ خاندان کو 15 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا، لیکن زرعی اور کاروباری نقصانات کے ازالے کیلئے یہ رقم اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔ طویل مدتی بنیادوں پر حکومت کو فلڈ پلین مینجمنٹ کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرنا ہوگا اور ہائی رسک علاقوں میں ہر قسم کی تعمیرات پر مستقل پابندی عائد کرنی ہوگی۔
پانی کے ماہر عزیز کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اب روایتی طریقوں سے ہٹ کر ویٹ لینڈز کی بحالی اور بندوں کو مضبوط کرنے پر توجہ دینی ہوگی۔ ڈیزاسٹر پریپیئرڈنیس اینڈ ریزلینس (CDPR) کی نومبر 2025ء کی رپورٹ اور ماہرین بشمول ڈاکٹر غلام محی الدین نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ یہ آفت موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ تھی، لیکن اس کے اثرات اور نقصانات کی شدت خالصتاً انسانی فیصلوں اور ناقص بلدیاتی منصوبہ بندی کی مرہونِ منت ہے۔ یونیسف کی رپورٹ کے مطابق، اس صورتحال کا سب سے بڑا شکار بچے بن رہے ہیں جن کے اسکول تباہ ہو چکے ہیں اور وہ صاف پانی اور بنیادی صحت کی سہولیات سے محروم ہیں۔
مستقبل میں اس قسم کی ہولناک تباہی سے بچنے کیلئے ہمیں ایک جامع اور کثیر الجہتی حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ قلیل مدتی اقدامات میں موسم کی پیش گوئی کے جدید ترین آلات کی تنصیب، مقامی زبانوں میں ابتدائی انتباہی نظام، اور کمیونٹی سطح پر ایس ایم ایس الرٹس اور سائرن کا فعال کرنا شامل ہے تاکہ قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔ اس کے ساتھ ہی، سوات کی طرز پر تمام سیاحتی اضلاع میں دریا کے کناروں سے تجاوزات کا فوری اور بلا امتیاز خاتمہ ضروری ہے۔ درمیانی مدت کے منصوبوں میں پہاڑی ندی نالوں پر چھوٹے چیک ڈیمز اور سیلابی دیواروں کی تعمیر، قدرتی آبی زمینوں (Wetlands) کا تحفظ، اور غریب کسانوں کیلئے لازمی زرعی و لائیو اسٹاک انشورنس کا نفاذ ہونا چاہئے تاکہ وہ دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔ طویل مدتی حل کے طور پر، فلڈ پلین زوننگ کا ایکٹ پارلیمنٹ سے پاس کروا کر دریا کے بستروں پر مستقل پابندی عائد کی جائے اور بین الاقوامی فورمز پر یورپی یونین جیسی عالمی برادری سے ماحولیاتی انصاف اور کلائمیٹ فنڈز کا مضبوطی سے مطالبہ کیا جائے۔
خیبرپختونخوا کا المیہ یہ ہے کہ ہر سیلاب کے بعد بلند و بانگ دعوے تو کئے جاتے ہیں، لیکن اگلے مون سون تک سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے۔ اگر اب بھی سیاسی عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹھوس اقدامات نہ کئے گئے، تو آنے والے برسوں کے مون سون بھی تباہی کی یہی ہولناک داستان دہراتے رہیں گے اور ریاست کو اب بیانات سے آگے بڑھ کر اپنا اصل فرض ادا کرنا ہوگا۔




