پشاور (خصوصی رپورٹ) خیبر پختونخوا کی سیاست میں اس وقت ایک بڑا ہیجان برپا ہے جہاں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت شدید ترین اندرونی اختلافات کی لپیٹ میں آ چکی ہے۔ ایک طرف جہاں پی ٹی آئی کے طاقتور دھڑے اور حکومتی نمائندے آمنے سامنے آ چکے ہیں، وہاں دوسری جانب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اپنی حکومت بچانے اور ناراض اراکینِ اسمبلی کو منانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا دعویٰ ہے کہ صوبے میں قیادت کی تبدیلی کی بازگشت تیز ہو چکی ہے جس کی وجہ سے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی کرسی شدید خطرے میں ہے۔
صوبائی حکومت کئے اندرونی زرائع نے دی خیبر ٹائمز کو بتایا ہے، کہ موجودہ بحران کی ایک بڑی وجہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان بجٹ کے معاملے پر پیدا ہونے والا شدید اختلاف ہے۔ علیمہ خان نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو عمران خان کی رہائی کیلئے وفاق پر پریشر بڑھانے کیلئے سھیل افریدی کو بجٹ پیش کرنے سے منع کیا تھا، تاہم انہوں نے علیمہ خان کی ہدایت کو نظرانداز کرتے ہوئے تین ماہ کا بجٹ ایوان میں پیش کر دیا۔ اس اقدام کے بعد جہاں پارٹی کی اعلیٰ قیادت ان سے ناراض دکھائی دیتی ہے، وہیں خود سہیل آفریدی کیلئے بھی سیاسی حالات اب سازگار نہیں رہے اور وہ شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
صوبائی حکومت کیلئے سب سے بڑا دھچکا اس وقت سامنے آیا جب سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما علی امین گنڈاپور نے اسمبلی فلور پر بجٹ پر بحث کے دوران اپنی ہی حکومت کی پالیسیوں کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا۔ انہوں نے وسائل کی تقسیم، قرضوں کے استعمال اور ترقیاتی ترجیحات پر سنگین سوالات اٹھا دئے، ایوان میں ایسا لگ رہاتھا، کہ شائد اب پی ٹی آئی حکومت کو باہر سے مخالفین کی ضرورت نہیں۔ گنڈا پر کا کہنا تھا، کہ صوبے میں۔ عوامی مسائل کا حل نہ ہونا ہماری اجتماعی نا اہلی ہے، اور قانون سازی کے ثمرات عام ادمی کے پہنچ سے دور ہیں۔
سابق وزیر اعلیٰ نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ حکومتی کارکردگی اور نظام پر سخت تنقید کی، انہوں نے اپوزیشن لیڈر کی موقف کی تائید کرتے ہوئے
کہا کہ صوبے میں جاری منصوبوں کو ادھورا چھوڑنا صوبے اور پی ٹی آئی کیلئے نقصان دہ ہے۔ ان کا کہنا تھا، کہ عوام تختیوں اور افتتاحی تقریبات متاثر نہیں ہوتے، بلکہ وہ دیکھتے ہیں، کہ صوبے کے صحت کے مراکز میں عوام کے علاج معالجے اور تعلیمی درسگاہوں میں تعلیم اور دیگر بنیادی ضروریات میں کونسی بہتری آرہی ہے۔ علی امین گنڈاپور نے عوام سے اپیل کی کہ وہ خود بجٹ دستاویزات کا جائزہ لیں تاکہ انہیں معلوم ہو سکے کہ صرف اعلانات کئے گئے ہیں یا حقیقت میں فنڈز بھی مختص کردئے گئے ہیں۔
سابق وزیر اعلیٰ نے بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص فنڈز کو اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف قرار دیا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا:
ہزارہ پیکج: 200 ارب روپے کے بڑے اعلان کے باوجود بجٹ میں صرف 4 ارب روپے مختص کئے گئے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ کئی منصوبوں کی فنڈنگ کی رفتار ایسی ہے کہ انہیں مکمل ہونے میں دہائیاں لگ سکتی ہیں۔
انہوں نے آگے دوڑ، پیچھے چھوڑ کی پالیسی کی سخت مخالفت کی اور تمام علاقوں میں یکساں ترقیاتی کاموں کا جال بچھانے کا مطالبہ کیا۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ صوبے کی معیشت کو مضبوط بنانے والے بنیادی شعبوں جیسے کہ لائیو اسٹاک، زراعت، معدنیات اور سیاحت کیلئے انتہائی کم وسائل تجویز کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے قرضوں کے استعمال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کسی ایک ضلع یا مخصوص اسکیم کیلئے قرض نہیں لینا چاہئے، بلکہ قرض صرف ان منصوبوں پر خرچ ہو جو مستقبل میں ریونیو (آمدن) پیدا کر سکیں۔
گنڈاپور نے زور دیا کہ خیبر پختونخوا کو نیٹ ہائیڈل پرافٹ (NHP) اور این ایف سی ایوارڈ میں اپنا مکمل آئینی حصہ ملنا چاہئے۔ قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد صوبے کے فنڈز میں کمی کو انہوں نے ناانصافی قرار دیا جس سے عوام میں عدم اعتماد پیدا ہو رہا ہے۔
ماضی میں حکومت کا دفاع کرنا میری غلطی تھی
اپنے خطاب کے دوران علی امین گنڈاپور نے ایک حیران کن اعتراف بھی کیا۔ انہوں نے ارکانِ اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اپوزیشن کے حلقوں میں اپنے حمایتی افراد کو فنڈز دینا ان کی غلطی تھی۔ میں نے غلطی کی تھی، آپ وہ غلطی نہ دہرائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں وہ کبھی مختلف محکموں اور کبھی حکومت کا دفاع کرتے رہے، لیکن آج وہ خود کو زیادہ آزاد محسوس کر رہے ہیں اور حقائق کھل کر بیان کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ فرسودہ نظام میں سب کسی نہ کسی حد تک بندھے ہوئے ہیں اور جب تک اس نظام کو نہیں بدلا جاتا، حقیقی تبدیلی یا عمران خان کے ویژن کو آگے لے کر جانا ممکن نہیں۔
حکومتی پالیسیوں پر تنقید کے ساتھ ساتھ علی امین گنڈاپور نے انسانی حقوق کے تحفظ کو اولیت دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو قانون کے مطابق تمام قانونی حقوق فراہم کئے جائیں، جن میں جیل کے اندر ٹی وی اور اخبارات تک رسائی بھی شامل ہے۔
اجلاس کے اختتام پر صحافی پی ٹی آئی پارٹی اراکین اور دیگر سیاسی جماعتوں کے نمائندگان کہتے ہیں، کہ علی امین گنڈاپور کا یہ جارحانہ انداز اور اپنی ہی حکومت پر اعلانیہ تنقید اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اس وقت دوہری مشکل میں ہیں، ایک طرف انہیں پارٹی کے اندرونی دھڑوں (بشمول علیمہ خان اور گنڈاپور گروپ) کے غصے کا سامنا ہے تو دوسری طرف حکومت بچانے کیلئے ناراض اراکین ممبران کی منت سماجت کرنی پڑ رہی ہے۔ آنے والے چند روز خیبر پختونخوا کی حکومت اور سہیل آفریدی کے سیاسی مستقبل کیلئے انتہائی اہم قرار دئے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:
قبائلی ضلع کرم میں ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کا خونیں تصادم: عسکری دھڑے بندی اور مستقبل کا منظرنامہ
______________________________________________________________________
KP Political Crisis: PTI Government Plagued by Severe Internal Rifts
-
CM Under Pressure: Khyber Pakhtunkhwa (KP) Chief Minister Sohail Afridi is facing an intense internal rebellion, putting his position at serious risk.
-
The Aleema Khan Dispute: The crisis escalated because CM Afridi ignored directives from Imran Khan’s sister, Aleema Khan, who wanted him to delay the budget to pressure the federal government for Imran Khan’s release. Instead, Afridi presented a 3-month budget, angering party leadership.
-
Gandapur’s Rebellion: In a shocking move, senior PTI leader and former CM Ali Amin Gandapur openly blasted his own government on the assembly floor. He criticized the budget as mere “announcements without real funds,” pointing out that massive projects like the 200 billion PKR Hazara Package received a measly 4 billion PKR.
-
Critique of the System: Gandapur confessed that his past defense of the government was a mistake. He criticized the lack of funds for healthcare, education, and revenue-generating sectors, adding that Imran Khan’s vision cannot be achieved under the current outdated system.
-
The Verdict: Political observers note that CM Sohail Afridi is trapped between party backlash (from both Aleema Khan and the Gandapur bloc) and a desperate struggle to placate disgruntled lawmakers. The next few days are critical for the KP government’s survival.




